بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

تبصرہ وتعارف (نقدونظر)

تبصرہ وتعارف (نقدونظر)

 

جامع الدروس العربیۃ (المرتَّب حسب مباحث الصرف والنحو والبلاغۃ والعروض)

تالیف: شیخ مصطفیٰ الغَلایینی رحمۃ اللہ علیہ   (۱۳۰۴-۱۳۶۴ھ)۔ ترتیب و تسہیل و تخریج : مولانا سید عبدالرشید بن مقصود ہاشمی ۔ صفحات: ۸۰۰۔ نٹ قیمت: ۲۰۰۰۔ ناشر: مکتبۃ الحماد، دکان نمبر: ۸، سلام کتب مارکیٹ، بالمقابل جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی۔ رابطہ نمبر: 03343455955
عربی زبان کو دنیا کی باقی تمام زبانوں کی بنسبت دینی فضیلت و شرف حاصل ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سب سے افضل کلام قرآن مجید کی زبان ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان ہے، اہلِ جنت کی زبان ہے۔ دینِ اسلام کا بنیادی ماخذ و لٹریچر چونکہ عربی زبان میں ہے، اس لیے علماء دین کے لیے عربی زبان سے واقفیت اور اس کا سیکھنا سکھانا ضرورت کے درجہ میں ہے، نیز عربی زبان دنیا کی سب سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان ہے، جس کے کماحقہٗ سمجھنے کے لیے کئی علوم وفنون کے اُصول وضوابط مقرر کیے گئے ہیں، ان علوم کا سیکھنا سکھاناعربی زبان سے واقفیت کے لیے ضروری ہے، ان کے بغیر عربی زبان کو کماحقہ سمجھنا مشکل ہے، مثلاً: علم صرف، علم اشتقاق، علم نحو، علم بلاغت، علم عروض وقوافی، علم بیان، علم معانی، علم بدیع، وغیرہ ۔
زیرِتبصرہ کتاب عربی زبان کے سیکھنے سکھانے کے لیے ضروری علوم: علمِ صرف، علمِ نحو، علمِ بلاغت اور علمِ عروض کے مباحث پر مشتمل ایک قابلِ قدر خزانہ ہے، اس کتاب میں مذکورہ علوم کے اصول وضوابط کو آسان کرکے پیش کیا گیا ہے، اور ہر اُصول وضابطہ کو کئی کئی مثالوں سے سمجھایا گیا ہے، ان مثالوں میں اچھی خاصی مقدار قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ کی ہے، جن کی تخریج بھی کی گئی ہے۔
اصل کتاب بیروتی لبنانی عالم شیخ مصطفیٰ الغَلایینی رحمۃ اللہ علیہ  کی تالیف کردہ ہے، جو چار علوم کے مباحث پر مشتمل ہے: علم صرف، علم نحو، علم بلاغت، علم عروض۔ اصل کتاب میں ترتیب و انداز کسی قدر مغلق تھا، بالخصوص قواعدِ صرفیہ کے متفرق ومنتشر ہونے کی وجہ سے ضبط میں مشکل پیش آتی تھی، مرتبِ کتاب مولانا عبدالرشید ہاشمی صاحب استاذ مدرسہ ابن عباسؓ، گلستانِ جوہر کراچی نے کتاب کے تمام مباحث کو مرتّب کرنے کے ساتھ ساتھ تسہیل ، تصحیح، تخریج اور ترقیم کا اہتمام کیا ہے۔ ہر باب کو عنوان دے کر اس کے شروع میں ہی تمام مباحث اور فصول کا اجمالی تذکرہ کتاب کے مضامین کے ضبط و حفظ کو مزید آسان بناتا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے کتاب کی اجمالی فہرست پیش کی جارہی ہے، جزوِ اول (علم صرف)کی فہرست درج ذیل ہے:
ترجمۃ المؤلف، مقدمۃ المؤلف، المقدّمۃ، الباب الأول: الفعل و أقسامہ، الباب الـثاني: الاسم و أقسامہ، الباب الثالث: تصریف الأفعال، الباب الرابع: تصریف الأسماء، الباب الخامس: تصریف الأفعال والأسماء، الباب السادس: المبني والمعرب من الأفعال۔ 
جزوِ ثانی (علم نحو)کی فہرست درج ذیل ہے:
المقدّمۃ: اللغۃ العربیۃ وعلومھا، الباب الأول: الفعل وأقسامہ، الباب الثاني: الاسم وأقسامہ، الباب الثالث: المبني والمعرب من الأفعال، الباب الرابع: إعراب الأسماء وبناؤھا، الباب الخامس: مرفوعات الأسماء، الباب السادس: منصوبات الأسماء، الباب السابع: مجرورات الأسماء، الباب الثامن: التوابع وإعرابھا، الباب التاسع: حروف المعاني، الخاتمۃ۔
کتاب کے آخرمیں تقریباً پچاس صفحات میں ’’المباحث البلاغیۃ والعروضیۃ‘‘ کے عنوان سے علم بلاغت اور علم عروض کی مباحث ہیں ۔ 
کتاب اپنی علمی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ظاہری خوبیوں سے بھی مُزیَّن ہے۔ کتاب کا کاغذ اعلیٰ (پیلا میٹ پیپر)، طباعت دو رنگہ، جلد مضبوط، ٹائٹل بیروتی اسٹائل اور ریگزین کا ہے۔ 
علومِ عربیہ سے شغف رکھنے والے علماء اور طلبہ کو اس کتاب کا ایک بار ضرور مطالعہ کرلینا چاہیے اور علومِ عربیہ کی مراجعت و تصدیق اور تحقیق کے لیے بھی اس کتاب کا لائبریری میں ہونا مفید بلکہ ضروری ہے ۔ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے