بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

تلاوتِ قرآن کی تصحیح اور دُرستی کی اہمیت وضرورت

تلاوتِ قرآن کی تصحیح اور دُرستی کی اہمیت وضرورت


 قرآن کریم باری تعالیٰ کاکلام ہے،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا سب سے بڑا معجزہ، کتابِ ہدایت اور دستورِ حیات ہے،حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ’’القُرْاٰنُ کتابُ کلِّ عَصْرٍ‘‘ ، ’’قرآن ہرزمانہ کی کتاب ہے۔‘‘ اس کے الفاظ کے ساتھ معانی کے تحفظ کا ذمہ قدرتِ خداوندی نے لیاہے: ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ‘‘ ، ’’ہم نے ہی قرآن نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی کسی لفظ اور کسی حرکت میں ذراکمی بیشی واقع نہیں ہوئی اورہمارا عقیدہ ہے کہ تاصبحِ قیامت قرآن یوں ہی محفوظ رہے گا؛ کیوں کہ قرآن نہ صرف مذہبی کتاب؛ بلکہ پوری انسانیت کے لیے قانونِ زندگی ہے، وہ مقدس اور عظمت وہیبت والا کلام ہے۔ حضرت عکرمہ  رضی اللہ عنہ  جب تلاوت شروع کرتے تو بے ہوش ہوکر گرجاتے اور بےساختہ اُن کی زبان پر جاری ہوتا: ’’ہذا کلام ربي، ہذا کلام ربي‘‘ ، ’’یہ میرے رب کا کلام ہے، یہ میرے رب کا کلام ہے۔‘‘ درحقیقت یہ رب العالمین کے فرمودات ہیں، قرآن کاشغل سب سے مقدس اوراس کی تلاوت باعثِ ثواب ہے، طہارتِ باطنی اورتزکیۂ قلب کابہترین سامان ہے۔ 

تعلیمِ قرآن
 

قرآن کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں پڑھے لکھے بہت کم تھے،قرآن جس قدر نازل ہوتا مسلمان اس کویاد کرنے کا اہتمام کرتے؛ چنانچہ عہدِنبوت سے اب تک اُمت نے ہردور میں تعلیمِ قرآن پر توجہ دی ہے اور جس طرح اس کے الفاظ کافہم حاصل کیا، اسی طرح اس کے معانی کی بھی مکمل تصحیح کی فکر رکھی ہے؛ قرآن کریم کے تعلیم وتعلّم کے سلسلے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا ارشادہے: 
’’ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ۔‘‘ (البخاری،ابوداؤد) یعنی: ’’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ ‘‘
 اس حدیث کے ذیل میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا  رحمۃ اللہ علیہ  نے لکھا ہے : 
 ’’کلام پاک چوں کہ اصل دین ہے،اس کی بقا واشاعت ہی پر دین کا مدار ہے، اس لیے اس کے سیکھنے اور سکھانے کا افضل ہونا ظاہر ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کا کمال (درجہ) یہ ہے کہ مطالب ومقاصد سمیت سیکھے اور ادنیٰ درجہ اس کایہ ہے کہ فقط الفاظ سیکھے۔ ‘‘

تلاوتِ قرآن کریم
 

انسانی ضابطہ ہے کہ جو شئے جتنی اہم اور قابلِ عظمت ہوتی ہے اُس کے آداب وحقوق بھی اسی قدر زیادہ ہوتے ہیں ،اس کی شان کے مطابق اس کاپاس ولحاظ بھی لازم ہوتا ہے، اس میں کسی قسم کی ادنیٰ غفلت اور اس کے حقوق سے ادنیٰ لاپروائی بڑی محرومی کاسبب بن سکتی ہے، اورقرآن مجید جب کلامِ الٰہی ہے تو اس کے مقام ومرتبہ کا اندازہ انسانی وسعت سے خارج ہے، لہٰذا اس کتاب مبین کے حقوق ومراتب کی مکمل ادائیگی عامۃ الناس کی سکت سے باہر ہے؛ البتہ اس کے بہت سے ظاہری وباطنی آداب وحقوق ہیں، جن کی رعایت اس مقدس کتاب سے استفادہ کوآسان بنادے گی اور جب کہ یہ محبوب کاکلام ہے اور ہر عاشقِ مضطر کو اس سے زیادہ کس بات میں خوشی ہوگی کہ محبوب کے کلام سے شغل حاصل ہوجائے، اس سے سرگوشی کی سعادت نصیب ہوجائے اورمحبوب بھی ایسا قدردان کہ سب سے زیاد ہ توجہ سے کلام کو سنتا ہے:
 ’’عَنْ فُضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ رضي اللہ عنہ قالَ: قالَ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اَللہُ اَشَدُّ اُذُنًا إِلٰی قَارِیِٔ القُرْاٰنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَیْنَۃِ اِلٰی قَیْنَتِہٖ۔‘‘        (ابن ماجہ، حاکم) 
’’نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا ارشاد ہے: ’’ حق تعالیٰ شانہ قرآن پڑھنے والے کی آواز کی طرف اس شخص سے زیادہ کان لگاتے ہیں جوگانے والی باندی سے اپنا گانا سن رہاہو۔ ‘‘
تلاوتِ قرآن کے سلسلے میں پہلا حق یہ ہے کہ خوش الحانی سے پڑھے، عربی لہجہ میں پڑھنے کی کوشش کرے، گانے کی شکل پیدا نہ ہو، خوب بنا سنوار کر مکمل دلچسپی سے پڑھے؛ کیوں کہ نظمِ قرآن کی عمدگی اور آیاتِ قرآنی کالاثانی اندازِ بیان لامحالہ طبیعت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  میں ارشاد ہے: 
’’اِقْرَئُوْا الْقُرْاٰنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَاَصْوَاتِھَا۔‘‘ (شعب الایمان)
’’قرآن کو عرب کے لہجے اور ان کی آواز میں پڑھو۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ارشاد ہے: 
’’حَسِّنُوْا القُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ؛فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُ القُراٰنَ حُسْنًا‘‘(شعب الایمان)
 ’’اچھی آواز سے قرآن کوپڑھاکرو؛کیونکہ اچھی آواز قرآن کے حسن کو بڑھادیتی ہے۔‘‘ 
 اور چوں کہ قرآن حکیم جس زبان(عربی)میں نازل ہوا ہے، وہ دنیا کی سب سے قدیم اور وسیع زبان ہے۔ اس کے الفاظ اور حروف میں بڑی نزاکت ہے، بلکہ کسی قدر تکلف بھی ہے اور سنجیدہ و سلیم طبیعت اور پاکیزہ ذوق کی حامل ہے، اس لیے اس کی نزاکت کا تحمل بہت آسان نہیں، اس کے الفاظ وکلمات کو صحیح طور پر ادا کرنا غیر اہلِ زبان کے لیے مستقل ریاضت اور مشق کا متقاضی ہے؛ لہٰذا تلاوتِ قرآن میں حروف کی مکمل ادائیگی، ہر ہر لفظ کا درست تلفظ، کلمات کی رخوت وشدت کا خیال، تجوید کے ضروری قواعد اورمخارج وصفات کی رعایت ازحد ضروری ہے؛ چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ  رضی اللہ عنہا  سے کسی نے پوچھا کہ حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی قراءت کیسی ہوتی تھی؟ تو حضرت اُمِ سلمہ  رضی اللہ عنہا  نے آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی قراء ت کی صفت بیان کی تو انھوں نے ایسی قراءت بیان کی جس کا ایک ایک حرف واضح کیا گیا تھا۔ (جامع الترمذی: ۲۹۲۳ )

تصحیحِ قرآن کی ضرورت
 

کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  سے برائے استفادہ، یا اس سے متعلق یا ان سے ماخوذجن علوم کی ترتیب عمل میں آئی ان میں ایک اہم فن’’علمِ تجوید وقراء ت‘‘ ہے اور یہ فن اس اعتبار سے بھی مہتم بالشان اور قابلِ عظمت ہوگیا کہ اس کاتعلق بلاواسطہ الفاظ وکلماتِ قرآن سے ہے۔ علومِ اسلامیہ میں اس علم کو کافی اہمیت حاصل رہی، قرونِ اولیٰ سے اب تک اس علم کی خدمت کرنے والے اور اس کو پروان چڑھانے والے ہر دور میں رہے، اور ساری اُمت کی جانب سے اس فرض کی کفایت فرماتے رہے، اور عامۃ المسلمین کو اس بات کی تلقین اور تبلیغ کرتے رہے کہ بحیثیت مسلم ممکن حد تک اس فریضہ کو انجام دیتے رہیں۔ 
 ’’تجوید‘‘ کا لغوی معنی تحسین وعمدگی ہے، اور ’’ترتیل‘‘ کے معنی ہیں ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا، اہلِ اُصول کے یہاں فنِ تجوید کا حاصل یہ ہے : 
 ’’قرآن کریم جس طرح حضور اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  پر نازل ہوا، جس طرح آپ نے صحابۂ کرامؓ کو پڑھ کر سنایا، جس ادائیگی اور نہج سے اس کی تلاوت فرمائی اور جس طریقے پر صحابہ کرامؓ نے آپ سے سیکھ کر اس کو پڑھا اور یوں قرآن آپ سے منقول ہوکر صحابہؓ کے واسطے سے ساری دنیا میں نسل درنسل تواتر وتسلسل کے ساتھ پڑھا جارہا ہے، اسی اندازِ قراءت کا نام فنِ تجوید ہے۔ ‘‘ (علم التعریفات)
اور زبانِ مبارک ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) سے صادراسی کیفیتِ مخصوصہ کو اختیار کرنا اور بقدرِ استطاعت اس نہج پر تلاوت کرنا ضروری ہے؛ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
 ’’وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً‘‘                   (سورۂ مزمل)
’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھر کر،صاف صاف اور عمدہ طریقے پر پڑھو۔‘‘
 حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے ’’ترتیل‘‘ کی تفسیر تجویدِ حروف اور معرفتِ وقوف سے کی ہے۔ (الإتقان في علوم القرآن)
’’الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتَابَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘                           (البقرۃ: ۱۲۱) 
’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں، جیساکہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔‘‘ 
یعنی آداب ومخارج کی رعایت کے ساتھ پڑھنا چاہیے ۔ علامہ ابوالخیرشمس الدین محمد بن محمد جزریؒ نے متعدد طرق سے اس کے وجوب کو ثابت کیاہے، ’’المقدمۃ الجزریۃ‘‘ میں اُن کا مشہور قول ہے: 

وَالْاَخْذُ بِالتَّجْوِیْدِ حَتْمٌ لَّازِمُ 

مَنْ لَمْ یُجَوِّدِ الْقُرْاٰنَ اٰثِمُ
لِاَنَّہٗ بِہِ الْإِلٰہُ اَنْزَلَ

وَھٰکَذَا مِنْہُ إِلَیْنَا وَصَلَ
 

یعنی تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنا بہت ضروری ہے،جوقرآن تجوید سے نہ پڑھے گنہگار ہے؛ کیوں کہ اسی شکل میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوا اور اسی شکل میں ہم تک پہنچا ہے۔ 
 علامہ ابن جزری ؒنے مزید فرمایا: ’’تجوید تلاوت کا زیور اور قراء تِ قرآن کی زینت ہے، یعنی ہر لفظ کو اس کا حق اور مرتبہ دینا، جو کلمہ جس حصہ سے نکلتا ہے اس کو وہیں سے اداکرنا اور اسی مخرج سے نکالنا اور بلاکسی سختی اور مشکل کے اس کو صحیح صحیح پڑھنا اور مکمل لطافت کے ساتھ اس کی ادائیگی کرنا۔‘‘ (النشر في القراءات العشر)
 قرآن وحدیث میں تلاوت کی درستگی کی تاکید ملتی ہے، قرآن کریم کوخوش الحانی اور درست ادائیگی کے ساتھ پڑھنے کی کوشش ایمانی تقاضا اوراللہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے؛ لہٰذا قرآن عمدہ انداز میں پڑھنے کی فکر ہونی چاہیے، جتنا علم ہو مزید کی سعی جاری رہے، حروف کی مکمل ادائیگی ہو، جو حروف ایک جیسے مخرج کے ہیں بالخصوص ان کی ادائیگی میں کسی قدر تکلف سے کام لے، مثلا: ’’وَلَاالضَّآلِّیْنَ‘‘میں ’’ض‘‘ کو نہ ’’ظ‘‘ پڑھے، نہ ’’ذ‘‘، اسی طرح ’’س‘‘ اور ’’ش‘‘ میں فرق رکھے، ’’ز‘‘ اور ’’ج‘‘ میں امتیاز قائم کرے، ’’ہمزہ‘‘ اور ’’ع‘‘ ہر ایک کو اس کے مخر ج سے ادا کرے، دونوں کو خلط ملط نہ کرے، جو حروف حلق سے نکلتے ہیں ان میں زیادہ مشق اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، حروفِ صفیریہ (ز،س،ص)کو سمجھے ۔  دیگر تجوید کے قواعد اور اصول کو سیکھے اور ان کی روشنی میں عمدہ سے عمدہ قرآن پڑھ کر سعادتِ دارین کاحقدار بن جائے؛ ورنہ بہت سے مواقع پر حروف کی غلط ادائیگی اور اس کا صحیح تلفظ نہ کرنے سے بسااوقات کلمہ عربیت سے نکل جاتاہے اور اس سے معنی کا فساد لازم آجاتا ہے اور اس سے نماز بھی باطل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی سبب جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا ارشادِ گرامی ہے: ’’رُبَّ تَالٍ لِلْقُرْاٰنِ وَالْقْرْاٰنُ یَلْعَنُہٗ‘‘ (احیاء علوم الدین) یعنی ’’بہت سے لوگ قرآن کی تلاوت اس انداز سے کرتے ہیں کہ قرآن اُن پر لعنت کرتاہے۔ ‘‘
تمام اصلاحی حلقے،علمی واسلامی ادارے جہاں معانی ومطالبِ قرآن کو اپنا نصب العین بناتے ہیں وہیں الفاظِ قرآن اورتصحیحِ حروف،تجوید وترتیل کو بھی توجہ کامرکز بناتے ہوئے ضرورنظر آتے ہیں ،مدارس میں شعبۂ تجوید کاقائم ہونا،خانقاہوں اوردعوتی راہوں میں تصحیحِ قرآن کے حلقوں کالگنا اور از حد اُن کاہتمام کرنابالیقین اس علم کی اہمیت پر غماز ہیں، اور جب علماء وفضلاء، طلبۂ مدارس اوردین سے وابستہ اور دینی میدانوں میں سرگرم اشخاص قرآن کی تصحیح کے اتنے محتاج ہیں تو ایک عامی مسلمان کو اس کی کتنی سخت ضرورت ہوگی؟ اس کابخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

لمحۂ فکریہ
 

مسلمان تاریخ کے جس موڑ پر ہے، یقیناً وہ خدا اور کلامِ خدا سے بے زاری کی راہ دکھاتا ہے، اسباب اور مادیات کا داعی ہے، دنیوی تأثرات الحاد ولادینیت کی وادیِ تیہ میں بھٹکایا جارہا ہے،کامرانی کے عنوان پر ذلت وپستی کا سامان کیا جارہا ہے، مذہب کو ایک رسم ادائیگی کی چیزباورکرایاجارہاہے اور مسلمانوں کے ظاہری وباطنی احوال، اقوال وافعال ان کی متاعِ اخروی کو سلب کرنے کے موجب ہیں، اس تناظر میں ’’کتابِ خداوندی‘‘ کا تعلق اور اس کا شغل ہی باعثِ نجات ہوسکتا ہے؛ بلکہ ہر زمانہ میں قرآن کا شغل سببِ نجات ہے، اس کے سوا تنگی اور ہلاکت ہی ہے؛ قرآن کے پیغام کو جان کر اس پر عمل پیرا ہونا، ہرممکن طریقہ سے اس کا حق ادا کرنا، اس کا ادب واحترام اور اس کی درست تلاوت وقت کا اہم تقاضا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ایک شفیق باپ اپنی نسل کی افزائش میں اور اپنی اولاد کے تابناک مستقبل کے لیے ہرخواب سجاتا ہے، اس کے لیے ترقی کا ہر خیالی محل تیار کرتا ہے، مگر کبھی اس جانب توجہ ہوئی کہ اس نسل میں قرآن کتنا محفوظ ہے؟ آنے والی بہو کے سارے اعمال واطوار جانچے جاتے ہیں، خاندان سے مکان تک، عزت سے سامان تک، ناک کی نتھ سے پاؤں کے پایل تک، اسکول سے کالج تک، قد اور طوالت وحجم اور سارے اُمور کا بغور اور بہت دلچسپی سے جائز ہ لیا جاتا ہے کہ کہیں نئی نسل میں کوئی نقص نہ رہ جائے؛ لیکن کبھی اس جانب التفات ہوتا ہے کہ اس اساسِ نسل میں قرآن (جو ہر کامیابی کا راز ہے) کتنا زندہ ہے؟! وہ قرآن پر کتنی عامل اوراس کی تلاوت کیسی ہے؟! وہ کیسا اور کتناقرآن پڑھ لیتی ہے؟! ہماری اگلی نسل کو قرآن سکھاسکے گی یانہیں؟! خانگی امورمیں اس کی مہارت کا امتحان ضرور ہوتا ہے؛ لیکن کبھی اس کی تلاوت نہیں دیکھی جاتی، اس کا قرآن نہیں سنا جاتا کہ حروف کی ادائیگی کیسی ہے (کہ درستگی کی شکل میں استفادہ ،ورنہ اصلاح وتصحیح کی فکر ہو) بہو ،بیٹوں کی نافرمانی کی شکایت کرنے والے ذرا غور کریں کہ انھوں نے قرآن کے حوالہ سے کتنی اور کیسی ذمہ داری نبھائی ہے؟

تصحیحِ تلاوت کی شکلیں

1-    موجودہ دور میں تصحیحِ تلاوتِ قرآن کی سب سے مؤثر شکل یہ ہے کہ کسی اچھے عالم سے جو قرآن کو صحتِ مخارج اور ادائیگی حروف کے ساتھ پڑھے،یا کسی اچھے حافظ سے جو قرآن درست پڑھتا ہو حروف کی تصحیح کی جائے۔ 
2-    قرآن کی صحیح تلاوت اور حروف کی صحیح ادائیگی انتہائی آسان ہے، اگر اُردو زبان پر گرفت ہو تو علماء اور قراء کرام نے سہل، اور عوامی انداز میں تجوید اور مخارج کی کتابیں لکھی ہیں جن سے بہت آسانی سے استفادہ کرکے حروف کی تصحیح ممکن ہے۔ 
3-    مختلف علاقوں میں تصحیحِ قرآن کے حلقے اور مجلسیں قائم ہیں، ان سے مربوط ہوکراس اہم ذمہ داری سے سبک دوشی ہوسکتی ہے۔ 
4-    وسائل کی فراوانی اور ایجادات کے اس دور میں کسی چیز کا سیکھنامشکل نہیں رہا،بہت آسانی سے لوگ اپنی ضرورت کا علم حاصل کرلیتے ہیں ، حتیٰ کہ اپنی اغراض کے تحت مختلف زبانوں اور ان کی بولیوں کے بھی ماہربن جاتے ہیں ،توکسی عالم کی رہبری میں ان چیزوں سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھایاجاسکتاہے؟
5-    سب سے آسان اورمؤثر شکل یہ ہے کہ’’ نورانی قاعدہ‘‘کی مشقوں کے ذریعے حروف کی ادائیگی درست کی جائے۔ 
6-    مختلف اماموں کی قراء ت اور ان کی آواز میں مکمل قرآن موبائل فون اور نیٹ پر موجود ہے، روزانہ تھوڑا سا وقت فارغ کرکے اس کو سنا جائے اور اس جیسا پڑھنے کی کوشش کی جائے تو ان شاء اللہ ایک اچھی اور مفید پہل ثابت ہوگی۔ 
7-    پھر یہ کہ حروفِ تہجی کل انتیس ہیں جن میں سے بعض بہت آسان ہیں، جیسے: د،م،ن وغیرہ۔ ان کی درست ادائیگی انتہائی سہل ہے؛لیکن عربی سے ناواقف یا دوسری زبان (مثلاً: ہندی، انگلش) جاننے والوں کے لیے سب سے زیادہ دقت متشابہ الفاظ اورقریب المخارج کلمات میں پیش آتی ہے اور اس وقت اُن کے لیے اس کی ادائیگی مشکل اورا ن میں امتیاز پریشان کن ثابت ہوجاتاہے، جیسے: ج،ذ،ز،ض،ظ، ان سب کا مخرج اور پڑھنے کا طریقہ جدا جدا ہے۔ اسی طرح: س،ش،ص وغیرہ؛ البتہ دوچار مرتبہ کی مشق اور توجہ سے ا ن حروف کی صحیح پہچان کرلیں ،ان کی ادائیگی کادرست طریقہ معلوم کرلیں، پھر اسی کے مطابق قرآن کی تلاوت کے وقت ان کی رعایت ہوتو ان شاء اللہ بہت آسانی کے ساتھ اور بہت جلد یہ مسئلہ حل ہوجائے، اور اُمت کی ایک بڑی تعداداپنے رب کاکلام درست پڑھنے لگے،اور یہ عمل رحمتِ باری کے نزول کاسبب ہو؛جس کے لیے شوقِ معتبر چاہیے اور بس!                                          (بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے