
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کامطالعہ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اُسوہ ٔحسنہ پر عمل کرنا ہر صاحبِ ایمان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ قرآن مجید سیرت و کردار پر بحث کرتا ہے، ایک جانب تو قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کو خلقِ عظیم قرار دیتا ہے تو دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو ہمارے لیے ایک عملی نمونے کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیےآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہمارے لیے ناگزیر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جاچکی ہیں اور لکھی جارہی ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدماتِ سیرت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ایسے علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی علومِ دینیہ کی خدمت اور اُمتِ مسلمہ کی اصلاح کے لیے صرف کی۔ وہ نہ صرف مفسر ، مدبر ، عالم ، فاضل ، فقیہ اور محقق تھے، بلکہ راہِ سلوک و تصوف کے شیخ بھی تھے۔
وہ ۲۰ اور ۲۱؍شعبان ۱۳۱۴ھ مطابق ۱۸۹۷ء کی درمیانی شب میں قصبۂ دیوبند ضلع سہارنپور میں پیدا ہوئے، خاندانی اعتبار سے آپ عثمانی تھے، اِن کے والد مولانا محمد یٰسین دیوبندی ایک عالم دین اور صاحبِ نسبت بزرگ تھے۔ مفتی صاحب نے ایک دینی ماحول میں آنکھ کھولی اور بچپن ہی سے علماء کی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل کیا ۔ پانچ سال کی عمر میں حافظ محمدعظیم صاحب سے دارالعلوم دیوبند میں قرآن کریم کی تعلیم کا آغاز کیا۔ فارسی کی تمام مروجہ کتابیں اپنے والد محترم سے پڑھیں، حساب و فنون ریاضی کی تعلیم اپنے چچا مولانا منظور احمد سے حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں دارالعلوم کے درجہ عربی میں داخلہ لیا، اور ۱۳۳۵ھ میں فارغ التحصیل ہوئے، جن عظیم المرتبت علمائے امت سے انھوں نے شرفِ تلمذ حاصل کیا، ان میں علامہ محمدانور شاہ کشمیری، مولانا عزیز الرحمٰن عثمانی، علامہ شبیراحمد عثمانی، مولانا سیداصغر حسین دیوبندی، مولانا اعزاز علی دیوبندی، مولانا رسول خان ہزاروی اور مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی رحمۃ اللہ علیہم جیسے اکابرین شامل ہیں ۔
زمانۂ طالب علمی میں ان کا شمار نہایت ذہین اور محنتی طلبہ میں ہوتا تھا اور امتحانات میں ہمیشہ امتیاز کے ساتھ کامیاب ہوتے تھے، اسی لیے اساتذہ ان سے بے حد شفقت اور محبت کا سلوک کرتے تھے۔ ۱۳۳۵ھ میں فارغ التحصیل ہوئے تو مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں ابتدائی کتب کی تعلیم کے لیے استاذ مقرر کیا، پھر بہت جلد درجہ عالیہ کے استاذ ہوگئے، اور تقریباً ہر علم و فن کی جماعتوں کو پڑھایا، ان کا درس ہمیشہ ہر جماعت میں مقبول رہا، دورۂ حدیث کی کتاب ابوداؤد اور عربی ادب کی کتاب مقاماتِ حریری کے درس میں مختلف ملکوں کے علماء اور اساتذہ بھی شریک ہوتےتھے۔ دارالعلوم میں تدریس کا یہ سلسلہ ۱۳۶۲ھ تک جاری رہا۔ اس ۲۷سال کے عرصہ میں انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، برما، برِصغیر، افغانستان، بخارا، سمرقند وغیرہ کے تقریباً تیس ہزار طلباء نے ان سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، ان میں سے ہزاروں مختلف ممالک میں دین کی خدمت میں مصروف رہے۔
دارالعلوم دیوبند میں تدریس کے دوران مولانا عزیز الرحمٰن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتوی کے سلسلہ میں آپ کی خدمات لیں، وہ سوالات کے جوابات خود لکھتے اور آپ سے لکھواتے اور اصلاح و تصدیق کے بعد روانہ کردیے جاتے تھے، ۱۳۴۴ھ میں وہ مستعفی ہوگئے۔ اربابِ دارالعلوم نے مختلف صورتوں سے دارالافتاء کا کام چلایا، مگر ۱۳۴۹ھ میں یہ کام مستقل اُن کے سپرد کردیا گیا تھا۔ وہ قیامِ پاکستان تک اس منصب پر فائز رہے۔
مفتی صاحب ابتدا میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ سے ۱۹۲۰ء میں بیعت ہوئے، پھر ان کے انتقال کے بعد ۱۳۴۶ھ میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے، جنہوں نے ان کی علمی اور روحانی صلاحیتوں کو دیکھ کر ۱۳۴۹ھ میں انہیں اپنا خلیفہ اور مجازِ بیعت قرار دے دیا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء مجازین میں اُن کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان پر خاص توجہ دیتے تھے۔ تقریباً بیس سال تک تھانوی صاحبؒ کی صحبت میں رہے اور ان کی زیرِنگرانی کئی تالیفات اپنے قلم سے تصنیف کیں۔ ان میں احکام القرآن اور حیلہ ناجزہ و غیرہ شامل ہیں۔
حضرت مولانا قاری محمدطیب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول:
’’آپ کے قلم فیض رقم سے تین سو سے زائد تالیفات منصہ شہود پر آئیں جن میں اسلام کا نظام اراضی، ختمِ نبوت کامل اور سیرت خاتم الانبیاء، کشکول، جواہر الفقہ، مقامِ صحابہؓ، مجالسِ حکیم الامت، احکام القرآن، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، عزیز الفتاویٰ اورتفسیر معارف القرآن، علمی شاہکار ہیں۔ تفسیر معارف القرآن آٹھ جلدوں میں مکمل ہوئی ، جس کے متعلق شیخ ظفر احمد عثمانی ؒ کی رائے ہے کہ مفتی صاحبؒ نے اس تفسیر کو لکھ کر تمام علماء اور مفسرین پر احسانِ عظیم کیا ہے۔
انہوں نے حضرت تھانوی ؒ کے ایماء پر تحریکِ پاکستان میں حصہ لیااور کھل کر مسلم لیگ کی حمایت کرتے رہے۔ ۱۳۷۰ھ میں نہایت بے سر و سامانی کے عالم میں ایک مدرسہ کراچی میں قائم کیا، جو صرف چند ماہ کے بعد ایک مرکزی دارالعلوم کی شکل اختیار کرگیا، جس میں دوہزار سے زائد طلباء تحصیلِ علم میں مصروف ہیں اور ملک بھر میں جس کی شاخیں موجود ہیں ۔ دارالعلوم سے ایک دینی جریدہ ’’ماہنامہ البلاغ‘‘ نکلتا ہے۔ ۹ اور ۱۰ ؍شوال المکرّم ۱۳۹۶ھ مطابق ۵ اور ۶؍ اکتوبر ۱۹۷۶ء کی درمیانی شب ان کا انتقال ہوا۔ ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے ان کے جنازہ میں شرکت کی اور حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحب عارفی نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔‘‘(۱)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدماتِ سیرت کا جائزہ لیتے وقت اس بات کوپیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صادق عقیدت مند تھے۔ اظہار الحسن محمود کے بقول:
’’مفتی محمد شفیع جب مدینہ طیبہ جاتے تو کبھی روضۂ اقدس کی جالی تک پہنچ ہی نہیں پاتے تھے، بلکہ ہمیشہ یہ دیکھا کہ جالیوں کے سامنے ستون سے لگ کر کھڑے ہو جاتے، وہاں اگر کوئی کھڑا ہوتا تو اس کے پیچھے کھڑے رہتے، ایک دن فرمانے لگے کہ: ایک مرتبہ میرےدل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید تو بڑا شقی القلب ہے، یہ اللہ کے بندے ہیں،جو جالی کے قریب تک پہنچ جاتے ہیں اور قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جتنا بھی قرب حاصل ہوجائے، نعمت ہی نعمت ہے، لیکن کیاکروں کہ میرا قدم آگے بڑھتا ہی نہیں، آپ ادب واحترام اورعشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جذبے کے تحت عاجزی وبے نیازی ، انکساری کامظاہرہ فرماتے اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حاضری کےآداب کوہمیشہ ملحوظ رکھتے۔‘‘(۲)
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
ان کی تحریر میں بے ساختگی اورسلاست ہے، جب وہ قلم اٹھاتے ہیں تواسے ایسے عام فہم انداز میں تحریر کرتے ہیں کہ عام اردو داں قاری بھی اس سے استفادہ کرسکتا ہے۔ عبارت میں بے جا طول نہیں پایا جاتا، ان کی تحریر غیر مانوس الفاظ کے استعمال سے مبرّا نظر آتی ہے۔ ان کی تحریر میں فقروں کی تکرارنہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی تشنگی پائی جاتی ہے، بلکہ وہ جس عنوان کولیتے ہیں اس کا بھرپور انداز میں حق ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے تفکر میں قوتِ استدلال پایا جاتا ہے۔ ان کے مضامین کی ترتیب دلکش نظر آتی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت ِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر لکھی ہوئی ایک کتاب’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ہے، جس کے متعلق مفتی محمدتقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
’’یہ کتاب سیرتِ طیبہ کے اہم گوشوں اور پہلوؤں پر عشقِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معمور اور مخمور ہوکر لکھی گئی ہے، اپنے موضوع پرنہایت آسان اُسلوب اورمختصرپیرائے میں تالیف کی گئی ہے۔ یہ ہندوپاک کے متعدد مدارس میں داخلِ نصاب ہےاوراس کے متعدد ہندی، گجراتی اوربنگالی وغیرہ زبانوں میں ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔‘‘ (۳)
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی کتبِ سیرت کے ناموں کی فہرست اور تعارف درجِ ذیل ہے:
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ میں جامعیت واختصار کواحسن پیرائے میں سمو دیا ہے۔ اس کتاب کے کل ۸۰ صفحات ہیں اور ۸۵ عنوانات ہیں جس میں مفتی صاحب نےخاتم الانبیاء محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت با سعادت تا وفات حسرت آیات، تمام اہم واقعات، غزوات،اَسفار، معجزات اوراخلاق وخصائل کوبیان کردیاہے۔ ساتھ ہی مستشرقین کے اعتراضات وشبہات کے جوابات بھی دیے ہیں ۔
مفتی صاحبؒ نے اس کتاب کومستند بنانے کے لیے مآخذِسیرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھرپور استفادہ کیاہے اور معتبر کتب سے واقعات سپردِ قلم کیے ہیں۔ ان کتابوں میں کتبِ ستہ مع شروح، مشکوٰۃ المصابیح، کنز العمال، خصائصِ کبریٰ، مختصر سیرتِ مغلطائی، سیرت ابنِ ہشام، الإصابۃ في تمییز الصحابۃؓ، فتح الباری، شفاء از قاضی عیاض مع شرح خفاجی، مواہبِ لدنیہ، سیرتِ حلبیہ، زاد المعاد از ابن قیم،تاریخِ ابن عساکر، سرور المحزون، أوجز السیر از شیخ ابن فارس اور نشر الطیب وغیرہ شامل ہیں۔ کتابِ مذکورہ، وفاق المدارس پاکستان کی کتبِ نصاب میں بھی شامل ہے۔
’’رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیغمبرِ امن و سلامتی‘‘ مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خطاب کی مطبوعہ شکل ہے، جس میں انہوں نے پیغمبرِ اسلام کے اسی وصف اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب’’آداب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘میں حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شمائل و اخلاق کو بیان کیا ہے۔
المأمول المقبول في ظل الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (سایۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )
’’المأمول المقبول في ظل الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘جو کہ’’سایۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ کے نام سے طبع ہوئی ہے۔ کتاب مذکورہ میں ’’خصائصِ کبریٰ‘‘ کی اس روایت کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے، جس میں یہ مذکور ہے کہ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔
۲۷۰ صفحات پر مشتمل کتاب ’’ختم النبوۃ في القرآن‘‘ مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم الشان’’ختمِ نبوت کامل‘‘ (بر سہ حصص) کا پہلا حصہ ہے۔ اس میں ۱۰۰ سے زائدآیاتِ قرآنیہ کی تفسیر وتشریح کرکے مسئلۂ ختمِ نبوت کے مختلف پہلو کو اُجاگر کیا گیا ہے۔مفتی صاحبؒ کتاب مذکورہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’آج کوئی شخص کسی آیت کی تفسیر معلوم کرنا چاہے، اس کے لیے نہایت سہل اور سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ وہ سلف صالحین صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین رحمۃ اللہ علیہم کی تفاسیر کواپنا قدوہ بناکر ان کی اختیار کردہ تفسیر کو قرآن کی مراد سمجھے اور جو کوئی معنی جمہور صحابہؓ وتابعینؒ واسلافِ اُمت کے خلاف سمجھ میں آئیں، اُن کو اپنی غلط فہمی اور قصورِ علم کا نتیجہ سمجھے۔‘‘ (۴)
مفتی صاحبؒ کی کتاب ’’ہدیۃ المہدیین في آیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ عربی زبان میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے سلسلہ کی تفسیر ی خدمت ہے۔ اہلیانِ عرب کے مسلمانوں کو قادیانیوں کے مکر وفریب سے آگاہی کے لیے کتاب مذکورہ تحریر کی گئی، جو کہ سیرتِ طیبہ کے اہم پہلو ختمِ نبوت اوررسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آفاقی واَبدی رسالت ونبوت کے متعلق ہے ۔ مفتی صاحبؒ نےمدلل انداز میں کتابِ مذکورہ میںختمِ نبوت کے موضوع کو بیان کیا ہے۔
کتاب’’ختم النبوۃ في الحدیث‘‘ختمِ نبوت پر دلالت کرنے والی احادیث کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو’’ختمِ نبوت(کامل)‘‘ میں شامل کرلیا گیا ہے۔
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب’’جوامع الکلم‘‘ اخلاق وآداب کےمتعلق چالیس حدیثوں پر مشتمل ہے اور’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ کے آخر میں بھی شائع ہوئی ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ کے متعلق مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’اختصار کے ساتھ جامع اس قدر معلوم ہوتا تھا کہ گویا کوئی واقعہ نظرسے اوجھل نہیں ہوا، خصوصاً عبارات کا انداز جس سے واقعات اصلی حالات پر جاندار نظر آنے لگے۔ مضامین پڑھتے وقت بے تکلف ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے ہر واقعہ میں‘میں حضو ر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور واقعات کامعائنہ کررہا ہوں،اس کا سبب بیان کی بلاغت ہے۔ جب رسالہ ختم کرچکا تو واقعہ کامرتب نقشہ ایسا مجتمع ہوتا تھا کہ میں خود اس کی کوشش کرتا تو کامیاب نہ ہوسکتا تھا۔ ہر واقعہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایسی شان نظروں میں سماجاتی ہے کہ پہلے سے بہت زیادہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت وعظمت قلب میں بڑھ گئی اوریہ سب کچھ اس تالیف کی برکت سے ہوا ۔ ہاں! ایک بات اور یاد آگئی کہ مؤلف سے محبت بڑھ گئی ہے۔‘‘ (۵)
مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ کے متعلق مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’جن حضرات کو مختصر سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دیکھنی ہو، وہ اس کا مطالعہ فرمائیں، اختصار کے ساتھ معتمد علیہ اور مستند نقل میں ان شاء اللہ دستیاب ہوجائے گی۔‘‘ (۶)
مولانا عزیز الرحمٰن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ ’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’کتاب کے مطالعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت میں اضافہ اور دو چند ہوجاتا ہے۔‘‘(۷)
مفتی محمدشفیع رحمۃ اللہ علیہ نے ’’سیرتِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ‘‘ میں مستشرقین کے اعتراضات وشبہات کے جوابات دیے ہیں، مثلاً : ازواج پر اعتراضات کے جوابات، اس اعتراض کا جواب کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا اور اسیرانِ جنگِ بدر سے معاملہ وغیرہ شامل ہیں۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت نگاری کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے حوالہ جات کا صرف اہتمام ہی نہیں کیا، بلکہ ساتھ ساتھ حواشی بھی لکھے ہیں جس سے اگر قاری چاہے تو اس بارے میں مزید تفصیل حواشی میں دیکھ سکتا ہے۔
مولانا محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادتِ شریفہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’جس سال اصحابِ فیل کا حملہ ہوا، اس کے ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ روز دو شنبہ دنیا کی عمر میں ایک نرالہ دن ہے کہ آج پیدائشِ عالم کا مقصد، لیل ونہار کے انقلاب کی اصلی غرض و اولاد آدم کا فخر، کشتیِ نوح ؑ کی حفاظت کا راز، ابراہیم ؑ کی دعا اور موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کی پیشین گوئیوں کا مصداق یعنی ہمارے آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رونق افروز عالم ہوتے ہیں۔‘‘(۸)
ماشاء اللہ حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادتِ شریفہ کا انتہائی خوبصورت اور عشق سے بھرپور والہانہ تذکرہ فرمایا ہے، اس سے مفتی صاحبؒ کے عشقِ رسول کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مولانا محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ تعدد ادِ زاج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےرقم طراز ہیں کہ:
’’اگر کوئی شپرہ چشم آفتابِ نبوت کی عظمت و جلال کوبھی نہ دیکھ سکے اورآپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق، اعمال، تقویٰ، طہارت ، زہد و ریاضت، اور مقدس زندگی کے تمام گردوپیش کے حالات سے بھی آنکھ چرالے، تو خود ان متعدد نکاحوں کے واقعات و حالات ہی اس کو یہ کہنے پر مجبور کریں گے کہ تعددِ اَزواج یقیناً کوئی نفسیانی خواہش پر مبنی نہ تھا، ورنہ ساری عمر ایک سن رسیدہ عورت کے ساتھ گزاردینا، پچپن سالہ کو اس کام کے لیے تجویز کرنا کسی انسان کی عقل تسلیم نہیں کرسکتی۔‘‘(۹)
بہرکیف مولانا محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے تعددِ ازواج پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ مفتی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ :
’’ایک مرد کے لیے متعدد بیبیاں رکھنا اسلام سے پہلے بھی دنیا کے تقریباً تمام مذاہب میں جائز سمجھا جاتا تھا۔ (۱۰)
مفتی صاحبؒ آگے لکھتے ہیں:
’’کسی مذہب اور کسی قانون نے اس پر کوئی حد نہ لگائی تھی، نہ یہود نے، نہ نصاریٰ نے، نہ ہندوؤں نے، نہ آریوں نے، نہ پارسیوں نے، اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی یہ رسم اسی طرح بغیر تحدید کے جاری رہی۔ بعض صحابہؓ کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں تھیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عقد میں بھی خاص خاص اسلامی ضرورتوں کی بنا پر دس ازواج تک جمع ہوگئیں، پھر جب اس کثرتِ ازواج سے عورتوں کی حق تلفی ہونے لگی، لوگ اول تو حرص میں بہت سے نکاح کرلیتے تھے، مگر پھر ان سب کے حقوق ادا نہ کرسکتے تھے،قرآن عزیز کا ابدی قانون جو دنیا سے ظلم وجور مٹانے کے لیے ہی نازل ہوا ہے، اس نے فطری ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے تعددِ ازواج کو بالکل منع تو نہ کیا ،لیکن اس کی خرابیوں کی اصلاح ایک تحدید کے ذریعے سے کردی اور یہ ارشادِ خداوندی نازل ہوا کہ اب صرف چار عورتوں تک نکاح کرسکتے ہو اور وہ بھی اس شرط پر کہ تم چاروں کے حقوق برابر ادا کرسکو اور اگر اتنی ہمت نہ ہو تو پھر ایک سے زیادہ رکھنا ظلم ہے۔ اس ارشاد کے بعد باجماعِ اُمت چار سے زائد بیبیوں کا نکاح میں جمع رکھنا حرام ہوگیا۔(۱۱)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’جب آپ کی عمر شریف پینتیس سال کی ہوئی تو اس وقت قریش نے بیت اللہ کی ازسرِنو تعمیر کا فیصلہ کیا۔ تعمیر کو قبائل میں تقسیم کرنے کی نوبت آئی، تاکہ کوئی جھگڑا پیش نہ آئے۔ اسی تقسیم کے عمل کے ساتھ بناء کعبہ حجرِ اسود کی حد تک پہنچ گئی، لیکن اب حجرِ اسودکواُٹھاکر تعمیر میں نصب کرنے کے متعلق سخت اختلاف ہوا اور ہر قبیلہ اورہر شخص کی خواہش تھی کہ وہ اس کی سعادت کو حاصل کرے، یہاں تک کہ قتل و قتال پر عہد وپیماں ہونے لگے۔ قوم کے بعض سنجیدہ لوگوں نے ارادہ کیا کہ مشورہ کرکے کوئی صلاح کی صورت نکالیں اور اس غرض کے لیے مسجد میں گئے۔ مشوہ میں یہ طے ہوا کہ جو شخص سب سے پہلے مسجد کے دروازے سے داخل ہو وہ تمہارے معاملے کا فیصلہ کرے اور اس کے حکم کو ہر شخص دستِ قدرت کا فیصلہ سمجھ کر تسلیم کرے۔
خدا کی قدرت کہ سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دروازے سے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر سب نے یک زبان ہوکر کہا کہ یہ امین ہیں، ہم ان کے حکم پر راضی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور وہ حکیمانہ فیصلہ کیا کہ سب خوش ہوگئے، یعنی ایک چادر پھیلادی اور اس میں حجرِ اسود کو اپنے ہاتھوں سے اُٹھاکر رکھ دیا اور پھر حکم دیا کہ ہر قبیلہ کا منتخب آدمی چادر کا ایک ایک کنارہ پکڑلے، اس طرح کیا گیا، جب بنیاد تک پہنچ گیا تو خود اپنے ہاتھوں سے اُٹھا کر رکھ دیا۔‘‘(۱۲)
مفتی صاحبؒ، قریشی تعمیر کے حواشی میں لکھتے ہیں:
’’اس سے پہلےبیت اللہ کی تعمیر اول حضر ت شیثؑ نے کی اور پھر حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی۔‘‘(۱۳)
بیت اللہ کی تعمیر کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشادہوا:
’’اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّـذِیْ بِبَکَّـۃَ مُبَارَکًا وَّہُدًی لِّلْعَالَمِيْنَ‘‘ (۱۴)
’’بیشک لوگوں کے لیے جوسب سے پہلا گھرمقرر ہوا، یہی ہے جومکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہ نما ہے۔‘‘
دراصل مکہ کے تین نام ہیں:مکہ، بکہ اور اُمّ القریٰ، اُمّ القریٰ ہی سے نبی الامّی بنا ہے، یعنی نبی مکہ کا رہنے والا۔ اُمّ القریٰ کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشادہوا:
’’وَکَذٰلِکَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَـہَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْـعِ لَا رَيْبَ فِيْہِ‘‘ (۱۵)
’’اور اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا، تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو ڈرائیں اور قیامت کے دن سے بھی ڈرائیں جس میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ رب العٰلمین کے بنائے ہوئے کعبۃ اللہ کے آثار کو ریت کے نیچے سے باہر نکالا اور اس کے او پر مزید تعمیر کی، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادہوا:
’’وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْـرٰہِيْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْـمٰعِيْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ‘‘(۱۶)
’’اورجب ابراہیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے، (کہا:) اے ہمارے رب! ہم سے قبول کر، بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
اور ارشاد ہوا:
’’وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًاۖ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْـرٰہِيْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَآ اِلٰٓی اِبْـرٰہِيْمَ وَاِسْـمٰعِيْلَ اَنْ طَہِّرَا بَيْتِیَ لِلطَّـآئِفِيْنَ وَالْعٰکِفِيْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ‘‘ (۱۷)
’’اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے لیے عبادت گاہ اور امن کی جگہ بنایا،(اور فرمایا)مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔‘‘
ثابت ہوا کہ کعبۃ اللہ کو سب سے پہلے اللہ نے تعمیر کیا، اس کے بعد انسانوں نے مختلف ادوار میں تعمیر کیا۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ ’’ اسیرانِ جنگ بدر کےساتھ مسلمانوں کا سلوک، تہذیب کے مدعی یورپیوں کے لیے سبق‘‘کےعنوان کےتحت لکھتے ہیں کہ:
’’اسیرانِ جنگ بدر جب مدینہ طیبہ پہنچے توآنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو دو چار چار کرکے صحابہؓ میں تقسیم کردیے، اور سب کو حکم فرمایاکہ ان کو آرام کے ساتھ رکھیں ، جس کا اثر یہ تھا کہ صحابہؓ اُن کو کھانا کھلاتے اورخود صرف کھجوروں پر بسر کرتے۔‘‘(۱۸)
مزید لکھتے ہیں کہ:
’’بدر کے قیدیوں کے پاس کپڑے نہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب کے کپڑے دلوادیے۔‘‘ (۱۹)
ثابت ہوا کہ جنگی حالات میں بھی اسلام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام نے جنگ کے اصول و ضوابط بھی مقرر کیے ہیں جو اسے دنیا کے دیگر ادیان سے ممتاز کرتے ہیں۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ جنگِ بدر کی فتح کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ غزوہ دراصل اول سے آخر تک اسلام کا کھلا معجزہ تھا، ورنہ اس میں مسلمانوں کی فتح کوئی معنی نہیں رکھتی، کیوں کہ ادھر ایک ہزار نوجوانوں کا عظیم الشان لشکر ہے اور ادھر صرف تین سو چودہ آدمی۔‘‘(۲۰)
معروف یہی ہے کہ غزوۂ بدر میں اہلِ ایمان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ الغرض مفتی صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’ادھر بڑے بڑے دولت مندامراء ہیں، جو تنہا سارے لشکر کی رسد وغیرہ کا خرچ اُٹھا سکتے ہیں اور ادھر بے سرو سامان، مفلس لوگ، ادھر سواروں کی جمعیت، اور ادھر مسلمانوں کے لشکر میں صرف دو گھوڑے، ادھر ہر قسم کے ہتھیار و اسلحہ کی بھرمار اور ادھر صرف معدود تلواریں۔‘‘(۲۱)
مفتی صاحبؒ کی اس منظر کشی پر قرآن مجید کی آیت یاد آگئی، جس میں ارشاد ہوا:
’’وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُـمْ اَذِلَّـۃٌ ، الخ‘‘ (۲۲)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں:
’’یورپین مؤرخین حیرت میں ہیں کہ یہ کیسے ہوگیا! انہیں خبر نہیں کہ فتح و نصرت، کامیابی یا ناکامی گھوڑوں اور تلواروں یا مال دولت کے قبضے میں نہیں ہیں، بلکہ اس میں اور کوئی ہاتھ کار فرما ہے، لیکن اسبابِ ظاہری کے دلدادہ ، برق و بھاپ کے پوجنے والے کہاں اس حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘(۲۳)
اللہ رب العالمین نے مؤمنوں کو حکم دیاہے کہ:
’’وَاَعِدُّوْا لَـہُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِـہِـمْ لَا تَعْلَمُوْنَـہُـمُ اللہُ يَعْلَمُہُـمْ ۚ وَمَاتُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِيْلِ اللہِ يُوَفَّ اِلَيْکُمْ وَاَنْتُـمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ‘‘ (۲۴)
’’اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو، سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی۔‘‘
اس لیے جنگ کی تیاری کے حکم سے صرفِ نظر نہیں کرنی چاہیے۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ مدینہ طیبہ میں اسلام کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
’’جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ اسلام کی اشاعت اور ترقی ہو تو قبیلہ اوس کے چند آدمی مدینہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیے، جن میں سے اس سال دو شخص اسد بن زرارہ اور ذکوان بن عبد قیس مشرف باسلام ہوئے اور پھر آئندہ سال ان میں سے کچھ اور آئے، جن میں سے چھ یا آٹھ آدمی مسلمان ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم پیغامِ خداوندی کی تبلیغ میں میری مدد کروگے؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ابھی ہماری آپس کی اوس اور خزرج کی خانہ جنگیاں ہورہی ہیں، اگر اس وقت جناب مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیعت پر سب کا اجتماع نہ ہوسکے گا، ابھی ایک سال اس ارادہ کو ملتوی فرما دیں۔ ممکن ہے کہ ہماری آپس میں صلح ہوجائے اور پھر اوس و خزرج مل کر اسلام قبول کرلیں۔ آئندہ سال ہم پھر حاضرِ خدمت ہوں گے، اس وقت اس کا فیصلہ ہوسکے گا۔‘‘(۲۵)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’اس وقت مدینہ کی آبادی دو قسم کے لوگوں پر مشتمل تھی: مشرکین اور اہلِ کتاب۔ مشرکین دو بڑے قبیلوں میں منقسم تھے: اوس اور خزرج، اور یہ دونوں آپس میں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے، اور تقریباً ایک سو بیس سال سے ان کے درمیان آپس میں جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔‘‘(۲۶)
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ اوس اور خزرج کے ذمہ دار لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خط لکھا کہ یہاں الحمد للہ اسلام کی اشاعت ہوچکی ہے، اب کسی صاحب کو ہمارے یہاں بھیج دیجیے، جو ہمیں قرآن شریف پڑھائے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت اور ہمیں احکامِ شریعہ کی تعلیم دے، اور نماز میں ہمارے لیے امام بنے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مصعب بن عمیرؓ کو تعلیمِ قرآن کے لیے بھیج دیا اور اسلام میں سب سے پہلے مدرسہ کی بنیاد مدینہ طیبہ میں پڑگئی۔‘‘(۲۷)
یہ مدینہ طیبہ کے مضافاتی علاقے کا ابتدائی مدرسہ ہوگا، مدرسہ صفہ نہیں تھا، وہ تو بعد میں شہر کے وسط میں مسجد نبوی کے ساتھ قائم کیاگیاتھا۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اسیرانِ جنگِ بدر کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’اسیرانِ جنگ میں جو لوگ فدیہ نہیں دے سکتے تھے ،ان میں جو لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان سے کہا گیا کہ تم دس بچوں کو لکھنا سکھادو، یہی تمہارا فدیہ ہے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔‘‘(۲۸)
اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اسلام میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے کہ کافر و مشرک سے بھی لکھنا پڑھنا سیکھ سکتے ہیں۔ نیز یہ کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ مشہور کاتبِ قرآن ہیں جنہوں نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد میں سرکاری سطح پرقرآن کی کتابت کی خدمات پیش کیں۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ رقم طرازہیں:
’’اس وقت تک جوہزارہا انسان اسلام کے حلقہ بگوش بن کر ہر قسم کے مصائب کا نشانہ بننے پر راضی ہوئے، ظاہر ہے کہ وہ کسی دنیاوی طمع یا حکومت کے جبر یا تلواروں کے ذریعے سے مجبور نہیں ہو سکتے۔ اس کھلی ہوئی ہدایت کو دیکھتے ہوئے بھی کیا وہ لوگ خدا سے نہ شرمائیں گے، جو اسلام کی حقانیت پر پردہ ڈالنے کے لیے کہا کرتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا؟! وہ اس کا کوئی جواب دے سکتے ہیں کہ ان تلوار چلانے والوں پر کس نے تلوار چلائی تھی؟! جو نہ صرف مسلمان بنے، بلکہ اسلام کی حمایت میں تلوار اُٹھانے اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر راضی ہو گئے۔کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ صدیق اکبر ، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی المرتضی رضی اللہ عنہم پر کس نے تلوار چلا کر ان کو مسلمان بنایا تھا؟! اور ابوذرؓ و انسؓ اور ان کے قبیلے کو کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے؟!ضماد ازدیؓ کو کس نے مجبور کیا تھا؟ اور طفیل بن عمر و دوسیؓ اور ان کے قبیلے پر کس نے تلوار چلائی تھی؟اورقبیلہ بنی عبد اشہل کو کس نے دبایا تھا اور تمام انصارِ مدینہ پر کس نے زور دیا تھا؟! جنہوں نے نہ صرف اسلام قبول کیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے ہاں بلا کر تمام ذمہ داری اپنے سر لی اور اپنی جان و مال آپ پر قربان کیے ۔ بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو کس نے مجبور کیا کہ ستر آدمیوں کی جماعت لے کر مدینہ کے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور با رضا ورغبت مسلمان ہو گئے۔ نجاشیؓ بادشاہ حبشہ پر کون سی تلوار چلی تھی کہ وہ باوجود اپنی سلطنت و شوکت کےقبل از ہجرت مسلمان ہوگئے۔ ابو ہندؓ، تمیمؓ اور نعیمؓ وغیرہ وغیرہ پر کس نے زور دیا تھا کہ ملک شام سے سفر کر کے آپ کی خدمت میں پہنچیں اور آپ کی غلامی اختیار کریں۔ اسی قسم کے صدہا واقعات ہیں، جن سے کتبِ تاریخ بھری ہوئی ہیں۔ یہ ناقابلِ انکار مشاہدات ہیں،جن کو دیکھ کر ہر انسان یہ یقین رکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلام اپنی اشاعت میں تلوار کا محتاج نہیں ، اور نہ فرضیتِ جہاد کا یہ مقصد ہو سکتا ہے کہ لوگوں کے گلے پر تلوار رکھ کر کہا جائے کہ مسلمان ہو جاؤ، یا ان کو کسی جبر و اکراہ سے اسلام میں داخل کیا جائے۔ جہاد کے ساتھ ہی جزیہ کے احکام اور کفار کو اہلِ ذمہ بنا کر ان کے جان و مال کی حفاظت بالکل مسلمانوں کی طرح کرنے کے متعلق اسلامی قواعد خود اس کی شہادت ہیں کہ اسلام نے کبھی کفار کو اسلام قبول کرنے پر بعدفرضیتِ جہاد بھی مجبور نہیں کیا، اس لیے ایک منصف مزاج انسان کا فرض ہے کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرے کہ اسلام میں فرضیتِ جہاد کس غرض اور کن فوائد کے لیے ہوئی؟ اور اسے اس وقت تک یہ یقین کرنا پڑے گا کہ جس طرح وہ مذہب کامل نہیں سمجھا سکتا جس نے لوگوں کا گلا گھونٹ کر بالجبر و اکراہ ان کو اپنے سلسلے میں داخل کیا ہو ،اسی طرح وہ مذہب مکمل نہیں جس میں سیاست نہ ہو۔ وہ سیاست نہیں،جس کے ساتھ تلوار نہ ہو۔ وہ ڈاکٹر اپنے فن کا ماہر نہیں ہوسکتا، جو صرف مرہم لگانا جانتا ہو، مگر سڑے ہوئے فاسد شدہ اعضا ء کا آپریشن کرنا نہیں جانتا۔‘‘(۲۹)
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اسلامی تعلیمات کی بھرپور طریقے سے ترجمانی کی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا ہےکہ یہ اسلام پر سراسر الزام ہے کہ وہ تلوار کے زور سے پھیلاہے۔اسلام دین کے معاملے میں زور زبردستی نہیں کرتا، جیسا کہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:
’’لَآاِکْـرَاہَ فِی الدِّيْنِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَّکْـفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللہِ فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَاانْفِصَامَ لَـہَا وَاللہُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ‘‘ (۳۰)
’’دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بیشک ہدایت گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ کو مانے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
اللہ رب العالمین نے ہر انسان کو مذہب اختیار کرنے کی آزادی دی ہے کہ وہ جو چاہے مذہب اختیار کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
’’وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَکْفُرْ‘‘(۳۱)
’’اورکہہ دو! یہ (قرآن)حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جو چاہے مان جائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
اور ارشاد فرمایا:
’’وَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِيْئُوْنَ مِمَّآاَعْمَلُ وَاَنَا بَرِيْءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ‘‘ (۳۲)
’’اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں۔‘‘
ایک روایت میں آیاکہ:
’’بعث رسول اللہﷺ أبا موسی ومعاذبن جبل إلی اليمن، قال:وبعث کل واحدمنہما علی مخلاف، قال:واليمن مخلافان، ثم قال:’’يسراولا تعسرا،وبشرا ولا تنفرا‘‘ (۳۳)
یعنی ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ دونوں صحابیوں کو اس کے ایک ایک صوبے میں بھیجا۔ راوی نے بیان کیا کہ یمن کے دو صوبے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ دیکھو لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، دشواریاں نہ پیدا کرنا، انہیں خوش کرنے کی کوشش کرنا، دین سے نفرت نہ دلانا۔‘‘
اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، دین بدلنے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ تلوار کا استعمال صرف اُن پر کیاجاتاہے جو اللہ کی مخلوق پر ظلم کرتے ہیں ، دنیا کا امن تباہ کرتے ہیں، لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے عوامی زبان میں مختصر مگر جامع کتاب تالیف کرکے جماعت المؤمنین پر احسان کیا۔ کتاب مذکورہ ایک اچھی کاوش ہے،جس کی تالیف پر مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ رب العالمین ان کی اس سعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آمین
۱- http://sunnionline.us/urdu/۲۰۱۸/۱۱/۱۲۰۴۷
۲- اظہار الحسن محمود،عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اورعلماء دیوبند(لاہور،مکتبۃ الحسن،سن ندارد)، ص:۲۳۵،۲۳۸
۳- ایضاً،ص:۵۰۲
۴-محمد شفیع، مفتی، ختم نبوت، (کراچی ،مکتبہ معارف القرآن،۲۰۰۹ء)،ص:۵۷،۵۸
۵- تھانوی،اشرف علی،تقریظ سیرت خاتم الانبیاء، کراچی، دارلاشاعت ، ۲۰۱۴ء، ص:۷
۶-کشمیری، انور شاہ ، تقریظ سیرت خاتم الانبیاء،کراچی،ص:۱۰
۷- عثمانی، عزیز الرحمٰن، مولانا، تقریظ سیرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،ص:۹
۸- محمد شفیع،مفتی،سیرۃ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،(کراچی،مکتبہ عمر فاروق، شاہ فیصل کالونی، اشاعت اول، ۲۰۱۵ء)،ص:۱۳
۹-محمد شفیع، سیرۃ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ص:۲۵
۱۰-محمد شفیع،سیرۃ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،ص:۲۲
۱۱- ایضاً،ص:۲۳
۱۲- ایضاً،ص:۲۶
۱۳- ایضاً،ص:۲۶
۱۴-سورۃ آل عمران(۳)الآیۃ:۹۶
۱۵- سورۃ لشوریٰ(۴۲)الآیۃ:۷
۱۶-سورۃ البقرۃ(۲)الآیۃ:۱۲۷
۱۷- سورۃ البقرۃ(۲)الآیۃ:۱۲۵
۱۸- محمد شفیع،سیرۃ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،ص:۵۴
۱۹- ایضاً، ص:۵۵
۲۰- ایضاً، ص:۵۴
۲۱- ایضاً، ص:۵۴
۲۲- سورۃ آل عمران(۳)الآیۃ:۱۲۳
۲۳-محمد شفیع، سیرۃ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،ص:۵۴
۲۴- سورۃ الانفال(۸)الآیۃ:۶۰
۲۵-محمد شفیع، سیرۃ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،ص:۳۶۔۳۷
۲۶- ایضاً، ص: ۳۷ ۔
۲۷ - ایضاً، ص: ۳۷ ۔
۲۸- ایضاً، ص:۵۶
۲۹- ایضاً، ص: ۴۴- ۴۵
۳۰- سورۃ البقرہ(۲) الآیۃ:۲۵۶
۳۱- سورۃ الکہف(۱۸)،الآیۃ: ۲۹
۳۲- سورۃ یونس( ۱۰)،الآیۃ :۴۱
۳۳- صحيح البخاری، کتاب العلم، الحدیث: ۴۳۴۲