
وسوسے اور شک میں کیا فرق ہے؟ کوئی چیز ہو چاہے وہ دنیا کے لحاظ سے ہو یاآخرت کے لحاظ سے، چاہے وہ ایمان اور عقیدے کے لحاظ سے ہو یا پھر کوئی اور لحاظ سے، آپ سے اب یہ بات جاننا ہے کہ اگر کسی کو ایمان و عقیدے کے حوالے سے وسوسہ آئے اور اس آدمی کو سو فیصد یقین ہوجائے کہ یہ بات سو فیصد صحیح یاغلط یعنی اس کو ایک طرح کا شک پیدا ہوا ہو، لیکن پھر بعد میں وہ بہت زیادہ پچھتائے، رنج وغم میں مبتلا ہو ،بہت پریشان ہو ، روئے بھی اور مایوس بھی ہوجائے ، چاہے وہ بات، خیال یا سوچ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن یا جنت جہنم کے بارے میں آئے، اللہ بچائے کسی کو اگر ختمِ نبوت کے حوالے سے ایسی سوچ اور خیال آئے، لیکن سو فیصد یقین کے ساتھ ایسا خیال آئے، پھر بعد میں پچھتائے ، رنج وغم میں مبتلا ہوجائے اور روتا رہے کہ ایسی سوچ مجھے نہیں آنی چاہیے تھی، اگر وہ سوچ کچھ دیکھنے سےآئے اور اس کا دل اس وقت مان جائے کہ یہ صحیح ہے، لیکن بعد میں وہ ڈپریشن اور گھبراہٹ کا شکار ہوجائے، کیا یہ وسوسہ کہلاتا ہے یا شک؟ میں نے سنا ہے کہ وسوسہ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انسان خود نہیں لینا چاہتا، لیکن دل و دماغ میں خود بخودآجاتا ہے۔
واضح رہے کہ دین کے کسی رکن ،حکم یا دین سے متعلق کسی بھی قطعی چیز کے بارے میں وسوسہ شیطان کی طرف سے آتاہے، اورشیطان کی طرف سے ان وساوس کو لانے کا مقصد انسان کے دل ودماغ میں وساوس اور شک پیدا کرکے اس کے ایمان کو کمزورکرنا ہے، نیز غیر اختیاری وسوسہ آنا اور اسے بُرا سمجھنا ایمان کی علامت ہے، جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
’’وعنہ رضي اللہ عنہ قال: جاء ناس من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ عليہِ وسلمَ إلی النبي صلی اللہ عليہِ وسلم، فسألوہ: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتکلم بہٖ، قال: ’’اَو قد وجدتموہ؟‘‘ قالوا: نعم. قال: ’’ذاک صريح الإيمان۔‘‘ رواہ مسلم ‘‘ (مشکاۃ المصابيح، باب في الوسوسۃ، ج:۱، ص: ۱۹، ط: رحمانیۃ)
ترجمہ: ’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:(ایک دن)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابی بارگاہِ رسالت مآب میں حاضر ہوئےاور عرض کیا کہ: ہم اپنے دلوں میں بعض ایسی باتیں یعنی وسوسے پاتے ہیں کہ جن کازبان پر لانا بھی ہم بُرا سمجھتے ہیں،سرکار نے پوچھا!کیا تم واقعی ایسا پاتے ہو (کہ جب کوئی ایسا وسوسہ تمہارے اندر پیدا ہوتا ہےتو خود تمہارا دل اس کو ناپسند کرتاہےاور اس کا زبان پر لانا بھی تم بُرا سمجھتے ہو؟) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھلا ہوا ایمان ہے۔‘‘ (مظاہرِ حق، ج:۱،ص:۱۴۳،ط:دارالاشاعت)
ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتيح شرح مشکاۃ المصابيح میں فرماتے ہیں کہ (۱/۱۳۶):
’’(في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتکلم بہ) أي: نجد في قلوبنا أشياء قبيحۃ نحو: من خلق اللہ؟ و کيف ہو؟ و من أي شيء؟ و ما أشبہ ذٰلک مما يتعاظم النطق بہٖ لعلمنا أنہٗ قبيح لايليق شيء منہا أن نعتقدہٗ، و نعلم أنہٗ قديم، خالق الأشياء غير مخلوق، فما حکم جريان ذٰلک في خواطرنا؟ ... (صريح الإيمان) أي: خالصہ يعني أنہٗ أمارتہ الدالۃ صريحاً علی رسوخہٖ في قلوبکم، و خلوصہا من التشبيہ، و التعطيل؛ لأن الکافر يصر علی ما في قلبہ من تشبيہ اللہ سبحانہٗ بالمخلوقات، ويعتقدہٗ حسنا، و من استقبحہا و تعاظمہا لعلمہٖ بقبحہا، وأنہا لاتليق بہٖ تعالٰی کان مؤمناً حقاً، و موقناً صدقاً فلاتزعزعہٗ شبہۃ، و إن قويت، و لاتحل عقد قلبہٖ ريبۃ، و إن موہت، و لأن من کان إيمانہٗ مشوباً يقبل الوسوسۃ، ولايردہا۔‘‘
یعنی: ’’صحابہؓ کے اس جملہ ‘‘ ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کر سکتا۔‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ’’ہم اپنے دلوں میں بری چیزیں پاتے ہیں، مثلاً: اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ اور وہ کیسا ہے؟ اور کس چیز سے ہے؟ اور اس طرح کی اور چیزیں کہ جن کا بیان کرنا بھی مشکل ہے، اس لیے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ قبیح باتیں ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ ہم اس پر اعتقاد رکھیں، بلکہ ہم جانتے ہیں کہ: اللہ قدیم ہے، ازل سے ہے،ہر چیز کا خالق ہے، مخلوق نہیں ہے، تو ایسے خیالات جو ہمارے دل میں آتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا کہ یہ تو صریح ایمان ہے، یعنی ایسے وساوس آنے پر انہیں برا سمجھنا یہی صریح ایمان ہے، اس لیے تم اس وساوس کو دل میں پانے کے بعد جھڑک دیتے ہو، اور اس کو برا سمجھتے ہو تو یہ تمہارے ایمان کی علامت ہے۔‘‘
لہٰذا ان خیالات اور وسوسوں سے پریشان نہ ہوں ، اور ان کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل دھیان نہ دیا جائے۔ بعض علماء نے وساوس میں مبتلا اشخاص کی تسلی و تسکین کے لیے کہا ہے کہ جس طرح چور اُس گھر میں جاتا ہے جہاں کچھ مال ومتاع ہوتا ہے، اسی طرح جس دل میں ایمان ہوتا ہے شیطان وہاں آکر وساوس ڈالتا ہے:
’’وقيل: المعنی أن الوسوسۃ أمارۃ الإيمان؛ لأن اللص لايدخل البيت الخالي۔‘‘ (مرقاۃ المفاتيح :۱/۱۳۷)
اس لیے ان وساوس کو دل میں جگہ نہ دی جائے، ان کے مقتضا پر عمل یا لوگوں کے سامنے اُن کا اظہار نہ ہو، بلکہ ان کا خیال جھڑک کر ذکر اللہ کی کثرت کا اہتمام کرنا چاہیے۔حدیث شریف میں ہے:
’’وعنہ رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہِ وسلم: ’’ يأتي الشيطان أحدکم فيقول: من خلق کذا؟ من خلق کذا؟ حتی يقول: من خلق ربک؟ فإذا بلغہٗ فليستعذ باللہ ولينتہ۔ متفق علیہ ‘‘ (مشکاۃ المصابيح، باب في الوسوسۃ، ج:۱، ص: ۱۹، ط: رحمانیۃ)
ترجمہ:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم میں سے بعض آدمیوں کے پاس شیطان آتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ اور اس چیزکو کس نے پیدا کیا؟ تاآں کہ پھر وہ یوں کہتا ہے کہ تیرے پروردگار کو کس نے پیدا کیا؟ جب نوبت یہاں تک آجائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس سلسلہ کو ختم کردے۔‘‘ (مظاہرِ حق، ج:۱، ص:۱۴۳، ط:دارالاشاعت)
حدیث شریف میں ہے:
’’وعن أبي ہريرۃَ رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: ’’لايزال الناس يتساءلون حتی يقال: ہٰذا خلق اللہ الخلق فمن خلق اللہ؟ فمن وجد من ذٰلک شيئاً، فليقل: آمنت باللہ ورسلہٖ۔‘‘ (مشکاۃ المصابيح، باب في الوسوسۃ، ج:۱، ص: ۱۹،ط: رحمانیۃ)
ترجمہ: ’’اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :لوگ ہمیشہ اپنے دل میں مخلوقات وغیرہ کے بارے میں خیالات پکارتے رہیں گے، یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ(یعنی دماغ میں یہ وسوسہ آئے گا) کہ اس تمام مخلوق کو خدا نے پیدا کیا ہے، تو خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جس شخص کے دل ودماغ میں اس قسم کا کوئی خیال اور وسوسہ پیدا ہو تو وہ یہ کہے کہ میں خدا تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔‘‘ (مظاہرِ حق، ج:۱، ص:۱۴۴، ط:دارالاشاعت)
لہٰذا ان وسوسوں کے علاج کے لیے مذکورہ نسخۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا جائے، اور ساتھ ساتھ یہ اعمال کریں:
(۱) أعُوْذُ بِاللہِ ، (۲) اٰمَنْتُ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ کا ورد کرے، (۳) ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ وَہُوَ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٍ ، (۴)نیز رَبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ کا کثرت سے ورد بھی ہر طرح کے شیطانی شکوک ووساوس کے دور کرنے میں مفید ہے۔
اور اگر سائل کو یوں لگے کہ یہ وسوسہ ہے یا شک؟ تو سائل کسی معتبر عالم دین یا مفتی صاحب کے پاس حاضر ہوکر اُن کو اپنی ذہنی کیفیات واضح کرکے مسئلہ معلوم کرلے۔ فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144307101068
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن