بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

بڑوں سے بےنیازی  ۔۔۔  بربادی کا راستہ

بڑوں سے بےنیازی  ۔۔۔  بربادی کا راستہ


ہر دور میں اُمتِ مسلمہ کو پیش آنے والے فتنوں میں سب سے خطرناک فتنہ یہ رہا ہے کہ لوگ اپنی رہنمائی کے اصل سرچشموں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جب اُمت اپنے اکابر، علماء ربانیین، اور وارثینِ انبیاء سے بے نیاز ہو جاتی ہے تو وہ فکری گمراہی، عملی انتشار اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے مخلص، سچے اور درد مند بزرگوں کی پہچان کھو دی، وہ قوم گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہی۔ اکابر کا مقام محض علمی و فکری برتری کا نام نہیں، بلکہ وہ ایمان، تقویٰ، علم، اخلاص اور اُمت کے درد کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے ’’فَسْاَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ‘‘ کے ذریعے ان کی طرف رجوع کا حکم دیا، آج کا اَلمیہ یہ ہے کہ نئی نسل نہ صرف ان اکابر کی سوانح اور خدمات سے غافل ہے، بلکہ بعض اوقات زبان و قلم سے ان کی توہین و تنقیص بھی ہو رہی ہے۔ اصلاحِ امت کے ہر شعبے میں، ہر تحریک میں، اور ہر خیر کے مرکز میں اکابر کی موجودگی اور راہنمائی ایک مستقل سنتِ الٰہی ہے۔ بدقسمتی سے آج بعض طبقے نہ صرف ان اکابر سے بے نیاز ہو گئے ہیں، بلکہ خود ساختہ فکری لیڈر اور دینی رہنما بن بیٹھے ہیں، جن کا نہ علم معتبر ہے نہ نسبت۔ اکابر سے بے نیازی انسان کو بربادی کے اندھیرے کنویں کی طرف دھکیلتی ہے، کیونکہ یہ رویہ ان عظیم ہستیوں کی عزت و منزلت کو فراموش کرنے کا باعث بنتا ہے، جو اپنی حکمت، کردار، اور کارناموں سے معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہوتے ہیں۔ 
مولانا محمد سلمان بجنوری مدظلہ استاذ دارالعلوم دیوبند رقم طرازہیں:
’’دراصل یہ حق وباطل کی ایک رزمِ مسلسل ہے جس کا آغاز اسی وقت ہوگیا تھا جب اللہ کی طرف سے حق اپنی آخری اورکامل ومکمل شکل میں اسلام کے نام سے آیا، اس وقت اسلام کی مخالفت کا ایک سلسلہ تو کفار ومشرکین کی جانب سے براہِ راست شروع ہوا؛ لیکن ایک دوسرا سلسلہ یہود ونصاریٰ کی جانب سے شروع ہوا جو اس قدر کھلا اور سیدھا مقابلہ نہیں تھا؛ بلکہ آج کل کی زبان میں بڑی حد تک پراکسی وار (غیرراست جنگ) کی حیثیت رکھتا تھا؛ لیکن دنیا کے مزاج کے مطابق یہی زیادہ خطرناک اور دوررس تھا۔ یہود ونصاریٰ نے ابتدائی دور میں عمومی طور پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف راست جنگ سے گریز کیا؛ مگر اسلام اور پیغمبرِاسلام کے خلاف پروپیگنڈہ اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انھوں نے اسی دور سے اسلامی تعلیمات کو نشانہ بنانے، قرآن کے بارے میں شک پیدا کرنے اور حضور k کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش ایک مہم کے طور پر جاری رکھی، اس مہم نے تاریخ کے ایک موڑ پر تحریکِ استشراق کی شکل اختیار کی اور اب جہاں کہیں بھی اس ذہنیت کے افراد یا تحریکات سامنے آتی ہیں، وہ اسی تحریکِ استشراق کے برگ وبار اور اسی کلی کی جزئیات ہیں۔ اب ظاہر ہے، ایک مسلسل تحریک کا مقابلہ وقتی اقدامات سے تو نہیں ہوسکتا؛ اس لیے ضرورت ہے کہ اس میدان میں منصوبہ بندی کے ساتھ جہدِمسلسل کا آغاز کیا جائے۔‘‘         (ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، جون ۲۰۲۲ء)
موجودہ پرفتن دور جو بہت ساری دین بیزاری اور منفی چیزوں سے بھرا پڑا ہے، ان میں سب سے خطرناک چیز اکابر پر عدمِ اعتماد ہے، جس کی وجہ سے انسان جہاں گمراہیوں کی تاریک راہوں پر چل پڑا ہے، بلکہ اسی عدم اعتماد کی نحوست ہے کہ قرآن وسنت کی من مانی تشریحات کرنے لگا ہے۔ اکابرِ اُمت ہمیشہ دین کی حفاظت، اُمت کی رہنمائی اور فتنوں کے رد میں مضبوط قلعہ رہے ہیں،ان پر اعتماد اُمت کے دینی استحکام کی علامت اور ان سے وابستگی گمراہیوں سے بچاؤ کی ضمانت تھی، جب سے اس رشتۂ اعتماد کو کمزور کیا گیا، اُمت فکری انتشار اور عملی زوال کا شکار ہونے لگی۔ آج ہر شخص دین کو اپنی عقل، مزاج اور خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اس کے سامنے کوئی معتبر سند باقی نہیں رہی۔ اکابر سے بے رغبتی کا انجام یہی ہے کہ دین کے بنیادی مسائل بھی اب بحث و تردد کی نذر ہو چکے ہیں،جس راستے پر ہمارے اسلاف چلے، آج اس کو چھوڑ کر ہم خودساختہ راستوں پر چل نکلے ہیں۔ علماء حق اور اہلِ دل کی صحبت چھوڑ کر یوٹیوبی تقاریر اور سوشل میڈیا کے پرکشش مگر کھوکھلے نعرے دین کا معیار بن گئے ہیں۔ دینی افکار اور عقائد کو جب اکابر کی علمی رہنمائی سے ہٹ کر بیان کیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف گمراہی اور تفرقہ ہوتا ہے۔ اکابر سے بے نیازی دراصل دین سے بے نیازی ہے، کیونکہ یہی حضرات دین کے اصل نمائندے اور محافظ ہیں،اُمت کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ پھر سے ان چراغوں کی طرف رجوع کرے، جنہوں نے ہر دور میں ظلمت کو اُجالا بنایا۔نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
’’میری اُمت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب کے سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم  نے پوچھا وہ کون سا گروہ ہے؟ فرمایا: وہ جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقے پر ہوگا۔‘‘  (ترمذی)
یہ حدیث ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اگر ہم سلف کے راستے سے ہٹ گئے اور سلف پر بداعتمادی دکھائی تو ہم دیگر غیر مسلم فرقوں کی طرح گمراہ ہو جائیں گے۔ دوسری حدیث میں سرکار دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
’’میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے یا ان کو چھوڑنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے گا اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔‘‘     (بخاری ومسلم)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اہلِ حق (اکابر) موجود رہیں گے، جن کی پیروی و اعتماد واجب ہے۔ آج کے اس پر فتن دور میں جب کہ طبائع آزاد ہیں، اس میں ایمان و اعمال کی حفاظت کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ صحابہ کرامؓ کی تعلیمات، سیرت و سوانح اور ان کی خدمات کو پیش نظر رکھا جائے۔ تابعینؒ نے صحابہؓ سے تلمذ کا شرف حاصل کیا تو وہ اپنے اسلاف پر اعتماد کرکے نہ صرف کامیاب ہوئے، بلکہ ان کے بعد تبع تابعین کے لیے اسلاف بن گئے ۔ یوں تبع تابعین نے حضرات تابعین پر کامل اعتماد کیا اور مابعد والوں کے لیے مینارۂ نور بن گئے ۔ یوں نسلاً بعد نسلٍ ہر آنے والوں نے اپنے سے پہلے والے اسلاف پر اعتماد کرکے دینی ودنیاوی ترقی کی منازل طے کیں۔ دورِ حاضر میں جتنے بھی علمی، فکری الحاد وگمراہیوں کی بہتات ہے، اُن کی بنیاد اسلاف بیزاری ہی ہے۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید  رحمۃ اللہ علیہ  کی ایک قیمتی نصیحت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ:
’’یہی خودرائی اکثر اہلِ علم کے ضلال و انحراف کا سبب بنتی ہے، خوارج و روافض سے لے کر دورِ حاضر کے کج رو لوگوں کو اسی خود رائی نے ورطۂ حیرت میں ڈالا ہے، اس لیے جو شخص صراطِ مستقیم پر چلنے اور راہِ ہدایت پر مرنے کا متمنی ہو، اس کو لازم ہے کہ اپنی رائے پر اعتماد کرنے کے بجائے اکابر کے علم و تقویٰ پر اعتماد کرے کہ یہ حضرات علم و معرفت، فہم و بصیرت، صلاح و تقویٰ اور اتباعِ شریعت میں ہم سے بدرجہا فائق تھے، واللہ اعلم۔‘‘ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:۲/۹)

اللہ تعالیٰ ہمیں اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے، آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے