
محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید، جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث، جامعہ کی سب سے قدیم شاخ مدرسہ تعلیم الاسلام سہراب گوٹھ کے نگران اور جامع مسجد گلشنِ عمرؓ کے امام و خطیب حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ رحمۃ اللہ علیہ ۳۰؍رجب المرجب ۱۴۴۷ ھ مطابق ۲۰؍جنوری ۲۰۲۶ ء بروز منگل مختصر علالت کے بعد وصال فرما گئے ۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، إن للہ ما أخذ ولہٗ ما أعطیٰ وکل شيء عندہٗ بأجل مسمّٰی !
آپ صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی میں واقع گندف نامی گاؤںمیں ۱۹۵۲ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالجلیل ؒ عالم دین تھے۔ آپ نے دارالعلوم نانک واڑہ میں قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد درسِ نظامی کے لیے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا، درجہ ابتدائیہ تا دورۂ حدیث مکمل تعلیم یہیں حاصل کی اور ۱۹۷۴ ء میں فاتحۂ فراغ پڑھا۔ اسی سال عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی امیر محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ کی سرپرستی میں تحریکِ ختمِ نبوت ۱۹۷۴ ءچلی، تو حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحبؒ نے بھی اس سلسلہ میں گرفتاری پیش کی اور آپ کئی دن جیل میں رہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو ؟ جب آپؒ کے محبوب استاذ محدث العصر حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ اس تحریک کی قیادت کے لیے پنجاب تشریف لے جا رہے تھے تو ـآپؒ نے حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی قدس سرہٗ کو بلا کر فرمایا کہ اگر تحریک کام یاب ہو گئی تو واپس آجاؤں گا، ورنہ اپنا کفن ساتھ لے جا رہا ہوں، میری نعش ہی اس میں لپٹی واپس آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کے اخلاص، دعاؤں اور توجہات کی برکت سے اس تحریک کو کام یابی اور سرخروئی نصیب فرمائی ۔
حضرت قاری صاحبؒ کے اساتذۂ کرام میں محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی، حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی، حضرت مولانا فضل محمد سواتی، حضرت مولانا محمد بدیع الزمان، حضرت مولانا سید مصباح اللہ شاہ، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہید اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکند ر رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں۔
جامعہ میں آپ کی تقرری حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نےفرمائی، ساتھ ہی سہراب گوٹھ ایف بی ایریا کے علاقے میں ایدھی سینٹر کے پہلو میں واقع مسجد اور مکتب ان کے سپرد کیا، جو آج جامع مسجد گلشن عمرؓ اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے نام سے جامعہ کی شاخ کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ اس وقت یہ مسجد محض ایک چھپرنما جگہ تھی، کھارا پانی ہوتا تھا، مسجد کی چار دیواری بھی قائم نہیں ہوئی تھی اور کوارٹر نماجگہ میں حضرت قاری صاحب ؒکی رہائش ہوتی تھی۔ حضرت بنوریؒ کے زمانے میں قائم شدہ اس شاخ میں فقط قرآنی مکتب قائم ہوا تھا، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ کے دورِ اہتمام اور قاری صاحبؒ کی نگرانی میں مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمرؓ میں تعمیرات ہوئیں، درسِ نظامی کی تعلیم کا آغاز ہوا اور آج سیکڑوں طلبہ وہاں زیرِ تعلیم ہیں، درجہ سابعہ تک تعلیم دی جاتی ہے۔ حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۷۵ء سے اپنے وصال تک پچاس برس سے زائدعرصہ درس و تدریس اور مسجد کی امامت وخطابت سے وابستہ رہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ آپ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن مرکز میں بھی تدریس کرتے رہے، جہاں آپ نے درسِ نظامی کی ابتدائی کتب سے لے کر دورۂ حدیث تک کی کتب کی تدریس فرمائی، سالہا سال حدیث شریف کی معروف کتاب ’’شرح معاني الآثار‘‘ (طحاوی شریف )کا درس دیا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد صحیح بخاری جلد ثانی کا درس دیتے رہے اور ۲۰۲۴ ء میں جامعہ کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدانوربدخشانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد آپؒ شیخ الحدیث مقرر ہوئے اور صحیح بخاری جلد اول کا درس دیتے رہے۔ طویل عمر حدیث شریف پڑھانےکی برکت اور کرامت آخر میں یوں ظاہر ہوئی کہ سالِ رواں بھی صحیح بخاری کے اسباق مکمل فرماکر تعلیمی سال کے اختتام پر سفرِ آخرت پر روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم کے ساتھ بڑا گہرا شغف عطا فرمایا تھا، عاشقِ قرآن تھے، حسنِ صوت کی نعمت سے مالا مال تھے۔ تمام مصروفیات کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کا بلا ناغہ اہتمام تھا، جو تین پارے روزانہ سے شروع ہو کر آخری عمر میں روزانہ ایک قرآن کی تکمیل تک پہنچ گیا تھا۔ تقریباً پچپن برس تراویح میں قرآن کریم سنانے کی توفیق نصیب ہوئی۔
مزاج و لباس میں نہایت سادگی تھی، تکلفات سے آپ کوسوں دور تھے۔ نحیف جسم مگر مضبوط، توانا اور نہایت خوبصورت آواز کے مالک تھے، جلال و جمال کے جامع تھے، خداوند کریم کی جانب سے بے پناہ حافظہ عطا ہوا تھا، اردو، فارسی، عربی اور پشتو کے اشعار خوب یاد تھے، موقع بموقع ترنم کے ساتھ اشعار سناتے اور دلوں کو تسکین فراہم کرتے۔
علالت سے محض پانچ روز قبل گیارہ جنوری کو جامعہ غفوریہ میں بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیا اور پُرسوز آواز میں یہ شعر پڑھا: ’’زندگی بس بندگی کا نام ہے اور زندگی بے بندگی ناکام ہے۔‘‘ اس درس میں روزِ قیامت اور آخرت کی پیشی پر گفتگو کی۔ پانچ دن بعد دل کے عارضے کی بنا پر ہسپتال میں داخل کیے گئے، تین دن ہسپتال میں زیر ِ علاج رہے، اس دوران بھی تمام نمازیں مقررہ اوقات پر ادا کرتے رہے۔ جس روز انتقال ہوا، اس شب تہجد اور فجر کی نمازوضو کرکے کھڑے ہوکر ادا فرمائی، اور چاشت کے وقت دنیا سے کوچ فرما گئے اور اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے کہ کوئی قضا نماز آپ کے ذمہ میں نہیں تھی۔ آپ کے جسد خاکی کو مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمرؓ لے جایا گیا اور شام کو جامعہ بنوری ٹاؤن لایا گیا، قدیم دورۂ حدیث میں زیارت کے لیے رکھا گیا، چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند چمک رہا تھااور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعا کا حقیقی معنوں میں مصداق بنے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے : ’’اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی، اور جیسے سنا تھا ایسے ہی آگے پہنچادیا۔‘‘ (ترمذی )
بعد نمازِ عشاء ایک جم غفیر نے جامع مسجد بنوری ٹاؤن میں میں جنازے کی نماز ادا کی، جس میں رئیسِ جا معہ حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، نائب رئیس حضرت مولانا سید احمد یوسف بنوری، جامعہ کے ناظمِ تعلیمات، اساتذہ، طلبہ اور آپ کے اعزہ و اقرباء کے علاوہ بہت بڑی تعداد آپ کے جنازے میں شریک ہوئی ۔ اس کے بعد رشید آباد کراچی میں آپؒ کے خاندانی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ آپؒ نے اپنے پسماندگان میں دو بیوہ، تین صاحبزادے، چار صاحبزادیاں اور دنیا بھر میں موجود تلامذہ چھوڑے ہیں، جو ان شاء اللہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہوں گے۔ نیز پوری دنیا میں بالواسطہ اور بلاواسطہ آپ کے ہزاروں شاگرد اور فیض یافتہ دین کی نشر و اشاعت میں مصروف ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ آپؒ کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے، آپؒ کے لواحقین، متعلقین اور جملہ تلامذہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آپؒ کو جنت الفردوس کا مکین بنائے، آپؒ کے بچوں کی کفالت و کفایت فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین، وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!