
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی
قیامِ پاکستان کے ۲۶ ؍سال بعد ۷ ؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اسلامیانِ پاکستان کو سب سے بڑی اور حقیقی خوشی یہ حاصل ہوئی کہ تقریباً ایک صدی کی جدوجہد کے بعد کسی آزاد اسلامی جمہوری ملک میں مسلمانوں کے اہم ترین عقیدہ ’’ختمِ نبوت ‘‘ کو آئینی تحفظ میسر آیا۔ تحریکِ ختمِ نبوت کی امارت کا اعزاز عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے مرکزی امیر محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل تھا اور پارلیمان میں علماء امت کی ترجمانی کا شرف حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کو نصیب تھا، جبکہ دیگر تمام مسالک کے علماء کرام میدانِ عمل اور پارلیمان میں ان ہر دو بزرگوں کے شانہ بشانہ تھے، اس مشترکہ مخلصانہ محنت کی بدولت اللہ تعالیٰ نے یہ کامیابی مقدر فرمائی۔ حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں اپنے استاذِ گرامی قدر امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے صحیح علمی و فکری جانشین تھے، جنھیں قادیانی فتنے کی زہرناکی نے بسمل کی طرح تڑپائے رکھا اور آپ چھ ماہ تک راتوں کو اس فکر میں گھلتے رہے کہ اس فتنے کا سیلاب دینِ اسلام کے گلشن کو نہ اُجاڑ دے، یہ تڑپ آپ کو سونے نہ دیتی تھی ۔ یہی درد و احساس اور اضطراب حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ میں منتقل ہوا اور آپ کی فکرمندی اور نالۂ نیم شبی کے صدقے قادیانیت کے فتنے کو پاکستان میں آئینی طور پر بھی غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلانے کے بعد آپؒ نے علمائےکرام اور مخلص مسلم عوام کو اس جانب متوجہ فرمایا کہ اس فتنے کے مکمل خاتمہ کے لیے قادیانیوں کو دعوتِ اسلا م دی جائے، انھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامنِ رحمت میں لانے کی محنت کی جائے، قادیانی وساوس کا شکار عوام کے شبہات رفع کیے جائیں۔ آپ ؒ نے ایک موقع پر مسلمانوں کو اس کام کی تحریض و ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’ ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے تمام فروعی اختلافات ہمیشہ کے لیے بھلا کر تبلیغِ اسلام اور ردِ مرزائیت میں مشغول ہوجائیں ۔ ‘‘
(ماہنامہ بینات، شعبان المعظم ۱۳۸۷ ھ ۔ بصائر و عبر، حصہ دوم، صفحہ: ۲۰۷ )
چنانچہ آپؒ نے خود بھی پاکستان اور بیرونی ممالک کے دورے کر کے وہاں مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی شاخیں قائم فرمائیں اور اپنے تربیت یافتہ شاگردوں کو بھی اندرون و بیرونِ ملک اس کام میں لگائے رکھا، انھیں اس کام کے مفید و مؤثر طریقے وضع کر کے دیے او ر دوسری مثبت و کار آمد ترتیبات قائم فرمائیں۔
اس فیصلے کو تقریباً اکیاون سال ہو چکے ہیں اور یہ مہینہ بھی ستمبر ہی کا ہے، اس لیے ہم سب مسلمانوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ اپنے ان اکابر کی محنتوں اور ان کے عملی طریقوں کو سامنے رکھ کر دامے، درمے، قدمے، سخنے اس کام میں لگ جائیں، تاکہ یہ فتنہ اندرون و بیرونِ ملک اپنے بیخ وبن سے ختم کیا جا سکے، اور اپنے مسلمان بھائیوں کے دین وایمان کی حفاظت ہو سکے ۔