
حرمین شریفین میں وتر کی نماز ائمہ حرمین کی اقتدا میں پڑھنے کا مسئلہ حنفی زائرین کے لیے اُلجھن کا باعث ہے، کیونکہ احناف کے یہاں تین وتر ایک سلام کے ساتھ ہیں، جبکہ اس وقت ائمہ حرمین شریفین حنبلی مسلک کے موافق دو سلاموں کے ساتھ تین وتر پڑھاتے ہیں۔
اصولی طور پر اس مسئلہ کا تعلق مخالف فی الفروع امام (یعنی شافعی ،حنبلی اور مالکی) کی اقتدا میں وتر پڑھنے سے ہے۔ اس سلسلے میں فقہائے احناف کے بنیادی طور پر دو قول مشہور ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتدا میں حنفی کا وتر پڑھنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ امام دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیرے۔ فقہائے احناف میں سے بہت سے حضرات نے اس قول کو راجح قرار دیا ہے، ماضی قریب کے بعض سلف صالحین نے اسی قول کے مطابق فتویٰ بھی دیا ہے۔چنانچہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ’’امداد الاحکام‘‘ میں اسی قول کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو،جلد: ۱، ص:۵۹)
مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فتاویٰ رحیمیہ میں اسی کے موافق فتویٰ دیا ہے:
’’صحیح قول یہ ہے کہ اگر شافعی امام وتر دو سلام سے ادا کرے تو حنفی مقتدی اس کی اقتدا نہ کرے، اسی میں احتیاط ہے۔‘‘ (فتاویٰ رحیمیہ،ج:۶، ص: ۴۱۵)
جامعہ دار العلوم کراچی سے بھی حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں انہی کی تصدیق سے اس قول کے مطابق فتویٰ جاری ہوا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتدا میں وتر کی نماز پڑھنا مطلقاً جائز ہے، اگرچہ امام دو ر کعت پر سلام پھیر دے۔ یہ قول علامہ ابو بکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ فقہائےحنفیہ میں ابوبکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ بڑے پایہ کے فقیہ ہیں، امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اور دو واسطوں سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے ہیں۔
اسی قول کو علامہ ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ علامہ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اختیار فرمایا ہے اور خود علامہ محقق ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ بھی اس قول کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ نیز علمائے احناف کی ایک معتد بہ جماعت کی رائے بھی یہی ہے، مثلاً فقیہ ابو جعفر الہند وانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن وہبا ن رحمۃ اللہ علیہ کی یہی رائے ہے۔
علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول پر فتویٰ دیتے ہوئے فرمایا:
’’محققین نے مخالف فی الفروع امام کی اقتدا میں حنفی کی نماز مطلقاً جائز ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔‘‘ (مجموعۃ الفتاوی، ج:۱، ص:۳۲۸، کتاب الصلوۃ، ط:ایچ ایم سعید، کراچی)
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مخالف فی الفروع امام کی اقتدا کو مطلقاً جائز قرار دیا ہے اور فرمایا کہ:
’’محققین کے نزدیک حنفی کا شافعی المذہب کی اقتدا یا شافعی کا حنفی امام کی اقتدا جائز ہے۔‘‘ (عزیز الفتاویٰ، ج:۱، ص:۲۳۹۔ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ج:۳، ص:۱۴۳)
مندرجہ ذیل وجوہات اور دلائل کی بنیاد پر اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
1- اصولی طور پر اس مسئلہ کا تعلق مخالف فی الفروع امام کی اقتدا سے ہے۔ اس سلسلے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ مقتدی کے مسلک کی رعایت کا خیال رکھنا ضروری ہے یا امام کے مسلک کی رعایت کا اعتبار ہے؟! اکثر علماء کے نزدیک صحتِ نماز کے لیے مقتدی کے مسلک کا اعتبار کرنا ضروری ہے، لہٰذا اگر نماز میں امام کسی ایسے عمل کا ارتکاب کرے جو مقتدی کے مسلک کے مطابق مفسد ِ صلوٰۃ ہو تو ایسے امام کے پیچھے اس مقتدی کی نماز اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے، تاہم بعض محقق علماء کے نزدیک مقتدی کے بجائے امام کے مسلک کا اعتبار ہے کہ امام کی نماز اصل کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا اگر امام کی نماز اس کے مسلک کے مطابق صحیح ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی امام کے تابع ہو کر درست ہو جائے گی۔
فقیہ ابو جعفر الہندوانی رحمۃ اللہ علیہ ، محقق العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ حضرات اسی کے قائل ہیں کہ اگرامام کے مسلک کے مطابق اُس کی نماز صحیح ہو تو اس کے پیچھےنمازپڑھناجائز ہے۔
چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’قلت: وہذا بناءً علی أن العبرۃ لرأي المقتدي وہو الأصح، وقيل لرأي الإمام و عليہ جماعۃ۔‘‘ (کتاب الصلوۃ، باب الإمامۃ، ج:۲، ص:۲۶۱، ط:رشیدیۃ)
اس مسئلے کی مکمل تفصیل علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’باب الوتر والنوافل‘‘ میں بیان فرمائی ہے۔
بقدرِ ضرورت اختصار کے ساتھ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت نقل کی جاتی ہے:
’’ثم قال: ظاہر الہدايۃ أن الاعتبار لاعتقاد المقتدي ولا اعتبار لاعتقاد الإمام، حتی لو اقتدی بشافعي راٰہ مس امرأۃ ولم يتوضأ ، فالأکثر علی الجواز وہو الأصح کما في الفتح وغيرہ، وقال الہندواني وجماعۃ: لا يجوز ..... ومقتضاہ أن المعتبر رأي الإمام فقط۔‘‘ (کتاب الصلوۃ، باب الوتروالنوافل، قبیل مطلب: الاقتداء بشافعي، ج:۲، ص:۲۶۱، ط:رشیدیۃ)
حضرت مولانا محقق علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقف کی تائید میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول نقل فرمایا ہے:
’’قلت: ہٰذہ المسألۃ مجتھد فيہا، والاقتداء في جنس ہذہ المسائل يجوز من واحد لآخر کما في ’’الدر المختار‘‘، عند تعدید الواجبات، فصرح في ضمنہ: أن المتابعۃ تصح عندنا في الاجتہادات کلہا، وأوضحہ الشافعي رحمہ اللہ تعالی، ونقلہ الحافظ ابن تيميۃ عن الأئمۃ الأربعۃ۔
۔۔۔ قلت: فھٰذا باب عندنا وسیع ،فیتبع الإمام في رفع الیدین والتأمین أیضا لو اتفق الاقتداء بشافعي ،وقد قدمنا الکلام فیہ مبسوطًا، ویدل علیہ أن الخلیفۃ ھارون الرشید افتصد مرۃ فقام الی الصلوۃ ولم یتوضأ ، فاقتدی بہ ابویوسفؒ وما ذٰلک إلا لکون الاقتداء جائزًا۔‘‘
(فیض الباري علی صحیح البخاري، باب کما أقام النبيﷺ: ۵۳۲/۲)
’’فیض الباري‘‘ میں ہی ایک اور مقام پر علامہ ابن تیمیہؒ کے حوالے سے اس مسئلے میں اجماع نقل کرتے ہوئے درِمختار میں ذکر کردہ موقف پر رد بھی کیا گیا ہے:
’’واعلم أن ابن مسعود کان يصلي خلف عثمان أربعًا، لصحۃ الاقتداء في المسائل المجتہد فيہا، کما مر مبحثہ في الطہارۃ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ’’ونقل الحافظ ابن تيميۃ الإجماع علی صحۃ اقتداء حنفي بشافعي، وکذلک کل صاحب مذہب بصاحب مذہب آخر، وصرح أن ہذا ہو مذہب الإمام أبي حنيفۃ. ومع ذٰلک نجد في ’’الدر المختار‘‘ خلافہٗ، فذہب إلی أنہ لا يصح. قلت: کيف مع أن الدين واحد، والنبي واحد، والقبلۃ واحدۃ، فبعيد کل البعد أن لا يصح اقتداء حنفي بشافعي في أمر الصلاۃ التي ہي من أہم مہمات الدين۔‘‘ (فیض الباري علی صحیح البخاری، باب الصلاۃ بمنی، ج:۳، ص:۲۴۲)
اسی طرح ایک اور مقام پرمذکورہ صورت میں اقتدا کے جوازکو محقق قراردیتے ہوئے سلف صالحین کے عمل کا حوالہ بھی دیا ہے، نیز شیخ الہند محمود حسن ؒ کے حوالے سے بھی یہی رائے نقل فرمائی ہے کہ مخالف فی الفروع امام کی اقتدامیں نماز پڑھنا جائز ہے:
’’قلت: والذي تحقق عندي أنہٗ صحيح مطلقًا سواء کان الإمام محتاطًا أم لا، وسواء شاہد منہ تلک الأمور أم لا، فإني لا أجد من السلف أحدا إذا دخل في المسجد أنہ تفقد أحوال الإمام أو تساءل عنہ بيد أنہم کانوا يقتدون وينصرفون إلی بيوتہم بلا سؤال ولا جواب. وفي ’’فتاوی الحافظ ابن تيميۃ‘‘: أن ہارون الرشيد افتصد مرۃ ثم قام ليصلي، وکان أبو يوسف رحمہ اللہ تعالٰی موجودًا ہناک، فاقتدی بہ مع علم الناقض عندہ. فإن قلت: کيف الاقتداء مع تيقن الإمام علی عدم الطہارۃ عندہ؟ قلت: إنما يتوجہ السؤال إذا کان الإمام علی أمر باطل قطعًا، وہذہ المسألۃ مجتہد فيہا، أمکن فيہا أن يکون الحق إلی الإمام، وأمکن أن يکون في جانب آخر، ولذا لا يسعک أن تحکم علی صلاۃ الآخرين أنہا باطلۃ عند اللہ تعالی، ولکن يبذل الجہد ويتحری الصواب لينال الثواب بقدر الاجتہاد۔۔۔۔ قلت: الفرق ظاہر ونظير الشيخ ابن الہمام رحمہ اللہ تعالی، وکذا سکوت شيخہ في غير محلہ، فإن معاملۃ القبلۃ قطعيۃ يمکن فصلہا بالرجوع إلی الحس بخلاف النواقض، فإنہ لا سبيل فيہا إلی الفصل بعد اختلاف السلف فيہا اختلافًا کثيرًا، فلو علم المقتدي إمامہ علی خطأ في مسألۃ التحري ينبغي أن لا تصح صلاتہ، بخلاف الاجتہاديات التي لا تزال الأنظار تدور فيہا إلی الأبد، ووجہ الفساد في المسألۃ المذکورۃ ليس ما فہمہ الشيخ من مخالفۃ اعتقادہٖ لإمامہٖ، بل ہو ترک المتابعۃ لہٗ، وہي من الواجبات. وکان مولانا شيخ الہند رحمہ اللہ تعالٰی يذہب إلی مذہب الجصاص ويستعين بمسألۃ قضاء القاضي في العقود والفسوخ، فإنہٗ ينفذ ظاہرًا أو باطنًا مع شرائطہا المذکورۃ في الفقہ۔‘‘ (فیض الباري علی صحیح البخاري، باب مسح الید بالتراب، ج:۱، ص:۴۵۷-۴۵۸)
بہرحال! یہ قول اگرچہ غیر مشہور ہے اور عموماً فقہائے کرام نے اس کو نہیں لیا ہے، مگر ضرورت کے وقت اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ اتنے بڑے مجمع میں حنفی شخص کے لیے الگ سے وتر پڑھنا مشکل ہے۔اور شریک نہ ہوکر بیٹھے رہنا یہ بڑے مجمع کی مخالفت اور حرمین کی جماعت سے علیحدگی ہے جو درست نہیں ہے۔ درمیان صف سے نکلناجماعتِ مسلمین میں اختلاف کی سی شکل ہے جوکہ بالکل مناسب نہیں ۔
اسی طرح وتر کی جماعت کے دوران صف میں کھڑے ہو کر الگ سے اپنی وتر پڑھنا اور زیادہ برا ہے، لہٰذا حرمین شریفین میں جماعت کی فضیلت حاصل کرنے اورمجمع کی مخالفت سے بچنے کے لیے ،نیز عدم اقتدا کی صورت میں بعض دیگر محظورات سے بچنے کے لیے اس دوسرے قول پر عمل کرتے ہوئے ائمہ حرمین کی اقتدا میں وتر پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، یعنی وتر ادا ہوجائے گی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
2-یہ مسئلہ مجتہدفیہ ہے ، اور اجتہادی مسائل میں جانبِ مخالف کو باطل محض نہیں کہا جا سکتا، یعنی اجتہادی مسائل میں کوئی بھی دوسرے کو قطعی طور پر غلط اور غیر صحیح نہیں کہہ سکتا۔
مسائلِ اجتہادیہ کے اختلافات حق و باطل کی سطح کے نہیں ہوتے، بلکہ صواب و احتمالِ خطا کے دائرے کے ہوتے ہیں، یعنی جو موقف ہم نے اختیار کیا ہے وہ صواب ہے، لیکن محتملِ خطا ہے، جبکہ جانبِ مخالف کا موقف خطا پر مبنی ہے ،مگر اس میں صواب کا احتمال بھی موجود ہے، ضرورت کے موقع پر ایسے مسائل میں توسع اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، لہٰذا اس پہلو کی رو سے بھی ائمہ حرمین کی اقتدا میں فصل کے ساتھ وتر پڑھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، خاص کر جب اس کی بنیاد بھی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث ہے اور اس پر بہت سارے اہلِ علم صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین رحمۃ اللہ علیہم کا عمل رہاہے۔
نیز مذکورہ مسئلے کے متعلق اس حدیث سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ امام کی نماز اصل کی حیثیت رکھتی ہے: ’’الإمام ضامن‘‘یعنی جب امام کی نماز اس کےمسلک کے مطابق صحیح ہو جائے تو مقتدی کی نماز بھی درست ہو جائے گی۔ حنفیہ نے اس اصول کو اقتدا کے سارے مسائل میں لیا ہے، لہٰذا اس مسئلے میں بھی اس اصول کو لیا جا سکتا ہے۔
’’وفي فتح القدیر: قلنا المقتدي يری جوازہا والمعتبر في حقہ رأي نفسہ لاغيرہ، وقول أبي بکر الرازي إن اقتداء الحنفي بمن يسلم علی رأس الرکعتين في الوتر يجوز ويصلي معہ بقيتہ لأن إمامہ لم يخرجہ بسلامہ عندہ لأنہ مجتہد فيہ، کما لو اقتدی بإمام قد رعف يقتضي صحۃ الاقتدا وإن علم منہ ما يزعم بہ فساد صلاتہ بعد کون الفصل مجتہدًا فيہ. وقيل إذا سلم الإمام علی رأس الرکعتين قام المقتدي فأتم منفردا، وکان شيخنا سراج الدين يعتقد قول الرازي، وأنکر مرۃ أن يکون فساد الصلاۃ بذلک مرويًا عن المتقدمين حتی ذکرتہ بمسألۃ الجامع في الذين تحروا في الليلۃ المظلمۃ وصلی کل إلی جہۃ مقتدين بأحدہم، فإن جواب المسألۃ أن من علم منہم بحال إمامہ فسدت لاعتقاد إمامہ علی الخطإ۔ وما ذکر في الإرشاد لا يجوز الاقتداء في الوتر بإجماع أصحابنا لأنہ اقتداء المفترض بالمتنفل ۔۔۔ وما ذکر في الإرشاد لایجوز الاقتداء في الوتر بإجماع أصحابنا، لأنہ اقتداء المفترض بالمتنفل، یخالفہ ما تقدم من اشتراط المشایخ في الاقتداء بشافعي في الوتر أن لا یفصلہ، فإنہ یقتضي صحۃ الاقتداء عند عدم فصلہ۔‘‘ (باب صلوۃ الوتر، ج:۱، ص:۴۳۷۔ وکذا في حاشیۃ ابن عابدین، باب الوتر والنوافل، ج:۲، ص:۸)