
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی من جملہ خصوصیات میں سے ایک آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں۔ آپ کے تمام صحابہؓ ہدایت کے روشن ستارے اور اخلاق و کردار کے جواہر پارے ہیں۔ اصحابِ رسولؐ کے مناقب بیان کرتے ہوئے عموماً مرد صحابہ کرامؓ کا ہی ذکرِ خیر ہوتا ہے، اور حضراتِ صحابیاتؓ کا تذکرہ کم یا ازواج و بناتِ رسول تک محدود ہوتا ہے، جب کہ کتبِ سیرت میں بعض ایسی صحابیاتؓ کا بھی ذکر ملتا ہے، جن کی زندگی مسلم خواتین کے لیے بہترین نمونہ اور ان کا جذبۂ دینی اور ایمانی غیرت و حمیت ساری اُمت کے لیے لائقِ اُسوہ ہے، انہی بے مثال فائق المرتبت صحابیاتؓ میں سے ایک اُمِ سُلیم بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ حضرت اُمِ سُلیم رضی اللہ عنہا کی زیرکی، فہم و فراست، صبر و تقویٰ، ایمان کے تعلق سے ان کے جذبات، عشقِ رسول کے باب میں ان کے واقعات، اسلام کے تئیں ان کی خدمات اور بحیثیت عورت ان کی سوانح حیات سبھی لائقِ عبرت اور قابلِ تقلید ہیں۔
یہ خادم النبی حضرت انس بن مالک الانصاری رضی اللہ عنہ کی ماں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یا آپ کے والد ماجد کی رضاعی خالہ تھیں، ان کا نام رملہ یا سہلہ؛ لقب رُمیصاء یا غمیصاء اور کنیت و شہرت اُمِ سُلیم بنت ملحان ہے، مدینہ میں اوائلِ اسلام میں مسلمان ہوئیں، جب ان کے شوہر ابوانس (مالک) کو پتہ چلا تو پوچھا: ’’کیا تم نے اپنا دین چھوڑ دیا؟ اُنہوں نے فرمایا: نہیں، میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا، بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائی ہوں، پھر وہ اپنے بیٹے انسؓ کو کلمہ سکھاتی تھیں: بیٹے! کہو: لا إلہ إلا اللہ، کہو: أشہد أن محمدًا رسول اللہ۔جب انسؓ یہ کہتے تو ان کے والد غصے سے کہتے: میرے بیٹے کو مت بگاڑو! تو اُم سُلیمؓ فرماتیں: میں اُسے بگاڑ نہیں رہی، بلکہ سنوار رہی ہوں۔ (نسائی شریف)
اُن کے پہلے شوہر مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پرقائم رہنا چاہتے تھے اور حضرت اُم سُلیم رضی اللہ عنہا تبدیلیِ مذہب پر اصرار کرتی تھیں، اس لیے دونوں میں کشیدگی ہوئی اور مالک ناراض ہوکر شام چلے گئے اور وہیں انتقال ہوا، جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ (جو اس وقت مشرک تھے) نے ان سے نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے انکار کیا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ابو طلحہ نے کہا:میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ اُمِ سُلیمؓ بولیں: میں ایمان لا چکی ہوں، اگر تم اسلام لے آؤ تو میں تم سے شادی کر لوں گی۔ ابو طلحہ نے کہا:میں بھی تمہارے دین پر ہوں، چنانچہ وہ ایمان لائے اور اسلام ہی ان کا مہر قرار پایا؛ایک اور روایت میں ہے کہ ام سُلیمؓ نے فرمایا:اے ابو طلحہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے بتوں کو فلاں کا غلام تراشتا ہے؟ اور اگر تم ان پر آگ لگا دو تو جل جائیں گے؟ یہ بات ان کے دل میں اثر کر گئی، وہ واپس لوٹے، پھر آئے اور کہا:میں نے تمہاری دعوت قبول کر لی ہے؛یوں ان کا مہر اسلام قرار پایا۔ (نسائی و طبقات ابن سعد)
اس عظیم عورت کا جذبہ تو دیکھیں کہ پہلے شوہر سے کشیدگی ہوئی ایمان کے نہ ہونے کی بنیاد پر اور دوسرے شوہر سے بیاہ کیا ایمان ہی کو مہر بناکر، اس واقعے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے دل میں ایمان کی کس قدر عظمت تھی!!
بحیثیت ماں حضرت ام سُلیمؓ کا کردار دیکھیں کہ نبی علیہ السلام کے مدینہ تشریف لاتے ہی فوراً اپنے لختِ جگر حضرت انسؓ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے پیش کردیا۔ (بخاری و مسند احمد)
تاریخ نگار ان کی اس فراست کی خوب تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے لڑکے کے بہتر مستقبل اور اس کی دینی و دنیاوی سعادت مندی کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے حوالہ کردیا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کس قدر خوش قسمت تھے کہ ان کو دس سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت و خدمت اور آپ کی برکات سے مستفیض ہونے کا موقع عنایت ہوا، یہ ان کے ماں کی دور رسی تھی جنہوں نے یہ اقدام کیا۔ ایک بیٹے کے لیے اپنی ماں کی طرف سے خدمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع فراہم کرنے سے قیمتی اور کیا تحفہ ہوسکتا ہے؟!
اسی کی برکت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی روایات نقل کی ہیں، آج کل کی عورتوں کو حضرت اُمِ سُلیم رضی اللہ عنہا کی اس پیش رفت سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ وہ بھی اپنی اولاد کے حسنِ عاقبت کی فکر کریں، اور اولاد کی دنیوی ترقی کے لیے ہی ان کے جذبات کارفرما ہوں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حد درجہ لگاؤ کا ایک واقعہ تو یہی ہے کہ اپنے جگر گوشہ کو آپ کی خدمت کے لیے وقف کردیا، اس کے علاوہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو انوکھا لگاؤ تھا۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اُمِ سُلیمؓ کے گھر تشریف لائے اور ایک مَشکیزے سے پانی پیا، حضرت اُمِ سُلیمؓ نے مَشکیزے کے اُس حصے کو کاٹ کر بطورِ تبرک اپنے پاس رکھ لیا جس حصّے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا تھا۔ (مسند احمد)
اسی تعلق کا نتیجہ تھا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر تشریف لاتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پسینہ آتا تھا تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاپسینہ جمع کرلیتیں اور اسے خوشبو میں ڈال لیتی تھیں، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ارشاد فرمایا: اے اُمِّ سُلیم! یہ تم کیا کررہی ہو؟ عرض کیا: حُضور! یہ آپ کا پسینہ ہے جسے ہم اپنی خوشبو میں ڈال لیتے ہیں، یہ بہترین خوشبو ہے۔ (صحیح مسلم) ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! ہم اس کی برکت کی اپنے بچّوں کے لیے اُمید کرتے ہیں، فرمایا: تم ٹھیک کرتی ہو، چنانچہ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے وصیت کی کہ ان کے حَنُوْط میں اس خوشبو کو ملایا جائے، لہٰذا حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ان کے حَنُوْط میں اس خوشبو کو ملادیا گیا۔
بخاری شریف وغیرہ میں ان کا ایک بہت ہی نصیحت آموز اور عبرت خیز واقعہ مذکور ہے کہ ام سُلیمؓ کا ایک بچہ بیمار تھا، جب ان کے شوہر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ صبح کو اپنے کام دھندے کے لیے باہر جانے لگے تو اس بچہ کا سانس بہت زور زور سے چل رہا تھا، ابھی ابوطلحہؓ مکان پر نہیں آئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہو گیا، اُمِ سُلیم نے سوچا کہ دن بھر کے تھکے ماندے میرے شوہر مکان پر آئیں گے اور بچے کے انتقال کی خبر سنیں گے تو نہ کھانا کھا سکیں گے، نہ چین سے آرام کر سکیں گے، اس لیے انھوں نے بچے کی نعش کو ایک الگ کمرے میں لٹا دیا اور خود روزانہ کی طرح کھانا پکایا، پھر خوب اچھی طرح بناؤ سنگار کر کے شوہر کے آنے کا انتظار کرنے لگیں، جب ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رات کو گھر آئے تو پوچھا کہ بچے کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اب اس کا سانس ٹھہر گیا ہے، ابو طلحہؓ مطمئن ہو گئے اور انھوں نے یہ سمجھا کہ سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے، پھر فوراً ہی کھانا سامنے آگیا اور انھوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر بیوی کے بناؤ سنگار کو دیکھ کر بیوی سے صحبت بھی کی، جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بالکل ہی مطمئن ہو گئے تو ام سُلیمؓ نے کہا کہ: اے میرے پیارے شوہر! مجھے یہ مسئلہ بتائیں کہ اگر ہمارے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اور وہ اپنی امانت ہم سے لے لے تو کیا ہم کو برا ماننے یا ناراض ہونے کا کوئی حق ہے؟ ابو طلحہؓ نے فرمایا کہ: ہرگز نہیں! امانت والے کو اس کی امانت خوشی خوشی دے دینی چاہیے، شوہر کا یہ جواب سن کر ام سُلیمؓ نے کہا کہ آج ہمارے گھر میں یہی معاملہ پیش آیا کہ ہمارا بچہ جو ہمارے پاس خدا کی ایک امانت تھا آج خدا نے وہ امانت واپس لے لی اور ہمارا بچہ انتقال کر گیا۔ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ چونک کر اُٹھ بیٹھے اور حیران ہو کر بولے کہ کیا میرا بچہ انتقال کر گیا؟ بی بی نے کہا کہ جی ہاں! ابو طلحہؓ نے فرمایا کہ: تم نے تو کہا تھا کہ اس کے سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے۔ بیوی نے کہا کہ جی ہاں مرنے والا کہاں سانس لیتاہے؟ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بے حد افسوس ہوا کہ ہائے میرے بچے کی لاش گھر میں پڑی رہی اور میں نے پیٹ بھر کھانا کھایا اور صحبت کی۔ بیوی نے اپنا خیال ظاہر کر دیا کہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے گھر آئے تھے، میں فوراً ہی اگر بچے کی موت کا حال کہہ دیتی تو آپ رنج و غم میں ڈوب جاتے، نہ کھانا کھاتے، نہ آرام کرتے، اس لیے میں نے اس خبر کو چھپایا، ابو طلحہؓ صبح کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نمازِ فجر کے لیے گئے اور رات کا پورا ماجرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہؓ کے لیے یہ دعا فرمائی کہ تمہاری رات کی اس صحبت میں اﷲ تعالیٰ خیر و برکت عطا فرمائے۔ (صحیح بخاری و مسند احمد) اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ حضرت اُمِ سُلیم کو دوبارہ حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام عبدا ﷲ رکھا گیا اور ان عبداﷲ کے بیٹوں میں بڑے بڑے علماء اور حفاظِ قرآن پیدا ہوئے۔
یہ حضرت رُمیصاء رضی اللہ عنہا کا بحیثیت بیوی ایک مثالی کردار ہے، اولاً تو بیٹے کی وفات پر ان کا ضبطِ غم اور صبر کا غیر معمولی مظاہرہ، پھر ایسے ناقابل برداشت موقع پر بھی شوہر کی راحت و آرام کی فکر کرنا واقعی حضرت ام سُلیمؓ کا ہی حصہ ہے۔
غزوات میں حضرت اُمِ سُلیمؓ نے نہایت جوش سے حصہ لیا، صحیح مسلم میں ہے :
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اُمِ سُلیمؓ اور انصار کی چند عورتوں کو غزوات میں لوگوں کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کے لیے ساتھ لے جاتے تھے، غزوۂ اُحد میں جب مسلمانوں کے جمے ہوئے قدم اُکھڑ گئے تھے، وہ نہایت مستعدی سے کام کررہی تھیں۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُم سُلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور زخمیوں کوپانی پلاتی تھیں، مشک خالی ہوجاتے تھے تو پھر جا کر بھر لاتی تھیں؛ سات ہجری میں خیبر کا واقعہ ہوا، اُمّ سُلیمؓ اس میں شریک تھیں؛ غزوۂ حنین میں ایک خنجر اُن کے ہاتھ میں تھا، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اُم سُلیم خنجر لی ہوئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا کروگی؟ بولیں: اگرکوئی مشرک قریب آئے گا تواس سے اس کا پیٹ چاک کردوں گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کرمسکرا دیے۔ حضرت اُمِ سُلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: یارسول اللہ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مکہ کے جو لوگ فرار ہو گئے ہیں، ان کے قتل کا حکم دیجیے۔ ارشاد ہوا: خدا نے خود اُن کا انتظام کر دیا ہے۔
پانچ ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اس موقع پر اُمّ سُلیم نے ایک لگن میں مالیدہ بنا کر انس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجا اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ اس حقیر ہدیہ کو قبول فرمائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو اُمّ سُلیم ہی نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنوارا تھا۔
اسی طرح ایک مرتبہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں، کچھ بھیج دو، حضرت اُم سُلیمؓ نے چند روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کو دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاکر پیش کر دیں، آپ مسجد میں تھے اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے ہوئے تھے، حضرت انسؓ کو دیکھ کر فرمایا: ابوطلحہؓ نے تم کو بھیجا ہے؟ بولے: جی ہاں! فرمایا: کھانے کے لیے؟ کہا: ہاں! آپ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کولے کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لائے، ابوطلحہؓ گھبرا گئے اور حضرت اُم سُلیمؓ سے کہا: اب کیا کیا جائے؟ کھانا نہایت قلیل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع کے ساتھ تشریف لارہے ہیں۔ حضرت اُم سُلیمؓ نے نہایت استقلال سے جواب دیا کہ ان باتوں کو خدا اور رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو حضرت اُم سُلیمؓ نے وہی روٹیاں اور سالن سامنے رکھ دیا، خدا کی شان اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز کہ اس مختصر خوراک میں بڑی برکت ہوئی اور سب لوگ کھاکر سیر ہوگئے۔ (تذکرۂ صحابیاتؓ)
صحیحین کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں جنت میں گیا تو مجھ کو آہٹ معلوم ہوئی، یا فرمایا: پیروں کی آہٹ محسوس کی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ یہ ام سُلیم بنت ملحان ہے۔ سبحان اللہ! (بخاری و مسلم)
حضرت امِ سُلیمؓ کی وفات کا وقت یقینی طور پر معلوم نہیں، لیکن اکثر مؤرخین کے مطابق وہ خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہیں۔ مدینہ منورہ میں وفات پائی اور بقیع الغرقد میں مدفون ہوئیں۔ (الاستیعاب)