
تالیف و تحقیق: ڈاکٹر سید انور علی باچا صاحب۔ صفحات: ۳۵۱۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: شمس پبلشر، ٹوپی، ضلع صوابی۔ رابطہ نمبر: 03005069309
علمِ فقہ، قرآن و حدیث سے مستنبط علم ہے، جس سے شرعی مسائل و احکام مرتب و مدوَّن شکل میں سامنے آئے۔ یوںتو فقہ کا وجود قرآن وحدیث کے وجود سے ہے، مگر باقاعدہ مستقل علم کے طور پر اس کے اصول، ضوابط، اور اصطلاحات پہلی صدی ہجری کے بعد مدوَّن کیے گئے۔ مختلف فقہی مسالک کا وجود بھی فقہی اصول وضوابط کے اختلاف کی بدولت وجود میں آیا، جن میں سے بعض فقہی مسالک تو وقت کی دھول تلے دَب گئے اور بعض کو شہرت و دوام نصیب ہوا اور اُمتِ مسلمہ کی اکثریت انہی معروف فقہی مسالک کی پیروکار ہے۔
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ حنفی کو اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت عطا فرمائی، حتیٰ کہ کئی ملکوں اور ریاستوں کا سرکاری اور ریاستی مذہب قرار پائی اور باقاعدہ عدالتوں میں قانون کی حیثیت سے تسلیم کی گئی۔فقہ حنفی کا فیض جہاں دیگر علاقوں مصر، عراق، ترکی، وسط ایشیاء کی ریاستوں میں پھیلا، وہاں برصغیر میں بھی اس کو سرکاری مذہب کے طور پر قبول و عروج ملا۔ برِصغیر میں مغلیہ عہد حکومت کو فقہ حنفی کے عروج کا زمانہ کہا جاسکتا ہے، بالخصوص اورنگزیب عالمگیرؒ کا دور فقہ حنفی کے لیے سنہرا دور ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب مؤلف ومحقق کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، جس پر ان کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی گئی ہے، اس کے لیے انہوں نے محنت و مشقت کے ساتھ ملک بھر کے اسفار کرکے کتب خانوں سے متعلقہ مواد جمع کیا ۔ مؤلف نے اسی مقالہ کو مزید ترتیب دے کر شائع کیا ہے۔
کتاب کل پانچ ابواب پر مشتمل ہے، جو درج ذیل ہیں:
بابِ اول: برصغیر پاک وہند میں فقہ حنفی کا آغاز وارتقاء
بابِ دوم: برصغیر میں فقہِ حنفی کی تنفیذو اشاعت میں مغل حکمرانوں کا کردار
بابِ سوم: برصغیر میں فقہِ حنفی کی تدوین واشاعت میں قضاۃ اور مفتیان کا کردار
بابِ چہارم: برصغیر میں فقہِ حنفی کی ترویج واشاعت میں مؤلفین اور فقہاء کا کردار
بابِ پنجم: برصغیر میں فقہِ حنفی کی ترویج واشاعت میں مدارس کا کردار
اس کتاب میں قاری کو درج بالا عناوین پر بہترین تحقیق شدہ مواد مل سکتاہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر فقہاء حنفیہ کے حالات بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ نیز ۱۵۲۶ ء سے لے کر ۱۹۰۰ ء تک کے مغل حکمران، قاضی، فقہاء، مفتیانِ کرام اور مؤلفین کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ ان کے حالات کسی قدر تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔
محقق موصوف نے احوال واَبحاث کے جو نتائج اور خلاصہ جات لکھے ہیں، اس سےمحقق کی قوتِ استدلال اور صلاحیت وملکہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ نیز حوالہ جات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مؤلف موصوف نے ہر موضوع پر بنیادی مصادر و مراجع کا مطالعہ کیا ہے۔
کتاب کا کاغذ اور طباعت مناسب ہے اور سر ورق بہتر ہے۔ کتاب کی سیٹنگ مزید توجہ چاہتی ہے، اگلے ایڈیشن میں مناسب سیٹنگ کے ذریعہ کتاب کے صفحات کو مزید کم کیا جاسکتا ہے۔
فقہ حنفی سے دلچسپی رکھنے والے علماء، مفتیان، اساتذہ اور طلبہ کے لیے اس کتاب میں بہترین مواد ہے۔