
مسلم سماج اور معاشرہ میں جہاں اور بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں در آئی ہیں، وہاں پر تصویر سازی اور فوٹو گرافی عام ہوگئی ہے، حتیٰ کہ ہمارے مدارس اور مساجد بھی اس وبا اور فتنہ سے محفوظ نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر ہماری عبادات نماز اور حج تک میں یہ چیزیں دخیل ہوگئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کے اَربابِ حکومت اور حرمین شریفین کی انتظامیہ کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے آئندہ سال ۲۰۲۶ء کے حج میں فوٹوگرافی پر پابندی عائد کر دی ہے،جیسا کہ سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے ۱۵؍ جمادی الاخریٰ ۱۴۴۷ھ کو اعلان کیا ہے کہ آئندہ حج سیزن سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہر قسم کی فوٹو گرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔اس پابندی کا اطلاق موبائل فون، پروفیشنل کیمرے اور تمام ریکارڈنگ ڈیوائسز پر ہوگا۔ وزارت کے مطابق فوٹو کھینچنے کی وجہ سے رش میں اضافہ، نماز میں خلل، عبادت کے دوران بے توجہی اور زائرین کی پرائیویسی کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی تھیں۔ پابندی کا مقصد زائرین کو پُرسکون اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ سکیورٹی اہلکاراس فیصلے پرسختی سے عمل کروائیں گے اور یہ قانون حج روٹ کے دیگر مقدس مقامات پر بھی نافذ ہوگا۔
سعودی حکومت کی جانب سے مقاماتِ مقدسہ میں ہر قسم کی فوٹو گرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ پر مکمل پابندی کا اعلان نہایت بروقت اور خوش آئند ہے۔ حرمین شریفین کی عظمت، ان کی روحانی فضا اور عبادت کے وقار کا اصل تقاضا یہی تھا کہ ان مقامات کو نہ صرف مکروہات، بلکہ غیرضروری مصروفیات سے بھی پاک رکھا جائے، اس لیے کہ کچھ عرصہ سے یہ چیز بہت زیادہ بڑھ گئی تھی کہ طواف کر رہے ہیں یا دعا مانگ رہے ہیں تو کیمرہ آن ہے ، بعض لوگ بیت اللہ کی طرف پیٹھ کر کے تصویر بناتے تھے، اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر جہاں صلوٰۃ و سلام پڑھنے کے لیے ادب لازم ہے، وہاں بھی تصویر سازی اور مووی بن رہی ہوتی تھی ۔ ظاہر بات ہے جس وقت آدمی یہ کام کرر ہا ہوتا ہے ، اس وقت اس کے دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف توجہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام صحیح معنیٰ میں کہاں ہوسکتا ہے؟ خود تو یہ کام کر رہا ہوتا ہے ، دوسروں کے لیے بھی اذیت کا باعث اور توجہات میں خلل ڈالنے کا ذریعہ بنتا ہے ۔ بہرحال ! اس فیصلہ کی جتنا بھی تحسین کی جائے ، کم ہے ۔ اللہ کرے کہ حج کی طرح عمرہ کے زائرین کے لیے بھی حرمین شریفین میں فوٹو گرافی پر پابندی عائد ہو جائے تو ان شاء اللہ! ہماری حج اور عمرہ جیسی عبادات میں روحانی ماحول دوبالا ہو جائے گا ۔
ادارہ بینات بھی اپنے قارئین سے بالخصوص اور تمام مسلمانوں سے بالعموم یہ درخواست کرتا ہے کہ حج و عمرہ سمیت اپنی مساجد اور معابد کوبھی اس فوٹو گرافی سے محفوظ رکھیں، خصوصاً عبادات جو خالص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ہوتی ہیں، انہیں ریا کاری اور شہرت سے دور رکھیں، ورنہ اندیشہ ہے کہ ہماری یہ عبادات کہیں مردود ہو کر ہمارے منہ پر نہ مار دی جائیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہم سب کو محفوظ فرمائے، آمین۔ وما توفیقي إلا باللہ ، عليہ توکلت وإليہ أنیب.
وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!