
علم ایک ایسی دولت ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام دولت ہیچ ہے۔ علم سراسر خیر اور بھلائی اور سراپا نیکی ہے۔ علم عزت وعظمت کا استعارہ ہے، جہالت کی تاریکی سے نجات دینے والا، گمراہی کے گڑھے سے نکالنے والا، کامیابی وکامرانی کی کنجی، کھرے اور کھوٹے کی پہچان کے لیے کسوٹی ہے، اور ایسا پُرلطف وپُرکیف امر ہے جو اپنے طالب کو دنیا کی رنگینیوں سے بےنیاز کردیتا ہے۔ قلبی راحت واطمینان اور روح کے سکون وسرور کا باعث ہے۔ علم خود نور ہے اور اپنے حامل کی زندگی کو بھی روشنی سے بھر دیتا ہے۔ علم ایک لازول نعمت ہے، اور اپنی طلب کرنے والے کو حیاتِ جاودانی بخشتا ہے، اس کو فنا ہونے سے بچاتا ہے۔ علم پارس ہے جس کو مل جائے، اس کو سونے کی طرح قیمتی بنا دیتا ہے، کنکر جیسے بےنور شخص کو ہیرے کی طرح چمکا دیتا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ علم بہت غیور، خودی اور عزتِ نفس والاہے، اپنی ناقدری برداشت نہیں کرتا، قدردان کو مایوس نہیں لوٹاتا، اور ناقدر شناس کو حاصل نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ہمارے اکابرین اور اسلاف نے علم کے لیے اپنی زندگیاں وقف اور اپنی خواہشات قربان کردیں۔ علم پانے کے لیے اپنی آپ کو وار دیا، اپنا آرام تج دیا، اپنا سب کچھ نچھاور کردیا، حصولِ علم کی خاطر شب بیداری اور رت جگے کو نینداور راحت پر ترجیح دی، فاقہ کشی کو شکم سیری پر فوقیت دی، اور فنا فی العلم ہوکر دوام اور بقا حاصل کرلیا۔
ذیل میں اپنے اکابرین کے حصولِ علم کے شوق ورغبت کا تذکرہ کیا جارہا ہے، تاکہ اُن کا مطالعہ کرنے سے ہم میں بھی طلبِ علم کا شوق پیدا ہو۔
اہلِ علم کے ہاں یہ ایک متفقہ حقیقت اور تقریباً متواتر بات ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے مشقت وتکلیف برداشت کرناازبس ضروری ہے، بلکہ راہِ علم کا ایک لازمی جزء ہے۔ تن آسانی اور راحت طلبی کے ساتھ علم جیسی قیمتی اور بےمثال چیز حاصل ہونا مشکل ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں یحییٰ بن ابی کثیر کا قول مذکور ہے:
’’لا يُستطاع العلمُ براحۃ الجسم۔‘‘ (۱)
ترجمہ: ’’علم کو جسمانی راحت کے ساتھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
حصولِ علم ایک عظیم عبادت اور کارِ ثواب ہے، حتیٰ کہ ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک علم سیکھنے اور علمی باتوں کے مطالعہ ومراجعہ کے سلسلے میں رات کو تھوڑی دیر جاگنا نفلی عبادت کے لیے پوری رات جاگنے اور شب بیداری سے افضل ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’تدارس العلم ساعۃ من الليل خيرٌ من إحيائہا۔‘‘ (۲)
ترجمہ: ’’رات کو ایک گھڑی علم کا مذاکرہ کرنا پوری رات عبادت کےلیے جاگنے سے بہتر ہے۔‘‘
علم کی اتنی فضلیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ علم کا نفع عام ہے، اور دوسروں کو بھی پہنچتا ہے، جبکہ نفلی عبادت کا ثواب اور فائدہ صرف عبادت گزار شخص کو ہوتا ہے، اس لیے طلبِ علم کا درجہ نفلی عبادت کے لیے شب بیداری سے افضل ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے اکابرین کی ایک بڑی تعداد ہمہ وقت علمی مشغلہ میں منہمک رہتی تھی، چنانچہ مشہور فلسفی علامہ ابو علی ابنِ سیناکے بارے میں سوانح نگار لکھتے ہیں:
’’وفي مدۃ اشتغالہٖ لم ينم ليلۃ واحدۃ بکمالہا ولا اشتغل في النہار بسوی المطالعۃ۔‘‘ (۳)
ترجمہ: ’’تحصیلِ علم کی مدت میں ایک رات بھی مکمل نہیں سوئے، اور دن میں بھی مطالعہ کے علاوہ کسی دوسری چیز میں مشغول نہیں ہوئے۔‘‘
طلبِ علم کی لذت بھی عجیب ہے، جس شخص کو اس کا چسکا لگ جائے، اس کے لیے علم کے سامنے کوئی چیز وقعت نہیں رکھتی، مال وزر پرِکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے۔اس کی ایک مثال جرح وتعدیل کے امام یحییٰ بن معینؒ کی ہستی ہے، علم کی راہ اور طلبِ حدیث کی خاطر لاکھوں دراہم خرچ کیے، چنانچہ ان کے چچازاد بھائی کہتے ہیں:
’’کان معين علی خراج الري، فمات، فخلف لابنہ يحيی ألف ألف درہم وخمسين ألف درہم، فأنفقہٗ کلہٗ علی الحديث، حتی لم يبق لہٗ نعل يلبسہٗ‘‘(۴)
یعنی ’’امام یحییٰ ؒکے والد معینؒ ’’رای‘‘ شہر کا خراج وصول کرنے پر مقرر تھے، ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنے فرزند امام یحییٰ ؒ کے لیے دس لاکھ پچاس ہزار دراہم ترکہ میں چھوڑے۔ امام یحییٰ بن معینؒ نے وہ تمام دراہم طلبِ حدیث پر خرچ کردیے، یہاں تک کہ ان کے پاس ایک چپل بھی باقی نہ رہی جسے وہ پہنتے۔‘‘
دنیا کی مجازی محبت کے بارے میں قصے سنے ہوں گے، لیکن علم کے عاشقین کی شان ہی نرالی ہے، علم سے محبت کی ایسی مثالیں رقم کی ہیں کہ مجازی محبت کے دعویداران کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے، چنانچہ عاشقینِ علم کی ایک جماعت ایسی بھی گزری ہے جو درس میں شریک ہونے اور علمی مجلس میں جگہ پانے کی غرض سے پوری رات درس گاہ میں بیٹھے رہتے، چنانچہ جعفر بن درستویہؒ اپنا قصہ بیان فرماتے ہیں:
’’کنا نأخذ المجلس في مجلس علي بن المديني وقت العصر اليوم لمجلس غد، فنقعد طول الليل مخافۃ أن لا نلحق من الغد موضعا نسمع فيہ۔‘‘ (۵)
ترجمہ: ’’ہم امام علی بن مدینیؒ کی آنے والے دن کی مجلس میں شریک ہونے کےلیے ایک دن قبل بوقتِ عصر ہی بیٹھ جاتے تھے، پھر پوری رات بیٹھے رہتے، اس اندیشہ سے کہ کہیں درس سننے کے لیے کل مجلس میں جگہ نہ مل سکے۔‘‘
سبحان اللہ! صد آفرین ہو اُن نفوسِ مقدسہ اور بابرکت ہستیوں پر، درس سننے کی خاطر اتنی تکالیف برداشت کرتےاور آنکھوں میں بیداری کا سرمہ لگا کر درسگاہ میں شوق ورغبت سے بیٹھے رہتے، نہ اپنے کھانے پینے کی فکر، اور نہ راحت وآرام کا خیال۔
دوسری طرف آج کل کے طلباء کرام اور طلبِ علم کے نام لیوا حضرات بھی اپنے گریبان میں ذرا جھانک کر دیکھیں، اور اپنا محاسبہ کریں، کیا ہم بھی اس قدرذوق وشوق سے اسباق میں شریک ہوتے ہیں، اور اتنی پابندی سے درسگاہ میں حاضر ہوتے ہیں؟
علم حاصل کرنے والے اور حقیقی طالب علم اپنی جسمانی آسائش کی طرف التفات نہیں کرتے، بلکہ ہمہ وقت حصولِ علم میں لگے رہتے ہیں، اور علم میں آگے بڑھنے کی کوشش وجستجو کرتے رہتے ہیں، اور رسمی طالبِ علمی کے زمانے میں اپنے آپ کو یکسو رکھتے ہیں، کسبِ معاش اور دنیا طلبی میں اپنا وقت صرف نہیں کرتے، اس کی ایک مثال مشہور محدث امام شعبہؒ ہیں، طالب علمی میں ضروریاتِ زندگی کی خاطر اپنی ذاتی اشیاء فروخت کردیں، کمرے کی چھت اُکھاڑ کر شہتیر بیچ کر گزر بسر کیا، لیکن دولت کمانے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے؛ تاکہ جمعیتِ خاطر کے ساتھ تحصیلِ علم میں مشغول رہ سکیں، جیساکہ امام احمد بن حنبلؒ امام شعبہؒ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’أقام شعبۃ علی عتيبۃ ثمانيۃ عشر شہراً حتی باع جذوع بيتہٖ۔‘‘ (۶)
ترجمہ: ’’امام شعبہؒ (حصولِ علم کی خاطر) اٹھارہ مہینے حکم بن عتیبہ کے پاس ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ اپنے گھر کے شہتیر فروخت کیے۔‘‘
لوگ اپنی دنیا سنوارنے، فانی زندگی کے عارضی گھر بنانے اور انہیں مختلف طریقوں سے سجانے کی فکر میں رہتے ہیں، لیکن حقیقی اہلِ علم اپنی علمی پیاس بجھانے، اور زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں، پھر چاہے اس کے لیے اُنہیں اپنا گھر توڑ کر اس کے اثاثہ جات فروخت کرنے پڑیں، ہمارے سامنے ایک دوسری مثال امام مالکؒ جیسی جلیل القدر ہستی کی ہے، جنہوں نے اپنے گھر کے چھت اُکھیڑ کر اس سے شہتیر وغیرہ نکال کر بیچے، چنانچہ امام مالکؒ کے بارے میں ابن قاسمؒ کہتے ہیں:
’’أفضی بمالک طلب العلم إلی أن نقض سقف بيتہٖ فباع خشبہٗ۔‘‘ (۷)
ترجمہ: ’’امام مالکؒ کو طلبِ علم نے اس حال تک پہنچایا کہ انہوں نے اپنے گھر کی چھت توڑ کر اس کی لکڑی کو فروخت کیا۔‘‘
بھوک کی اذیت اور فاقہ کشی کی تکلیف کیا ہوتی ہے؟ شکم سیر حضرات کے لیے اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بھوک کی چبھن اور درد کا بیان الفاظ سے ادا نہیں ہوسکتا، مگر داد دیجئے عاشقانِ علم کو کہ علم کی خاطر وہ بھوک کی کڑواہٹ کو بھی قند کی طرح پُر لذت سمجھتے ہیں، اور اپنے پیٹ کو اشیائے خورد ونوش سے بھرنے کے بجائے اپنے دل ودماغ کو علم سے پُر کرتے ہیں، اس کی ایک مثال جرح وتعدیل کے امام ابوحاتم رازیؒ ہیں، چنانچہ ان کا بیان ہے کہ وہ طلبِ علم کی خاطر بصرہ گئے، جب نفقہ ختم ہوگیا تو اپنے کپڑے فروخت کرنے لگے، یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا:
’’ومضيت أطوف مع صديق لي إلی المشيخۃ وأسمع منہم إلی المساء، فانصرف رفيقي ورجعت إلی بيت خال، فجعلت أشرب الماء من الجوع، ثم أصبحت من الغد وغداً علي رفيقي، فجعلت أطوف معہٗ في سماع الحديث علی جوع شديد، فانصرف عني وانصرفت جائعاً، فلما کان الغد غدا عليّ، فقال: مر بنا علی المشايخ. فقلت: أنا ضعيف لا يمکنني. قال: ما ضعفک؟ قلت: لا أکتمک أمري، قد مضی يومان ما طعمت فيہما، فقال لي رفيقي: معي دينار فأنا أواسيک بنصفہٖ، ونجعل النصف الاٰخر في الکراء، فخرجنا من البصرۃ وقبضت منہ نصف دينار۔‘‘(۸)
ترجمہ: ’’میں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مشائخ کے پاس چکر لگائے، اور شام تک ان سے احادیث سنتا رہا، پھر میرا ساتھی لوٹ گیا اور میں خالی گھر کی طرف واپس آیا، بھوک کی وجہ سے پانی پینے لگا، پھر دوسرے دن صبح کو میرے پاس آیا ، اور میں نے سخت بھوک کے باوجود اس کے ساتھ احادیث سننے کے لیے چکر لگائے، بعدازاں وہ لوٹ گیا اور میں بھی بھوکا لوٹا۔ جب اگلے دن وہ میرے پاس آکر کہنے لگاکہ چلو، مشائخ کے پاس جائیں، تو میں نے جواب دیا کہ میں کمزور ہوں، میرا جانا ممکن نہیں، تو اس نے پوچھا: کمزوری کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا: میں اپنا معاملہ تم سے نہیں چھپاؤں گا، دو دن گزر گئے ہیں اور میں نے کچھ بھی نہیں کھایا۔ یہ سن کر میرے ساتھی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آدھا درہم میں تم کو دوں گا، اور باقی آدھا ہم کرایہ میں دیں گے، تو ہم بصرہ سے نکلے، اور میں نے آدھا درہم اس سے لیا۔‘‘
عام طور پر انسان کی یہ چاہت ہوتی ہے کہ وہ کھانا سکون سے کھائے، اور روٹی وغیرہ لطف اندوز ہوکر تناول کرے، لیکن ہمارے اسلاف واکابر میں بعض ایسے علم دوست بھی گزرے ہیں جنہوں نے علمی مشغولیت کی وجہ سے باقاعدہ اہتمام کرکے کھانا کھانا چھوڑ دیا، بلکہ حسبِ موقع جو بھی کھانے کی چیز میسر ہوئی، وہ تناول کرلی، چاہے اُسے پکایا گیا ہو، یا نہ ہو۔ اس سلسلے میں علامہ ابوالوفاء علی بن عقیلؒ کی حالت انہی کی زبانی ملاحظہ ہو:
’’أنا أقصرُ بغايۃ جہدي أوقات أکلي، حتی أختار سف الکعک وتحسيہ بالماء علی الخبزۃ لأجل ما بينہما من تفاوت المضغ، توفّراً علی مطالعۃ، أو تسطير فائدۃ۔‘‘ (۹)
ترجمہ: ’’میں انتہائی کوشش کرکے اپنے کھانے کے اوقات کم کرتا ہوں، حتیٰ کہ میں نے روٹی کھانا چھوڑ کر خشک روٹی پھانکنے اور پانی سے نگلنے کو اختیار کیا ہے، ان دونوں کے درمیان چبانے کے فرق کی وجہ سے، زیادہ مطالعہ کرنے یا کوئی مفید بات حاصل کرنے کی خاطر۔‘‘
ایک دوسرے عاشقِ علم مشہور محدث امام ابن ابی حاتم ؒ کی حالت یہ تھی کہ طلبِ علم میں انہماک کی بنا پر اتنی فرصت بھی نہیں ملی کہ خریدی ہوئی مچھلی کو پکاکر تناول کرتے، یہاں تک کہ تین دن گزرنے کے بعد اسی مچھلی کو کچا ہی تناول کرلیا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’کنا بمصر سبعۃ أشہر لم نأکل فيہا مرقۃ، نہارنا ندور علی الشيوخ، وبالليل ننسخ ونقابل: فأتينا يوماً أنا ورفيق لی شيخاً، فقالوا: ہو عليل، فرأيت سمکۃ أعجبتنا فاشتريناہا، فلما صرنا إلی البيت حضر وقت مجلس بعض الشيوخ فمضينا، فلم تزل السمکۃ ثلاثۃ أيام وکاد أن ينضی، فأکلناہ نيئًا لم نتفرغ نشويہ۔‘‘(۱۰)
ترجمہ: ’’ہم سات ماہ مصر میں رہے، لیکن اس عرصہ میں شوربہ تناول نہیں کیا، دن کو ہم مشائخ کے پاس پڑھنے جاتے، اور رات کے وقت لکھتے اور (لکھے ہوئے کا) تقابل کرکے دیکھتے، ایک دن میں اور میرا ساتھی ایک شیخ کے پاس آئے تو لوگوں نے کہا کہ: وہ علیل ہیں، (واپسی آتے ہوئے)میں نے ایک مچھلی دیکھی جو ہمیں اچھی لگی تو وہ خرید لی، جب ہم گھر پہنچے تو دوسرے شیخ کی مجلس کا وقت ہوگیا تھا، تو ہم وہاں چلے گئے، پس مچھلی تین دنوں تک اسی طرح رہی، اور قریب تھا کہ خشک ہوکر اس کا گوشت ختم ہوجاتا، پس ہم نے اسے کچا ہی کھالیا، اسے پکانے کی فرصت نہیں ملی۔‘‘
یااللہ! یہ کیسی ہستیاں تھیں جنہوں نے علم کو ہی اوڑھنا بچھونا بنایا، اور تحصیلِ علم کے لیے اتنی بڑی قربانیاں دیں جنہیں پڑھ کر ہم جیسے طالبِ علم ہونے کے دعویدار شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے اور ان کی قبریں نور سے بھر دے۔
دورِ حاضر میں بہت سے حضرات سے یہ سنا ہے کہ جب بھی مطالعہ کے لیے کتاب کھول کر بیٹھتے ہیں تو نیند بھی پنجے جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑجاتی ہے، چاہے مطالعہ شروع کرنے سے پہلے کتنے ہی چست اور چاق وچوبند ہوں، لیکن جیسے ہی کتاب ہاتھ میں اُٹھائی، اونگھ آنا شروع ہوگئی، لیکن ہمارے اکابر کا معاملہ اس کے برعکس تھا، جب اُنہیں نیند بھگانی ہوتی اور نشاط حاصل کرنے کا ارادہ ہوتا تو کتاب کا مطالعہ شروع کردیتے، تو نئی علمی باتوں کے اِدراک اور حصولِ علم کی خوشی سے نیند اُڑن چھو ہوجاتی اور تازہ دم ہوجاتے، چنانچہ محمد بن جہمؒ فرماتے ہیں:
’’إذا غشيني النعاس في غير وقت النوم تناولت کتاباً فأجد اہتزازي للفوائد الأريحيۃ التي تعتريني من سرور الإستنباہ وعز التبين، أشد إيقاظاً من نہيق الحمار، وہدۃ الہدم، فإني إذا استحسنت کتاباً واستجدتہٗ ورجوت فائدتہٗ، لم أوثر عليہ عوضاً، ولم أبغ بہ بدلاً، فلا أزال أنظر فيہ ساعۃ بعد ساعۃ، کم بقي من ورقۃ مخافۃ استنفادہٖ۔‘‘ (۱۱)
ترجمہ: ’’جب مجھے بےوقت اُونگھ آتی تو میں کتاب اُٹھاتا ہوں تو میں ان راحت والے فوائد کی وجہ سے ہلچل محسوس کرتا ہوں جو اِدراک کی خوشی کی بناپر حاصل ہوتے ہیں، اور یہ گدھے کے ہینگنے اور عمارت گرنے کی آواز سے بھی زیادہ بیداری کا باعث ہوتے ہیں۔ اور جب میں کسی کتاب کو اچھا محسوس کرتا ہوں اور اس کے فائدہ کی اُمید ہوتی ہے تو میں اس کے مقابلے میں کسی عوض کو ترجیح نہیں دیتا، اور نہ اس کے ذریعے کوئی عوض وقیمت لیتا ہوں، پھر وقتاً فوقتاً اس میں دیکھتا رہتا ہوں کہ کتنے صفحات باقی بچے ہیں؟ اس ڈر سے کہ کہیں ختم نہ ہوجائے۔‘‘
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علم جیسی قیمتی اور بےمثال نعمت کے حصول کے لیے شوق، محنت اور قربانی کا ہونا ضروری ہے، ہمارے اکابرین نے اپنے طرزِ عمل اور اقوال وارشادات کے ذریعے یہ بات واضح کردی ہے کہ طلبِ علم کے لیے یکسو ہوکر پوری دلجمعی اور علم کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہونے سے ہی علم کا حصول اور اس میں رُسوخ پیدا ہوگا۔
۱- صحيح مسلم، (ا/۴۲۸)، کتاب المساجد، باب أوقات الصلاۃ، رقم الحديث: ۶۱۲، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت
۲- سنن الدارمي، (۱/۴۸۴)، باب مذاکرۃ العلم، رقم: ۶۳۸، الناشر: دار المغني للنشر- المملکۃ السعوديۃ، ط: ۱۴۱۲ھ- ۲۰۰۰م
۳- وفيات الأعيان لابن خلکان، (۲/۱۵۸)، ترجمۃ: ابن سينا، رقم الترجمۃ: ۱۹۰، الناشر: دار صادر، بيروت
۴- الکامل في ضعفاء الرجال لابن عدي، (۱/۳۰۹)، ترجمۃ يحيی بن معين، رقم: ۷۴۹، الناشر: مکتبۃ الرشد- الرياض، ط: ۱۴۳۴ھ- ۲۰۱۳م
۵- أدب الإملاء والاستملاء للسمعاني، (ص: ۱۱۲)، فصل في آداب الکاتب، الناشر: دار الکتب العلميۃ، بيروت
۶- العلل ومعرفۃ الرجال للإمام أحمد، (۲/۳۴۲)، رقم: ۲۵۱۵، الناشر: دار الخاني- الرياض، ط: ۱۴۲۲ھ
۷- الديباج المذہب في معرفۃ أعيان علماء المذہب لليعمري، (۱/۹۸)، ترجمۃ الإمام مالک، الناشر: دار التراث للطبع، القاہرۃ
۸- تاريخ بغداد للخطيب البغدادي، (۲/۷۲)، ترجمۃ: محمد بن إدريس الرازي، رقم: ۴۵۵، الناشر: دار الکتب العلميۃ- بيروت، ط: ۱۴۲۵ھ- ۲۰۰۴م
۹- ذيل طبقات الحنابلۃ لابن رجب الحنبلي، (۱/۳۲۵)، وفيات المائۃ السادسۃ۔ الناشر: مکتبۃ العبيکان- الرياض، ط: ۱۴۲۵ھ- ۲۰۰۵م
۱۰- مقدمۃ الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، (۱/۵)، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت
۱۱- محاسن الکتابۃ والکتب للجاحظ، (ص: ۲۰)، مکتبۃ الہلال- بيروت، ط: ۱۴۲۳ھ