بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

ترجمان القرآن  سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما


ترجمان القرآن  سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما


’’نعم ترجمانُ القراٰن عبدُ اللہ بن عباسؓ۔‘‘
’’عبداللہ بن عباسؓ قرآن کے بہت اچھے ترجمان ہیں۔ ‘‘(عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  )
ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  فضائل وکمالات کے جامع اور اُمت کی برگزیدہ ترین جماعت کے چنیدہ لوگوں میں سے تھے۔ آپ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تربیت کا مظہرِ جلیل، نقشِ جمیل اور قبولیتِ دعا کی مجسم صورت تھے۔ جن حضرات کی زندگی میں سرورِ دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعا کی برکات روزِ روشن کی طرح ظاہر تھیں، ان میں آپؓ سرِ فہرست نظر آتے ہیں۔ آپ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچازاد بھائی اور ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا  کے بھانجے تھے۔ آپ کی والدہ ام الفضل  رضی اللہ عنہا  حضرت میمونہ  رضی اللہ عنہا  کی حقیقی بہن تھیں۔ آپ کے والدِ گرامی قدر حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے محبوب چچا تھے۔ درج ذیل واقعہ سے اس کی تائید ہوتی ہے:
’’عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُـطَّلِبِ بْنُ رَبِيْعَۃَ بْنِ الحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُـطَّلِبِ، اَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُـطَّلِبِ، دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَاَنَا عِنْدَہٗ، فَقَالَ: مَا اَغْضَبَکَ؟ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللہِ! مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ، إِذَا تَلاَقَوْا بَيْنَہُمْ تَلاَقَوْا بِوُجُوْہٍ مُبْشَرَۃٍ، وَإِذَا لَقُوْنَا لَقُوْنَا بِغَيْرِ ذٰلِکَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی احْمَرَّ وَجْہُہٗ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِہٖ لاَيَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيْمَانُ حَتّٰی يُحِبَّکُمْ لِلہِ وَلِرَسُوْلِہٖ، ثُمَّ قَالَ: يَا اَيُّہَا النَّاسُ! مَنْ آذٰی عَمِّيْ، فَقَدْ اٰذَانِيْ، فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ اَبِيْہِ۔‘‘  (جامع الترمذي، باب مناقب أبي الفضل عم النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، رقم :۳۷۵۸)
’’ایک مرتبہ حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سےشکایت کی کہ قریش جب باہم ملتے ہیں تو ان کے چہروں پر تازگی وشگفتگی برستی ہے، لیکن جب ہم سے ملتے ہیں تو بشاشت کی بجائے برہمی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں، آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  یہ سن کر غضبناک ہوئے اورفرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو شخص خدا اوررسول کے لیے تم لوگوں سے محبت نہ کرے گا اس کے دل میں نورِ ایمان نہ ہوگا۔ پھر فرمایا: جس نے میرے چچا کو ایذا پہنچائی اس نے گویا مجھے ایذا پہنچائی، کیونکہ چچا باپ کا قائم مقام ہے۔ ‘‘
’’عن أبي ہريرۃؓ، أن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال: ’’ العباسؓ عم رسول اللہ، وإن عم الرجل صنو أبيہ أو من صنو أبيہ۔ ‘‘ ہٰذا حسن صحيح غريب، لا نعرفہٗ من حديث أبي الزناد إلا من ہٰذا الوجہ۔‘‘ (جامع الترمذي، باب مناقب أبي الفضل عم النبي ﷺ، حدیث: ۳۷۶۱)
’’ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’عباس‘ اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔ ‘‘
’’عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ’’الْعَبَّاسُ مِنِّيْ وَأنَا مِنْہُ‘‘ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ۔ ‘‘  (مستدرک للحاکم، ذکر إسلام العباس رضي اللہ عنہ، رقم: ۵۴۱۱، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’عباسؓ مجھ سے ہیں اور میں عباسؓ سے ہوں۔ ‘‘
’’عَنِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُـطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! عَلِّمْنِي شَيْئًا أسْاَلُہٗ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: سَلِ اللہَ الْعَافِيَۃَ، فَمَکَثْتُ اَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! عَلِّمْنِيْ شَيْئًا اَسْاَلُہُ اللہَ، فَقَالَ لِيْ: يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّ رَسُوْلِ اللہِ! سَلِ اللہَ الْعَافِيَۃَ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۔‘‘   (ترمذي، أبواب الدعوات، رقم:۳۵۱۴)
’’حضرت عباس بن عبدالمطلب  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، ارشاد فرماتے ہیں کہ :میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم اللہ سے عافیت مانگو۔ میں کچھ دن ٹھہرارہااور پھردوبارہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں گیا اورمیں نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے ایسی چیز بتائیے جو میں اللہ تعالیٰ سے مانگوں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھ سے کہا : اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا وآخرت میں عافیت مانگا کرو۔ ‘‘
عافیت ایک ایسی جامع چیز ہے جس میں دنیا اورآخرت کی تمام بھلائیاں شامل ہیں۔ شارحِ مشکوٰۃ علامہ نواب قطب الدین دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں: ’’ عافیت کے معنی دین میں فتنہ سے سلامتی اوربدن میں بری بیماریوں اور سخت رنج سے نجات ہے۔ ‘‘ (مظاہرِ حق جدید، ص:۷۰۷، ج:۲)
والدِگرامی کے علاوہ والدہ کی طرف سے بھی آپؓ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے قرابت تھی۔ آپؓ کی والدہ ام الفضل لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا  اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت الحارث  رضی اللہ عنہا  کی بہن تھیں۔ اسی طرح سیف اللہ خالدبن ولید رضی اللہ عنہ  کی والدہ بھی آپ کی خالہ تھیں۔ اس قرابت کا اثر تھا کہ آپ کو اپنی خالہ کے ہاں رات بسر کرنے اور اپنے خالو حضرت رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کرکے دعائیں لینے کا موقع ملا۔ 
حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  جو ’’ابنِ عباس‘‘ کی کنیت سے مشہور ہیں، ہجرت سے تین سال قبل مکہ مکرمہ کی گھاٹی شعبِ ابی طالب میں آپ کی ولادت ہوئی، جب کہ بنو ہاشم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی برادری ہونے کی وجہ سے مکہ والوں کی طرف سے مقاطعہ(سماجی بائیکاٹ) کا سامنا تھا۔ اسی زمانے میں ولادت سے قبل ہی آپ کے والد گرامی حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  نے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کواپنی زوجہ کے حمل کی خبر دی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اُمید ہے اللہ تعالیٰ ان سے ایک لڑکے کے ذریعے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے۔ جب ولادت ہوئی تو بچے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا گیا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے لعابِ اطہر سے تحنیک فرمائی اور برکت کی دعا دی۔ ‘‘ (معرفۃ الصحابۃؓ: ۳/۱۷۰۱، رقم:۴۲۵۷، دار الوطن، ریاض)
آپ کے قبولِ اسلام کے سن کے حوالے سے حتمی بات مشکل ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ  کا بقیہ گھرانہ بھی آپ کے ساتھ داخلِ اسلام ہوا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ  کے دخولِ اسلام کے سال میں روایات مختلف ہیں۔  شمس الدین حافظ ذہبی ؒ نے لکھا ہے کہ آپ اپنے والدین کے ساتھ فتحِ مکہ کے بعد مدینہ شریف منتقل ہوئے، اگرچہ اس سے پہلے ہی اسلام قبول کرچکے تھے۔ مدینہ شریف آنے کے بعدتیس ماہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحبت اُٹھائی۔ ‘‘ (سیر أعلام النبلاء: ۳/۳۳۲، ۳۳۳، دارالحدیث، قاہرۃ)

عہدِ نبویؐ وعہدِ صدیقیؓ
 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے وقت آپؓ کی عمر تقریباً تیرہ سال تھی۔ اس کے بعد آپ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا دو سال پر محیط زمانۂ خلافت پایا۔ پھر سیدنا عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  کا تقریباً ساڑھے دس سال پر محیط زمانۂ خلافت پایا۔ اللہ تعالیٰ نے کمالِ علمی اور حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت سے بھی نوازا تھا۔ ابوبکرہؒ کہتے ہیں کہ ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  ہمارے پاس بصرہ اس حال میں آئے کہ عرب میں علم، جسم، لباس، جمال وکمال میں ان کی مثل کوئی نہیں تھا۔ (الإصابۃ:۴/۱۲۲)

عہدِ فاروقی میں

عہدِ فاروقی میں ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  کی حیثیت کم عمر ہونے کے باوجود امیر المؤمین کے مشیرِ خاص کی تھی۔ سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کی عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  پر خاص شفقت اور نظرِ لطف و کرم رہتی تھی۔ اس نوجوان کے اندرموجود گوہرِ قابل کو فراستِ فاروقی نے بھانپ لیا تھا اور اپنی خصوصی تربیت سے مزید نکھارا تھا۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ہوتا ہے:

سورۃ النصر کی تشریح

صحیح بخاری میں خود حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  مجھ کو شیوخِ بدر کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے، اس پر بعض بزرگوں نے کہا کہ آپ اس نوعمر کو ہمارے ساتھ کیوں شریک کرتے ہیں؟ اور ہمارے لڑکوں کو جو اُن کے ہمسر ہیں، کیوں یہ موقع نہیں دیتے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جس کی قابلیت تم کو بھی معلوم ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے مجھے سب کی موجودگی میں بلایا، پھر فرمایا: تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ‘‘ (النصر: ۱) کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ ان میں سے کچھ نے جواب دیا کہ ہمیں فتح ملنے پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے اور کچھ حضرات خاموش رہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے مجھ سے پوچھا کہ اے ابنِ عباس! تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا :نہیں ۔ آپ نے پوچھا کہ پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ: ’’اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ‘‘ اس سے مراد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی موت کی خبر دینا ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کی علامت ہے: ’’فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا‘‘ (النصر: ۳) حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ میں بھی یہی بات جانتا ہوں۔ (صحیح البخاري، کتاب تفسیر القرآن، رقم:۴۹۷۰)

سورۃ البقرۃ کی ایک آیت کی تشریح
 

ایک دن حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  کے حلقۂ مجلس میں بڑے بڑے صحابہ  رضی اللہ عنہم  موجود تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما  بھی تشریف فرما تھے، حضرت فاروق اعظم  رضی اللہ عنہ  نے اس آیت کا مطلب پوچھا:
’’اَ يَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ‘‘ (البقرۃ:۲۶۶)
ترجمہ:’’ بھلا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا۔‘‘
تو لوگوں نے کہا :واللہ اعلم۔ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کو اس جواب پر غصہ آگیا، بولے: اگر معلوم نہیں تو صاف کہہ دو کہ ہمیں علم نہیں۔ اسی اثنا میں حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  جھجکتے ہوئے بولے: میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا: تم اپنے آپ کو چھوٹا نہ سمجھو، جو دل میں ہو بیان کرو۔ فرمایا کہ: اس میں عمل کی مثال دی گئی ہے۔ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نے پھر فرمایا کہ اس مال دارشخص کے عمل کی مثال ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف شیطان بھیجا، پس وہ گناہوں میں لگ گیا جس کی وجہ سے اس کے اچھے اعمال کا ثواب غرق ہوگیا۔ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ: اَ يَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ، حدیث: ۴۵۳۸)
 محدث ابن عبدالبرؒ   ’’الاستیعاب‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’کان عمرؓ یحب ابن عباسؓ ویقرّبہٗ‘‘ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ  ابن عباس رضی اللہ عنہما  کو محبوب رکھتے تھے اور ان کو تقرُّب دیتے تھے، بسااوقات حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کی مجلس میں کوئی مسئلہ پیش ہوتا، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  اس کا جواب دیناچاہتے؛ لیکن کم سنی کی وجہ سے جھجکتے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ  ان کی ہمت بندھاتے اورفرماتے: علم سن کی کمی اورزیادتی پر موقوف نہیں ہے، تم اپنے نفس کو حقیر نہ بناؤ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ  اکثر پیچیدہ اورمشکل مسائل ان سے حل کراتے تھے اوران کی فطری ذہانت وطباعی سے خوش ہوکر داد دیتے تھے۔ 
حضرت یعقوب بن زید ؒ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  سے مشورہ کرتے اور فرماتے: اے (معاملہ کی تہہ میں ) غوطہ لگانے والے غوطہ لگاؤ اور اس اہم مسئلہ میں اپنی رائے دو۔ حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ: میں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  سے زیادہ حاضر دماغ، زیادہ عقلمند، زیادہ علم والا اور زیادہ بردبار نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  ان کو پیچیدہ مسائل پیش آنے پر بلاتے اور ان کے مشورے ہی پر عمل کرتے، حالانکہ ان کے آس پاس بدری حضرات، مہاجرین وانصار کا مجمع ہوتا۔ (حیاۃ الصحابہؓ، مترجم، ص:۶۱، ج:۲، بحوالہ ابنِ سعد)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کو اپنے بعد مسلمانوں کے خلیفہ کی بڑی فکر رہتی تھی اور اس حوالے سے بھی آپ نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  سے مشورہ طلب کیا تھا اور اس فکر کا اظہار اُن کے سامنے بھی کیا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  کی موجودگی میں گہرا سانس لیا اور اسی معاملے میں گفتگو فرمائی۔ اس کے آخر میں فرمایا کہ اس امرِ خلافت کی صلاحیت صرف وہ شخص رکھتا ہے جو مضبوط ہو لیکن درشت نہ ہو، نرم ہو لیکن کمزور نہ ہو، سخی ہو لیکن فضول خرچ نہ ہو، احتیاط سے خرچ کرنے والا ہو لیکن کنجوس نہ ہو۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  فرمایا کرتے تھے کہ: یہ تمام صفات تو صرف حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  ہی میں پائی جاتی تھیں۔ (ایضاً، ص:۴۶، بحوالہ غریب الحدیث لأبي عبید)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  بھی حضرت فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ  کو نائبِ رسول کی جگہ دیکھتے تھے اور ایک مخلص رفیق کی حیثیت سے مناسب مشورے دیتے تھے، جیساکہ ان کے طرزِ عمل اور مندرجہ بالا بیان سے ظاہر ہے۔ بخاری شریف کی ایک حدیث میں ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  جس طرح سے سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کا ذکر فرما رہے ہیں، اس سے بھی آپ کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کا مقام و مرتبہ عیا ں ہے:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : شَہِدَ عِنْدِيْ رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، وَأرْضَاہُمْ عِنْدِيْ عُمَرُ، أنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَشْرُقَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ۔‘‘          (صحیح البخاري، کتاب المواقیت)
’’ابن عباس  رضی اللہ عنہما  نےفرمایا کہ: میرے سامنے چند پسندیدہ حضرات نے گواہی دی، جن میں سب سے زیادہ پسندیدہ میرے نزدیک عمر  رضی اللہ عنہ  تھے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ ‘‘

عہدِ عثمانی ؓ میں

حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کے بعد حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے دور میں بھی سلطنت کے کاموں میں آپ کی حیثیت مشیر اور مفتی کی تھی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  آپ سے مختلف فقہی امور میں بھی مشاورت فرماتے تھے۔ جس سال سیدنا عثمان  رضی اللہ عنہ  کی شہادت کا سانحہ پیش آیا، اس سال آپ نے اپنی جگہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کو امیرِ حج بنا کر روانہ فرمایا۔ اس کا قصہ بھی عجیب ہے کہ امیرالمومنین سیدنا عثمان  رضی اللہ عنہ  نے باغی گروہ کے محاصرے کے دوران اپنی چھت پر سے آواز دے کر ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  کو بلایا اور فرمایا کہ آپ میری جگہ اس سال لوگوں کو حج کروائیں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما  نے عرض کیا کہ میرے نزدیک اس باغی گروہ سے مقابلہ حج سے زیادہ اہم ہے، لیکن امیر المومنین نے آپ کو حکماً امیرِ حج بنا کر روانہ کیا۔ آپ کو حج سے واپسی سے قبل ہی حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کی شہادت کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر سب لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کی شہادت پر اتفاق کرلیتے تو ان پر پتھروں کی بارش ہوتی (لیکن چونکہ ایک مختصر سی باغی اوباشوں کی جماعت نے یہ کیا، باقیوں نے اتفاق نہیں کیا، بلکہ مخالفت کی، اس لیے سب محفوظ رہے۔ )

دورِ مرتضوی ؓ میں

دورِ مرتضویؓ میں حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  نے حکومت میں نمایا ں خدمات سرانجام دیں ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ کو بصرہ کی امارت سونپی۔ آپ نے جنگِ صفین میں حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کی طرف سے شرکت کی، بلکہ ایک دستے کی کمان آپ کے پاس تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زندگی تک بصرہ میں امارت کی، آپ کی شہادت کے بعد بصرہ پر عبداللہ بن حارث کو امیر مقرر کرکے خود حجاز واپس تشریف لے آئے۔ 

حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے نزدیک مرتبہ

حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  سے حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کے تعلقات محبت و اخوتِ دینی پر مبنی رہے۔ آپ نے حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  سے احادیث بھی روایت کی ہیں۔ اور کئی شرعی مسائل میں ان پر اعتماد کیا ہے۔ (رحماء بینہم، مولانا محمد نافع  رحمۃ اللہ علیہ ، ص:۸۲۳، دارالکتاب) مثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کا عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھنے کا ذکر کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا کہ ان کی بات رہنے دیجیے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابیؓ ہیں۔ (صحیح البخاري، باب ذکر معاویۃ رضي اللہ عنہ، حدیث :۳۷۶۴)
اسی باب کی دوسری روایت میں ہے کہ ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  نے یوں فرمایا کہ: انہوں نے درست عمل کیا ہے، وہ فقیہ ہیں، یعنی دین کی عمدہ سمجھ رکھنے والے ہیں۔ (ایضاً، حدیث:۳۷۶۵)
حضرت ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  نے اپنے شاگردوں کو یہ بات سنائی کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  نے انہیں بتا یا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  قینچی کے ساتھ اپنے موئے مبارک (بال) تراشتے۔ (رحماء بینہم، ص:۸۲۴، بحوالہ مسند احمد:۴/۹۵، مسندات معاویہ بن ابی سفیانؓ)
اس طرح عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی انتظامی صلاحیتوں کے معترف تھے، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ میں نے حکمرانی کے لائق معاویہ  رضی اللہ عنہ  سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضا، ص:۸۲۴، بحوالہ: التاریخ الکبیر للبخاري ذکر معاویۃ بن أبي سفیانؓ)
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  نے حضرت ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  سے چند مسائل کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا :اے ابنِ عباسؓ! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنے اہلِ بیتؓ کی زبان ہیں، پھر اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کہا: میں نے جب بھی ان سے بات کی تو انہیں مستعد پایا۔ (معرفۃ الصحابۃؓ: ۳/۱۷۰۲، رقم: ۴۲۵۹)

زندگی کے آخری ایام 

زندگی کے آخری سالوں میں طائف کو زینت بخشی۔ آخر عمر میں ظاہری بینائی چلی گئی تھی، اس کی وجہ بھی ایک عجیب واقعہ ہے:
حضرت ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تو انہیں پہچانا نہیں، چنانچہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے معلوم کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سوال کیا: کیا تو نے اسے دیکھ لیا؟ آپؓ نے جواب دیا: جی ہاں!۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: وہ جبریل تھے، خیال کرنا تیری بینائی عنقریب چلی جائے گی۔ اس کے بعد آخر عمر میں آپ ؓ نابینا ہوگئے، اسی حوالے سے ان کے اشعار ہیں:

إن يأخذ اللہ من عيني نورہما
ففي لساني وقلبي منہما نور
قلبي ذکيّ وعقلي غير ذي دخلٍ
وفي فمي صارم کالسيف مأثور

’’اگر اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کی بینائی لے لی تو میری زبان اور دل میں ان کی وجہ سے نور ہے، میرا دل ہوشیاراور عقل میں فتور نہیں اور میرے منہ میں عمدہ تلوار کی تیزی رکھنے والی موتی بکھیرنے والی زبان ہے۔ (الاستیعاب:۳/۹۳۸)

نماز کی خاطر بینائی کی قربانی
 

مسیب بن رافع رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا گیا کہ جب ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  کی بینائی جاتی رہ گئی تو ان کے پاس ایک صاحب آئے اور کہا کہ اگر آپ سات روز صبر فرمالیں اور نماز اشاروں سے پڑھیں تو میں آپ کا علاج کروں گا، ان شاءاللہ! آپ تندرست ہو جائیں گے۔ آپ نے حضرت عائشہ وابوہریرہ رضی اللہ عنہما  اور دیگر اصحابِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھجوایا، سب نے کہا کہ اگر ان سات دنوں میں آپ کی وفات ہوجائے تو پھر آپ نماز کا کیا کریں گے؟ چنانچہ آپ نے آنکھ کو اسی طرح رہنے دیا اور علاج نہ کروایا۔ (مستدرک، ذکر عبداللہ بن عباسؓ:۶۳۱۹)
زیادہ صحیح قول کے مطابق ۶۸ سن ہجری میں طائف میں انتقال ہوا۔ نمازِجنازہ آپ کے عم زاد‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کے بیٹے حضرت محمد بن حنفیہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے پڑھائی اور فرمایا: ’’مات واللہ الیوم حبرُ ھٰذہ الأمۃ‘‘: آج کے دن اس اُمت کا بڑا عالم فوت ہوگیا۔ عمرو بن دینارؒ نے آپ ؓ کی وفات پر فرمایا: ’’مات ربّانيّ ھٰذہ الأمۃ‘‘:اس امت کا اللہ والا فوت ہوگیا۔ (الإصابۃ، ۴/۱۳۰)

تدفین سے پہلے کا عجیب واقعہ

اللہ تعالیٰ بسااوقات اپنے نیک بندوں کی دنیا سے رخصتی کے وقت ایسے واقعات ظاہر فرماتے ہیں جس سے پیچھے رہ جانے والوں کے یقین وعمل میں ترقی ہوتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کی وفات کے بعد اور دفن سے پہلے ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنی عمدہ تصنیف ’’الإصابۃ في تمییزالصحابۃؓ‘‘ میں حضرت مجاہد، سعیدبن جبیر  رحمۃ اللہ علیہم  وغیرہ سے کچھ فرق کے ساتھ یہ واقعہ نقل کرتے ہیں :
جب حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کا طائف میں انتقال ہوا تو ایک ایسا سفید رنگ کا پرندہ دیکھا گیا جو اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ وہ پرندہ آیا اور حضرت ابنِ عباسؓ کے کفن کے اندر چلا گیا، اس کے بعد باہر نہیں آیا۔ جب آپ ؓ کو قبر میں رکھ دیا گیا تو ایک پڑھنے والے کی آواز سنی گئی جو کہ رہا تھا:
’’يٰاَيَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِيْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِيَۃً مَّرْضِيَّۃً فَادْخُلِيْ فِيْ عِبَادِيْ وَادْخُلِيْ جَنَّتِیْ‘‘
’’اے مطمئن ہوجانے والے جی! اپنے رب کی طرف لوٹ اس حالت میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے، پس داخل ہوجا میرے بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔‘‘ (الإصابۃ: ۴/۱۳۰، وتفسیر البغوي:۸/۴۲۵، طیبۃ)
وفات کے وقت آپ ؓ کی عمر ۷۱برس تھی۔ (الإصابۃ:۴/۱۳۱)

حلیہ مبارک

اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  کو حسنِ سیرت کے ساتھ ساتھ حسنِ صورت میں بھی ممتاز کیا تھا، آپ سفید رنگت اور طویل القامت تھے، سر کے بال وفرہ تھے جن پر مہندی لگاتے تھے۔ کامل العقل اور پورے اور بارعب شخصیت کے حامل تھے۔ عطاؒ کہتے ہیں :میں جب چودھویں رات کا چاند دیکھتا ہوں تو مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کا چہرہ یاد آجاتا ہے۔ عکرمہؒ فرماتے ہیں کہ جب ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  راستے پر سے گزرتے تو عورتیں دیواروں پر سے کہتیں کہ مشک گزری ہے یا ابنِ عباس  رضی اللہ عنہما  گزرے ہیں۔ (سیر أعلام النبلاء:۳/۳۳۶، ۳۳۷، ط: رسالۃ)

اولاد

آپ ؓ کثیر الاولاد تھے۔ سب سے بڑے بیٹے عباس اور سب سے چھوٹے علی تھے۔ علی بن عباس کی اولاد میں عباسی خلفاء پیدا ہوئے۔ فضل، محمد اور عبیداللہ سے آگے نسل نہ چلی۔ بیٹیاں لبابہ اور اسماء میں سے بھی اولاد ہوئی۔ (ایضاً: ۳/۳۳۳)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے