بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

حضرت مولانا سید محمود میاں  رحمۃ اللہ علیہ 

آہ ! خانوادۂ مؤرخِ ملت کا فردِ جلیل

حضرت مولانا سید محمود میاں  رحمۃ اللہ علیہ 


۷؍ محرم الحرام ۱۴۴۷ ھ / ۲؍ جولائی ۲۰۲۵ ء بروز بدھ رات سواگیارہ بجے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ کے مہتمم ، خانقاہ حامدیہ رائیونڈ کے مسند نشین، جمعیت علماء اسلام پنجاب کے امیر محترم ، سینکڑوں علماء و مشائخ کے استاذ محترم حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب تقریباً پانچ ماہ کی طویل اور صبر آزما علالت کو برداشت کرکے اجرِ عظیم سمیٹتے ہوئے باری تعالیٰ کے حضور پہنچ گئے، إِنَّا لِلہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ، وَرَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی رَحْمَۃً وَّاسِعَۃً۔
حضرت مولانا ؒ ، مؤرخِ ملت حضرت العلام مولانا سید محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہٗ ( صاحبِ ’’علمائِ ہند کا شاندار ماضی‘‘) کے پوتے اور استاذ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب قدس سرہٗ کے لائق و فائق منجھلے صاحبزادے تھے، کون مولانا سید حامد میاں ؒ ؟! ان کا مقام ان کے شیخ و استاذِ گرامی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی نور اللہ مرقدہٗ کے قلم سے پڑھ کر اندازہ لگائیے، فرماتے ہیں :’’۔۔۔ مگر میرا آپ (1) پر سخت اعتراض ہے کہ آپ سال گزشتہ کے ایام کو موصوف (2) کے لیے اضاعت (بیکار) کے ایام شمار فرماتے ہیں۔ محترما! موصوف نے اس مدت میں سلوک میں نہایت بیش بہا ترقی کی ہے جو کہ لوگوں کو سال ہا سال میں حاصل نہیں ہوتی، اگر وہ اسی رفتار پر رہا تو قریب ہے  کہ اس کو اس معیار پر مجاز ہونے کا فخر حاصل ہوجائے، جو کہ حضرت گنگوہی قدس اللہ سرہ العزیز کا تھا(3)  شکر کیجیے کفرانِ نعمت سے بازآیئے، وہ اپنے باپ دادا سے بہت بڑھ گیا ہے۔‘‘ (4)
حضرت مولانا ؒ اس بڑے باپ کے بیٹے تھے جن کے متعلق حضرت شیخ الاسلام  رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ تحریر فرمایا تھا۔ حضرت مولانا ؒکو میں نے اپنے بچپن ہی سے دیکھا ہے، حضرت جی (5) کی خدمت اقدس میںمیرے جد امجد حضرت مولانا قاری شریف احمد صاحب نور اللہ مرقدہ گاہ بگاہ کراچی سے لاہور تشریف لے جاتے تھے تو مجھے ساتھ لے جاتے، آج ان بزرگوں سے واقفیت میرے جد امجد ؒ کی مرہونِ منت ہے، اس وقت حضرت مولانا ؒ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور پھر فاضل ہو کر اپنے ہی مدرسے جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں مدرس بھی ہوگئے تھے۔ یہاں حضرت مولانا ؒ کے حالات پر مختصر نظر ڈالتے ہیں :
حضرت مولانا ؒکی پیدائش ۲۶ ؍ذوالقعدہ ۱۳۷۵ھ/ ۵؍ جولائی ۱۹۵۶ء بروز جمعرات لاہور میں ہوئی ۔ حفظ قرآن کریم جامعہ مدنیہ ہی میں شعبہ حفظ کے استاذ قاری عبدالرشید صاحب ؒ سے کیا، حضرت جی ؒ کی زندگی میں اور بعد میں بھی جامعہ کی مدینہ مسجد میں ایک سال تراویح میں حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم ( موجودہ مہتمم جامعہ مدنیہ کریم پارک ) اور ایک سال حضرت مولاناؒ سناتے تھے ۔درسِ نظامی کی تعلیم جامعہ مدنیہ ہی میں از اوّل تا آخر ( دورہ حدیث شریف تک ) مکمل کی، اس تعلیم کا آغاز شوال المکرم ۱۳۹۰ ھ/ دسمبر ۱۹۷۰ ء میں پندرہ سال کی عمر میں ہوا ۔اس طرح شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ/ جولائی ۱۹۸۱ء میں دورہ حدیث پڑھ کر جامعہ مدنیہ(کریم پارک) ہی سے فارغ التحصیل ہوئے، اس وقت حضرت مولانا ؒ کی عمر چھبیس سال تھی۔شوال المکرم ۱۴۰۱ھ/ ستمبر ۱۹۸۱ء سے جامعہ مدنیہ کریم پارک ہی میں تدریسی زندگی شروع ہوئی اور اپنے عظیم والد گرامی  رحمۃ اللہ علیہ  کے زیرنگرانی پڑھانا شروع کیا۔ تزکیۂ نفس کے لیے حضرت جی مولانا سید حامد میاں صاحب ؒ کے دست ِحق پرست پر بیعت کی اور سلوک کی منازل طے کرنی شروع کیں۔
حضرت جی ؒ کی وفات ۱۳ ؍رجب المرجب ۱۴۰۸ھ/ ۳ ؍ مارچ ۱۹۸۸ء کے بعد حضرت جی ؒ کے خلفائے کرام حضرت مولانا قاری شریف احمد صاحب ، حضرت حاجی محمود احمد عارف ہوشیارپوری اور حضرت مولانا غلام محمد صاحب سربازی (ایران) رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت جی ؒ کی طرف سے حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم اور حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کو خلافت عطا فرمائی ۔ حضرت قاری صاحب ؒ تحریر فرماتے ہیں :’’حضرت مولانا سید حامد میاں صاحب نور اللہ مرقدہٗ سے جس طرح ہم لوگوں (خلفاء) نے اکتسابِ فیض کیا، اس کے بعد حضرت مولانا  رحمۃ اللہ علیہ  نے خلافت سے نواز کر چاروں سلسلوں میں بیعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی ، اسی طرح ہم خلفاء بھی مولانا مرحوم کے صاحبزادوں مولوی سید رشید میاں اور مولوی سید محمود میاں سلمہما کو بیعت کی اجازت دیتے ہیں ۔ہم خدام ہر دو بھائیوں کے حق میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اتباعِ سنت اور اپنے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق دے اور دین کی خدمت پوری مستعدی سے کرتے رہیں، آمین ! ‘‘ (6)
حضرت مولاناؒ نے اپنے والدگرامی کے اس سلسلے کو بڑی خوش اُسلوبی سے آگے بڑھایا اور سینکڑوں مریدین ان کے حلقے میں شامل ہوئے ! باقاعدہ خانقاہ حامدیہ کی بنیاد جامعہ مدنیہ جدید میں رکھی، ہر اتوار کو مجلسِ ذکر کا حلقہ بھی ہوتا تھا، جیسا کہ حضرت جی ؒ کے زمانے میں کریم پارک میں ہوتا تھا، اللہ کا شکر ہے کہ یہ فیض جاری ہے ۔حضرت مولانا ؒنے دو نکاح کیے ، پہلا نکاح ۱۹؍جون ۱۹۸۷ء بروز جمعہ حضرت اقدس مولانا عزیر گل صاحب کاکاخیل (اسیر مالٹا) علیہ الرحمہ کے خاندان میں مولانا عبداللہ کاکاخیل (سابق استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن)کی صاحبزادی سے ہوا، رخصتی اور ولیمہ کی تقریب فروری ۱۹۸۸ء میں منعقد ہوئی، اس موقع پر حضرت جیؒ (مولانا سید حامد میاں ؒ) کی دعوت پر پاک وہند کے جید علماء ولیمے میں تشریف لائے تھے، حضرت مولانا ؒ کے ولیمے کے بارہ دن بعد حضرت جی(مولانا سید حامد میاں  رحمۃ اللہ علیہ ) کی وفات ہوگئی تھی !دوسرا نکاح ۲۶؍ جون ۱۹۹۶ء میں ہوا، لیکن اولاد دونوں سے نہیں ہوئی۔حضرت جی ؒ کی وفات کے اگلے روز ۱۴ ؍رجب المرجب ۱۴۰۸ھ/ ۴؍ مارچ ۱۹۸۸ء کو جامعہ مدنیہ کی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس ہوا، جس میں بانی و امیرِ جامعہ حضرت مولانا سید حامدمیاں صاحب قدس اللہ سرہٗ العزیز کی وفات کے بعد جامعہ کے نظم ونسق کے متعلق غوروخوض ہوا اور طے پایا کہ جامعہ مدنیہ لاہور کے سرپرست شیخ طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں) امیر مولانا سید رشید میاں صاحب اور نائب امیر مولانا سید محمود میاں صاحب ؒ ہوں گے۔جامعہ مدنیہ حضرت جی ؒ کی وفات کے بعد تعلیمی میدان میں بحمد اللہ ترقی کرتا رہا، حضرت جی ؒ کی دیرینہ خواہش تھی کہ جامعہ مدنیہ کی بڑے پیمانے پر توسیع ہو اور اس کے ساتھ خانقاہ بھی ہو، اس لیے کہ مدارس میں تعلیم کے ساتھ تزکیۂ نفس بہت ضروری ہے، اس خواہش کی تکمیل کے لیے ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء میں ۱۹؍کلومیٹر رائیونڈ روڈ پر پچیس ایکڑ جگہ خریدی گئی اور جامعہ کا آغاز حفظِ قرآن مجید کی کلاسوں سے ہوا، اس جگہ کا نام ’’ محمد آباد‘‘ رکھا گیا۔
۱۲ ؍شعبان المعظم ۱۴۲۰ھ/ ۲۲ ؍نومبر ۱۹۹۹ء کو مجلس شوریٰ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ مدنیہ کو انتظامی و تعلیمی طورپر دو حصوں میںمنقسم کر دیا جائے، اس لیے ’’قدیم جامعہ‘‘ کریم پارک میں ہے اور ’’جدید جامعہ‘‘ رائیونڈ روڈ پر ۔فیصلہ ہوا کہ قدیم جامعہ کریم پارک حضرت جیؒ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا سید رشید میاں صاحب مدظلہم کے اہتمام میں، جبکہ جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈروڈ پر حضرت جی ؒ کے منجھلے صاحبزادے حضرت مولانا سید محمود میاں صاحب ( رحمۃ اللہ علیہ ) کے اہتمام میں ہوگا، اس طرح حضرت مولانا ؒ جامعہ مدنیہ جدید کے مہتمم تا وقت ِوفات رہے جو ساڑھے چھبیس سال کا عرصہ ہوتا ہے، تَقَبَّلَ اللہُ مِنْہُ! اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ؒ کی خدماتِ حدیث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے دین کے علوم کی حفاظت میں جو تن من دھن سے مصروف رہے، اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، جامعہ کی حفاظت فرمائے۔ 
ماہنامہ انوارِ مدینہ لاہور جو حضرت جیؒ نے ۱۹۷۰ء میں جاری فرمایا تھا، تقریباً پانچ سال تک آب وتاب کے ساتھ شائع ہوتا رہا، پھر حالات کی نذر ہوگیا، حضرت مولانا ؒ نے بعض بزرگوں کے اصرار پر اس سلسلے کو ربیع الثانی ۱۴۱۳ھ/ اکتوبر ۱۹۹۲ء سے پھر شروع فرمایا، بحمداللہ تعالیٰ یہ سلسلۂ ثانی تاوقت ِتحریر جاری ہے اور اللہ کرے آگے بھی یہ دین کی اشاعت کا ذریعہ بنتا رہے۔ اس نقش ثانی کے دوسرے شمارے جمادی الاولیٰ ۱۴۱۳ھ/ نومبر ۱۹۹۲ء سے حضرت مولانا ؒ نے اداریہ تحریر فرمانا شروع کیا، پہلے اداریے کا عنوان تھا ’’الٰہی! تیرے نام سے ابتدا کررہا ہوں۔ ‘‘ یہ صحافتی سلسلہ حضرت مولانا ؒ کو اپنے والد گرامی حضرت جی ؒ کے واسطے سے ملا اور حضرت مولانا ؒ کے دادا حضور مؤرخِ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ  سے حضرت جی ؒ کو ملا تھا، اس لیے کہ حضرت مؤرخِ ملت ؒ نے بھی ’’ماہنامہ قائد‘‘ مراد آباد سے جاری فرمایا تھا، یہ ۱۹۴۴ء کی بات ہے، پھر ’’الجمعیۃ دہلی‘‘ کے ادارتی شعبے سے بھی وابستہ رہے، حضرت مولانا ؒ نے اپنے عظیم المرتبت والد گرامیؒ اور دادا حضورؒ  کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صحافتی زندگی میں بھی قدم رکھا۔
حضرت مولانا ؒ کو سیاست میں آکر قوم کو صحیح سمت کی آگاہی کا جذبہ اپنے دادا حضورؒ اور والد گرامیؒ سے ورثے میں ملا، اسی لیے وہ ساری زندگی بڑے اخلاص کے ساتھ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ رہے اور آخر میں جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کے امیر تھے، ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، مجھے نصیحت فرماتے ہوئے یہ بات بھی ارشاد فرمائی :’’ والد صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے تھے کہ: ’’میں جمعیت علماء اسلام کا رکن بننے پر اپنے رب کی خوشنودی اور مغفرت کی اُمید رکھتا ہوں۔ ‘‘ اَوْ کَمَا قَالَ !
۲۵؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۹ھ/ ۳ ؍ جنوری ۱۹۸۹ء کی بات ہے کہ میں اپنی ہمشیرہ کی شادی کے سلسلے میں لاہور میں تھا، حضرت مولانا ؒ کے پاس بھی حاضر ہوا، آپؒ نے ارشاد فرمایا :’’ حضرت والد صاحب (حضرت جی ؒ) نے ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ: جب سے بالغ ہوا ہوں‘ اس وقت سے میری کوئی نفل نماز (تہجد ، اشراق ، چاشت ، اوّابین وغیرہ ) کبھی قضا نہیں ہوئی اور اگر بیماری میں کبھی ایسا ہو بھی گیا تو دن رات میں کسی بھی وقت یہ رکعتیں نفلوں میں پوری کرلیتا ہوں۔ ‘‘ (7)حضرت مولاناؒ کا کراچی کا آخری سفر جمادی الثانی ۱۴۴۵ھ/ جنوری ۲۰۲۴ء میں ہوا، معہد الخلیل الإسلاميکراچی نے ختم بخاری شریف کے لیے دعوت دی تھی۔حضرت مولانا  رحمۃ اللہ علیہ  پر کاتب الحروف نے بے ترتیب اور بے ربط چند سطریں لکھی ہیں، اس لیے کہ لکھنے کا ملکہ مجھے نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہی قبول فرمائے، آمین ۔

حواشی وحوالہ جات

(1) حضرت شیخ الاسلام ؒ یہ مکتوب حضرت مؤرخِ ملت مولانا سید محمد میاں  vکو تحریر فرما رہے ہیں ۔

(2)یعنی حضرت جی مولانا سید حامد میاں v
(3)یعنی حضرت امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی v
(4)مقالاتِ حامدیہ (قرآنیات)، ص: ۲۹
(5)حضرت قاری شریف احمد صاحب v کے یہاںخانقاہی زبان میں حضرت مولانا سید حامد میاں v کو ’’حضرت جی ‘‘ کے لقب سے یاد کیاجاتا ہے۔ 
(6)تذکرۃ الشریف، ص: ۱۷۲ 

(7)یادِ ماضی، ج: ۱ ، ص: ۱۳، قلمی نسخہ 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے