
نظامِ دہر کا جتنا بھی پھیلاؤ ہے، سارے افعال و اعمال کی جتنی جیسی تخریبی یا تعمیری شکلیں صورتیں ہیں، ان سب کے پیچھے انسانی خیالات و تصورات و افکار کے سوا اور کیا ہے؟ بلکہ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے بقول:
ای برادر تو ھمیں اندیشہ ای
ما بَقِیَ اُستُخوان و رِیشہ ای
’’یعنی اے دوست! تو کچھ بھی نہیں ہے سوائے ’’خیال‘‘ کے اور باقی جو کچھ ہے، وہ صرف ہڈیاں گوشت پوست ہے، بس!‘‘
آپ کے خیالات و تصورات و افکار آپ کی شخصیت کی تعمیر و تخریب میں Decisive Role Play کرتے ہیں، آپ کی سیرت شخصیت کے Building Blocks کہہ لیں، وہ آپ کے خیالات و تصورات ہی ہیں۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ سنیے کہ :
گر گُل است اندیشۂ تو گلشنی
وَر بُوَد خاری تو ھمہ گُلخَنی
یعنی ’’اگر تیرے خیال میں پھول ہے تو تو گلشن بن جائے گا اور اگر تو خار ہی کا خیال تصور کرتا رہے تو تو ایسی بھٹی ہے جو ہمہ وقت جلتی سلگتی رہے گی۔‘‘ خیالات و تصورات کی حیثیت بیج اور جڑ کی سی ہے اور سارا پھیلاؤ نظامِ دہر کا اسی بیج اور جڑ سے پھوٹنے نکلنے والی شاخیں، تنے اور پھل ہیں۔شاخوں، تنوں، پھلوں کی اصلاح، اصلاحِ بیج اور جڑ پر موقوف ہے، نہ کہ برعکس! بناؤ بھی خیالات ہی سے اور بگاڑ بھی!
لہٰذا خیالات و تصورات کی اصلاح و تربیت سب سے زیادہ Crucial اور ضروری ہے اور صورتِ حال یہ ہے کہ افکار و تصورات و خیالات ہی سب سے زیادہ غیر تربیت یافتہ اور غیر اصلاح شدہ ہیں!
طبِ جدید کے نفسیاتی ذہنی معالجات کا خلاصہ یہ ہے کہ خیالات و تصورات کی رَو کو روکنا ادویات کا نشہ پلا کر یا Counselling کے نام پر چند خوش نما الفاظ اور طفل تسلیوں کے دھوکوں اور ڈھکوسلوں کے ساتھ!
ہر آنے والے دن کی ابتدا ایک نئے نفسیاتی طریقِ علاج سے ہوتی ہے اور انتہا اس طریق کی ناکامی پر! چارہ گروں کی چارہ گری اور معالجین کے طرزہائے علاج کی ’’غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ‘‘ کہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق بگاڑ بیش از بیش ہوتا چلا گیا!
اس کا علاج حکمتِ یونانی میں ڈھونڈنا لاحاصل ہے، حکمتِ ایمانی میں تلاش کیجیے:
چند خوانی حکمتِ یونانیاں
حکمتِ ایمانیاں را ہم بخواں
ترجمہ: ’’تو کب تک یونانیوں کی حکمت پڑھتا رہے گا، اہلِ ایمان کی حکمت کا بھی مطالعہ کر۔‘‘
’’حکمتِ ایمانیاں‘‘ کے ایک ماہر حکیم، حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے وضع کردہ اُصولِ اصلاحِ نفسیات کو سیکھنے سکھانے کی ہمارے عہد میں شدید ضرورت (Sheer Need) ہے، تاکہ ان اصول و قواعدِ نفسیات کی روشنی میں مجتہدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر امراضِ نفسیات کے علاج کی نِیوْ رکھی جائے اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے کام کو آگے بڑھایا جائے!
یورپی اقوام نے اپنے مفکرین کی تعلیمات پر اس قدر کام کیا ہے کہ آپ صرف Sigmund Freud کی تعلیمات پر لکھے گئے Research Articles کی فہرست ہی ملاحظہ کرلیں کہ وہ گنتی میں کس قدر ہیں، لیکن حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی اس قدر قیمتی تعلیمات حجاباتِ مختلفہ کے پیچھے مستور ہوگئیں اور اس محققِ نفسیات کی تعلیمات پر محنت نہیں کی گئی!
صوفیاء کے نزدیک یکسوئی اور جمعیتِ خاطر کا حصول کس قدر اہم ہے اور اس کی خاطر کس قدر اہتمام اُن کے ہاں پایا جاتا ہے کہ بعض صوفیہ نے جوگیوں تک سے ایسی Techniques سیکھی ہیں جن کا مقصد حصولِ یکسوئی اور وساوس و خواطر سے نجات تھا، جیسا کہ حبسِ دم، شغلِ انحد وغیرہ۔ اگرچہ بعض متقدمین صوفیہ نے بعض وجوہ سے انہیں ترک کردیا ہے، ضعفِ ہمت و ضعفِ قویٰ کے باعث، لیکن حقیقت الامر یہ ہے کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ انتشارِ ذہنی و فکری بڑھتا ہی چلا گیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اسبابِ انتشارِ ذہنی میں بھی شدید ترین اضافہ ہورہا ہے اور ہر نیا دن اسبابِ انتشارِ ذہنی میں ایک نیا اضافہ کرتا ہے، آج ان اشغال کی Technology کے بجائے Alternative Technology کو Introduce کروانے کی ضرورت ہے!
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: طبِ جسمانی و روحانی دونوں میں اجتہاد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوگا!
حضراتِ نقشبندیہ رحمۃ اللہ علیہم میں سے حضرت خواجہ خورد رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا کہ: ’’درویشی تصحیحِ خیال است‘‘ یعنی درویشی بس خیال کی درستی ہے!
ذہن و دل کی لوح و تختی پر سے سب ‘‘غیر’’ محو ہوکر مٹ مٹا کر صرف نامِ خدا رہ جائے، مقصود سب صوفیاء کا یہی رہا ہے، گرچہ اس کے حصول کے طریق میں اذواق و امزجہ و حالات کے تفاوت سے اختلاف رہا ہے!
پہلے ایک اصول قانونِ تجاذب Law of Attraction سمجھنے کی ضرورت ہے، جس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ جب ایک مثبت و ایجابی خیال (Positive Thought) یا منفی یا سلبی خیال (Negative Thought) ذہن میں کام کرنا شروع کرتا ہے تو اسی خیال کے مماثل خیالات کی کشش ذہنِ انسانی میں ایک خود کار نظام کے تحت شروع ہوجاتی ہے اور ایک خیال دوسرے مماثل ملتے جلتے خیال کو کشش کرنا شروع کردیتا ہے!
جس Technology یا Technique کو متعارف کروانے کی جسارت کررہا ہوں، اس کا نام احقرالانام کے نزدیک ROT Method ہے، یعنی Replacement of Thoughts کا طریقہ!
اس ROT Method کو ایک مثال سے سمجھیے کہ فرض کیجیے، آپ کے ذہن میں ایک پریشان کُن، اذِیّت رساں خیال آتا ہے کہ فلاں شخص نے آپ کو بہت تکلیف پہنچائی ہے، بہت اذیتیں دی ہیں، بہت رنج دکھ پہنچائے ہیں، وغیرہ، جیسے ہی یہ خیال آتا ہے قانونِ تجاذُب کے زیرِ اثر اسی کے مماثل خیالات آپ کے ذہن میں جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں، پھر یہی خیالات اپنی تعداد بڑھاتے بڑھاتے ایک لشکر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور آپ پر ان خیالات و خواطر کی لشکر کشی کا آغاز ہوتا ہے، نتیجتاً آپ میں اس شخص کے لیے غم و غصہ و کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے اثرات آپ کے اقوال و افعال، تقریر یا تحریر کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور آپ کی سیرت شخصیت ان رذائلِ باطنیہ کی کالک سے سیاہ ہوجاتی ہے!
ROT Method یہ ہے کہ جیسے ہی پہلا خیال اس شخص کے متعلق آیا جس نے آپ کو تکلیفیں پہنچائی ہیں، اسی وقت اس خیال کو دعا سے Replace کرنا ہے اور حق تعالیٰ سے ذہنی فکری طور پر پناہ طلبیوں میں لگ جانا ہے کہ اے اللہ! مجھے جو تکلیفیں پہنچی ہیں، ان کے اثر کو مجھ سے دور کردیں، اور اے اللہ! جس شخص نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، آپ اس پر رحم فرمائیے، وغیر ذلک!
جیسے ہی آپ نے حق تعالیٰ کی جانب رجوع کیا، دعا شروع کی، ایک فقیرِ مطلق ایک غنیِ مطلق کے سامنے آگیا، فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ کے پیشِ نظر حق تعالیٰ پیشِ نظر ہوگئے، سب غیر پسِ نظر!
’’اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ کا راز فاش ہوا، رحمتِ الٰہیہ متوجہ ہوئی، سب ’’افکارِ باطل‘‘ اور ’’اغیارِ دل‘‘ دور ہوئے! حق تعالیٰ کے خیال سے بڑھ کر ایجابی خیال کس کا ہوسکتا ہے! اس نورانی خیال کے آگے کون سی ظلمت ٹھہر سکتی ہے! ظلمت کہتے ہی عدمِ نور کو ہیں، جہاں نور ہوگا وہاں ظلمت کا سوال ہی نہیں اور جہاں ظلمت ہے تو یہی عدمِ نور کا ثبوت ہے!
دعا جو خیال میں مانگ رہا ہے، اب Universal Law of Attraction کے زیرِ اثر مزید مماثل خیالاتِ دعا مجتمع ہونا شروع ہوگئے، آغازِ کار میں بہ تکلف بہ جبر Forcefully اس سلبی خیال کو ایجابی خیال سے Replace کرنا پڑے گا، لیکن کچھ عرصہ بعد یہ کام میکانکی طور پر ذہن خود کرنا شروع کردے گا، یہاں تک کہ ایسا شخص اس حالت کو Achieve کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ اس کے ذہن میں خیالاتِ فاسدہ اور اوہامِ باطلہ کی جگہ حق تعالیٰ سے مستقل اور مسلسل ’’مانگنا‘‘ چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اسے روک بھی نہیں پاتا، جیسا کہ پہلے سلبی خیالات اور اوٹ پٹانگ خیالات کی رَو اس کے قابو میں نہیں تھی اور اب حق تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا غیر مختتم سلسلہ جاری ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک واقعہ ضمناً عرض کردوں کہ ایک بزرگ اس قدر درود شریف پڑھتے تھے کہ قضائے حاجت کے لیے جب جاتے تھے تو زبان دانتوں کے نیچے دبا کر رکھتے تھے کہ کہیں زبان سے درود شریف کی ادائیگی نہ شروع ہوجائے اور یہاں یہ معاملہ ہوگا کہ ہر حالت میں ذہن دعاؤں میں مشغول رہے گا، اسے آپ روک ہی نہیں پائیں گے!
ذکرِ دوام اور ملکۂ یادداشت کی یہ ایسی شکل ہے جو بلا کسی شغل کی مشق و مزاولت کی دقتوں کے بہ آسانی حاصل ہوجاتی ہے اور ایسا شخص سراپا دعا بن جاتا ہے! حق تعالیٰ کی عنایتیں، رحمتیں اس عاجز و درماندہ سراپا دعا سراپا کشکول کی دعائی حالت، منگتی حالت کی جانب یوں بڑھتی ہیں جیسے پانی نشیب کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے!
کیا اس حقیقت کو نُطقِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے ادا نہیں کروایا گیا کہ جس کے لیے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے گئے: ’’مَنْ فُتِحَ لَہٗ مِنْکُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَہٗ اَبْوَابُ الرَّحْمَۃِ۔‘‘
دوسری مثال فرض کریں، آپ پر مصائب اور پریشانیوں کا ہجوم ہے، آپ کے ذہن میں ایک پریشانی اور مصیبت کا خیال خطور کرتا ہے اور پھر قانونِ تجاذب Like Attracts Like کے اصول سے پریشانیوں اور مصیبتوں کے خیالات کی ایک فوج کو آپ کے ذہن میں جمع کرنا شروع کردیتا ہے، جس کا نتیجہ یاس، نااُمیدی اور حق تعالیٰ سے بدظنی کی صورت میں نکلتا ہے۔
ROT Method کی مدد سے جیسے ہی پریشانی یا مصیبت کا آپ کو خیال آئے‘ فی الفور حق تعالیٰ کے ساتھ باطنی مکالمہ شروع کردے کہ اے اللہ! میں کمزور بہت کمزور، میں عاجز و درماندہ ان پریشانیوں مصیبتوں کی تاب کہاں لاسکتا ہوں!
اس عمل کو ہر مرتبہ جب بھی ایسے خیالات کی یُورِش ہو‘ دہراتا رہے۔ ایک معتد بہ مدت کے بعد پریشانی اور مصیبت کا یہ خیال Auto Suggestion کے طور پر Replace ہوتا رہے گا اور آپ حق تعالیٰ کی پناہ پکڑتے رہیں گے، یہی راز ہے تعوذ کا، قرآن کریم میں جہاں جہاں تعوذ یعنی پناہ طلبی کی تعلیم دی گئی ہے، اس میں یہی رمز ہے!
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ذوقِ دعا ہے اس کی Cultivation اسی طریق سے ان شاء اللہ ہوجائے گی اور اس کے اثمار کیا ہوں گے، ان کا خطرہ کسی کے ذہن و قلب پر نہیں گزرا۔
اس طریق پر عمل کے نتائج کے متعلق چند اشعار میں کچھ اشارات موجود ہیں، یعنی کبھی زبانِ حال سے یہ کہے گا کہ:
زندہ کُنی عطائے تُو وَر بِکُشی فدائے تُو
دل شدہ مبتلائے تُو ہر چہ کُنی رِضائے تُو
کبھی دیوانہ وار یہ کہہ گزرے گا کہ:
نشود نصیبِ دشمن کہ شَود ہلاکِ تَیغت
سرِ دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
کبھی امیر خسرو کا ہم زبان ہوکر کہے گا :
بہر قتلم چُو کَشد تَیغ نہم سر بہ سجود
اُو بہ نازے عجبے من بہ نیازے عجبے
کبھی یہ دہرائے گا کہ:
کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است