بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

 حضرت مولانا سید محمد عاقل سہارن پوری  رحمۃ اللہ علیہ 

 حضرت مولانا سید محمد عاقل سہارن پوری  رحمۃ اللہ علیہ 

 

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی ؒ کے تربیت یافتہ اور ان کے علمی، تصنیفی و تالیفی کاموں میںمعاون ، اجل خلیفۂ مجاز اور عزیز داماد ، جامعہ مظاہرعلوم وقف کے شیخ الحدیث اور ناظم اعلیٰ ، سنن ابی داؤد کی مشہور شرح ’’ الدر المنضود‘‘ کے مؤلف ، حضرت مولانا سید محمد عاقل سہارن پوری رحمۃ اللہ علیہ   ۲۹  ؍ شوال المکرم ۱۴۴۶ ھ مطابق ۲۸ ؍ اپریل ۲۰۲۵ ء بروز پیر انتقال کر گئے ، إنّا للہ و إنّا إلیہ راجعون ، إنّ للہ ما أخذ ولہٗ ما أعطٰی وکلّ شيء عندہٗ بأجل مسمّٰی !
آپؒ ، مولانا حکیم محمد ایوبؒکے گھر ۹ ؍ شعبان المعظم ۱۳۵۹ ھ مطابق ۱۵ ؍ اکتوبر ۱۹۳۷ ء کو پیدا ہوئے۔ ۱۹۵۰ء میں حفظِ قرآن کریم مکمل ہوا۔ از ابتداء تا دورہ حدیث شریف اور دیگر فنون کی تعلیم جامعہ مظاہرعلوم میں حاصل کی، ۱۹۶۱ء میں فاتحۂ فراغ پڑھا اور ایک سال میں فنون کی تکمیل کی۔ بخاری شریف حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ سے، مسلم شریف مولانا منظور احمد خان ؒسے، ابوداؤد شریف مولانا اسعد اللہ ؒ سے، ترمذی و نسائی مولانا امیر احمد کاندھلویؒ سے پڑھیں۔ حضرت مولانا مفتی مظفر حسینؒ سے بھی چند کتابیں پڑھیں۔ مظاہرِ علوم کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوریؒ آپؒ کے رفیقِ درس تھے۔
قوتِ مطالعہ، ذہانت و فطانت اور بلند پایہ علمی استعداد کی وجہ سے طلبہ ابتداہی سے آپؒ سے متأثر تھے ، چنانچہ جس زمانہ میں آپؒ مظاہرعلوم میں پڑھ رہے تھے تو طلبہ آپ سے کتابوں میں علمی مراجعت کیا کرتے تھے۔ ۱۹۶۱ء میں آپؒ مظاہرعلوم میں بلا معاوضہ معین مدرس مقرر کیے گئے، ایک سال بعد باقاعدہ استاذ بنائے گئے اور شرح تہذیب اور نور الانوار آپ کے زیرِ درس رہیں۔ ۱۹۶۷ء میں آپ ؒکو مظاہرِعلوم کا استاذِ حدیث مقرر کیا گیا ، اسی سال ابوداؤد شریف آپ ؒ نے پڑھانا شروع کی جو تقریباً پچاس سال تک آپ ؒ کے زیرِ درس رہی۔ ۱۹۷۱ ء میں مجلس شوریٰ نے آپؒ کو مظاہرِعلوم کا صدر مدرس منتخب کیا ، اس عہدۂ جلیلہ پر آپؒ پچاس سال سے زائد عرصہ فائز رہے،البتہ ضعفِ جسمانی کی وجہ سے دو سال پہلے اس عہدہ سے سبکدوشی اختیار فرمائی۔
اصلاح و ارشاد کا تعلق حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ سے تھا اور حضرتؒ ہی سے اجازتِ بیعت بھی حاصل تھی۔ تصنیف و تالیف کے ذوق کی بنا پر حضرت شیخ الحدیثؒ کے تصنیفی کاموں میں معاون رہے، چنانچہ حضرتؒ نے مضامین و مباحث کا تتبع اور تلاش کی ذمہ داری آپؒ کی لگا رکھی تھی، اُس زمانہ میں حضرت شیخ  ؒ کی تالیفات ’’لامع الدراري‘ جلد دوم، فضائلِ درود شریف، جزء حجۃ الوداع و عمرات النبياورالأبواب والتراجم‘‘ کی تصنیف و تالیف میں حضرت کے ساتھ مل کر مضامین کا اِملا وغیرہ کراتے تھے ۔
آپؒ نےعربی زبان میں ’’تعریف وجیز عن جامعۃ مظاہرعلوم‘‘ نامی کتابچہ تصنیف فرمایا۔ حضرت اقدس مولانا رشید احمدگنگوہیؒ کے درسِ مسلم کے افادات جو حضرت شیخ  ؒ کے پاس جمع تھے، حضرت شیخ  ؒ کی خواہش کے مطابق ان پر آپؒ نے حواشی لگائے اور ۶۴۴ صفحات پر مشتمل شائع کرایا۔ مقدمہ الکوکب الدري، الفیض السمائي، الدرالمنضود، ملفوظات حضرت شیخ، مختصر فضائلِ درودشریف وغیرہ تصنیفات آپ کی علمی یادگار ہیں۔
آپؒ کا نکاح حضرت شیخ الحدیثؒ کی صاحبزادی سےہوا ، جن سے آپؒ کے چھ لڑکے اور چھ لڑکیاں ہیں۔ سالِ رواں شعبان المعظم میں حسبِ معمول بخاری شریف و مسلسلات کے اسباق کی تکمیل فرمائی، پھر نقاہت و کمزوری زیادہ ہوگئی تو بغرضِ علاج حیدرآبادچلے گئے، کچھ افاقہ ہوا تو سہارنپور تشریف لائے، حسبِ سہولت مدرسہ بھی تشریف لاتے رہے اور ماہ مبارک میں حسبِ معمول آخری عشرہ کے اعتکاف کی سرپرستی بھی فرمائی۔ماہ شوال میں نقاہت اور جسمانی کمزوری زیادہ ہوگئی تو متعلقین کے مشورہ سے انہیں شہر میرٹھ کے ایک نجی ہسپتال میں بغرضِ علاج داخل کرایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج جاری رہا، انتقال سے ایک روز قبل ڈاکٹروں کے مشورہ سے ان کو سہارنپور گھر واپس لایا گیا اور اگلے روز دوپہر پونے بارہ بجے آسمانِ علمِ حدیث کا یہ روشن ستارہ اُفق سےغائب ہوگیا۔اللہ تعالیٰ آپؒ کو غریقِ رحمت فرمائے، اور آپؒ کے متعلقین ، مسترشدین اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین!
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے