
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست ، قرآن و علماء بورڈ کے چیئر مین و صدر ،مجلس صیانۃ المسلمین کے سربراہ ، جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم و استاذ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی رحمۃ اللہ علیہ ۱۴؍رجب المرجب۱۴۴۷ھ مطابق۴ ۱؍جنوری ۲۰۲۶ء بروز اتوار رات ساڑھے گیارہ بجے وصال فرماگئے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون!
حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے خلیفہ اجل جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ۱۰؍ نومبر ۱۹۴۴ء کو محلہ شریف پورہ امرتسر میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ اپنی والدہ محترمہ سے قرآن مجید ناظرہ سے تعلیم کا آغاز کیا۔ پاکستان بننے کے بعد لاہور نیلا گنبد کی جامع مسجد سے جامعہ اشرفیہ کا آغاز ہواتو وہاں قاری خدا بخش ؒ اور قاری رونق علی ؒ سےحفظ کا آغاز وتکمیل کی، اور حضرت قاری عبدالمالک صاحبؒ سے تجوید پڑھی۔
جامعہ اشرفیہ میں درسِ نظامی کی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر اپنے والد گرامی مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا رسول خان ہزارویؒ ایسے مشائخِ وقت سے کسبِ فیض کیا،۱۹۶۲ ء میں دورہ حدیث شریف کے بعد جامعہ عباسیہ بہاول پور تشریف لے گئے، جہاں حضرت مولانا شمس الحق افغانی ؒ اور دوسرے اساتذہ سے تکمیل کی۔ جامعہ عباسیہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں مسندِ تدریس پر فائز ہوئے۔ مولانا فضل الرحیم ایک ہنس مکھ، ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ نرمی، ملائمت،شفقت، سراپا ہمدردی وخیر خواہی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔اتنی محبت وشفقت سے گفتگو فرماتے کہ ہر سامع کے دل پر اثر کرتی تھی، اپنے مخاطب کو اتنا احترام دیتے کہ وہ قلب ونظر سے فدا ہونے لگ جاتا، اس لیے قدرتِ حق نے آپ کو ہر دلعزیز بنادیا تھا۔
آپ ۱۹۹۲ء سے دورہ حدیث شریف کے اسباق پڑھانے لگے، اندرون وبیرون ملک آپ کے شاگردوں کا وسیع حلقہ ہے۔ آپ جہان بھی تشریف لے جاتے علم کے وقار واحترام، ہر دلعزیزی اور یادوں کی داستان چھوڑ آتے۔ تصوف میں آپ پیرِ طریقت تھے۔ متعدد کتب کے آپ مصنف ومؤلف تھے۔ آپ عقیدہ ختمِ نبوت کے منّاداور اس محاذ پر کام کرنے والی تمام تنظیمات آپ کو اپنا سرپرست شمار کرتی تھیں۔ مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے زیر ِ اہتمام جہاں بھی کانفرنسوں کے لیے آپ کو دعوت دی جاتی آپ ضرور تشریف لاتے۔ صحت کے زمانہ میں چناب نگر کی ختم نبوت کانفرنس میں ہر سال تشریف لانا آپ کے معمولات کا حصہ شمار ہوتا تھا۔ اکثر وبیشتر اپنے خلیفہ مجاز اور جامعہ کے ناظم تعلیمات مولانا محمد یوسف خان کو بھی ہمراہ لاتے۔ بارہا آپ کے جامعہ اشرفیہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ آپ جس خوش دلی کے ساتھ اپنے ادارہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملکی سطح کی ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کی اجازت دیتے، اور پھر کمال شفقت کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے سرپرستی فرماتے وہ تحفظ ختم نبوت کی انمٹ تاریخ کا سنہری باب ہے۔
ایک عرصہ سے آپ بیمار تھے، ۴؍ جنوری ۲۰۲۶ ء کی شب آپ کا وصال ہوا۔ اگلے دن نمازِ ظہر کے بعد آپ کا جامعہ اشرفیہ میں ہی آپ کے صاحبزادہ حضرت مولانا زبیر حسن مدظلہم نے جنازہ پڑھایا اور یوں وہ آخرت کی منزل پرروانہ ہو گئے۔ راقم الحروف بھی حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب کی معیت میں آپ کی نماز ِ جنازہ میں شریک ہوا ۔ جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری ، نائب رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر سید احمد یوسف بنوری ، ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ یوسف زئی ، تمام اساتذہ اور ادارہ بینات ، حضرت کے تمام پسماندگان سے دِلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور دُعا گو ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرتؒ کی آنے والی تمام منزلیں آسان فرمائے ، آپ ؒ کو جنت الفردوس کا مکین بنائے ، آپؒ کے لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے اور آپؒ کے تمام صدقات جاریہ کو اللہ تعالیٰ جاری و ساری رکھے،آمین بحرمۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ أجمعین۔
اسی طرح شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز، جامعہ زکریا دارالعلوم کربوغہ (دارالایمان والتقویٰ)کے شیخ الحدیث اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست حضرت مولانا مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۸ ؍ رجب المرجب ۱۴۴۷ ھ مطابق ۲۹ ؍ دسمبر ۲۰۲۵ ء بروز پیر اس دنیائے فانی سے عالمِ بقا کی طرف کوچ کر گئے ۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، إن للہ ما أخذ ولہٗ ما أعطیٰ وکل شيء عندہٗ بأجل مسمّٰی!
کربوغہ جو شہری دنیا سے دور بالکل دیہاتی علاقہ ہے، وہاں حضرت شیخ ؒ کے سلسلے کو جاری کیا اور جنگل میں منگل کا سماں باندھ دیا۔ ہرسال اصلاحی اجتماع ہوتا، جس میں دور دراز سے آپ ؒ کے متعلقین شرکت کر کے اپنا ایمان تازہ کرتے۔ آپؒ تکلفات سے دور رہتے تھے، سادہ زندگی کے خوگر تھے ۔ شروع شروع میں بہت گم نام رہے، لیکن جب اللہ نے آپؒ کے ذریعےاپنے دین متین کا کام لینا چاہا تو دور دور تک آپ ؒ کا شہرہ ہوگیا اور کئی علما ء و صلحاء کا آپؒ کی طرف رجوع ہوا۔ ساری زندگی مسلمانوں کےتزکیۂ نفوس کی محنت کرنے میں گزار دی ۔ انتقال سے چند ہی روز قبل کراچی میں اپنے سالانہ اصلاحی اجتماع میں تشریف لائے تھے ۔ کسے معلوم تھا کہ یہ آپ ؒ کی زندگی کا آخری سفر ہوگا اور اس کے بعد یہ شہر حضرت شیخ الحدیثؒ کے سلسلے کے ایک اور شیخ کے روحانی فیوض و برکات سے محروم ہو جائے گا !
آپؒ امت میں اتحاد و اتفاق اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں رہتے تھے اور اس کے لیے مسلمانوں کو بیدار رکھتے تھے ۔اللہ تعالیٰ آپؒ کے درجات بلند فرمائے اور اُمتِ مسلمہ کواپنے نیک بندوں سے محروم نہ فرمائے ، آمین !
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے نائب رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر سید احمد یوسف بنوری، جامعہ کے استاذ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید خان اسکندر اور جامعہ کے استاذ حضرت مولانا یحییٰ لدھیانوی سفر کرکے جنازے میں شریک ہوئے۔
آپؒ کی وفات حسرتِ آیات پر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، نائب رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر سید احمد یوسف بنوری ، ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ یوسف زئی کے علاوہ جامعہ کی انتظامیہ اور اساتذہ حضرتؒ کی جدائی کے غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں اور آپؒ کے پسماندگان سے دِلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور تمام قارئینِ بینات سے حضرتؒ کےلیے ایصالِ ثواب اور دعاؤں کے اہتمام کی درخواست کرتے ہیں ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ حضرتؒ کے مشن کو جاری و ساری رکھیں اور حضرت ؒ کو جنت الفردوس کا مکین بنائیں، آمین بحرمۃ سید المرسلین !