بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ  رحمۃ اللہ علیہ   منتخب اوصاف و ملفوظات

حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ  رحمۃ اللہ علیہ  

منتخب اوصاف و ملفوظات


۳۰؍ رجب المرجب ۱۴۴۷ھ بروز منگل وفاق المدارس کے امتحان کے چوتھے پرچے میں درد و غم سے بھری ہوئی یہ خبر سننے کو ملی کہ استاذ محترم حضرت اقدس مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے ، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ 
حضرت استاذ جی نے قابلِ رشک کا میاب زندگی بسرکی۔ نہایت خلیق، ملنسار اور باغ و بہار شخصیت تھے، تواضع اور مسکنت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ، بایں ہمہ زاہد خشک نہیں تھے، بلکہ نہایت خوش مزاج اور بذلہ سنج تھے، برمحل و با موقع موضوع کے مناسب اقوالِ سلف اور مختلف نامور شعراء کے اشعار سے محفل کو کشتِ زعفران بنائے رکھتے ۔ 

چند گراں قیمت اوصاف

حضرت استاذ جی کے کمالات اور اوصاف تو اس قدر تھے کہ ان کی ہر صفت پر لکھا جا سکتا ہے، تاہم یہاں حضرت استاذ جی کی صرف تین صفا ت سے متعلق مختصراً عرض کرنا ہے:

1-حد درجہ تواضع

حضرت استاذجی حد درجہ منکسر المزاج شخصیت تھے، استاذجیؒ کے رہن سہن، ظاہر وباطن اور اقوال وافعال سے تواضع جھلکتی تھی، بایں ہمہ ان کی تواضع میں ذرہ برابر تکلف کا عنصر نہ تھا، کرو فرسے کوسوں دور اور نام ونمود سے ان کو شدید نفرت تھی۔

2- اسباق کی پابندی

اسباق کی پابندی حضرت استاذ جیؒ کا ایسا وصف تھا کہ جو اساتذۂ جامعہ میں بھی مشہور تھا، پورے سال میں ایک ناغہ بھی نہیں کیا، لیل و نہار کی مختلف قسم کی گردشیں حضرت استاذ جیؒ کی اس پابندی میں کوئی فرق تادمِ آخر نہ لا سکیں۔استاذ جیؒ کے اسباق کی پابندی سے متعلق ایک حیران کن مشاہداتی قصہ ملاحظہ کیجیے:
امسال ۲۵  ؍صفر ۱۴۴۷ھ مطابق۲۴؍ اگست۲۰۲۵ء بروز بدھ کراچی میں سخت بارش ہوئی تھی، اہل کراچی اور موسمیات والوں کے بقول کراچی میں ایسی تیز اور سخت بارش کئی سالوں بعد ہوئی، جس کے سبب اس دن دیگر تمام درجات سمیت دو پہر کو دورہ حدیث کی بھی تعطیل کا اعلان ہوا ۔اگلے روز باوجود پیرانہ سالی کے ٹھیک اپنے وقت پر استاذ محترم تشریف لائے، اپنے آنے کا قصہ طلبہ کرام کی ترغیب کے لیے بیان کیا، استاذ جی کے الفاظ میں من وعن نقل نقل کیا جا رہا ہے:
’’آج درجہ رابعہ تک اور شعبہ حفظ و بنات کی چھٹی ہے، لیکن درجہ خامسہ اور اس سے اوپر چھٹی نہیں اور میرا بیٹا (محمودالحسن) خامسہ میں پڑھتا ہے، لیکن آج وہ میرے ساتھ جامعہ میں نہیں آیا، کیونکہ کل وہ سخت تکلیف میں مبتلا ہو گیا تھا، اس لیے کہ وہ کل جامعہ سے کریم آباد تک پیدل آیا تھا اور وہاں سے کسی رکشہ میں بیٹھ کر رات کو گھر پہنچا، راستہ خراب اور رش ہونے کی وجہ سے تو وہ سخت تھکاہوا اور گھبرایا ہوا تھا اور آج مجھے بھی وصیت کرتا رہا کہ آپ مدرسےنہ جائیں ، پانی بہت جمع ہے، کہیں کچھ ہو نہ جائے، تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ کوئی جائے یا نہ جائے میں تو جاؤں گا، آٹھ سو طلبہ میرے لیے دور دور سے آئے ہوئے انتظار کر رہے ہوں گے، مجھے کیسے چین آئے گا اپنے گھر پہ بیٹھ کر، اور پھر فرمایا کہ: میں آپ طلبہ کے نورانی چہروں کے دیکھنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘

3- اپنے شاگردوں پر بے پناہ شفقت و محبت

حضرت استاذ محترمؒ کا ہر شاگرد جو اُن سے ملتایہ سمجھتا کہ حضرت استاذ جیؒ کو اس سے زیادہ محبت ہے، اپنے شاگردوں کو حضرت استاد جیؒ دیگر لوگوں پر ترجیح دیتے تھے اور اپنے شاگردوں کے علمی ذوق و شوق کو دیکھ کر اظہارِ مسرت فرماتے تھے، استاذ جیؒ سے سنا ہوا یہ جملہ تقریباً ہر طالب علم کو یاد ہوگا: ’’تلامیذي کالنجوم۔‘‘ ایک دن ہم طلبہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ: میں تو کہتاہوں کہ ایسا ماحول پتہ نہیں جنت میں بھی ہو گا یا نہیں۔ اسی طرح طلبہ کی پریشانی اور غم پر حضرت استاد جیؒ غمگین ہوتے، اس کی ایک عجیب مثال وفات سے دو دن پہلے کی ہے، راقم السطور جب استاذ جیؒ کی خدمت میں جناح ہسپتال عیادت کے لیے حاضر ہوا، رخصت ہوتے ہوئے جہاں حضرت استاذ جیؒ نے جہراً ڈھیروں دعاؤں سے نوازا، وہیں خصوصی طور پرآخر میں فرمانے لگے کہ: طلبہ سے کہنا کہ استاذ جی ٹھیک ہیں، یہ مت کہنا کہ بیمار ہیں، ان کے پرچے چل رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ وہ وہاں سے یہاں میرے پاس آئیں اور ان کو تکلیف پہنچے۔

منتخب ملفوظات

1- فرمایا کہ صحابہ کرامؓ بہت زیادہ سمجھدار تھے، کسی فرعی مسئلہ کو بحث و مباحثہ کا مسئلہ نہیں بناتے تھے۔ دیکھو! سماعِ موتی کی بحث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  پر نکیر کی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  نے فرمایا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  قلیبِ بدر کے پاس آئے اور کفار جو اس میں ڈالے گئے تھے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا : ’’ھل وجدتم ما وعد ربکم حقا؟‘‘ تو اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: یہ تو مرے ہوئے ہیں، آپ ان سے اس طرح گفتگو کررہے ہیں؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: وہ ابھی میری باتوں کو سن رہے ہیں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ فرمایا تھا کہ میں جو اُن کو کہہ رہا ہوں وہ جانتے ہیں، یعنی ’’لیعلمون‘‘ فرمایا تھا، نہ کہ ’’لیسمعون‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی‘‘۔ شراحِ حدیث اپنی شروحات میں اس بات کا جواب دیتے ہیں ، جب شراحِ حدیث جواب دے سکتے ہیں تو کیا وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  سے زیادہ ہوشیار اور عالم ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما  جواب نہیں دے سکتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما  نے اس مسئلہ کو بحث و مباحثہ کا مسئلہ بنانا نہیں چاہا تو خاموش ہوگئے۔
2-فرمایا کہ آدمی کے پاس اِزار اور قمیص کے علاوہ بھی ایک چادر ہونی چاہیے اور اس کا ثبوت بخاری شریف کی حدیث سے ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  سے شکایت کی کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ  نے میری اونٹنی کو ذبح کر دیا الخ تو اس حدیث میں ہے کہ: ’’فدعا النبي صلی اللہ علیہ وسلم بردائہ فارتدی‘‘ اور اس کو بعض علاقوں والوں نے اپنا یا بھی ہے۔
3-فرمایا کہ واعظوں اور تبلیغ والوں کو حجۃ الوداع سے متلعق حدیث بیان کرتے ہوئے خیال کرنا چاہیے، اس میں اپنی طرف سے غلط بات بھی نقل کر تے ہیں کہ حجۃ الوداع کے خطبہ کے بعد جس صحابیؓ کے اونٹ کا رخ جس طرف تھا وہ اسی طرف کو تبلیغ دینے کے لیے نکل گیا۔ تو یہ صحیح نہیں ہے، سب مدینہ اور اپنے اپنے علاقے گئے تھے۔
4- فرمایا کہ عید کے دن مصافحہ اور مبارک بادی پر میں بخاری شریف میں واقعہ تبوک کی حدیث سے استدلال کرتا ہوں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ  اور ان کے ساتھیوں کی توبہ جب قبول ہو گئی تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ  اس میں فرماتے ہیں کہ: ’’فقام إليّ طلحۃ بن عبيد اللہ يہرول حتی صافحني وہنأني۔‘‘
5- ایک طالب علم نے سوال کیا کہ استاذ جی! جب اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری لی ہے تو پھر لوگ بھوک سے کیوں مرتے ہیں؟ استاذ جیؒ نے نہایت تسلی بخش جواب دیا کہ اصل میں اللہ تعالیٰ نے موت کے بہت سے اسباب تقدیر میں لکھے ہیں، جیسے غرق ہونا وغیرہ، ان اسباب میں سے ایک سبب بھوک سے مارنا بھی ہے، تو اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو رزق لکھا ہوا ہوتا ہے وہ جب ختم ہو جاتا ہے تو ان کو رزق نہیں پہنچاتے، جس کی وجہ سے وہ بھوک سے مر جاتے ہیں۔
6-فرمایا کہ بعض لوگ کرامت بعد الوفاۃ کو نہیں مانتے، جب کہ کرامت بعد الوفاۃ تو قرآن سے ثابت ہے، جیسا کہ اصحابِ کہف کا جو قصہ قرآن میں مذکور ہے، ان میں اصحابِ کہف کی کرامت بھی ہے تو ان کی کرامت ان کے من جانب اللہ سونے کے بعد ظاہر ہوئی ہے اور ’’النوم أخو الموت‘‘ سے کرامت بعد الوفاۃ ثابت ہوئی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ کرامت کو ولی اپنے اختیار سے ظاہر نہیں کرتا، بلکہ کرامت کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرتے ہیں اور کرامت ایک قسم کی عزت ہے تو اللہ تعالیٰ جس طرح زندگی میں عزت دیتے ہیں، اسی طرح مرنے کے بعد بھی عزت دیتے ہیں تو کرامت موت کے بعد بھی ظاہر ہوتی ہے۔
(اس ملفوظ کے بعد حضرت استاذ جی نے فرمایا کہ یہ استدلال صحیح ہے یا نہیں؟! یہ کہیں نہیں ملے گا، یہ اس دکان میں ملے گا اپنی طرف اشارہ کر کے)۔
7- فرمایا کہ سورۂ یوسف بہت اعلیٰ اور زبردست سورت ہے۔ پتہ نہیں اس میں کیا کیا علوم اور اسرار ہیں، لیکن دراصل اس سورت سے حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  کو تسلی دینی مقصود ہے کہ اگر مکہ والے آپ کو تکلیف پہنچا رہے ہیں تو حضرت یوسف علیہ السلام  کو بھی ان کے بھائیوں نے تکلیف پہنچائی۔ اگر آپ کی زوجہ پر تہمت لگائی گئی تو حضرت یوسف علیہ السلام  پر بھی تہمت لگی، وغیرہ وغیرہ، لیکن بالآخر کامیابی حضرت یوسف علیہ السلام  کے مقدر میں تھی تو اسی طرح کامیابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے مقدر میں بھی ہو گی۔
8- فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسلام یوں ہی اُڑ کر ہمارے گھروں میں آیا ہے، حالانکہ ساری تاریخ مسلمان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی قربانیوں سے روشن ہے۔
9- فرمایا کہ حکومت میں جذبات سے نہیں، بلکہ حلم سے کام چلایا جاتا ہے، علم اور حلم دونوں حکومت  چلانے کے لیے بہت ضروری اوصاف ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  ان دونوں صفتوں سے متصف تھے۔
10- فرمایا کہ روزہ ایک روحانی آپریشن ہے اور آپریشن میں بہت سی چیزوں سے پرہیز دیا جاتا ہے تو روزہ میں بھی بہت سی چیزوں سے پرہیز کا حکم دیا گیا۔
11- فرمایا کہ صحیح بخاری کی اردو شروحات میں سے سب سے زیادہ مختصر اور جامع شرح ’’تقریرِ بخاری‘‘ (مولانا محمد زکریا کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ  کی) ہے، اس کو ضرور مطالعہ میں رکھا کریں۔
12- ایک طالب علم نے پرچی لکھی کہ استاد جی! مستقل مزاجی کی صفت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ تو جواب میں استاذ جی نے فرمایا کہ: یہ دعاؤں سے ملے گی، دعا اس کا نسخہ ہے، دعاؤں سے بہت کچھ ملتا ہے۔
13- فرمایا کہ عشق صرف دیکھنے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ سننے سے بھی پیدا ہوتا ہے، دیکھو! حضرت موسیٰ  علیہ السلام  جب اللہ سے ہم کلام ہوئے تو اللہ کے کلام کو سن کر عشق اور بڑھ گیا، پھر فرمایا: ’’رَبِّ اَرِنِيْ اَنْظُرْ اِلَيْکَ!‘‘
14- فرمایا کہ بدن میں سب سے پہلے کان سوتا ہے، اس کی عقلی دلیل تو یہ ہے کہ آدمی سوتے وقت سب سے پہلے کہتا ہے کہ شور نہیں کرو، اور نقلی دلیل بخاری شریف میں سورۃ الکہف کے ذیل میں اصحابِ کہف کے بارے میں ابن عباسؓ سے مروی روایت ہے کہ: فَضَرَبَ اللہُ عَلٰی اٰذَانِہِمْ فناموا۔
15- فرمایا کہ گھر والوں کے ساتھ باتیں کرنا بھی سنت ہے، یہ نہیں ہے کہ بس ہر وقت مطالعہ ہو اور گھر والوں کو کوئی وقت نہ دیا جائے، اس کی دلیل بخاری کی حدیث ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما  نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے رات کا معمول نقل کیا ہے، اس میں ہے کہ: ’’فتحدث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مع أہلہٖ ساعۃ ثم رقد۔‘‘
16- فرمایا کہ یہ آیت جو ہے: ’’لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْکُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ‘‘ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے اکسیر ہے، ’’روح المعاني‘‘ میں اس آیت کے تحت قصہ دیکھ لیجیے اور فضائل درود شریف میں سے ایک حصہ کو دیکھ لو (بہت فائدہ ہوگا)۔
17- فرمایا کہ حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ  کی تمام کتابیں خریدو، وہ وکیلِ اہلِ سنت تھے، مولانا امین اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ  کو ان سے عقیدت تھی تو اپنے ساتھ صفدر لگایا۔
18- فرمایا کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تصوف کی حقیقت اسلام میں نہیں ہے، حالانکہ تصوف سے قرآن بھرا ہوا ہے، جگہ جگہ ’’يَتَفَکَّرُوْنَ‘‘ جو آیا ہے یہ تصوف ہی تو ہے، اسی طرح ’’وَيُزَکِّيْہِمْ‘‘ یہ تصوف ہی تو ہے۔
19- فرمایا کہ یہ آیت جو ہے: ’’حَسْبُنَا اللہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘اس کا پڑھنا تکالیف اور مشکلات کے وقت بہت مفید ہے۔
20- فرمایا کہ طلبہ کرام سے میری درخواست اور ان کو میری نصیحت ہے کہ جیسے ہی اذان ہو جایا کرے‘ فوراً تکرار و مطالعہ سب چھوڑ دیا کریں، فوراً نماز کی تیاری میں لگ جائیں۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے