
گزشتہ دنوں جامعہ بنوری ٹاؤن مسجد کی تبلیغی جماعت کے ذمہ دار حاجی نذیر احمد رحمۃ اللہ علیہ مختصر علالت کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
بھائی نذیر احمد مرحوم نے ساری زندگی عملی طور پر اللہ کے راستہ میں دعوت و تبلیغ میں گزاردی، جامعہ میں تعلیمی سالوں میں سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کے موقع پر تعطیلات کے لیے طلبہ کو دعوت وتبلیغ کے لیے وقت لگانے کی بھرپور دعوت دیتے اور خوب کوشش کرتے تھے ، تاکہ طلبہ کی چھٹیاں قیمتی بن جائیں۔ مسجد بلال پولیس لائن جمشید کوارٹر میں ہر اتوار کو گشت کا عمل ہوتا ہے، آپ باوجود ضعف اور کمزوری کے ہر اتوار باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ آپ نے ملک اور بیرون ملک کئی اسفار کیے۔ انتہائی کمزوری کمر جھک جانے کے باوجود آہستہ آہستہ چل کر باجماعت نماز میں ضرور شریک ہوتے۔ بیماری میں بھی نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔ تہجد اور نوافل کا ہمیشہ اہتمام رہا۔ گھریلو کاموں میں اکثر ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ آپ ؒ کی بیٹی کی شادی کے بعد ان کے شوہر اُن کو امریکہ لے گئے، والد صاحبؒ نے بھائی نذیر صاحبؒ سے از راہِ ہمدری کہا کہ آپ نے بیٹی کو امریکہ بھیج دیا؟ تو فرمایا کہ میری بیٹی حافظہ ہے، وہاں جاکر بچوں اور بچیوں کو تعلیم وتبلیغ کررہی ہے، کئی لوگ مسلمان ہوکر قرآن پڑھ رہے ہیں، تبلیغ میں جڑ رہے ہیں۔
آپؒ انڈیا ضلع گورداسپور تحصیل بٹالہ میں ۱۹۳۱ء میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان میں فیصل آباد آگئے، دو سال قیام کے بعد کراچی اپنے ماموں جان (جو کہ نیوی کے ڈائریکٹر تھے) کے پاس آگئے، ان کے ہاں قیام رہا، کراچی میں صدر کے علاقہ سینٹ پیٹرک اسکول سے میٹرک مکمل کیا اور اے او آر ایس ایم لاء کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے ہر کلاس میں نمایاں نمبرات حاصل کیے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کے ڈی اے جوائن کیا، آخر عمر تک سوک سینٹر کے شعبہ میں منسلک رہے۔۱۹۷۰ء کی دہائی میں نیوٹاؤن محلہ موٹومل کمپاؤنڈ میں حضرت والد صاحب مولانا عبدالرزاق لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پلاٹ خریدا، اور دونوں حضرات نے مل کر خود اپنے ہاتھ اور محنت سے کفایت شعاری کے ساتھ اپنے مکانات تعمیر کیے۔
آپ کی اہلیہ محترمہ تقریباً ۲۳ سال قبل رحلت فرما گئی تھیں، مرحومہ بھی آپ کی طرح صابرہ، شاکرہ، زاہدہ خاتون تھیں، پابندِ صوم وصلوٰۃ اور قرآن کریم کی تلاوت سے شغف رکھتی تھیں، تبلیغی جماعت والوں کی بہت خدمت کیا کرتی تھیں۔
آپؒ نے سوگواروں میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرماکر جنت الفردوس نصیب فرمائے اور آپ کی دینی و دعوتی خدمات کو قبول فرمائے، آمین ثم آمین