بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

حدیث ’’مسلسل بالأوّلیۃ ‘‘ سے متعلق فکر مندانہ خطاب!

حدیث ’’مسلسل بالأوّلیۃ‘‘ سے متعلق فکر مندانہ خطاب!

 

مؤرخہ۴؍محرم الحرام ۱۴۴۷ھ بروز پیر کو حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدمجدہٗ (رئیس جامعہ دار العلوم کراچی، وصدروفاق المدارس العربیہ، پاکستان) نائب رئیس جامعہ ڈاکٹر مولانا سید احمد یوسف بنوری زیدمجدہٗ کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے جامعہ تشریف لائے تھے، اربابِ جامعہ کی خواہش پر حضرت مفتی صاحب زیدمجدہٗ نے دورہ حدیث کی درسگاہ میں موجود اساتذہ و طلبہ کو اجازتِ حدیث کے ساتھ ساتھ ان سے مختصر خطاب بھی فرمایا، جسے جامعہ کے فاضل ومتخصص مولانا محمد احمد عبداللہ نے ریکارڈنگ سے تحریری صورت میں منتقل کیا۔ افادۂ عام کی غرض سے شاملِ اشاعت کیا جارہا ہے۔                (ادارہ)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحيم الحمد للہ رب العالمين، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکريم، وعلی آلہٖ وأصحابہٖ أجمعين، وعلی کل من تبعہم بإحسان إلٰی يوم الدين، أما بعد: 

میرے عزیز طالب علم ساتھیو! آج مجھے اس عظیم جامعہ میں اپنے بہت ہی مہربان بھائی مولانا احمد بنوری صاحب کی والدہ کے انتقال کی وجہ سے تعزیت کی خاطر آنا ہوا تھا، لیکن یہاں بزرگوں نے حکم کیا کہ دارالحدیث میں بھی تھوڑی دیر کے لیے حاضر ہوجاؤں، اگرچہ مجھے اس بات سے بہت ندامت محسوس ہوتی ہے کہ یہ مسند درحقیقت میرےانتہائی مشفق، مکرم، معزز، استاذ، حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کی مسند ہے، جن سے اس ناکارہ کوبہت زیادہ محبت وشفقت حاصل ہوئی، اور الحمد للہ! ایک سفر کے دوران اُن سے تلمذ کا بھی شرف حاصل ہوا، اُن کی جگہ پر مجھ جیسا بے علم وعمل اگر آکر بیٹھے تو یہ ندامت و شرمندگی کی بات ہے، لیکن دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ میرے لیے برکت حاصل کرنے کا موقع ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو میرے لیے باعثِ برکت بنادے۔ (آمین!)

حدیث’’مسلسل بالأوّلیۃ‘‘ کی قراءت اور اجازتِ خاصہ وعامہ

حدیث تو ماشاء اللہ! آپ نہایت ہی قابل اساتذہ کرام سے پڑھ رہے ہیں، اور الحمد للہ! روزانہ پڑھ رہے ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے،(آمین!)۔ جو حدیث پڑھی گئی ہے، اس کی تفصیل تو ان شاء اللہ! آئندہ اساتذہ کرام آپ کو بیان فرمائیں گے، لیکن موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں ایک حدیث آپ کے سامنے پڑھ دیتا ہوں، جو’’مسلسل بالأولیۃ‘‘ کہلاتی ہے، اور اس کو ’’حدیث الرحمۃ‘‘ بھی کہتے ہیں، اور حضرت سفیان بن عیینہ  رحمۃ اللہ علیہ  کے وقت سے بزرگوں کا یہ معمول رہا ہے کہ جب کوئی طالب علم اُستاذ کےپاس حدیث پڑھنے کے لیے آتا تھا تو اُستاذ سب سے پہلے اس کو یہ حدیث پڑھاتے تھے۔ یہ حدیث مجھے سب سے پہلے سن ۱۹۶۳ء میں حضرت شیخ محمد حسن المشاط المکی المالکی رحمۃ اللہ علیہ  سے حاصل ہوئی تھی، جو مسجدِ حرام میں مغرب کے بعد ’’نسائی شریف‘‘ کا درس دیتے تھے، اس حدیث کے پڑھنے کے بعد مغرب کے بعد اُن کے درس میں بھی حاضر ہونے کی سعادت ملی، پھراُن کے بعد شیخ محمد یاسین الفادانی  رحمۃ اللہ علیہ ، جو مکہ مکرمہ میں تھے، اُن کے پاس جتنی اسانیدِ حدیث تھیں‘ شاید کسی اور کے پاس اُن کے عصر میں نہ ہوں، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن سے بھی مجھے یہ حدیث ’’مسلسل بالأوّلیۃ‘‘ اور اُس کے ساتھ کچھ اور مسلسلات بھی حاصل کرنے کی توفیق دی، اُن کے بعد حضرت شیخ احمد الناخبی  رحمۃ اللہ علیہ ، جو جدہ میں تھے، اور اُن کی عمر ایک سو بیس سال تھی، اُن سے بھی میں نے یہ حدیث ’’مسلسل بالأولیۃ‘‘ حاصل کی، اور اُنہوں نے اپنی تمام اسانید کی اجازت بھی دی، اور ساتھ ہی یہ شرط لگائی کہ تم اپنے تمام مشائخ سے مجھے اجازت دو، اور چوتھے مولانا محمد یونس جون پوری  رحمۃ اللہ علیہ ، آپ سب حضرات اُن سے واقف ہوں گے، اس آخری دور میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کو علمِ حدیث کا خصوصی ملکہ عطا فرمایا تھا، اگرچہ وہ ہندو ستان میں تھے اور ہم یہاں پاکستان میں، لیکن اُن سے لندن میں مجھے اس کی اجازت حاصل ہوئی، اورباقی دیگر اجازات بھی حاصل ہوئیں، یہ وہ بزرگ تھے جن سے مجھے اس کی اجازت حاصل ہوئی۔ میں حدیث آپ کے سامنے پڑھ دیتا ہوں:

بسم اللہ الرحمٰن الرحيم: الحمد للہ رب العالمين، والصلاۃ والسلام علٰی رسولہ الکريم، وعلٰی آلہٖ وأصحابہٖ أجمعين، أما بعد: فقد حدّثني بہٰذا الحديث الشيخ حسن المشاط المکي المالکي –رحمہ اللہ تعالی في المسجد الحرام، والشيخ محمد ياسين الفاداني رحمہ اللہ تعالی في مکۃ المکرمۃ، والشيخ أحمد الناخبي رحمہ اللہ تعالی في جدۃ، وشيخنا محمد يونس الجون بوري  رحمہ اللہ تعالی في جدۃ، کل واحد منہم يرويہ بإسنادہٖ إلی سيدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي اللہ تعالی عنہما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: ’’الراحمون يرحمہم الرحمٰن تبارک وتعالی، ارحموا من في الأرض يرحمکم من في السماء۔‘‘
ہٰذا أول حديثٍ سمعتہٗ من ہؤلاء الشيوخ، وکل واحد منہم يقول: ہٰذا أول حديث سمعتہٗ من مشايخي، وأنا دخلتُ فيہم ہٰکذا –رحممہم اللہ تعالٰی، فأجيزکم جميعًا لہٰذا الحديث، أسال اللہ –سبحانہٗ وتعالٰی أن يوفّقنا لنفع ہٰذا الحديث، کما نفع بہٖ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم.

اس حدیث کے ساتھ جو میری تمام دوسری اسانید ہیں، دورہ حدیث، موقوف علیہ اور تخصص کے تمام طلبہ کو میں اُن کی اجازتِ عامہ دیتا ہوں، اور دورہ حدیث اور موقوف علیہ کے اساتذہ کرام اور ان کے علاوہ تمام موجود اساتذہ کرام کو میں اپنی تمام مرویات کی اجازت دیتا ہوں، جو میرے ثبت ’’ثبت العثماني‘‘ میں موجود ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی برکات نصیب فرمائیں۔ (آمین!)

حدیث’’مسلسل بالأوّلیۃ‘‘ سے مستفاد ایک سبق

ایک نکتہ جو میں کبھی کبھی سوچا کرتا ہوں کہ جب طالب علم‘ استاذ کے پاس حدیث پڑھنے گیا تو استاذ نے سب سے پہلے یہی حدیث پڑھائی، حالاں کہ اور بھی بہت سی حدیثیں ہوسکتی تھیں، لیکن اس حدیث کو پڑھانے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوگی، اس حدیث کو ’’حدیث الرحمۃ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں فرمایا گیا ہے: ’’الراحمون يرحمہم الرحمٰن تبارک وتعالٰی، ارحموا مَن في الأرض يرحمکم مَن في السماء۔‘‘، ’’مَن في الأرض‘‘ اتنا عام ہے کہ اس میں مسلم، غیر مسلم سب داخل ہیں: ’’ زمین والوں پر رحم کرو۔‘‘ رحم کے انداز الگ الگ ہوتے ہیں، کسی کے ساتھ رحم کا تعلق کچھ ہوتا ہے، کسی کے ساتھ رحم کا تعلق کچھ ہوتا ہے، صرف مسلمانوں پر نہیں، غیر مسلموں پر بھی رحم کا تقاضا یہ ہے کہ یہ داعیہ ہمارے دلوں میں ہو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں ہدایت دے اور یہ اسلام قبول کریں، اور اگر ان کو انسانی بنیاد پر کسی مدد اور تعاون کی ضرورت ہو تو آپ اُن کی مدد کے لیے تیار رہیں۔ سرورِ دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد ہمیں یہ سبق سکھاتا ہےکہ ایک مسلمان کاکام رحم کرنا ہے، زمین میں جتنے متنفس موجود ہوں‘ اُن سب پر رحم کریں، رحم کرنے کے طریقے مختلف ہوں گے، لیکن رحم کرنا ہے، اور یہ بات اگر ذہن میں رہے تو ہم جیسے طالب علموں کے لیے اس دور میں ایک بہت بڑا فتنہ یہ ہے کہ جس سے ہمار ا کوئی مسلکی اختلاف ہےتو اس اختلاف کو ہم دشمنی بنادیں، اُس کے اوپر فتنے کھڑےکردیں، اُس کو طعنے دیں اور اُس کا مذاق اڑا دیں، اور ’’تنابُز بالألقاب(برے القاب سے پکارنے)‘‘ تک پہنچ جائیں، اور یہ حال ہے کہ جو ہمارے مسلک کا ہے وہ تو ہمارا ہے، جو دوسرے مسلک کا ہے تو اس کے ساتھ رحم نہیں ہے، (جو اپنے مسلک کا ہے) اُس کے لیے صاف جھوٹ معاف ہے، (اور جو دوسرے مسلک کا ہے) اُس کو چاہے گالی دے دو، اُس کو چاہے برا بھلا کہہ دو، چاہے اُس کو طعنے دے دو، چاہے اُس کو اپنے سب وشتم کا محور بنادو، ہمارے ماحول کے اندر یہ فضا بن گئی ہے، جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ 
میرے والد ماجد قدس اللہ تعالیٰ سرہٗ فرمایا کرتے تھے کہ: حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کےپاس بھیجا، اور فرعون وہ کہ جس سے بڑا سرکش کوئی نہیں ہوتا، اور انبیاء کرام کو بھیجا جا رہا ہے تو کیا فرمایا ہدایت میں: ’’فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا‘‘ (میرے والد ماجد قدس اللہ تعالیٰ سرہٗ) فرمایا کرتے تھے: تم حضرت موسیٰ وہارون n سے بڑےمصلح نہیں ہوسکتے، اور تمہارا مخالف فرعون سے بڑا گمراہ نہیں ہے، جو سب کے اوپر خدائی کا دعوے دار ہے، لیکن جب وہاں کہا جارہا ہے کہ نرمی سے بات کرواور ساتھ یہ بھی کہا جارہاہے کہ : ’’لَعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی‘‘، شایدوہ نصیحت قبول کرلے، شاید اُس کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوجائے،حالاں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے علمِ ازلی میں یہ بات موجود تھی کہ یہ ہدایت پانے والا نہیں ہے، پھر بھی موقع دے دیا، لیکن اس کے باوجود انبیاء کرام(o) سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنے دل میں نرمی کا اہتمام کرنا، ’’لَعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی‘‘ انبیاء کرامؑ کا یہ طریقہ ہے دعوت کا کہ اُن کو گالی بھی دی جاتی ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ تم بے وقوف ہو، تم جھوٹے ہو، جواب میں کہتے ہیں: ’’يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ سَفَاہَۃٌ وَّلٰکِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ‘‘، یہ دعوت کا اسلوب ہے جو ہمیں انبیاء کرامؑ خاص طور نبی کریم سرورِ دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے حاصل ہوا ہے۔ یہ پیغام ہے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کہ جب آپ کا کسی سے اختلاف ہو تو اس کو راہِ راست پر لانے کے لیے، اس کو سمجھانے کے لیے جو اسلوب اختیار کریں تو اس اسلوب میں رحم ہونا چاہیے، اس میں رحمت ہونی چاہیے، اس میں وہی طریقہ ہونا چاہیے جو پیغمبرانہ طرزوطریقہ ہے۔ خاص طور پر ہمارے ہاں یہ بات پھیلتی جارہی ہے کہ ذرا بھی کسی سے اختلاف ہوا تو طنز وتعریض اور دشمنانہ الفاظ اور مختلف طرح سے اس کو چوٹ دینے کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ہمارے لیے یہ بہت بڑا سبق ہے کہ جو سب سے پہلے سبق ہم کو پڑھایا گیا‘ وہ رحم کا ہے، اور رحم کے اندر شفقت داخل ہے، اس میں نصیحت داخل ہے، اس میں خیر خواہی داخل ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اور رحمت سے ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیرخلقہٖ سیدنا و مولانا محمد وعلی آلہٖ وأصحابہٖ أجمعین

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے