بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

تعلیم وتربیت کورس کے اثرات و ثمرات

تعلیم وتربیت کورس کے اثرات و ثمرات


ہر سال گرمیوں کی آمد پر عصری تعلیم گاہوں اسکول و کالج میں سالانہ تعطیلات کا شدت سے انتظار ہوتا ہے ، بچوں کی ضد اور اصرار ، بڑوں کے مشورے اور منصوبے نہ جانے کیا کیا ہوتے ہیں، کسی کی سوچ کھیل و تفریح کی ہوگی تو کسی کی فکر سیر و سیاحت کی اور کوئی راحت و آرام کے لیے بے چین رہتا ہوگا ، جبکہ بعض بلکہ اکثر والدین ایسے ہوں گے جو اپنے بچوں کے فارغ اوقات کو کسی اچھے مصرف میں لگانے کے لیے فکرمند ہوں گے، کیونکہ بچے گھروں میں پابند تو رہ نہیں سکتے، لازماً با ہر نکلیں گے جس کے نتیجے میں ان کا بے دینی اور آوارگی کے ماحول سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، ورنہ کم از کم گیند بلا ہاتھ میں لے کر دھوپ میں گراؤنڈ آباد رکھنے میں تو ضرور مشغول نظر آئیں گے۔مشاہدہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی اکثریت موسم گرما کی چھٹیوں میں فضولیات کی زد میں رہتی ہے، ایسی صورتِ حال میں بچوں کے والدین کی پریشانیاں اور اندیشے بجا اور بچوں کی حالت قابلِ رحم ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے بعض فکر مند اور خیر اندیش مسلمانوں نے کافی غور و خوض اور مشوروں کے بعد موسم گرما کی تعطیلات میں دینی و اخلاقی تربیتی کورس کی صورت میں ایک منصوبہ پروگرام پیش کیا، جسے الحمد للہ ہمارے دین دار اور فکر مند مسلمان طبقے میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی اور اس کی برکت سے ان تمام پریشانیوں کا حل اور علاج بھی میسر آ گیا جو بچوں کے والدین کو اپنی اولا داور نو جوان نسل کی بے راہ روی کے حوالہ سے لاحق تھیں۔
یہ چالیس روزہ کورس ایک مسجد کے چند احباب کے مشورہ سے مسجد ہی میں شروع ہوا ، جس کی ابتدائی کلاس ان ہی نمازی بھائیوں کے چند بچوں پر مشتمل تھی جو صبح دکان پر آتے ہوئے بچوں کو ساتھ لے آتے اور کلاس ٹائم عصر تا عشاء میں بچوں کو مسجد بھیج دیتے ، جہاں وہ بچے چند دعا ئیں، کچھ قرآنی سورتیں اور بعض اہم دینی باتیں سیکھتے اور آپس میں سننے سنانے کی مشق کرتے رہتے ، یہاں تک کہ یہ مختصر دینی نصاب اس قدر مقبول ہوا کہ ان بچوں میں دینی معلومات کا شوق بڑھنے لگا اور اس شوق کے تذکرے اور چرچے عام ہونے لگے ، دیکھتے ہی دیکھتے چند بچوں کی یہ ایک کلاس کئی کلاسوں میں تبدیل ہو گئی اور ایک مسجد سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ کئی مساجد اور ایک شہر سے دوسرے کئی شہروں تک پھیلنے لگا اور اس کی افادیت و ضرورت کا اِدراک و احساس دن بدن بڑھتا گیا۔الحمدللہ! جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کے فضلاء اور بعض ائمہ مساجد کے تعاون سے ملک کے مختلف شہروں ، بالخصوص کراچی کی کئی مساجد میں اسکول و کالج کے بچوں کی سالانہ چھٹیوں میں چالیس روزہ مفید ترین اور لائقِ تقلید سلسلہ بڑے اہتمام کے ساتھ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے اور بعض مساجد میں اس سلسلہ کو مزید احسن طریقہ سے آگے بڑھایا گیا ہے ۔
چالیس روزہ دینی و اخلاقی تربیتی کورس کے اثرات ان طلباء پر کیا مرتب ہوئے؟ اس کے کیا فوائد و ثمرات سامنے آئے؟ چالیس دن میں بچہ کیا سیکھ سکتا ہے اور اس کے اندر کیا تبدیلی آسکتی ہے؟ ان سوالات کے جواب گزشتہ تجربات و مشاہدات اور آئندہ نیک توقعات کی روشنی میں مختصر یوں عرض کیے جاسکتے ہیں: 
۱: اس کورس میں بچوں کو ضروری شرعی مسائل اور دیگر دینی معلومات سکھلائی جاتی ہیں، جوکہ نہ صرف ہماری اور ہماری اولاد کی شرعی ضرورت ہے، بلکہ ہمارے فرائض میں بھی داخل ہے۔
۲- ہماری عصری تعلیم گاہوں بالخصوص غیر مسلم مشنریز کے زہریلے اثرات ہمارے نو نہال بچوں کی فکر، اخلاق اور عادات و اطوار پر تقریباً اثر انداز ہو چکے ہوتے ہیں، یہی بچے جب کچھ عرصہ اپنے مذہبی مرکز ( مسجد) سے جڑے رہیں گے تو ان کا دینی شعور برقرار و بیدار رہے گا، ورنہ خدانخواستہ وہ غیروں کی تعلیم و تربیت کا اثر لے کر ہمارے درمیان ان کے نمائندہ کا کردار ادا کریں گے اور دین سے بیزاری آہستہ آہستہ ان کا شعار بن جائے گی۔
۳-فرائض و واجبات اور اعمالِ صالحہ کی عادت اور رجحان نصیب ہوگا ، کیونکہ اس کورس میں صحیح تلفظ کے ساتھ تلاوتِ قرآن اور نمازوں کی عملی مشق کا خاص اہتمام کرایا جاتا ہے ۔ اس اہتمام کی بدولت والدین اس ذمہ داری سے کسی قدر عہدہ برآ ہو سکتے ہیں جو بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ان پر شریعت کی طرف سے عائد ہوتی ہے۔
۴ - چالیس روز تک مسجد کے ماحول میں دینی باتوں کا مذاکرہ طبیعت اور مزاج میں فطری طور پر تبدیلی لانے اور دینی ذوق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، چنانچہ ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں کہ اس کورس میں شریک ہونے والے متعدد طلباء دینی مدارس میں باضابطہ داخلہ لے کر حفظِ قرآن اور دینی علوم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔
۵-تعلیم و تعلم سے تعلق رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ چند دنوں کا تعطل اور وقفہ تعلیمی مزاج پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے اور چھٹیوں کے بعد اس سلسلہ کے نشاط اور لگاؤ کے دوبارہ بحال ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، اگر ہمارے بچوں کی تعطیلات کا بیشتر حصہ اس کورس میں گزرے گا تو ان کا یہ مزاج برقرار رہے گا اور تعطیلات کے بعد تعلیمی ماحول سے وابستہ ہونے میں زیادہ گرانی بھی محسوس نہیں ہوگی ۔
۶- اگر کسی بچے کو چالیس دن کے محدود وقت میں اس قدر فوائد اور برکات وثمرات نصیب ہو جائیں تو زہے نصیب ! اور اگر خدانخواستہ کوئی اس عظیم نعمت کو حاصل نہ بھی کرسکا اور بظاہر محروم رہا، تو اچھی صحبت و پاکیزہ ماحول کی نعمتِ عظمی سے ہمکنار رہنے والا تو بہرحال شمار ہوگا، ظاہر ہے کہ اچھی صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، صالحین کا ہم نشین غیر ارادی طور پر بھی ان کی صحبت سے حصہ پاہی لیتا ہے۔
۷-  خیر کے ان تمام پہلوؤں سے قطع نظر مسجد کا ماحول ان تمام فضولیات ، لغویات اور معاصی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے جو اس ماحول سے باہر پائی جاتی ہیں، کیونکہ یہی بچہ اگر مسجد کے ماحول سے باہر ہوتا تو نہ معلوم کن کن کاموں میں لگا رہتا ، جتنی دیر یہ بچہ مسجد میں رہے گا کم از کم اتنی دیر تو ان برے کاموں سے محفوظ رہے گا، جو اس جیسے دوسرے بچے مسجد سے باہر کر رہے ہوں گے۔ بہر حال اسکول و کالج وغیرہ کے طلباء کے لیے سالانہ تعطیلات میں چالیس روزہ دینی و اخلاقی تربیتی کورس کا انعقاد نہایت ضروری اور بہت سارے برکات وثمرات کا حامل ہے، یہ تعلیم و تربیت جس طرح بچوں کا حق ہے اسی طرح بچیوں کا بھی حق ہے، چنانچہ حتی الوسع بچوں اور بچیوں ہر دو کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہونا چاہیے۔
ان گزارشات کے ذریعہ جہاں اسکول اور کالج کے نو نہال ونو جوان طلبہ کو ترغیب و توجہ دلانا مقصود ہے، وہاں! ان کے والدین، مساجد کے ائمہ کرام اور منتظمہ کمیٹی کو دعوت ِفکر دینا بھی مطلوب ہے ۔
دالدین کو چاہیے کہ وہ اس چالیس روزہ دینی و اخلاقی تربیتی کورس میں اپنے بچوں کو بھیج کر اس کے فوائد و ثمرات سے فائدہ اُٹھائیں، اگر بچوں کی چھٹیوں کے یہ قیمتی لمحات بھی گنوا دیے گئے تو پھر سال بھر کوشش کے باوجود بھی ایسے مواقع کا میسر آنا مشکل ہوگا ۔مساجد کے ائمہ کرام کی خدمت میں بھی بصد آداب و تکریم عرض ہے کہ محلہ کے بچے ان کی رعیت میں داخل ہیں، جن کے بارے میں وہ عنداللہ مسئول ہیں، اس لیے ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی رعیت کو تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں اپنا قیمتی وقت دینے میں خوب سخاوت لگن اور محنت سے کام لیں ، اس سلسلے میں قریبی مدارس کے سمجھدار اور ذی استعداد طلباء کرام کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔چالیس روزہ اس تربیتی کورس میں نصاب کی کوئی قید نہیں ، ہر مسجد کے امام صاحب کو رس کے شرکاء کی تعلیمی و ذہنی سطح کے مطابق کچھ بھی نصاب مقرر فرما سکتے ہیں، کیونکہ مقصد محض دینی شعور اور شوق بیدار کرنا ہے، تا ہم اس کورس کے لیے جامعہ کے فضلاء نے بھی جامعہ کے اساتذہ کرام کی نگرانی میں ان کے مشوروں سے ایک نصاب مرتب کیا ہے ، اس نصاب میں تقریباً ہر نوع کے چیدہ چیدہ منتخب موضوعات شامل ہیں۔ جو احباب یہی مجوزہ نصاب زیرِ تدریس رکھنا چاہیں یا طریقۂ تدریس ، طرزِ تعلیم اور تجربہ کار حضرات کے تجربات سے فائدہ اُٹھانا چاہیں وہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دفتر یا عصر تا مغرب صالح مسجد جہانگیر پارک صدر کراچی سے رابطہ فرماسکتے ہیں۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے