بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

ایران، اسرائیل جنگ اور امریکی کردار !


ایران، اسرائیل جنگ اور امریکی کردار !


الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی

اسرائیل یہودی ریاست ہے اور امریکا گو عیسائی ملک، لیکن یہ دونوں مل کر مسلم ممالک پر یکے بعد دیگرے حملہ آور ہیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
’’لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الْیَہُوْدَ  وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا‘‘  (المائدۃ : ۸۲ ) 
ترجمہ : ’’تُو پاوے گا سب سے زیادہ دشمن مسلمانوں کایہودیوں کواور مشرکوں کو ۔ ‘‘
یہود کی مسلم دشمنی اور اسلام کے خلاف ان کی سازشیں تو مدینہ طیبہ میں بنو نضیر اور بنو قریظہ کے دور سے چلی آرہی ہیں، لیکن عیسائی بھی مسلم کشی میں کسی سے پیچھے نہیں، کیونکہ ان دونوں کی یہ سوچ ہے کہ ہم سے بہتر اور اچھی قوم کوئی اور نہیں ۔ قرآن کریم میں ارشادِ الٰہی ہے : 
’’وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَاءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَاءُ‘‘                    ( المائدۃ : ۱۸ ) 
ترجمہ : ’’اورکہتے ہیںیہود اور نصاریٰ، ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، تُو کہہ، پھرکیوںعذاب کرتا ہے تم کوتمہارے گناہوں پر، کوئی نہیں، بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اس کی مخلوق میں، بخشےجس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے ۔ ‘‘
اسرائیل کو اہلِ غزہ پر ظلم ڈھاتے ہوئے تقریباً پونے دو سال ہونے کو ہیں، لیکن آج تک جب بھی قومی سلامتی میں اہلِ غزہ کی اشک شوئی کے لیے کوئی قرار داد آتی ہے، امریکا ویٹو کردیتا ہے، لیکن اسرائیل کو جب بھی ضرورت پڑی، امریکا نے کھل کر اس کا ساتھ دیا۔ حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی جب امریکا نے دیکھا کہ ایران کے مسلسل حملوں سے اسرائیل کمزور پڑ رہا ہے تو جنگ کے دسویں روز ۲۲ جون کی رات کو امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیا، حالانکہ اس سے محض دو روز قبل پاکستانی آرمی چیف فیلڈمارشل جنرل حافظ سیّد عاصم منیر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکا نے اس جنگ میں شمولیت کا ارادہ دو ہفتے تک مؤخر کر دیا ہے، لیکن ثابت ہوگیا کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ جھوٹ بولنا اور وعدہ خلافی کرنا ان کی گھٹی میں پڑا ہے ۔امریکی صدر کی وعدہ خلافیوں کے تسلسل اور قول و فعل میں تضاد کو دیکھتے ہوئے اُمتِ مسلمہ اور پاکستان کے حق میں خصوصاً یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان، ہماری فوج اور پوری پاکستانی قوم کو دشمن کی سازشوں سے محفوظ فرمائے، آمین ! 
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورت حال سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہود کی طاقت کا محض ہوّا ہے اور یہ دنیاوی خداؤں کی مدد کے بغیر سرفرازی و سربلندی پر کبھی بھی فائز نہیں ہو سکتے، اس ابدی حقیقت کا اعلان قرآن کریم بہت پہلے کرچکا ہے: 
’’ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآؤُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ‘‘                            (آل عمران : ۱۱۲) 
ترجمہ :’’ماری گئی اُن پر ذلت جہاں دیکھے جائیں،سوائے دست آویز اللہ کے اور دست آویز لوگوں کے، اور کمایا انھوں نے غصہ اللہ کا اور لازم کر دی گئی ان کے اوپر حاجت مندی۔ ‘‘
اسی ذلت و رسوائی سے نکلنے کے لیے اسرائیل نے بار بار امریکا کو پکارا، بالآخر امریکی صدر ٹرمپ جو امن کے نوبل انعام کا خواہش مند ہے، اس سے رہا نہ گیا اور وہ ایران پر حملہ آور ہوگیا، جب کہ اس سےقبل امریکی مندوب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان بھی کر چکا تھا ۔ اس سے واضح ہے کہ آج بھی اگر صہیونیت کے مغربی سرپرست اپنا دستِ تعاون کھینچ لیں تو اس دجالی ریاست کے زمین بوس ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
گو اس وقت اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے، لیکن اہلِ غزہ کے مظلوم ونہتے مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، گویا آگ ظاہری طور پر بجھانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن جو چنگاری سلگ رہی ہے، وہ کسی وقت بھی دوبارہ خطرناک آگ کی صورت بھڑک سکتی ہے، بطور خاص جب کہ اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی قیامِ امن کے بجائے اپنے وقتی تحفظ اور دفاع کے لیے ہو، اس لیے پائیدار اور عالمی امن کا تقاضا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے ہولناک اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے نتیجے میں پوری دنیا ایک لامتناہی بحران میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ اسرائیل خدانخواستہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگیا تو دنیا کی دوسری بڑی قوتیں اور اسلامی ممالک بھی اس کے اثرات سے بچ نہیں پائیں گے، ایک اور عالمی جنگ ناگزیر ہوجائے گی جو عالم انسانیت کی تباہی کے لیے شاید آخری جنگ ثابت ہو۔
ایران اسرائیل جنگ سے پیدا شدہ حالات میں اقوام متحدہ کا بھی بہت بڑا امتحان ہے۔ اگر یہ عالمی ادارہ اسرائیل کو اس کے ناپاک عزائم سے روکنے میں کامیاب نہ ہوسکا تواس کا انجام بھی لیگ آف نیشنز جیسا ہوگا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد ختم کردی گئی تھی۔ ایسے عالم میں کہ ایک عالمی جنگ کے خطرات کرّۂ ارض پر چھائے محسوس ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کو مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے اقدامات پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ اوآئی سی اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو بھی اس میدان میں متحرک نظر آنا چاہیے، جبکہ مسلم ممالک میں داخلی اتحاد و اتفاق ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ ۵۷  اسلامی ممالک سمیت پوری عالمی برادری کو اس جنگ کی آگ کو مزید بھڑکنے سے پہلے بجھانے کی جلد اور نتیجہ خیز تدابیر کرنا ہوں گی، ورنہ اندیشہ ہے کہ کہیں مشرقِ وسطیٰ کاپورا خطہ اس جنگ کی لپیٹ میں نہ آجائے۔ ۲۱ جون کو اوآئی سی کے اجلاس میں تمام مسلم ممالک نے مثالی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم دنیا اپنے عمل کے ذریعے خطے میں جنگ مسلط کرنے والے مست ہاتھیوں کو یک بارگی نکیل ڈالے اور یہ باور کرائے کہ پوری اسلامی برادری کسی بھی جارحیت کے جواب میں وحدت کا نشان ہے ۔ 
اسرائیلی جارحیت کی پاکستان نے پُرزور مذمت کی،سینیٹ کے اجلاس میں ایران پر اسرائیل کے حملے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے ۔سعودی عرب کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایران کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم نے چند روز قبل حیدرآباد میں ’’ دفاعِ وطن اور اسرائیل مردہ باد کانفرنس‘‘ میں، اور اس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی واشگاف انداز میں کہا کہ ایران اسلامی برادری کا حصہ ہے اور ہم ایران پر اسرائیلی جارحیت کی محض مذمت نہیں کر رہے، بلکہ ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں، حکومت پاکستان کو بھی ایران اور اہلِ غزہ کے حق میں کھل کر کھڑا ہوجانا چاہیےاور اسرائیل و امریکا کی جارحیت کی ہر سطح اور ہر مقام پر مذمت کرنی چاہیے، جو کہ پوری پاکستانی قوم کے دلوں کی آواز ہے۔ خدا کرے کہ جنگ کے یہ شعلے یہیں دب جائیں! اللہ تعالیٰ پورے عالم اسلام کی حفاظت فرمائے اور بیت المقدس کو صہیونی چنگل سے جلد چھٹکارا نصیب فرمائے، آمین بجاہ سید الأنبیاء والمرسلین !
بہرکیف! ۱۳ ؍روز سے جاری ایران ‘ اسرائیل جنگ امریکی صدر ٹرمپ کے کہنے پر بند کر دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کےاجلاس میں بتایا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی گئی ہے اور اسرائیل میں بہت تباہی ہوئی ہے، اور کہا کہ میں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے سختی سے کہا کہ اپنے جہاز ایران سے واپس بلاؤ اور اس نے میری بات مان کر اپنے طیاروں کو واپس بلالیا ۔ اس طرح جنگ بند ہوگئی، گویا پاک ‘ بھارت جنگ کی طرح یہاں امریکی صدر ایران ‘ اسرائیل جنگ بندی کا سہرا بھی اپنے ماتھے پر سجا رہے ہیں ۔ 
امریکی صدر کے اس رویے اور جنگی حالات کی یکسر تبدیلی نے تجزیات، واقعات اور چہ میگوئیوں کے کئی دریچے بھی کھول دیے ہیں۔حقیقتِ حال کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اور مزید وقت گزرنے کے ساتھ حالات سے پردہ بھی اُٹھتا رہے گا، تاہم عالمی پائیدار امن کے لیے ضروری تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مکمل جنگ بندی کی جاتی، تاکہ اسرائیل کے غزہ پر حملوں کا سلسلہ تھمتا اور وہاں کے اصل مکینوں کی بحالی کی فکر کی جاتی۔بہرحال ! جزوی سہی، ایران اسرائیل جنگ بندی ہوگئی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پورے عالم اسلام کی حفاظت فرمائے اور بیت المقدس کو صہیونی چنگل سے جلد چھٹکارا نصیب فرمائے، آمین بجاہ سید الأنبیاء والمرسلین !

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین !
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے