بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

تعلیمی نظام میں معروضی امتحانات کی اہمیت فوائد اور گزارشات

تعلیمی نظام میں معروضی امتحانات کی اہمیت

فوائد اور گزارشات

 

امتحانات تعلیمی نظام میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ طلباء کی معلومات، طلباء کی مختلف صلاحیتوں کی پہچان، تعلیمی اداروں کے تعلیمی معیار کو جانچنے کامؤثر ذریعہ ہیں، لہٰذا عموماً جن اداروں کا امتحانی نظام معیاری اور مضبوط ہوتا ہے تو وہاں کا تعلیمی نظام بھی مضبوط ہوجاتا ہے۔ مدارس میں امتحان کے مختلف طریقے رائج ہیں، زیادہ تر مدارس میں تحریری امتحان کا طریقہ رائج ہے، جس میں طلبہ کو سوالوں کےجوابات لکھ کردینے ہوتے ہیں۔ بعض مدارس میں صرف تقریری امتحان کا نظم ہوتا ہے، جہاں تحریری امتحان کی بجائے صرف زبانی امتحان کے ذریعے طلبہ کی علمی صلاحیتوں کو جانچا جاتا ہے، جس میں طالب علم کو مطلوبہ عبارت پڑھ کر، یا زبانی سوالات کے جوابات دے کر تقریر کے ذریعے اپنی علمی صلاحیت اور قابلیت کا اظہار کرناہوتا ہے، اس طریقۂ امتحان کے ذریعے طالب علم کی روانی کو جانچنا، اور فوری طور پر جواب دینے کی صلاحیت کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ کچھ مدارس میں تحریری امتحان کے ساتھ تقریری امتحان کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ دونوں طریقوں کے فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ 
 پھر تحریری امتحان لینے کی بھی دو صورتیں ہیں:
تفصیلی امتحان جسے انشائی، موضوعی اور (Subjective) امتحان بھی کہا جاتا ہے۔ 
معروضی امتحان جسے (Objective Exam) بھی کہا جاتا ہے۔ 

تفصیلی امتحان

تفصیلی امتحان یا تفصیلی سوالات وہ سوالات ہیں جن میں طلبہ کرام سے عموماً کسی عبارت کا ترجمہ، تشریح، اختلافی مسائل، الفاظ کی صرفی، لغوی تحقیق یا کسی خاص موضوع پر مقالہ لکھنے کو کہا جاتا ہے، اورتفصیل کے ساتھ جواب مطلوب ہوتا ہے۔ 
 تفصیلی امتحانات کا طریقہ مدارس میں کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ امتحانات طالب علم کی تحریری صلاحیتوں کو نکھارنے، کسی بھی موضوع پر عمق سے مطالعہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، مگر چونکہ تفصیلی سوالات کے جوابات دینے میں وقت زیادہ لگتا ہے، بسا اوقات طلبہ کو وقت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ تمام سوالات کے جوابات حل نہیں کرپاتے، جس کی وجہ سے یہ طریقہ ذہین اور قابل طلبہ پر کافی ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتا ہے۔ تفصیلی امتحانات کے جوابات کی جانچ کرنا اساتذہ کرام کے لیے بھی بہت زیادہ محنت طلب کام ہوتا ہے، چونکہ ہر طالب علم کے لکھنے کا انداز اور جواب لکھنے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے، اور اگر طلبہ کی تعداد زیادہ ہو، اور پڑتال کنندگان ایک سے زائد ہوں تو طلبہ کے لیے ہر ممتحن کے مزاج ومذاق کے اعتبار سے معیارات الگ بھی ہوسکتے ہیں، جس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات نمبرات کی درست تقسیم میں خیانت کا خطرہ رہتا ہے۔ چونکہ مدارس کے روایتی امتحانی نظم میں تفصیلی طرز کے طویل سوالات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، اورتفصیلی امتحان ایک قدیم عرصے سے مدارس کے تعلیمی نظام کا حصہ ہے، جبکہ اس کی اہمیت وضرورت سے انکار بھی نہیں ہے، کیونکہ بعض مضامین، اور علمی موضوعات اسی تفصیلی امتحانات کے ہی متقاضی ہوتے ہیں۔ بہرحال زیرِ نظر مضمون میں تفصیلی امتحان سے بحث کرنا ہمارا موضوع نہیں ہے، تاہم موجودہ دور میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے معروضی سوالات اور معروضی امتحان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ 

معروضی امتحان

لفظ ’’معروضی‘‘ کا مطلب ہے کہ پیش کردہ سوالات کےجوابات درست یا غلط ہونے کے لحاظ سے واضح طور پر طے شدہ ہوں، ان میں ذاتی رائے اور تشریح کا عمل دخل نہ ہو۔ اسی وجہ سے اس کو معروضی امتحان کہا جاتاہے، اور معروضی امتحان سے مراد ایسا امتحان ہے جس میں طلبہ سے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کے جوابات عام طور پر مختصر ہوتے ہیں۔ ان امتحانات میں صحیح یا غلط(True/False questions)، کثیر الانتخابی سوالات، (Multiple Choice Questions)، خالی جگہیں پر کرنا (Fill in the Blanks)، دو کالموں کا ملانا(combining two colummns) جیسے سوالات شامل ہوتے ہیں۔ 
دینی مدارس میں عمومی طور پر تفصیلی سوالات کے ذریعے امتحان کا رواج معروف ہے، جبکہ معروضی امتحان کے ذریعے امتحان لینے کا رواج نسبتاً کافی کم ہے، حالانکہ دورِ نبوی کے طریقۂ امتحان کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی معروضی امتحان کی جھلک نظر آتی ہے۔ 

دورِ نبوی میں طریقۂ تعلیم اور معروضی امتحان

دورِ نبوی میں رسمی تعلیمی ادارےیا امتحانات کا نظام اگرچہ موجود نہیں تھا، لیکن تعلیم وتربیت کا ایسا جامع نظام موجود تھا جو آج بھی اسلامی تعلیمی نظام کے لیے نمونہ ہے، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو تعلیم دیتے تھے، طریقۂ تعلیم وعظ و نصیحت کے علاوہ زبانی سوال و جواب کے ذریعے بھی ہوا کرتا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے ان کے فہم کا امتحان لینے، یاکسی بات کو واضح کرنے یا تعلیم دینے کے مقصد سے مختلف مسائل سے زبانی سوالات کرتے تھے، عام طور پر ان سوالات کےجوابات مختصر ہوتے تھے، گویا نبوی دور میں ’’معروضی سوالات‘‘ کا تصور اگرچہ اس شکل میں نہیں تھا، جیسا کہ آج کے تعلیمی نظام میں پایا جاتا ہے،، مگر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے سوالات کرنے کا انداز بہت حد تک معروضی طرز سے مشابہت رکھتا تھا، اس لیے اس طرح کے سوالات کو ایک حد تک معروضی سوال کہا جا سکتا ہے۔ ذیل میں دو مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:
(الف)    صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ  سے منقول ہے کہ ہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَخْبِرُوْنِيْ بِشَجَرَۃٍ تُشْبِہُ اَوْ: کَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُہَا، وَلَا وَلَا وَلَا تُوْتِيْ اُکُلَہَا کُلَّ حِيْنٍ‘‘مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے؟ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں، جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں: میرے دل میں آیا کہ میں کہہ دوں: وہ درخت کھجور کا ہے، لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر  رضی اللہ عنہما  موجود ہیں، اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی خاموش رہا۔ جب کسی نے جواب نہیں دیا تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درخت کھجور کا ہے۔ جب یہاں سے اُٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ  سے یہ ذکر کیا، تو آپؓ نے فرمایا: ’’پیارے بچے! اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا۔‘‘      (صحیح البخاري، رقم الحدیث:۴۶۹۸)
(ب)    اسی طرح مسند احمد میں ایک اور حدیث ہے کہ حضرت براء بن عازب  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ: ہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی کون سی کڑی سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے جواب دیا کہ: نماز۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اچھی بات ہے، لیکن وہ سب سے مضبوط کڑی نہیں ہے، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم  نے جواب دیا: رمضان کے روزے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ بھی اچھی بات ہے، لیکن وہ سب سے مضبوط نہیں ہے۔ پھر صحابہؓ نے فرمایا کہ: جہاد۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اچھی بات ہے، لیکن وہ سب سے مضبوط نہیں ہے۔ آخر میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جواب دیا کہ: ’’إِنَّ اَوْثَقَ عُری الْإِيْمَانِ أنْ تُحِبَّ فِي اللہِ، وَتُبْغِضَ في اللہِ‘‘ اسلام کی سب سے مضبوط کڑی یہ ہے کہ تم اللہ کے لیے محبت کرو اور اللہ کے لیے دشمنی رکھو۔‘‘    (مسند أحمد: ۱۸۵۲۴)
ان دونوں سوالات سے مقصود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کےسوچنے کی صلاحیت کو اُبھارنااور مسائل کو سمجھنے کی تربیت دینا، اور دین کے بارے میں فہم کو مضبوط کرنا تھا، جس میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کےسوالات کرنے کا انداز کسی حد تک معروضی نوعیت کا تھا۔ 

امتحانات کے مقاصد

امتحانات کے بنیادی چارمقاصد ہیں:
1-پہلا مقصد: طلبہ کی جانب سے سیکھے گئے علم کا امتحان لینا۔ 
2-دوسرا مقصد:طلبہ کی خوبی وخامی کی نشاندہی۔ 
3-تیسرامقصد :طلبہ کی تعلیمی ترقی کا تعیُّن۔ 
4- چوتھا مقصد:ادارے کے تعلیمی معیار کا اندازہ۔ 
اب سیکھے گئے علم کا امتحان تین طریقوں سے ہوسکتا ہے:

(الف) قوتِ حافظہ کاامتحان

قوتِ حافظہ کا امتحان کہ فرد کتنی معلومات یاد کرسکتا ہے، اور کتنی دیر تک اس کو برقرار اور محفوظ رکھ سکتا ہے۔ مدارس میں امتحانات کے ذریعے طلباء کی یادداشت اور حافظہ کی صلاحیتوں کا بھی امتحان لیا جاتا ہے، اور مدارس میں حافظہ کا امتحان ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ دینی متون کا حفظ، اصول وقواعداور فقہی مسائل کو اَزبر کرنا دینی مدارس کے طلبہ کی اہم ضرورت ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف مدارس میں امتحان میں طلبہ کرام سے بعض ایسے سوالات بھی پوچھے جاتے ہیں، جن کا تعلق محض حافظہ سے ہوتا ہے، جس سے طالب علم کی یادداشت سے متعلق صلاحیت واضح ہوجاتی ہے۔ 

(ب)قوتِ تفہیم کا امتحان

قوتِ تفہیم کے جانچنے سے مقصود طلبہ کی معلومات کو صحیح طور پر سمجھنے کی صلاحیت کا اندازہ لگانا اور اُن کو الفاظ سے آگے بڑھاکر معنی ومفہوم کے سمجھنے کی تحریک دیناہے کہ طلبہ کرام صرف الفاظ یا متن کو یاد نہ کریں، بلکہ اس کے مفہوم اور معانی کو بھی سمجھیں، اس لیےعموماً امتحانی پرچوں میں کسی موضوع کے متعلق متن دیا جاتا ہے، اورطالب علم سے اس متن میں موجود مسائل ومفاہیم کے متعلق استفسار کیا جاتا ہے۔ 

(ج)قوتِ غور وفکر

قوتِ غوروفکر کے امتحان سے مقصود طلبہ کی فکری صلاحیتوں کا اندازہ، اور مسائل پر غور وفکر کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہوتا ہے کہ اپنی عقل و فہم کے ذریعے دیے گئے معروضی سوالات کےاختیارات میں سے درست جواب کا انتخاب یامسائل اخذ کرسکتا ہے یا نہیں؟

تعلیمی نظم میں معروضی امتحان کی اہمیت

تعلیمی نظام میں معروضی امتحان کئی پہلؤوں سے اہمیت کا حامل ہے، یہ امتحانات کم وقت میں بڑی تعداد میں طلبہ کی تعلیمی کیفیت معلوم کرنے کے لیے انتہائی موزوں اوراساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے جانچنے کے اعتبار سے مفید ہے، معروضی سوالات میں نمبر دینا اور فیصلہ کرنا تفصیلی امتحان کی بنسبت آسان ہوتا ہے، غلطی یا جانبداری کا امکان کم ہوتا ہے، نصاب کا احاطہ کرتا ہے، اور طلبہ کی مختلف صلاحیتوں کےجانچنے کا اہم ذریعہ ہے، اس کے علاوہ کئی پہلؤوں سے معروضی امتحان اہمیت کا حامل ہے، جسے فوائد کے ذیل میں تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ 

معروضی سوالات کے فوائد و ثمرات 
 

معروضی سوالات کے کئی فوائد ہیں، کچھ اہم فوائد درج ذیل ہیں:

1- طلبہ کی مختلف ذہنی صلاحیتوں کا امتحان

معروضی سوالات کے جوابات دینے سے طالب علم کی تینوں صلاحیتوں یعنی قوتِ حافظہ، قوتِ تفہیم، قوتِ تفکیر کا امتحان لیا جاسکتا ہے۔ مختصر سوالات کے جوابات کے ذریعےقوتِ حافظہ کا امتحان، صحیح، غلط کی نشاندہی کے ذریعے قوتِ تفہیم اور کثیر الانتخابی یا خالی جگہیں پر کرنے کے ذریعےقوتِ غور وفکر کو جانچا جاسکتا ہے۔ 

2-نصاب کا مکمل اِحاطہ

معروضی سوالات کے ذریعے نصاب کے مختلف پہلؤوں کو مختصر وقت میں جانچا جاسکتا ہے، ایک ہی پرچہ میں متعدد موضوعات کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ تفصیلی امتحان میں پوری کتاب میں سے چند مقامات سے ہی امتحان لینا ممکن ہوتا ہے، جس سے کتاب میں موجود مضامین کا اِحاطہ نہیں ہوتا، اور اِحاطۂ کتاب کی صورت میں امتحانی پرچہ طویل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، جبکہ معروضی امتحان میں زیادہ سوالات شامل کرکے مختلف موضوعات کا اِحاطہ کیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے طالب علم پوری کتاب پڑھنے اور شروع سے ہی محنت کرنے پر مجبور ہوگا، کیونکہ مدارسِ اسلامیہ میں معتد بہ تعداد ایسے ذہین طلبہ کرام کی بھی ہوتی ہے جو صرف امتحان کی راتوں میں کتاب کی ورق گردانی کرکے، اور چنیدہ چنیدہ امتحانی مقامات پڑھ کر بآسانی امتحان میں پاس ہوجاتے ہیں، ایسے طلبہ کرام کی سستی کو روکنے کے لیے معروضی سوالات بہترین نسخہ ہے، کیونکہ معروضی سوالات اگر معیاری بنائے جائیں تو پوری کتاب پڑھے بغیر اس کو مکمل حل کر نا مشکل ہوگا۔ 

3- وقت کی بچت

معروضی سوالات تیار کرنےمیں اگرچہ وقت زیادہ لگتا ہے، لیکن ان کے جوابات حل کرنے میں تفصیلی پرچہ کی بنسبت وقت بہت کم لگتا ہے، جس سے وقت کی بچت ہوجاتی ہے، تفصیلی پرچے کے تین گھنٹہ کا مواد معروضی پرچے میں آدھے گھنٹے میں پوچھا جاسکتا ہے، کیونکہ پرچے میں آدھے سے زیادہ محنت استاذ کرچکا ہوتا ہے، طالب علم کو صرف صحیح جواب کی نشاندہی کرنی ہوتی ہے، جبکہ تفصیلی سوالات حل کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، اس میں زیادہ محنت طالب علم کو کرنی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔ 

4- پڑتال کے عمل میں شفافیت

تفصیلی پرچہ چیک کرنے میں دشواری کے علاوہ اساتذہ کرام کو نمبر دینے میں پریشانی ہوتی ہے، ممتحن اساتذہ کرام کو ہروقت طلبہ کرام کو نمبر دینے میں کمی یا زیادتی کا خوف لگا رہتا ہے، اساتذۂ کرام کما حقہ نمبر دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگرکمی کوتاہی بہرحال ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات طالب علم کو جو مطلوبہ نمبر ملنے ہوتے ہیں وہ نہیں مل پاتےیا استحقاق سے زیادہ بھی مل جاتے ہیں، جس کی وجہ سےطلبہ اپنے پرچوں کی نظر ثانی کراتے ہیں، اور نظر ثانی کے بعد اکثر نمبرات میں تغیر ہوجاتا ہے، جبکہ معروضی امتحانات میں اساتذہ کرام کو مذکورہ دشواری پیش نہیں آتی، چونکہ ہر سوال کا ایک درست جواب ہوتا ہے، طالب علم کے پاس محدود ہی اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر جواب درست ہوا تو نمبر مل جائیں گے، اور جواب درست نہیں ہوا تو نمبر نہیں ملیں گے۔ 

5-غلطی یا جانبداری کا امکان

معروضی سوالات کی جانچ پڑتال میں انسانی غلطی یا جانب داری کا امکان کم ہوتا ہے۔ چونکہ جوابات مخصوص اور مختصر ہوتے ہیں، اس لیے نمبر دینے میں غلطی یا جانب داری کا امکان کم ہوتا ہے۔ 

6-ماہانہ تعلیمی جائزوں کے لیے موزوں 

معروضی سوالات ماہانہ تعلیمی جائزوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں، چونکہ اس کے حل کرنے میں وقت کم لگتا ہے، اس لیے اساتذہ کرام اپنے مقررہ گھنٹہ میں بھی ماہانہ امتحان لے سکتے ہیں، کسی دوسرے استاذ سے مزید وقت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، گویا اساتذہ کرام معروضی سوالات کی مدد سے کم وقت میں جلدی اور آسانی سے طلباء کی کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 

7-فوری نتائج کا سبب

تفصیلی سوالات کے نتائج کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے، جبکہ معروضی سوالات کا نتیجہ فوری معلوم ہو جاتا ہے، جس سے طالب علموں کو اپنی کمزوریوں کو جلدی سمجھنے اوران کے ازالے کے لیے وقت مل سکتاہے۔ 

8-کمزور خط والے طلبہ کے لیے مفید

مدارس میں اکثر طلبہ کرام خطاط اور خوش نویس ہوتے ہیں، لیکن بعض طلبہ کرام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا خط کمزور ہوتا ہے، حالانکہ ان میں سے بعض اچھی استعداد کے حامل، اور محنتی طلبہ ہوتے ہیں، اور کتاب کے مضامین بھی ان کو یاد ہوتے ہیں، مگر خط کمزور ہونے کی وجہ سے تفصیلی پرچہ کے سوالات کے جوابات میں اظہار مافی الضمیر صحیح طریقے سے نہیں کرپاتے، جس کی وجہ سے باوجود یاد ہونےکےوہ اچھے نمبرات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے، معروضی طرز کا امتحان ایسے طلبہ کرام کے لیے مفید ثابت ہوگا۔ 

9-رَٹا لگانے کی عادت کی حوصلہ شکنی

معروضی سوالات طلبہ کرام میں موجود رَٹے لگانے کی عادت کو کم کردے گا، کیونکہ معروضی سوالات ایسے طریقے سے بنائے جاتے ہیں، اس میں طلبہ کرام کو محض رَٹا لگانے کے بجائے سمجھ بوجھ کی صلاحیت کو استعمال کرنا پڑتا ہے، اس سے رَٹے لگانے کی حوصلہ شکنی ہوجائے گی، اس سے طلبہ کرام کو کتاب یاد کرنے کے بجائے سمجھنے کا رجحان بڑھے گا۔ 

10-وسائل کی بچت

معروضی امتحان وقت اور وسائل دونوں کی بچت کا ذریعہ ہے، تفصیلی امتحان میں اساتذۂ کرام کے لیے طویل وقت کے لیے مسلسل نگرانی کرنا مشکل ہوجاتا ہے، اور تفصیلی امتحان میں کاغذ بھی زیادہ استعمال ہوتا ہے، سوال کے لیے الگ کاغذ، جوابات کے لیے الگ جوابی کاپی دینی پڑتی ہے، اور طلبہ کرام پھر غیرضروری ابحاث ذکر کرکے مزید کاغذ استعمال کرتے ہیں، جبکہ معروضی امتحان میں نہ غیر ضروری اَبحاث کو ذکر کیا جاسکتا ہے، اور نہ ہی کاغذ کا بے جا استعمال ہوتا ہے۔ 

11-ادارے کے تعلیمی معیار میں ترقی کا ذریعہ

تفصیلی سوالات اور معروضی سوالات کے امتزاج سے کسی بھی ادارے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، اور دونوں کی مدد سے تعلیمی معیار کو ترقی مل سکتی ہے، صرف معروضی امتحان لینا اور تفصیلی امتحان سے اِعراض کرنا، یا تفصیلی امتحان لینا اور معروضی سے اِعراض کرنے سے تعلیمی نظام معیاری اور مضبوط نہیں ہوسکتا، لہٰذا تفصیلی اور معروضی امتحان کا امتزاج ادارے کی ترقی کا سبب ہے۔ 

12-علم کی وسعت وگہرائی

معروضی امتحان طلبہ کو مطالعہ میں گہرائی اور کتب کے اہم نکات کو یاد کرنے پر مجبور کرتا ہے، طلبہ کو مطالعہ کے دوران مختلف موضوعات اور کتابوں کو چھوٹی چھوٹی جزئیات کو یاد کرنے میں بھی توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے، جس سے ان کی علمی گرفت مزید مضبوط، مطالعہ میں گہرائی، اور علم میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ 

13-اساتذہ کی تقرری میں آسانی

معروضی سوالات مدارس میں اساتذۂ کرام کی تقرری کے حوالے سے بھی مفید ہیں، مختلف مدارس میں مدرسین کی ضروت ہوتی ہے، اورایک نشست کے لیے ذمہ دار حضرات کو کئی کئی درخواستیں موصول ہوجاتی ہیں، اگر ان سب حضرات کا انٹرویو لیا جائے اور پھر ان میں سے کسی کا انتخاب کیا جائے تو یہ ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے، لہٰذا معروضی امتحان کے ذریعے کم وقت میں باصلاحیت افراد کےانتخاب کا عمل آسان ہوجائے گا۔ 

معروضی سوالات کی صورتیں

معروضی سوالات کی کئی قسمیں اور صورتیں ہوسکتی ہیں، ذیل میں مشہور اقسام میں سے ہر ایک کی تعریف اور ہر قسم کو واضح کرنے کے لیے چند مثالیں ’’مشتے نمونہ از خِروارے‘‘ کے طور پر پیش کی جارہی ہیں:

پہلی صورت : مختصر سوالات(Short Answer Questions)

مختصر سوالات سے مراد ایسے سوالات ہیں جن کا جواب، ایک لفظ میں ہو، یا تفصیلی جواب کی بنسبت مختصر ہو۔ ان سوالات میں زیادہ وضاحت یا تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اس قسم کے سوالات سے مقصود طالب علم کی یادداشت اور بنیادی معلومات کا امتحان ہوتا ہے۔ 
ذیل میں چند مثالیں دی جاتی ہیں :
مثال نمبر1: کلمہ کی تعریف صاحبِ ہدایۃ النحو نے ذکر کی ہے: ’’الکلمۃ لفظٌ وضع لمعنی مفرد۔‘‘
ا ب کلمہ کی تعریف کو مختلف طریقوں سے پوچھا جا سکتا ہے، جن میں سے دو درج ذیل ہیں:
۱- تفصیلی سوال کرنے کا طریقہ        ۲-مختصر سوال کرنے کا طریقہ
رائج تفصیلی سوال کا طریقہ یہ ہے:
سوال: کلمہ کی تعریف مع فوائدِ احترازیہ بیان کریں۔ 
اس سوال سے مقصود یہ ہے کہ طلبہ پہلے کلمہ کی تعریف کریں، اور اس کے بعد اس تعریف میں سے فوائدِ قیود کی تعیین کرکے احترازی فوائد تفصیل سے بیان کریں۔ 
اور دوسرا طریقہ مختصر سوال کرنے کا ہے جوکہ درج ذیل ہے: 
۱-کلمہ کی تعریف کریں۔ 
۲-کلمہ کی تعریف میں ’’ لفظ‘‘کی قید سے کس سے احتراز کیا؟
۳-کلمہ کی تعریف میں لفظ’’ وُضع ‘‘کی قید سے کس سے احتراز کیا؟
۴-کلمہ کی تعریف میں لفظ ’’لمعنی ‘‘ کی قید سے کس سے احتراز کیا؟
۵-کلمہ کی تعریف میں لفظ ’’مفرد ‘‘ کی قید سے کس سے احتراز کیا؟
مثال نمبر 2: اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب تفصیلی طریقہ سے پوچھا جائے توسوال یوں ہوگا: اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب مع شرائط، امثلہ سے واضح کریں۔ 
اور اگر اسی سوال کو مختصر طریقے سے پوچھاجائے تو سوال درج ذیل انداز میں ہوگا: 
۱-اسمائے ستہ مکبرہ کا اعراب بیان کریں۔ 
۲-اسمائے ستہ مکبر نہ ہوں، بلکہ مصغر ہوں تو ان کا اعراب کیا ہوگا؟ مثال بیان کریں۔ 
۳-اسمائے ستہ اگر موحدہ نہ ہوں، بلکہ تثنیہ یا جمع ہوں تو پھر ان کا کیا اعراب ہوگا؟ مثال بیان کریں۔ 
۴-اسمائے ستہ مکبرہ مقطوع عن الاضافہ ہوں تو اس صورت میں کیا اعراب ہوگا؟ مثال سے وضاحت کریں۔ 
۵-اسمائے ستہ مکبرہ اگر یاء متکلم کی طرف مضاف ہوں تو پھر اس صورت میں ان کا کیا اعراب ہوگا؟ مثال بیان کریں۔ 
مثال نمبر 3: فعل کو مذکر ومؤنث لانے کے قواعد کے متعلق سوال کرنا ہوتو تفصیلی طریقہ یہ ہوگا کہ فعل کو مذکر مؤنث لانے کے قواعد مع امثلہ بیان کریں، لیکن اگر اسی سوال کو مختصر سوالات کی صورت میں پوچھا جائے تو سوالات درج ذیل ہوں گے: 
۱-فاعل مؤنثِ حقیقی اسم ظاہر ہو اور فعل و فاعل کے درمیان فاصلہ نہ ہو تو فعل کو کس طرح لایا جائے گا؟
۲-فاعل مؤنث حقیقی اسم ظاہر ہو اور فعل و فاعل کے درمیان فاصلہ ہو تو فعل کو کس طرح لایا جائے گا؟
۳-فاعل مؤنث غیر حقیقی اسم ظاہرہو تو فعل کو کس طرح لایا جائے گا؟ مثال بیان کریں۔ 
۴-فاعل مؤنث غیر حقیقی اسم ضمیر ہو تو فعل کو کس طرح لایا جائے گا؟ مثال بیان کریں۔ 
۵-فاعل جمع مذکر مکسر ہو اور اسم ظاہر ہو تو فعل کو کس طرح لایا جائے گا؟ مثال بیان کریں۔ 
۶-فاعل جمع مذکر مکسر کی ضمیر ہو تو فعل کو کس طرح لایا جائے گا؟ مثال بیان کریں۔ 
اسی طرح مختصر سوالات کے بعض جوابات یک لفظی ہوتے ہیں، مثالیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:
۱-’’قام ہٰؤلاء‘‘ میں ہٰؤلاء  معرب ہے یا مبنی ؟ جواب:مبنی۔ 
۲-اسماء متمکنہ کل کتنے ہیں؟جواب:چودہ
۳-رفع کی کتنی علامات ہیں ؟جواب:پانچ
۴-فعل کے لیے کس چیز کا ہونا ضروری ہے؟جواب:فاعل
 

دوسری صورت :کثیر الانتخابی سوالات: (Multiple Choice Questions)
 

کثیر الانتخابی سوالات سے مراد ایسے سوالات ہیں جس میں جواب دینے والے کو تین سے چار ممکنہ جوابات کے اختیارات دیے جاتے ہیں، اور ان تین چار ممکنہ جوابات میں سے ایک جواب صحیح ہوتا ہے، اور طالب علم کو اس صحیح جواب کاانتخاب کرنا ہوتا ہے، اور اس قسم کے سوالات سے مقصود طالب ِعلم کی قوتِ تفہیم اور سمجھ بوجھ کا امتحان ہوتا ہے، اگر طالب علم نے سمجھ کرپڑھا ہوگا تو صحیح جواب منتخب کرسکے گا، کیونکہ کثیر الانتخابی سوالات کے جودوسرےاختیارات ہوتے ہیں، وہ بھی صحیح جواب کے متوازن ہوتے ہیں۔ ذیل میں چند مثالیں ذکر کی جارہی ہیں:
1-ہدایۃ النحو کے مصنف کا نام کیا ہے؟
(الف)    جمال الدین     (ب)     سراج الدین(٭)    (ج)    کمال الدین
2-لفظ عبد اللہ غیر منصرف ہے:
(الف)     علم اور مرکب اضافی کی وجہ سے    (ب) علم اور عجمہ کی وجہ سے     (ج)منصرف ہے(٭)
3-مسند اور مسند الیہ کا ہونا ضروری ہے؟
(الف)     فعل کے لیے     (ب)    اسم کے لیے (٭)    (ج)    کلام کے لیے 
4-جاری مجری صحیح وہ کلمہ ہے جس کے آخرمیں ہو؟
(الف) یاء ماقبل ساکن     (ب)واؤ ماقبل ساکن     (ج)واؤ یا یاء ماقبل ساکن (٭)
5-نون تثنیہ ہمیشہ ہوتا ہے؟
(الف) مرفوع        (ب)مفتوح         (ج)مکسور(٭)
ان سب سوالات میں ہر سوال کے سامنے مختلف اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں ایک جواب صحیح، باقی غلط ہے، ان اختیارات میں سے طالب علم کو صحیح جواب کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ 
 

تیسری صورت :خالی جگہیں پر کرنا (Fill in the Blanks)

اس قسم کے سوالات میں ایک عبارت دی جاتی ہے، جس میں کسی جگہ سے لفظ یا الفاظ غائب کرکے خالی جگہ چھوڑی جاتی ہے، اور طلبہ کرام کو اس خالی جگہ کوصحیح لفظ یا فقرے سے پُر کرنا ہوتا ہے، مثال کے طور پر :
1-اسم مقصور اور غیر جمع مذکر سالم مضاف بیاء متکلم کا اعراب تینوں حالتوں میں ۔۔۔۔۔۔ہوتا ہے۔ 
مندرجہ بالاعبارت میں خالی جگہ کو صحیح جواب سے پر کرنا ہوگا، اوراس کا صحیح جواب ہے: تقدیری، یعنی اسم مقصور اور غیر جمع مذکر سالم مضاف بیاء متکلم کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوتا ہے۔ 
2-جمع مذکر سالم مضاف بیاء متکلم کا اعراب حالت رفعی میں ۔۔۔۔۔۔کے ساتھ ہوتا ہے۔ (واؤ تقدیری)
3-اگر اسم کے معدول عنہ پر غیر منصرف کے علاوہ خارج میں بھی دلیل موجودہو تواس کو ۔۔۔۔۔۔ کہا جاتا ہے۔ (عدل تحقیقی)
4-وصف کا غیر منصرف بننے کے لیے شرط ہے کہ وہ۔۔۔۔۔۔ میں وصف ہو۔ (اصل وضع )

چوتھی صورت : صحیح وغلط سوالات (True/False Questions)

اس قسم کے سوالات سے مراد ایسے سوالات ہیں جن میں ایک عبارت دی جاتی ہے، اور اس کے سامنے دو اختیارات ہوتے ہیں، (صحیح، غلط/ (×) (ض) ان دونوں میں کسی ایک صحیح جواب کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ 
مثال کے طور پر: 
1-اعرابِ محلی معرب پر داخل ہوتا ہے۔ (×)
چونکہ اعرابِ محلی معرب پر نہیں آتا، بلکہ مبنی پر آتا ہے، اس لیے اس جواب کے آگے علامتِ غلط (×) لگائی گئی، اسی طرح دیگر مثالوں کو بھی ملاحظہ فرمائیں: 
2-علم اور وصف جمع ہوسکتے ہیں۔ (ض)
3-ذو کے اعراب کے لیے ضروری ہے کہ وہ صاحب کے معنی میں ہو۔ (ض)
4-جمع مؤنث سالم کے اعراب لیے شرط ہے اس کی مفرد کے آخر میں تا ہو، جیسے مؤمنۃ کی جمع مؤمنات۔ (×)
5-جمع مؤنث سالم میں جر کو نصب کے تابع کیا گیا ہے۔ (×)
6-غیر منصرف میں نصب کو جر کے تابع کیا گیا ہے۔ (×)

پانچویں صورت: غلط عبارت کی نشاندہی کرکے درست لکھنا

اس قسم کے سوالات سے مراد ایسے سوالات ہیں، جن میں طلبہ کو ایک غلط جملہ لکھ کر دیا جاتا ہے، اور انہیں اس غلطی کی نشاندہی کرکے تصحیح کرنے کے لیے کہا جاتا ہے، اس قسم کے سوالات سے مقصود طالب علم کا نفسِ کتاب سے تعلق قائم کرنا، اور قوتِ تفہیم کا جانچنا ہوتا ہے، جیسے کافیہ سے چند سوالات ملاحظہ فرمائیں:

 عبارتغلط عبارتدرست عبارت
1الإسم: أن تدل علی معنی في نفسہا مقترن بأحد الأزمنۃ الثلاثۃمقترن

غیر مقترن

2الکلام: ماتضمن کلمتين بالإضافۃبالإضافۃ

بالإسناد

3حکم المعرب أن يختلف آخرہ باختلاف العوامل لفظاً فقطلفظاً فقط

لفظاً أو تقديرًا

4جمع المؤنث السالم بالضمۃ والفتحۃوالفتحۃ

والکسرۃ

5غير المنصرف بالضمۃ والکسرۃوالکسرۃ

والفتحۃ

 

چھٹی صورت: ملاپ سوالات (Matching Questions)
 

ایسے سوالات میں دو کالم دیے جاتے ہیں، ایک کالم میں سوالات اور دوسرے کالم میں جوابات ہوتے ہیں، جنہیں آپس میں درست طریقے سے ملانا ہوتا ہے، ملاحظہ فرمائیں: 

:

1

الف مقصورہ

وہ مؤنث جس میں علامتِ تانیث ظاہر ہو۔ 

2

الف ممدودہ

وہ زائد الف جو اسم کے آخر میں ہو، جس کے بعد ہمزہ نہ ہو۔ 

3

مؤنثِ حقیقی

وہ زائد ہمزہ جو اسم کے آخر میں ہو، جس سے پہلے الف ہو۔ 

4

مؤنثِ لفظی 

وہ مؤنث جس کے مقابلے میں جاندار مذکر ہو۔ 

5

مؤنثِ قیاسی

وہ مؤنث جس کے مقابلے میں جاندار مذکر نہ ہو۔ 


ساتویں صورت: ترتیب والے سوالات (Ordering or Sequencing Questions)
 

ترتیب والے سوالات میں طلبہ کو تاریخی واقعات کو ترتیب دینے، یا کسی چیز کی اقسام کوصحیح ترتیب میں ترتیب دینے کے لیے کہا جاتا ہے، مثلاً:
سوال: درج ذیل غزوات کو صحیح ترتیب سے لکھیں۔ 
(الف)    غزوۂ خندق
(ب)    غزوۂ بدر
(ج)    غزوۂ حنین
(د)    غزوۂ احد
جواب:صحیح ترتیب یہ ہے:غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، غزوۂ خندق، غزوۂ حنین۔ 
سوال: نمازِ جنازہ کے طریقے کو ترتیب سے لکھیں:
(الف)     پہلی تکبیر کے بعد درود پڑھنا
(ب)    دوسری تکبیر کے بعد دعا پڑھنا
(ج)    تیسری تکبیر کے بعدثنا
(د)     چوتھی تکبیر کے بعدسلام
جواب: صحیح ترتیب درج ذیل ہے:
(الف)     پہلی تکبیر کے بعد ثناپڑھنا
(ب)    دوسری تکبیر کے بعد درود پڑھنا
(ج)    تیسری تکبیر کے بعدمیت کے لیے دعا
(د)     چوتھی تکبیر کے بعدسلام۔ 

گزارشات

تعلیمی نظام میں معروضی امتحان کو شامل کرنے کے حوالے سے بحیثیت ایک طالب علم چندگزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں: 
(الف)    مدارس کے موجودہ نصاب کو مرحلہ وار معروضی سوالات کے قالب میں ڈھالنے کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے، اس کے لیےپہلے نصاب کا جائزہ لیں کہ کون سے مضامین میں معروضی سوالات بنائے جاسکتے ہیں۔ ابتدائی مرحلہ میں تفصیلی امتحانات کے ساتھ ساتھ کچھ درجات میں مخصوص مضامین کے لیے معروضی سوالات شامل کریں، اور سوالات میں مختلف انداز اپنانے کا خیال رکھیں، جیسے صحیح یا غلط، خالی جگہ پُر کرنا، یا درست جواب چننا، وغیرہ۔ 
(ب)     معروضی سوالات بنانے اور جانچنے کا طریقہ سکھانے کے لیے اساتذہ کرام سے مذاکرہ کیا جائے، اساتذہ کرام سے معروضی سوالات کی مؤثریت پر آراء جمع کی جائیں، اور ا ن کی آراء کی روشنی میں کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔ 
اسی طرح ہر فن (مثلاً نحو، صرف، فقہ، بلاغت ومنطق وغیرہ) کے ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کی الگ الگ جماعتیں بنائی جائیں جو متعلقہ کتابوں سے معروضی سوالات تیار کریں۔ ہر جماعت کا ایک مسئول ہو، تاکہ سارے سوالات ایک ترتیب سے بنیں۔ 
یا ہر ایک استاذ اپنی مفوضہ کتاب کے تمام ممکنہ معروضی سوالات خود ہی بنا لیں، اُمید ہے کہ کچھ ہی عرصے میں کسی بھی فن کے تمام ممکنہ معروضی سوالات تیار ہوجائیں گے۔ 
(ج)    طلبہ کرام سے ماہانہ تعلیمی جائزوں کے ذریعے معروضی سوالات حل کرائے جائیں، تاکہ وہ اس طرزِ امتحان کے عادی ہو جائیں۔ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے