بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

حقوق العباد کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

حقوق العباد کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں


حضرت آدم  علیہ السلام  اور حضرت حوا  رضی اللہ عنہا  کو جب زمین پر بھیجا گیا تو ان کی زندگی کا مقصد اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری تھا، یعنی اسلام، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان سیدھے راستے سے ہٹنے لگے۔ ان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے اور ہر علاقے میں انبیاء کرام علیہم السلام   کو بھیجا، تاکہ وہ انسانوں کو سیدھی راہ دکھائیں اور ان قوانینِ الٰہی سے روشناس کرائیں جو حقیقت میں انسان ہی کے فائدے کے لیے تھے۔ ہر پیغمبر نے اللہ کے حقوق اور بندوں کے باہمی حقوق و فرائض کی تعلیم دی۔ جن قوموں نے ان قوانین کی پیروی کی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوئی، اور جنہوں نے ان کی اجتماعی خلاف ورزی کی ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔
اللہ تعالیٰ نے حقوق العباد کو اپنے حقوق کی نسبت زیادہ اہمیت دی ہے۔ عوام میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ گویا حقوق اللہ کو حقوق العباد پر برتری حاصل ہے، اسی وجہ سے لوگ نماز اور روزہ کا کچھ اہتمام کر لیتے ہیں، لیکن حقوق العباد کی پاسداری نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے سے عدل و احسان ختم ہوجاتا ہے اور نفاق، انتشار اور بے اطمینانی جنم لیتے ہیں۔
حقوق اللہ میں کوتاہی کے گناہ تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہیں، توبۃ النصوح کے ذریعے معاف فرما دیں، لیکن حقوق العباد کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی اُمید نہیں، کیونکہ بندے کا حق تو بندہ ہی معاف کر سکتا ہے۔
معاملات عموماً تین قسم کے ہوتے ہیں:
1-وہ معاملات جسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔
2-وہ معاملات جس کی اللہ تعالیٰ کو پرواہ نہیں۔
3-وہ معاملات جس میں سے کسی ایک چیز کو بھی بدلہ لیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
وہ معاملہ جسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا وہ شرک ہے، یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا۔ اور وہ معاملات یا امور جس کی کچھ پرواہ نہیں کی جائے گی، وہ ہے بندے کا اپنے نفس پر حقوق اللہ میں کوتاہی کرنا، مثلاً کسی دن کا روزہ یا نماز ترک کردینا، اگر اللہ چاہے تو معاف فرما دے گا، لیکن وہ امور کہ جس میں سے کسی چیز کو ترک نہیں کرے گا وہ لوگوں کے حقوق ہیں، ان کا بدلہ لازماً لیا جائے گا، لہٰذا حقوق العباد کی فکر کرنا بہت ضروری ہے۔قرآن پاک میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:
’’وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ‘‘ (النساء:۳۶)
ترجمہ: ’’اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ، اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ، اور رشتہ دار پڑوسی کے ساتھ، اور اجنبی پڑوسی کے ساتھ، اور ہم نشین کے ساتھ، اور مسافر کے ساتھ، اور مملوک کے ساتھ۔‘‘
اس آیت میں حقوق کی ترتیب پر غور کیا جائے تو قرآن کے اس دعوے کو ماننا پڑتا ہے کہ:
’’الْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْنًا‘‘ (المائدہ:۳)
ترجمہ: ’’آج کے دن میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔‘‘
دین دراصل حقوق کی ادائیگی کا نام ہے اور دین تو مکمل ہو چکا ہے، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ دین کیا ہے؟ اس کا جواب خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دیا:
’’حضرت تمیم داری  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’الدین النصیحۃ‘‘ یعنی دین نصیحت کا نام ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: کس کے ساتھ نصیحت؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ کے ساتھ، اللہ کی کتاب کے ساتھ، اللہ کے رسول کے ساتھ، مسلمانوں کے حکمرانوں کے ساتھ اور ان کے عوام کے ساتھ۔‘‘

احادیثِ مبارکہ سے رہنمائی

احادیثِ مبارکہ سے بھی ہمیں حقوق العباد سے متعلق رہنمائی ملتی ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
’’جانتے ہو مفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے عرض کیا: جس کے پاس درہم و دینار نہ ہوں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج لے کر آئے گا، مگر اس نے دنیا میں کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کی غیبت کی ہوگی، پھر ان مظلوموں کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔ اگر نیکیاں ختم ہو گئیں اور حقوق دار باقی رہ گئے تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔‘‘
اسی طرح حضرت جریر  رضی اللہ عنہ  کا واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک گھوڑا خریدا، بعد میں دوستوں سے قیمت پوچھی تو پتہ چلا کہ قیمت تو زیادہ ہے اور میں کم میں لے کر آگیا ہوں۔ آپ مالک کے پاس واپس گئے اور زیادہ رقم دے آئے، کسی نے پوچھا: کیوں؟ تو فرمایا:
’’بایعتُ رسولَ اللہ ﷺ علی الإیمان و النصح لکل مسلم۔‘‘
ترجمہ: ’’میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھ پر ایمان اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر بیعت کی تھی۔‘‘
نصیحت کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ بے غرض ہمدردی اور حقوق کی ادائیگی۔

حقوق کی ادائیگی کے مراتب

ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی اگر کسی کو فائدہ نہ پہنچا سکے تو کم از کم اس کا نقصان بھی نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
’’المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ ویدہٖ۔‘‘
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دے، جیسا کہ قرآن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کی تعریف میں فرمایا گیا:
’’وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ‘‘  (الحشر:۹)
ترجمہ: ’’وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ خود محتاج ہوں۔‘‘

حقوق العباد کے حوالے سے آخرت میں انصاف

حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ قیامت کے دن جانور بھی دوبارہ زندہ کیے جائیں گے، یہاں تک کہ سینگ والے جانور نے اگر بے سینگ کو مارا تھا تو بدلہ لیا جائے گا۔ جب سب کا حساب برابر کر دیا جائے گا تو حکم ہوگا کہ سب مٹی بن جاؤ، تب کافر کہے گا:
’’یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا‘‘
’’کاش میں بھی مٹی بن جاتا۔‘‘

والدین اور رشتہ داروں کے حقوق

’’وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا‘‘ (بنی اسرائیل:۲۳)
ترجمہ: ’’اور تیرے رب نے حکم دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو۔اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ تک نہ کہو اور نہ جھڑکو، بلکہ ان سے ادب و احترام کی بات کرو۔‘‘
حضرت ابو رمثہ  رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’اپنی ماں، باپ، بہن اور بھائی کے ساتھ حسن سلوک کرو، پھر قریب ترین رشتہ دار کے ساتھ، پھر اس کے بعد قریب تر کے ساتھ۔‘‘
یہ حدیث بہن بھائیوں کے حقوق کی طرف خاص توجہ دلاتی ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے لوگ بہن بھائیوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کا مال دبا لیتے ہیں یا میراث تقسیم نہیں کرتے۔ والد کے انتقال کے بعد جائیداد ایک امانت ہے، جسے قرآن کے مطابق جلد از جلد وارثوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ بہنوں کے ساتھ محبت اور کفالت کا معاملہ کیا جائے، شادی کے بعد بھی ان کی خیر خبر رکھی جائے۔ بھائیوں کو چاہیے کہ وہ بہنوں کو وراثت سے محروم نہ کریں، ورنہ اللہ کے ہاں سخت پکڑ ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
’’رحم، رحمٰن سے ماخوذ ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: جس نے تجھے جوڑا، میں اسے اپنی رحمت سے جوڑوں گا، اور جس نے تجھے توڑا میں اُسے اپنی رحمت سے کاٹ دوں گا (یعنی رحمت کے دائرے سے الگ کردوں گا)۔‘‘ (رسالہ حقوق الوالدین)
اللہ پاک ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے ہر ایک کو احسن انداز میں پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین !

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے