بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

تبصرہ وتعارف ، نقدونظر

تبصرہ وتعارف ، نقدونظر

 

چند عبقری شخصیات
مؤلف: مفتی عبد الرؤوف غزنوی صاحب مدظلہم۔ استاذِ حدیث جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی وسابق استاذ دار العلوم دیوبند، انڈیا۔ صفحات: ۴۷۵۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ غزنوی، سلام کتب مارکیٹ، بالمقابل جامعہ بنوری ٹاؤن،کراچی۔ رابطہ نمبر: 0333-2114000
حضرت مولانا مفتی عبد الرؤوف غزنوی مدظلہم کئی علمی نسبتوں کے جامع اور امین ہیں، آپ کا مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند ہے، اور آپ کو وہاں کئی سال تدریس اور دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد (مسجد قدیم) میں امامت اور خطابت کا بھی شرف حاصل ہے، نیز جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں بھی تدریس کو تقریباً تین دہائیاں بیت چکی ہیں اور اس وقت بھی جامعہ میں صحیح بخاری اور جامع ترمذی جیسی اہم کتب آپ سے متعلق ہیں۔ آپ عمدہ تدریسی ذوق کے ساتھ ساتھ اردو اور عربی کا شستہ اور شائستہ تحریری ذوق بھی رکھتے ہیں، اب تک اردو اور عربی زبان میں ان کے کئی تحریری مجموعے شائع ہوکر اہلِ علم و اصحابِ ذوق سے داد حاصل کرچکے ہیں۔ 
زیرِ تبصرہ کتاب ’’چند عبقری شخصیات‘‘ گزشتہ سال شائع ہوئی ہے، جو برصغیر پاک وہند، عرب ممالک اور افغانستان کی ممتاز اور چنیدہ ۲۳ علمی شخصیات پر تأثراتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ کل شخصیات و مضامین کی تعداد۲۳ ہے، ان میں سے چند اہم شخصیات کے نام درج ذیل ہیں:
مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، مولانا عبدالرحمٰن غزنویؒ، مولانا عبد الغفور غزنویؒ، مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، مولانا معراج الحق دیوبندیؒ، مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ، شیخ عبد الفتاح ابوغدہؒ، شیخ عبد العزیز ابن بازؒ، شیخ ابن عثیمینؒ،مولانا حبیب اللہ مختار شہیدؒ، مفتی رحمت اللہ شہیدؒ، مولانا ریاست علی بجنوریؒ، مفتی سعید احمد پالن پوریؒ، وغیرہ۔ 
بلاشبہ اس کتاب کی یہ نمایاں خصوصیت قرار دی جاسکتی ہے کہ یہ ایک مستند کتاب ہے، جس کی معلومات یقین کی حد تک درست ہیں، کیونکہ اس کتاب کے مؤلف کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ ایک محقق شخصیت ہیں، جو بغیر تحقیق کے کوئی بات تحریر میں تو کجا زبان پر بھی نہیں لاتے۔ مؤلف کسی شخصیت سے متعلق تبصرہ و تجزیہ میں بھی انتہائی محتاط ہیں، ان کے مضامین میں شخصیات سے متعلق نپے تلے تجزیے بھی انتہائی اہمیت وافادیت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہیں۔ یہ کتاب تذکرہ وسوانح کے باب میں ایک مفید اور جاندار اضافہ ہے۔ اُمید ہے اہلِ ذوق اس کتاب سے استفادہ کریں گے ۔ 
کتاب کا ٹائٹل خوبصورت، کاغذ اعلیٰ اور طباعت عمدہ ہے۔ 
تاریخی مکاتیب (جلد اول ودوم) 
ترتیب و تحشیہ: مولانا محمد طفیل کوہاٹی۔ صفحات جلد اول: ۲۶۶۔ صفحات جلد دوم:۳۹۷۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: ادارہ اشرفیہ عزیزیہ، کوہاٹ۔ رابطہ نمبر: 0332-5056978
مکاتیب‘ اردو ادب کی ایک اہم صنف ہے، جس میں دو شخصیتوں کے باہمی ربط وتعلق کے بے تکلف اظہار کے ساتھ ان کے افکار وخیالات کا مستند ذریعہ سے علم ہوتا ہے، اور فکر ونظر خود شخصیت کے قلم سے سامنے آتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی، خواجہ محمد معصوم، شاہ ولی اللہ، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہم اللہ اور عرب وعجم کی دیگر اَن گنت شخصیات کے مجموعہ ہائے مکاتیب اس صنف کا قیمتی ذخیرہ ہیں۔ ان مجموعوں کی نوعیتیں بھی مختلف ہیں، بعض پر علمی رنگ غالب ہے اور بعض پر اصلاح وسلوک کا، اور بعض میں باہمی تبادلۂ خیالات کا۔ ان مجموعوں سے استفادہ کرتے ہوئے متعلقہ شخصیات، ان کے افکار وخیالات اور دیگر پہلؤوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ 
اردو ادب میں مکاتیب کی تدوین واشاعت کے حوالے سے بنیادی طور پر دو رُخ دیکھنے کو ملتے ہیں: ایک طبقہ ان مکاتیب کو بلا کم وکاست پیش کرنے کا روادار ہے، اور دو شخصیتوں کے باہمی سربستہ رازوں،  دیگر معاصر وقدیم شخصیات کے متعلق ان کی آراء وافکار، اور خالص نجی نوعیت کے احوال کو بھی جُوں کا تُوں شائع کرنے کا داعی ہے، جبکہ دوسرے طبقے کی رائے ہے کہ نجی نوعیت کے مکاتیب میں شرعی اُصولوں کی پاس داری ضروری ہے۔ 
ہمارے بزرگوں نے مکاتیب کے جو مجموعے شائع کیے ہیں، ان میں شرعی اصولوں کا لحاظ رکھا ہے، مثلاً: ’’اذکروا محاسن موتاکم، وکفوا عن مساويہم۔‘‘ (ابوداود وترمذی) یعنی ’’اپنے مُردوں کی خوبیوں کا تذکرہ کرو، اور ان کی خامیوں کے ذکر سے گریز کرو۔‘‘ اور ’’أقيلوا ذوي الہيئات عثراتہم إلا الحدود۔‘‘ (ابوداود ونسائی) یعنی ’’ایسے لوگ جو معاشرے میں مرتبہ ومقام کے حامل ہوں، اور ان کی خوبیاں‘ خامیوں پر غالب ہوں، حدود کے معاملات کے سوا اُن کی لغزشوں سے درگزر کرو۔‘‘ کیونکہ ایسے لوگوں کی خامیاں اُچھالنے سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ یہ دونوں حدیثیں دیگر جہتوں کے علاوہ مکاتیب کی اشاعت کے لیے اہم اصول کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔
پیشِ نظر مجموعہ مکاتیب جواں سال عالم مولانا محمد طفیل کوہاٹی کی محنت وکاوش کا نتیجہ ہے، انہیں اپنے اکابر کے افادات عام کرنے کا قابلِ رشک جذبہ ہے، وقتاً فوقتاً ان کے مفید کام سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس مجموعے کی پہلی جلد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ  کے ۱۰۷ خطوط پر مشتمل ہے، اور دوسری جلد مولانا عبد الحق نافع گل  رحمۃ اللہ علیہ  کے نام محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے ۱۴۲ خطوط پر مشتمل ہے۔ مرتب موصوف کی کوشش قابل داد ہے، انہوں نے خطوط کی تدوین اور ترتیب میں کافی محنت کی ہے، لیکن بعض پہلؤوں سے مزید توجہات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے:
کتاب کی دوسری جلد کے بعض مکاتیب ماہنامہ بینات میں بھی شائع کیے گئے ہیں، لیکن مرتب محترم کو شکوہ ہے کہ بینات میں ان خطوط کو مکمل شائع نہیں کیا گیا۔ ادارہ بینات اس سلسلے میں شرعی اصولوں کا پابند اور بزرگوں کے مذکورہ بالا منہج پر گامزن ہے۔ ان مکاتیب میں بعض خالص نجی نوعیت کی باتیں بھی آگئی ہیں، جنہیں جانبین کے درمیان راز کی حیثیت حاصل ہے، ایسے امور میں خود کاتب ومکتوب الیہ یا ان کے ورثاء کی اجازت دیانتاً ضروری معلوم ہوتی ہے، بلکہ بعض اُمور میں ورثاء کی اجازت کے بعد بھی ان امور کی اشاعت مناسب نہیں ہوگی۔ شخصیات کے ابتدائی دور کے بعض احوال ان کے آخری دور یا ان کی وفات کے بعد اُجاگر کرنا مناسب نہیں ہوتا، بلکہ ایسے امور میں احتیاط برتنا ہی مناسب ہوتا ہے، ہمارے اکابر کا یہی اُسلوب رہا ہے اور ادارہ بینات بھی نجی نوعیت کے ایسے امور کو منظرِ عام پر لانا شرعاً مناسب نہیں سمجھتا۔
مرتب محترم نے مکاتیب کے کئی مقامات پر حواشی لکھے ہیں، مگر اس معاملہ میں توازن واعتدال محسوس نہیں ہوتا، بعض جگہ حاشیے کی اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوتی جس قدر اہتمام کیا گیا ہے، جب کہ بعض مواقع پر حاشیہ لگانا مناسب معلوم ہوتا ہے، وہاں کوئی وضاحت یا حاشیے کا اضافہ نہیں کیا گیا۔
اُمید ہے کہ مرتب موصوف ان نکات پر غور کرتے ہوئے آئندہ طبع میں نظرِ ثانی کا اہتمام کریں گے۔ کتاب کا کاغذ اور معیارِ طباعت بھی مزید توجہ کا متقاضی ہے۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے