بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

تزکیہ و تصوُّف اور خانقاہی نظام  چند اشکالات کا تجزیہ

تزکیہ و تصوُّف اور خانقاہی نظام 

چند اشکالات کا تجزیہ

علماء دیوبند اور حاصلِ تزکیہ وتصوُّف

تزکیہ وتصوُّف کے مباحث ان موضوعات میں سے ہیں جن کی توضیح وتفصیل، تنقیح وتہذیب اور تائید وتردید میں لکھی گئی کتب ورسائل سے بلا مبالغہ ایک پورا کتب خانہ وجود میں آچکا ہے، اس موضوع کے متعلق تفصیل کی خواہاں طبائع کو ان کتب میں سامانِ تسکین تلاشنا چاہیے، یہاں اختصار کے پیشِ نظر علماء دیوبند میں سے‘ تزکیہ وسلوک کے میدان سے علمی وعملی دونوں پہلوؤں سے وابستہ تین نمایاں بزرگوں کے مختصر شذرے پیش کیے جارہے ہیں: 
1- فقیہُ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  برس ہا برس کی تحقیق ومطالعہ اور تجربہ ومشاہدہ کی روشنی میں ’’عطرِ تصوف‘‘ کشید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: 
’’صوفیاء کا علم نام ہے ظاہر وباطن علمِ دین اور قوتِ یقین کا، اور یہی اعلیٰ علم ہے۔ صوفیاء کی حالت اخلاق کا سنوارنا اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف لَو لگائے رکھنا ہے۔ تصوف کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے مزین ہونا اور اپنے ارادہ کا چِھن جانا اور بندے کا اللہ تعالیٰ کی رضا میں بالکلیہ مصروف ہوجانا ہے۔ صوفیاء کے اخلاق وہی ہیں جو جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا خُلق ہے، حسبِ فرمانِ خداوند تعالیٰ کہ بیشک تم بڑے خُلق پر (پیدا کیے گئے) ہو، اور نیز جو کچھ حدیث میں آیا ہے (اس پر عمل‘ اخلاقِ صوفیہ میں داخل ہے)۔
صوفی کے اخلاق کی تفصیل اس طرح ہے:
۱- اپنے آپ کو کمتر سمجھنا، اور اس کی ضد تکبّر ہے۔
۲- مخلوق کے ساتھ تلطّف کا برتاؤ کرنا اور خلقت کی ایذاؤں کو برداشت کرنا۔
۳-- نرمی اور خوش خلقی کا معاملہ کرنا اور غیظ و غضب کو چھوڑ دینا۔
۴-ہمدردی اور دوسروں کو ترجیح دینا مخلوق پر فرطِ شفقت کے ساتھ، جس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کے حقوق کو اپنے حظِّ نفسانی پر مقدّم رکھا جائے۔ 
۵-سخاوت کرنا۔

۶-درگزر اور خطا کا معاف کرنا۔
۷-خندہ روئی اور بشاشتِ جسم۔

۸-سہولت اور نرم پہلو رکھنا۔ 
۹-تصنُّع اور تکلُّف کا چھوڑ دینا۔ 
۱۰-خرچ کرنا بلا تنگی اور بغیر اتنی فراخی کے کہ احتیاج لاحق ہو۔
۱۱-خدا پر بھروسہ کرنا۔

۱۲-تھوڑی سی دنیا پر قناعت کرنا۔ 
۱۳-پرہیزگاری۔

۱۴-جنگ و جدل اور عتاب نہ کرنا مگر حق کے ساتھ۔ 
۱۵-بغض وکینہ و حسد نہ رکھنا۔

۱۶-عزت و جاہ کا خواہش مند نہ ہونا۔
۱۷-وعدہ پورا کرنا۔

۱۸-بردباری۔
۱۹-دُور اندیشی۔
۲۰-بھائیوں کے ساتھ موافقت و محبت رکھنا اور اغیار سے علیحدہ رہنا۔
۲۱-مُحسِن کی شکر گزاری۔

۲۲-اور جاہ کا مسلمانوں کے لیے خرچ کرنا۔
صوفی، اخلاق میں اپنا ظاہر وباطن مہذّب بنا لیتا ہے، اور تصوف سارا ادب ہی کا نام ہے۔ بارگاہِ اَحَدیّت کا ادب یہ ہے کہ ما سوی اللہ سے منہ پھیر لیا جائے، شرم کے مارے حق تعالیٰ کے اِجلال و ہیبت کے سبب۔ بدترین معصیت ہے تحدیثُ النفس یعنی نفس سے باتیں کرنا، اور ظلمت کا سبب ہے۔‘‘ (ما خوذ از امداد السلوک، ص: ۴۶، ادارہ اسلامیات، لاہور) 
حضرت گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  کی مذکورہ تحریر اُن کے گہرے تفقّہ کا ثمرہ اور نظریہ وعمل کے اجتماع کا نتیجہ ہے، اُن کے فتاویٰ ومکاتیب اور رسائل میں جا بجا اس نوع کے بہت سے سچے موتی بکھرے ہیں، جو ایک لڑی میں پروئے جانے کے لیے کسی ماہرِ فن جوہری کے منتظر ہیں۔ 
2- حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس موضوع پر اپنا حاصلِ تحقیق ایک مختصر نکتے کی صورت میں یوں قلم بند فرمایا ہے: 
’’تصوف کا حاصل یہ ہے کہ جس طاعت میں سستی ہو‘ سستی کا مقابلہ کرکے اس طاعت کو کرلے، اور جس گناہ کا تقاضا ہو‘ تقاضے کا مقابلہ کرکے اس گناہ سے بچ جاوے، شیخ کا بس یہی کام ہے کہ وہ اس بات کے حاصل کرنے کی تدبیریں بتلاتا ہے، اور کچھ نہیں کرتا۔‘‘ (خطباتِ حکیم الامت:۱۱/۲۱۱، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان) 
حضرت تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتب میں بھی اس موضوع پر بہت مواد بکھرا ہوا ہے، بعض اہلِ علم نے انہیں یکجا کرنے کی غرض سے مفید کاوشیں فرمائی ہیں۔ 
3- حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ  سے ایک صاحبِ علم نے تصوف کی حقیقت کے متعلق استفسار فرمایا تو حضرت شیخ نے اپنے مُحدّثانہ ذوق کے مطابق اس عُقدہ کو حل کرتے ہوئے فرمایا: 
’’إِنَّمَـا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ سارے تصوف کی ابتدا ہے اور ’’اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ‘‘ سارے تصوف کا منتہا ہے، اسی کو ’’نسبت‘‘ کہتے ہیں، اسی کو ’’یادداشت‘‘ کہتے ہیں، اسی کو ’’حضوری‘‘ کہتے ہیں:

حضوری گر ہمی خواہی 

ازو غافل مشو حافظ!
مَتٰی مَا تَلْقَ مَنْ تَہْوٰی 

دَعِ الدُّنْیَا وَأمْہِلْہَا

۔۔۔۔ سارے پاپڑ اِسی کے لیے بیلے جاتے ہیں، ذکر بالجہر بھی اسی واسطے ہے، مجاہدہ اور مراقبہ بھی اسی واسطے ہے، اور جس کو اللہ جل شانہ اپنے لطف و کرم سے کسی بھی طرح یہ دولت عطا کر دے، اس کو کہیں کی بھی ضرورت نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نظر کیمیا اثر سے ایک ہی نظر میں سب کچھ ہو جاتے تھے اور ان کو کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی۔ اس کے بعد اکابر اور حکماء اُمت نے قلبی امراض کی کثرت کی بنا پر مختلف علاج، جیسا کہ ’’اَطِبّاء‘‘ بدنی امراض کے لیے تجویز کرتے ہیں، ’’روحانی اَطِبّاء‘‘ نے روحانی امراض کے لیے ہر زمانے کے مناسب اپنے تجربات (جو اسلاف کے تجربات سے مستنبط تھے)، نسخے تجویز فرمائے ہیں، جو بعضوں کو بہت جلد نفع پہنچاتے ہیں، بعضوں کو بہت دیر لگتی ہے۔‘‘ (آپ بیتی: ۱/۵۸-۵۹، مکتبہ عمر فاروقؓ، کراچی)
اکابر علماء دیوبند کی کتب ورسائل میں درج مذکورہ تین اقتباسات کے متعلق یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ یہ شذرے، تزکیہ وتصوف کے تئیں علماء دیوبند کے طرزِ فکر کے نمائندہ، اُن کے مطالعہ وتحقیق کا نچوڑ اور اُن کے مزاج ومذاق کا آئینہ ہیں۔ بلاشبہ علماء دیوبند نے اس معاملے میں نہ تو کلی طور پر رد اور انکار کی رَوِش اپنائی اور نہ ہی بے راہ رو صوفیاء کی شطحیات اور گمراہ کن افکار کے بے بنیاد دفاع کا راستہ چُنا ہے، بلکہ یہ بزرگ اس خارزار وادی میں افراط وتفریط کے کانٹوں سے دامن بچاتے ہوئے اعتدال کی راہ پر گامزن رہے، ’’شریعت وطریقت میں تلازم‘‘ کے قائل رہے اور عملًا اسی نظریہ وعمل کے پابند رہے ہیں۔
تصوف وسلوک اور خانقاہی نظام کے متعلق مختلف شبہات پیش کیے جاتے ہیں، پیش نظر تحریر میں چند عمومی اشکالات کا طالب علمانہ تجزیہ پیش کیا جارہا ہے :

کیا تصوف بدعت ہے؟!

اشکال:بعض حضرات تصوف کو بدعت کہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ بدعت ہے؟
جواب : تصوف وسلوک اور خانقاہی نظام کی حقیقت سے شناسائی کے لیے چند بنیادی امور کا بیان ضروری معلوم ہوتا ہے، ان امور پر غوروفکر سے ان شاء اللہ مذکورہ اشکال سمیت بہت سے اشکالات وشبہات دور ہونے کی قوی امید ہے: 
انسانی اعمال بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں:
*    بعض اعمال کا تعلق محض انسان کے ظاہر سے ہے،جیسے: کھانا پینا، سونا، وغیرہ۔
*    بعض اعمال ‘انسان کے باطن کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، جیسے: دل میں اللہ کی یا انسانوں کی رضا جوئی کا جذبہ، وغیرہ۔
دینِ اسلام نے ان دونوں قسم کے اعمال کے متعلق احکام دیے ہیں، مثلاً: ’’کُلُوْا وُاشْرَبُوْا وَلَاتُسْرِفُوْا‘‘ (اعراف:۳۱) ’’اور کھاؤ اور پیو اور بے جا خرچ نہ کرو۔‘‘ اس نوعیت کے احکام کا تعلق قسمِ اول کے ساتھ ہے، اور ’’وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ‘‘ (احزاب: ۳) ’’اور بھروسہ رکھ اللہ پر‘‘ اس نوع کے احکام کا تعلق قسمِ دوم سے ہے۔
شریعت میں جیسے ظاہری اعمال کے متعلق احکام پر عمل کی اہمیت ہے، اسی طرح باطنی اعمال سے متعلقہ احکام کا بھی اپنا مقام ہے، انھیں باطنی اعمال اور ان سے متعلق احکام سے ’’علمِ تصوف‘‘ میں بحث کی جاتی ہے، اور تصوف کا ہی دوسرا نام ’’علمِ اخلاق‘‘ یا ’’علمِ احسان‘‘ یا ’’تزکیہ وسلوک‘‘ہے۔
اس نکتے کو ایک دوسرے پیرائے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ذخیرۂ حدیث میں ’’حدیثِ جبرئیلؑ   ‘‘ مشہور حدیث ہے، جس میں حضرت جبرئیل  علیہ السلام  نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے چند سوالات کیے تھے، پہلا سوال یہ تھا: ’’أخبرني عن الإسلام؟‘‘ ، ’’مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیے کہ اسلام کیا ہے؟‘‘ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’الإسلام أن تشہد أن لا إلٰہ إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ، وتقيم الصلوۃ، وتؤتي الزکوۃ، وتصوم رمضان، وتحجّ البيت إن استطعت إليہ سبيلا‘‘ ، ’’اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرے، اور زکاۃ ادا کرے، اوررمضان المبارک کے روزے رکھے، اور استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔‘‘
حضرت جبرئیل  علیہ السلام  نے اس کے بعد دوسرا سوال کیا کہ: ’’أخبرني عن الإيمان؟‘‘ ، ’’مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ؟‘‘ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’أن تؤمن باللہ وملائکتہٖ وکتبہٖ ورسلہٖ واليوم الأخر، وتؤمن بالقدر خيرہٖ وشرّہٖ۔‘‘ ، ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔‘‘
اس جواب کی تصدیق کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام  نے تیسرا سوال کیا : ’’أخبرني عن الإحسان؟‘‘، ’’مجھے احسان کے متعلق بتائیے؟‘‘، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کا جواب یوں مرحمت فرمایا: ’’أن تعبد اللہ کأنک تراہ، فإن لم تکن تراہ فإنہٗ يراک۔‘‘ ، ’’تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت نہ بنے کہ تو اللہ کو دیکھ رہا ہے تو یہ یقین رکھ کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب معرفۃ الإیمان والإسلام والقدر وعلامۃ الساعۃ، (۱/ ۲۸)، رقم الحدیث: ۸، ط: دار الطباعۃ العامرۃ)
اس حدیث کو دین کے خلاصے پر مشتمل جامع احادیث میں شمار کیا گیا ہے، اور درحقیقت یہ حدیث نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی فصاحت وبلاغت کا اعلیٰ نمونہ اور جوامع الکلم میں سے ہے۔
اس حدیث کے مذکورہ حصے کی روشنی میں دینی احکام وعلوم کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
۱- دین کے بنیادی عقائد و اصول۔
۲- اعمالِ ظاہرہ کے متعلق احکام۔
۳- اعمالِ باطنہ کے متعلق احکام۔
حدیث بالا میں دوسرے سوال کے جواب میں تصحیحِ عقائد کا ذکر ہوا ہے، پہلے سوال کے جواب میں اصلاحِ ظاہر کا مضمون آگیا ہے، جب کہ تیسرے سوال کے جواب میں اصلاحِ باطن کے احکام کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔
عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہؓ میں جامعیت کی شان موجود تھی، اس لیے علوم کی تقسیم کی ضرورت نہیں تھی، بعد میں جب خیر القرون سے دوری کے ساتھ ساتھ استعدادوں میں ضعف آتا گیا تو علماءِ امت نے ان تینوں علوم کے متعلقہ احکام ومسائل کو جدا جدا مدوّن کردیا، چناں چہ:
1- عقائد واصول کے متعلق قرآن وحدیث کی ہدایات اور تعلیمات کو الگ مدون کرکے اس کا نام’’علمِ کلام ‘‘ رکھا گیا۔
2- اعمالِ ظاہرہ کے متعلق کتاب وسنت کے احکام کے مجموعےکا نام ’’علمِ فقہ‘‘ قرار پایا۔
3- اعمالِ باطنہ کے بارے میں قرآن وحدیث کی ہدایات کا نام ’’علمِ اخلاق‘‘ ، ’’علمِ احسان‘‘ اور ’’علمِ تصوف‘‘ رکھا گیا۔
متقدمین اہلِ علم کے نزدیک ان تینوں علوم کے مجموعے کا نام ’’علمِ فقہ‘‘ تھا، متأخرین نے استعدادوں کے ضعف کا مشاہدہ کرتے ہوئے تینوں کو الگ مدوّن کرکے جدا جدا نام دے دیے۔
مذکورہ تفصیل سے واضح ہوگیا کہ تصوف وسلوک کوئی نَوایجاد شے نہیں، بلکہ دین کا ایک اہم اور بنیادی عنصر ہے، اس لیے دین‘ ظاہری وباطنی دونوں قسم کے اعمال کے متعلقہ احکام کےمجموعے کا نام ہے، اور تصوف‘ اعمالِ باطنہ سے تعلق رکھنے والے احکام کو کہا جاتا ہے، لہٰذا تصوف کو بدعت کہنا دین سے ناواقفیت کی علامت ہے۔

کیا خانقاہی نظام اور تصوف پانچویں صدی کی ایجاد ہے؟

اشکال: یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ خانقاہی نظام اور تصوف‘ پانچویں صدی میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ  کے دور سے شروع ہوا ہے، اس سے پہلے اَسلاف میں اس سلسلے کا ذکر نہیں ملتا ہے، لہٰذا یہ بدعت ہے۔
جواب: خانقاہی نظام کے متعلق مذکورہ اعتراض درحقیقت دینی تاریخ سے عدمِ مناسبت کی علامت ہے، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت کے چار بنیادی مقاصد بیان کیے گئے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ يَتْلُوْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتِکَ وَيُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَيُزَکِّيْہِمْ‘‘  (البقرۃ: ۱۲۹)
ترجمہ: ’’اے ہمارے پروردگار! اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں کاکہ پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھلاوے ان کو کتاب اور تہ کی باتیں اور پاک کرے ان کو۔‘‘
اسی طرح کی آیات سورۂ بقرہ (۱۵۱)، سورۂ آلِ عمران( ۱۶۴) اور سورۂ جمعہ (۲) میں بھی مذکورہ ہیں۔ ان چاروں آیات پر غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت کے مندرجہ ذیل مقاصد تھے:
۱-    تلاوتِ آیات۔        ۲-    تعلیمِ کتاب۔
۳-    تعلیمِ حکمت۔        ۴-    تزکیۂ نفوس۔
آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ان تمام مقاصد کو بدرجۂ اتم پورا فرمایا، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  جہاں صحابہ کِرام  رضی اللہ عنہم  کو دین کے ظاہری احکام کی تعلیم دیتے تھے، وہیں ان کی باطنی اخلاقی تربیت بھی فرماتے تھے، جہاں آپ معلّم تھے وہیں مُزکّی بھی تھے اور تزکیۂ نفوس کا عظیم فریضہ بھی بحسن وخوبی ادا فرماتے تھے، گویا مسجدِ نبوی صرف مدرسہ ہی نہیں، اصلاح وارشاد کی ایک تربیت گاہ بھی تھی۔
 آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد عہدِ صحابہؓ میں بھی جامعیت کی یہ شان موجود رہی، لیکن بعد میں یہاں بھی مجبوراً، بلکہ تکوینی طور پر تقسیم کار کی راہ اپنانی پڑی، اور علماءِ امت (جو آپ  علیہ السلام  کے ورثاء تھے، ان) کے ایک طبقے نے دعوت کا میدان سنبھالا، ایک جماعت نے درس وتدریس کے ذریعے دین اور علومِ دین کی اشاعت کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا، اور ایک گروہ نے تزکیہ وسلوک کا فریضہ نبھایا۔ اسی طرح دین کی خدمت کے دیگر شعبوں میں بھی تقسیم کا اصول اپنایا گیا، استعدادوں کے ضعف کی بنا پر یہ بالکل فطری نظام تھا، الحمد للہ آج تک یہ تمام کوششیں جاری وساری ہیں اور علماء امت اور مقتدایانِ ملت ہر میدان میں اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ بارک اللہ في جہودہم وکثّر من أمثالھم!
مذکورہ وضاحت سے معلوم ہوا کہ نظامِ تزکیہ واحسان اور اصلاح وارشاد کی بنیاد خود عہدِ نبوی میں ہی تھی، البتہ مرورِ زمانہ کے ساتھ تغیرِ احوال کی بنا پر اس کے ظاہری نظام میں تبدیلیاں آتی گئیں اور تربیت وتزکیۂ نفوس کا مقصد حاصل کرنے کی خاطر قرآن وسنت کی روشنی میں تجربات ومشاہدات سے مفید سمجھ کربہت سے امور اپنالیے گئے، لہٰذا خانقاہی نظام کو سرےسے دین سے خارج اور بدعت قرار دینا یا پانچویں صدی کی ایجاد باور کرانا تاریخ سے ناانصافی ہی نہیں، ایک واضح حقیقت سے چشم پوشی بھی ہے۔

کیا خانقاہیں قرآن وحدیث کی تعلیم سے دور ہیں؟

اشکال: یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ مروّجہ خانقاہی نظام ‘قرآن وحدیث کی تعلیم سے عاری ہے، خانقاہوں میں قرآن وحدیث کا درس نہیں دیا جاتا۔
جواب: یہ اشکال بھی درست نہیں، اولاً تو یہ مشائخِ حقہ عملی تربیت کے ذریعے قرآن وحدیث کے احکام کا ہی درس دیتے ہیں، ثانیاً تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو خانقاہیں بھی قرآن وحدیث کے غلغلوں سے گونجتی دکھائی دیتی ہیں، حضرت نظام الدین اولیاء  رحمۃ اللہ علیہ  کا قرآن وحدیث سے شغف کسی صاحبِ نظر سے مخفی نہیں، اور ماضی قریب میں حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ  اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ  کی خانقاہوں میں باقاعدہ درسِ قرآن وحدیث کی محفلیں سَجتی رہی ہیں، ان بزرگوں کے حالاتِ زندگی پر مشتمل کتب ملاحظہ کی جاسکتی ہیں، آج بھی مشائخِ حقہ کی خانقاہیں ’’قال اللہ وقال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی صداؤں سے معمور رہتی ہیں۔
البتہ اگر معترضین کی مراد یہ ہے کہ تمام خانقاہیں، مدارس کیوں نہیں بنتیں؟ تو اس کا جواب گزرچکا ہے کہ آج کے دور میں ایسی جامع شخصیات کا وجود معدوم تو نہیں، لیکن نادر ضرور ہے، جو بیک وقت تمام شعبوں کو لے کر چل سکیں؛ اس لیے تقسیمِ کار کا یہ نظام بالکل فطری ہے کہ تزکیۂ نفوس اور اصلاحِ باطن کے لیے خانقاہیں ہوں اور حصولِ علم وآگاہی کے لیے مدارس کی فضائیں آباد رہیں، اگرچہ جامعیت کی وہ شان اورفضا ہر مومن کامل کی آرزؤوں کی تکمیل ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے پیش نظر اہل سنت والجماعت کے معتبر مشائخ کی اصلاح و ارشاد سے جڑی معتمد خانقاہیں ہیں، شریعت سے نابلد و بے عمل گدی نشینوں اور بدعقیدہ صوفیاء کی شطحیّات وبدعات اور گمراہی وبے راہ روی کا دفاغ ہرگز مقصد نہیں۔

کیا مسنون اذکار وادعیہ، اصلاحِ نفس کے لیے کافی نہیں؟

اشکال: تصوف کے اذکار ، اوراد و اشغال پر بعض حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ کیا قرآن وحدیث میں مذکور اذکار، اوراد وا شغالِ اصلاحِ نفس اور تزکیہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟ اگر کافی ہیں تو پھر اہلِ تصوف خود ساختہ اشغال ، اوراد اور وظائف مریدین کو کیوں بتاتے ہیں؟
’’القول الجمیل‘‘ میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ بات ذکر کی ہے کہ: ’’متصوّفین کے اشغال اور وظائف مقصود بالذات نہیں ہیں، مقصود تو نسبتِ باطنی ہے، یہ ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے۔‘‘ (دیکھیے: ’’القول الجمیل مع اردو ترجمہ شفاء العلیل ساتویں فصل، ۱۰۳ تا ۱۱۵، ایچ ایم سعید، کراچی)
 اس بنیاد پر معترضین کا کہنا ہے کہ ذریعہ اور وسیلہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب اصل مقصود سے کام نہ بنتا ہو، تو یہ بات کس طرح درست ہے کہ تزکیۂ نفس اور نسبتِ باطنی‘ قرآن وحدیث کے اذکار اور وظائف سے حاصل نہ ہو اور صوفیاءِ کرام کو ان کے لیے خود ساختہ وظائف اشغال تجویز کرنے کی ضرورت محسوس ہو؟
جواب: یہ نکتہ واضح رہنا چاہیے کہ دیگر بہت سے احکام کی طرح خانقاہی نظام کا ہر ہر جز تو قرآن وحدیث میں مذکور نہیں، محققین مشائخ وصوفیاء کو نہ اس کا دعویٰ ہے اور نہ ہی اس کے ثبوت کے لیے وہ بودی دلیلوں کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، بہت سے امور اگرچہ منصوص نہیں، لیکن ’’مستنبط من النصوص ‘‘ ضرور ہیں، اور بعض امور‘ اکابر ومشائخ نے اپنی زندگی کے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں خلقِ خدا کی اصلاح کے لیے مفید جان کر اختیار کیے ہیں۔تزکیہ وسلوک کی اس ساری جد وجہد کی اصل غرض‘ باطنی رذائل سے نفس کی اصلاح اور حق جل مجدہٗ کے قرب ورضا کا حصول ہے، اس مقصود کے حصول کا اصل ذریعہ تو تلاوتِ قرآن اور ادعیہ واذکارِ مسنونہ کا اہتمام ہی ہے، اور اسی بنا پرمشائخِ حقہ ہمیشہ سے تلاوتِ کلام اللہ اور اذکار وتسبیحاتِ مسنونہ کو اپنے معمولات میں داخل کرتے چلے آتے ہیں، اگر کسی شخص کی اصلاحِ باطن ان ماثور ومسنون اعمال واذکار کےاہتمام سے ہوجاتی ہےتو اس کو دیگر اوراد و اشغال کی چنداں ضرورت نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس قدر زمانۂ نبوت سے بُعد ہوتا گیا، قلوب کی بھی وہ کیفیت باقی نہ رہی اور نفوس پر مُردنی چھاتی گئی، اب لوگوں کی حالت یہ ہوگئی کہ تلاوتِ قرآن میں لطف نہیں آتا اور غیبت کی لذت سے طبائع آشنا ہیں، ایسی صورتِ حال میں آلودہ قلوب کے زنگ کو دور کرنے اور انھیں صیقل کرکے اذکار و اورادِ مسنونہ اور تلاوتِ قرآن کے لطف سے مانوس کرنے کے لیے مشائخِ صوفیاء نے قرآن وحدیث ہی کی روشنی میں ایسے اشغال واعمال تجویز فرمائے جن سےدل کی ظلمت دور ہو اور اعمالِ خیر کی نورانیت سے قلب معمور ہو، چناں چہ حضرت مولانا رشید احمدگنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:
’’اشغالِ صوفیہ بطورِ معالجہ کے ہیں، سب کی اصل نصوص سے ثابت ہے، جیسا اصل علاج ثابت ہے ، مگر شربتِ بنفشہ ‘حدیثِ صریح سے ثابت نہیں۔ ایسا ہی سب اذکار کی اصل ہیئت ثابت ہے۔ جیسا توپ، بندوق کی اصل ثابت ہے، اگرچہ اس وقت میں نہ تھی، سو یہ بدعت نہیں، ہاں ان ہیئات کو سنتِ ضروری جاننا بدعت ہےاور اس کو علماء نے بھی بدعت کہا ہے۔‘‘(فتاویٰ رشیدیہ، ص:۲۲۱، ط: ایچ ایم سعید، کراچی)
چناں چہ مشائخِ حقہ ان اشغال و اَوراد اور اَعمال کو محض حصولِ مقصود کی خاطر تدابیر سمجھ کر ہی ان پر عمل کرواتے ہیں، ان کو عباداتِ مقصودہ یا سنت و ضروری نہیں سمجھتے، نیز اپنے متوسلین ومتعلقین کو بھی وقتاً فوقتاً اس حقیقت سے آگاہ کرتے چلے آتے ہیں۔ اکابر کے ملفوظات اس پر شاہد ِ عدل ہیں، لہٰذا ان اَوراد واَعمال کو مطلقاً بدعت کہنادرست نہیں، البتہ ان کو لازمی وضروری اور عبادتِ مقصودہ وسنت سمجھنا ضرور بدعت ہے۔

علمِ احسان و علمِ تزکیہ کے متعلق چند مفید کتب

نظامِ تزکیہ و سلوک کے متعلق مزید تفصیل کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگا :
۱-مسائل السلوک من کلام ملک الملوک (مسائلِ تصوف) از حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ 
۲-التشرّف بمعرفۃ أحادیث التصوّف از حضرت مولانا اشرف تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ 
۳- التکشّف عن مہمّات التصوف از حضرت مولانا اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ 
۴- شریعت وطریقت کا تلازم از شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ 
۵- عمدۃ السلوک از مولانا زوار حسین شاہ  رحمۃ اللہ علیہ  
۶-تصوف کیا ہے؟ مجموعہ مقالات مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ  ، مولانا محمد اویس ندوی رحمۃ اللہ علیہ  ، مولانا ابوالحسن علی ندوی  رحمۃ اللہ علیہ 
۷- رسالۃ المسترشدین  للحارث المحاسبي رحمۃ اللہ علیہ  بتحقیق وتعلیق الشیخ عبدالفتاح أبوغدۃ  رحمۃ اللہ علیہ 

کیا اذکار وغیرہ کو تسبیح وغیرہ کے ذریعہ شمار کرنا ثابت نہیں؟

اشکال: صوفیاء کے ہاں اَذکار و اَوراد کے لیے مروجہ تسبیح کا استعمال بھی کیا جاتاہے، اس بابت بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ہاتھ میں تسبیح لے کر پڑھنا غلط ہے؛ اس لیے کہ عیسائی بھی اپنے ہاتھ میں تسبیح لے کر پڑھتے ہیں؟ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی استعمال شدہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں، ان میں ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا عمامہ، برتن وغیرہ ملے ہیں، لیکن تسبیح نہیں ملی۔ پہلے تسبیح کا کوئی تصوّر نہیں تھا، لہٰذا تسبیح کا استعمال بدعت ہے، اور جب ہم اللہ کی عبادت کر رہے ہیں تو گِن کر کیوں کریں؟ 
جواب: ذکر واَذکار کا شمارجس طرح ہاتھ کی انگلیوں پر ثابت ہے، اسی طرح دانوں یا کنکریوںیا گٹھلیوں پر شمار کرنے کے متعلق بھی کتبِ حدیث میں بہت سی روایات ملتی ہیں، ذیل میں چند روایات ملاحظہ فرمائیں:
۱- ’’عن کنانۃ مولی صفيۃ قال: سمعت صفيۃ تقول: دخل علي رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم، وبين يدي أربعۃ ألاف نواۃ أسبّح بہا، قال: لقد سبّحت بہذہ، ألا أعلّمک بأکثرمماسبّحت بہ؟! فقلت: بلی، علّمني، فقال: قولي: سبحان اللہ عدد خلقہ۔‘‘ (سنن الترمذي، أبواب الدعوات: ۲/ ۱۹۴، ط: مير محمد)
ترجمہ: ’’حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   میرے پاس تشریف لائے، میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں تھیں، جن کے ذریعہ میں تسبیح پڑھ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم نے ان گٹھلیوں کے ذریعہ تسبیح پڑھی۔ کیا میں تمہیں ان کلمات سے زائد نہ سکھلاؤں جن کے ذریعہ تم نے تسبیح پڑھی؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟! مجھے سکھلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم کہو: ’’سبحان اللہ عددَ خلقہٖ‘‘ (میں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہوں، اس کی مخلوق کی تعداد کے بقدر)۔‘‘
۲-’’ عن عائشۃ بنت سعد بن أبي وقاص عن أبيہا أنہ دخل مع رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم علی امرأۃ وبين يديہا نواۃ - أو قال: حصاۃ۔ تسبّح بہا۔ فقال: ألا أخبرک بما ہو أيسر عليک وأفضل؟ سبحان اللہ عدد ماخلق في السماء، وسبحان اللہ عدد ما خلق في الأرض، وسبحان اللہ عدد ما بين ذٰلک، وسبحان اللہ عدد ما ہو خالق، واللہ أکبر مثل ذلک، والحمد للہ مثل ذٰلک، ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ مثل ذٰلک۔ ‘‘ (سنن الترمذي، أبواب الدعوات، باب في دعاء النبي صلي اللہ عليہ وسلم وتعوذہ في دبر کل صلوۃ: ۲/ ۱۹۶)
ترجمہ: ’’حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ عنہ  کی صاحبزادی عائشہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے والد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس گئے، ان کے سامنے گٹھلیاں تھیں، ایک اور روایت کے مطابق ان کے پاس کنکریاں تھیں، وہ ان کے ذریعہ تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ ذکر نہ بتلاؤں جو تمہارے لیے اس سے آسان اور بہتر ہے؟ ’’سبحان اللہ عدد ماخلق في السماء‘‘ (اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی ہے آسمانی مخلوقات کی تعداد کے بقدر)۔ ’’وسبحان اللہ عددَ ما خلق في الأرض‘‘(اور اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی ہے زمینی مخلوقات کی تعداد کے بقدر)۔ ’’وسبحان اللہ عدد مابین ذٰلک‘‘ (اور اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی ہے فضائی مخلوقات کی تعداد کے بقدر)۔ ’’وسبحان اللہ عدد ما ھو خالق‘‘ (اور اللہ تعالیٰ کے لیے پاکی ہے اس مخلوق کی تعداد کے بقدر، جس کو اللہ تعالیٰ آئندہ پیدا کرنے والے ہیں۔) اور اسی طرح ابتدا میں ’’سبحان اللہ‘‘ کے بجائے  اللہ أکبر لگاکر یہ چاروں جملے کہے اور اسی طرح ابتدا میں الحمد للہ لگاکر یہ چاروں جملے کہے اور اسی طرح ابتدا میں ’’لاحول ولاقوۃ إلا باللہ‘‘ لگاکر یہ چاروں جملے کہے ۔‘‘
مذکورہ دونوں روایات کو ذکر کرکے علامہ محمد بن علی الشوکانی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:
’’والحديثان الاٰخران يدلّان علی جواز عد التسبيح بالنوی والحصی، وکذا بالسبحۃ؛ لعدم الفارق؛ لتقريرہٖ صلی اللہ عليہ وسلم للمرأتين علی ذٰلک، وعدم إنکارہٖ، والإرشاد إلی ما ہو أفضل لا ينافي الجواز۔‘‘ (نيل الأوطار، أبواب صفۃ الصلوۃ، باب جواز عقد التسبيح باليد وعدہٖ بالنوی: ۲/ ۳۱۶،۳۱۷، ط: دار الحديث، قاہرہ)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ان دونوں عورتوں کو گٹھلیوں یا کنکریوں پر تسبیحات پڑھتے دیکھ کر سکوت کرنا اور انکار نہ فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل جائز ہے۔
۳- ’’عن علي رضي اللہ عنہ مرفوعا: نعم المذکّر السُّبحۃ۔‘‘ (أيضا: ۲/ ۳۱۷)
’’حضرت علی  رضی اللہ عنہ  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد نقل فرمایا کہ:’’تسبیح بہترین یاد دہانی کرنے والی ہے۔‘‘
۴- صحابہؓ میں سے حضرت ابوہریرہ وحضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ عنہما  کا بھی تسبیحات کو دانوں پر پڑھنے کا معمول نقل کیا گیا ہے۔ ’’مصنف ابن أبي شیبۃ‘‘ میں ہے:
’’عن أبي النضرۃ عن رجل من الطفاوۃ قال: نزلتُ علی أبي ہريرۃ ومعہ کيس فيہ حصی أو نوی، فيقول: ’’سبحان اللہ، سبحان اللہ، حتی إذا نفد ما في الکيس ألقاہ إلی جاريۃ سوداء، فجمعتہ ثم دفعتہ إليہ۔‘‘ (کتاب الصلوۃ، باب في عقد التسبيح وعدد الحصی: (۵/ ۲۱۷)، رقم الحديث: ۷۷۴۳، ط: إدارۃ القرأن)
ترجمہ: ’’حضرت ابو نضرہؒ ایک طفاوی شخص سے روایت کرتے ہیں، اُن کا بیان ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  کی خدمت میں حاضر تھا، ان کے پاس ایک تھیلی میں کنکریاں یا کھجور کی گٹھلیاں تھیں، وہ یہ کلمات پڑھ رہے تھے: سبحان اللہ سبحان اللہ۔ جب تھیلی میں موجود کنکریاں یا گٹھلیاں ختم ہوگئیں تو انہوں نے وہ تھیلی ایک سانولی سی باندی کی طرف پھینکی، اس نے کنکریوں یا گٹھلیوں کو (تھیلی میں) جمع کیا، پھر انہیں تھیلی لوٹا دی۔‘‘
۵- ’’عن مولاۃٍ لسعدٍ أن سعدا کان يسبّح بالحصی أو النوی۔‘‘ (أيضًا، رقم الحديث: ۷۷۴۰)
ترجمہ: ’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ  کی باندی کا بیان ہے کہ وہ کنکریوں یا کھجور کی گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتے تھے ۔‘‘
۶- ’’عن أبي ہريرۃ أنہ کان لہ خَيْطٌ فيہ ألف عقدۃ، فلا ينام حتی يسبّح۔‘‘ (نيل الأوطار، أيضا: ۲/ ۳۱۷)
ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کے پاس ایک لمبا دھاگہ تھا، جس میں ہزار گرہیں تھیں، وہ سونے سے قبل اس پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔‘‘
علامہ جلال الدین سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس موضوع پر ’’المِنْحَۃ في السُبْحَۃ‘‘ کے نام سے مستقل رسالہ لکھا ہے جو ان کے مجموعۂ رسائل ’’الحاوي للفتاوي‘‘ میں مذکور ہے، اور اس میں اس موضوع کی بہت سی احادیث وآثار جمع فرمادیے ہیں، ایک مقام پر لکھتے ہیں: 
’’ولم يُنقل عن أحد من السلف ولا من الخلف المنعُ من جواز عد الذکر بالسبحۃ، بل کان أکثرہم يعدّونہ بہا، ولايرون ذٰلک مکروہا۔‘‘ (الحاوي للفتاوي، ص:۴۱۲، ط: رشيديۃ)
یعنی علمائے سلف و خلف میں سے کسی نے تسبیح کے ذریعہ اذکار کے شمار کرنے سے منع نہیں کیا، بلکہ اکثر سلف کے ہاں تسبیح کے ذریعہ شمار کرنے کا معمول رہا ہے، اور وہ اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ نیز حضرت مولانا محمد عبد الحی لکھنوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس سلسلے میں ’’نزھۃ الفکر في سُبْحۃ الذکر‘‘ الملقب بـ ’’ہدیۃ الأبرار في سُبْحۃ الأذکار‘‘ نامی ایک رسالہ لکھا ہے، جو ان کے ’’مجموعہ رسائل‘‘ میں مطبوع ہے۔
مذکورہ تفصیل سے واضح ہوگیا کہ :
1-تسبیح کا استعمال صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  اور اکابر سلف وخلف سے ثابت ہے، لہٰذا ایک ثابت شدہ چیز کو محض اس وجہ سے نہیں چھوڑا جاسکتا کہ عیسائی بھی اس کا استعمال کرتے ہیں، نیز اسے بدعت کہنا بھی درست نہیں۔
2-بعض اذکار کی مخصوص تعداد کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے، ان کو شمار کرنا برا نہیں اور نہ ہی یہ گن کر عبادت کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اگر گننے کے زمرے میں آئے تب بھی کوئی حرج نہیں؛ اس لیے کہ جب گِن کر نماز کی رکعتیں پڑھتے ہیں، قرآنی حکم کے مطابق شمار کرکے روزے رکھتے ہیں، گِن کر ہی زکات ادا کرتے ہیں تو پھر گِن کر تسبیح پڑھنے میں کیا مضائقہ ہے؟
3-آج کل ڈیجیٹل تسبیح کا رواج ہے، اس کے استعمال کا بھی یہی حکم ہے۔
اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ    ۴/۲۶۰-۲۶۱، مکتبہ لدھیانوی، کراچی
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے