بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

اکابر کا مقامِ زہد و قناعت

اکابر کا مقامِ زہد و قناعت


زہدکی تعریف یہ ہے کہ دنیا کی لذتوں سے اِعراض کرنا اور آخرت کی لازوال نعمتوں کی طرف متوجہ ہونا۔ زہد کا پہلا درجہ یہ ہے کہ مسلمان کا مقصد برزخ اور آخرت کی ہولناکیوں سے محفوظ ہونا ہو، دوسرادرجہ یہ ہے کہ مسلمان آخرت کی تمام نعمتوں مثلاجنت، تقرب خداوندی کے حصول کی کوشش کرے، تیسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ مسلمان صرف اللہ کے عذاب کے خوف کی وجہ سے اور اللہ سے محبت کے حصول کے لیے زاہدانہ طرزِ زندگی اختیار کرے۔(إحیاء علوم الدین للإمام الغزاليؒ)
زہد یہ نہیں کہ انسان کے پاس بالکل دنیا نہ ہو، بلکہ اصل زہد یہ ہے کہ بندہ کے پاس دنیا کے حصول کے راستے ہوں اور دنیا بھی موجود ہو، مگر وہ اس ڈر سے دنیا کے عیش وآرام سے دور رہے کہ کہیں اس دنیا میں مشغول ہوکر آخرت سے بے رغبت ہوجاؤں گا، یہی اصل زہد ہے۔ 
اس مادہ پرستی کے دورمیں جہاں امت میں دیگرغفلت ڈالنے والی چیزیں آگئی ہیں، وہیں زاہدانہ زندگی سے فرار بھی نظر آرہا ہے، جس کی واحد وجہ دنیا پرستی اور عیش پرستی ہے۔ 
چنانچہ محدث العصرحضرت علامہ سید محمدیوسف بنوری نوراللہ مرقدہٗ رقم طراز ہیں‎:
’’آج کل دنیا طرح طرح کے فتنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، ان سب فتنوں میں ایک بنیادی اور بڑا فتنہ ’’پیٹ‘‘ کا ہے۔ شکم پروری و تن آسانی زندگی کا اہم ترین مقصد بن کر رہ گیا ہے، ہر شخص کا شوق یہ ہے کہ لقمۂ تراس کی لذتِ کام ودہن کا ذریعہ بنے اور یہ فتنہ اتنا عالمگیر ہے کہ بہت کم افراد اس سے بچ سکے ہیں، تاجر ہویا ملازم، اسکول کا ٹیچر ہو یا کالج کاپروفیسر، دینی درس گاہ کامدرس ہو یا مسجد کا امام، اس آفت میں سبھی مبتلا نظر آتے ہیں، ہاں فرقِ مراتب ضرور ہے۔ زہدوقناعت، ورع وتقویٰ اور اخلاص وایثار جیسے اخلاق وفضائل اور ملکات کا نام ونشان نہیں ملتا، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کا پورا عالم سازو سامان کی فراوانی کے باوجود حرص وآز، طمع ولالچ اور زر طلبی وشکم پروری کی بھٹی میں جل رہا ہے اور کرب واضطراب، بے چینی وبےاطمینانی اور حیرت وپریشانی کا دھواں ہر چہار سمت پھیلا ہوا ہے۔ دراصل اس فتنۂ جہاں سوز کا بنیادی سبب یہی ہے جس کی نشاندہی رحمۃٌ للعالمین  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے فرمائی، آخرت کا یقین بے حد کمزور اور آخرت کی نعمتوں اور راحتوں کا تصور قریباً ختم ہوچکا ہے، مادی نعمتیں اور ان کا تصور اس قدر غالب ہے کہ روحانی قدریں مضمحل ہوچکی ہیں۔ یہی وجہ ہے آج انسانوں کی چھوٹائی بڑائی، عزت وذلت اور بلندی وپستی کی پیمائش ’’اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ‘‘ کے پیمانے سے نہیں ہوتی، بلکہ’’پیٹ اور جیب‘‘ کے پیمانے سے ہوتی ہے۔ مادیت کے اس سیلاب میں پہلے ایمان ویقین رخصت ہوا، پھر انسانی اخلاق ملیا میٹ ہوئے، پھر اُسوۂ نبوت سے وابستگی کمزور ہو کر اعمالِ صالحہ کی فضا ختم ہوئی، پھر معاشرت ومعاملات کی گاڑی لائن سے اُتری، پھر سیاست وتمدن تباہ ہوا اور اَب مادیت کا یہ طوفان انسانیت کو بہیمیت کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے۔ افراتفری اور بے اصولی، آوارگی وبے راہ روی اور بے رحمی وشقاوت کا وہ دور دورہ ہے کہ الأمان والحفیظ۔  الغرض اس ’’پیٹ‘‘ کے فتنے نے ساری دنیا کی کایا پلٹ کر ڈالی۔ ‘‘   (ماہنامہ بینات، صفرالمظفر۱۴۳۶ھ، دسمبر۲۰۱۴ء)
دینی تعلیمات میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ زاہدانہ طرزِ زندگی کو ترک کرنے کے بہت سے نقصانات ہیں، جس میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دنیا پرستی کی وجہ سے مسلمان کے دل سے آخرت کا خوف اور آخرت میں جواب دہی کا احساس ختم ہوکر رہ جاتاہے، نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے باوجود سب کچھ ہونے کے ہمیں اپنے قول وعمل سے زہد کی تعلیم دی ہے،چنانچہ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ: 
’’اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اُٹھا اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرما۔‘‘  (جامع الترمذی)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ انہوں نے عروہؒ سے فرمایا: میرے بھانجے! ہم ( اہل بیتؓ اس طرح گزارا کرتے تھے کہ) کبھی کبھی لگاتار تین تین چاند دیکھ لیتے تھے ( یعنی کامل دو مہینے گزر جاتے تھے) اور حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے گھروں میں چولہا نہ جلتا تھا (عروہؓ کہتے ہیں ) میں نے عرض کیا: پھر آپ کو کونسی چیز زندہ رکھتی تھی؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا: بس کھجور کے دانے اور پانی، البتہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے بعض انصاری پڑوسی تھے، ان کے ہاں دودھ دینے والے جانور تھے، وہ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے لیے دودھ بطور ہدیہ بھیج دیا کرتے تھے، اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  ہمیں بھی دیتے تھے۔ ‘‘  (متفق علیہ)
ہمارے اکابر اور سلف صالحین باوجودصاحبِ ثروت کے صرف اللہ کی محبت کے حصول کی خاطر اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کی وجہ سے دنیا طلبی سے دور تھے، اور زاہدانہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیا کرتے تھے، ذیل میں چند واقعات ہدیۂ قارئین ہیں: 

حاجی امداداللہ مہاجرمکی  رحمۃ اللہ علیہ  کا زہدوقناعت

شیخ الاسلام حضرت مدنی  رحمۃ اللہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے حضرت حاجی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  سے خود سنا کہ موصوف کو ایک ہفتے تک زمزم کے پانی سے گزارا کرنا پڑا، اسی اثناء میں ایک مخلص دوست سے جو کہ بہت زیادہ اخلاص کا مدعی تھا، چند پیسے قرض مانگے تو اس نے ناداری کا بہانہ کر کے انکار کر دیا، حالانکہ واقع میں نادار نہ تھا، حضرتؒ نے فرمایا کہ میں اس انکار سے یہ سمجھا کہ منشاء اُلوہیت یہی ہے، اس لیے میں صبر کرکے چپ ہو گیا۔‘‘  (اکابر علماء دیوبند اتباعِ شریعت کی روشنی میں، ص:۶۰)

مولانا قاسم نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  کا زہد

حضرت نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ  کو ایک مرتبہ کسی دنیادار نے آپ کے شدید اِعراض و انکار پر بھی روپوں سے بھری تھیلی آپ کی جوتیوں میں انڈیل دی، تو شاگرد سے فرمایا: ’’عزیز! جوتے جھاڑو، دیکھو!دنیا دار بھی دنیا کماتے ہیں اور ہم بھی دنیا کماتے ہیں، مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ دنیا دار دنیا کے پاؤں پڑتا ہے، مگر دنیا اسے ٹھوکریں مار مار کر ذلیل کرتی ہے، تب کچھ حصہ دے دیتی ہے، مگر ادھر یہ حال ہے کہ دنیا پاؤں پڑ رہی ہے اور ہم اسے ٹھوکریں مار مار کر ٹھکرا رہے ہیں۔‘‘(اربابِ علم وکمال، ص:۹۸)

حضرت مولانا رشیداحمدگنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  کا زہدوقناعت

ایامِ طالب علمی میں آپ نے اپنی خوردونوش کا دہلی میں کسی پر بار نہ ڈالا، تین روپے ماہوارآپ کے ماموں بھیجا کرتے تھے، اس میں روکھی سوکھی روٹی اور دال ترکاری وقت پر جو کچھ آسانی سے مل گیا، آپ نے کھائی، اور اسی تین روپے میں کپڑے دھلائی، اصلاحِ خط یا جو کچھ بھی ضرورت پیش آئی رفع کی، دہلی میں آپ کو کیمیاگر اور مہندس بھی ملے، اور انہوں نے آپ کی روش اور انداز کو دیکھ کر بہ نیتِ محبت کیمیا کا بنانا سکھانا چاہا، مگر آپ کی زاہدانہ اور قناعت پسندانہ طبیعت نے خوفِ طمع یا حرص کرنی تو درکنار، اس سے سیکھنا بھی گوارا نہ فرمایا۔  (تذکرۃ الرشید، ج:۱، ص:۳۶)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  کا زہدوقناعت

حضرت حکیم الامت  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ ایک رئیس نے میرے پاس ۲۰۰ روپے مدرسہ کے لیے بھیجے، اور لکھا کہ میرا ارادہ ہے، آپ کو یہاں بلانے کی تحریک کروں، اگر یہ جملہ نہ ہوتا تو میں لے لیتا، میں نے لکھ دیا کہ روپوں کے ساتھ بلانے کی درخواست کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روپے بھیجنے سے آپ کا مقصود یہ ہے کہ میں ان سے متأثر ہوکر آپ کی درخواست کو منظور کرلوں، اس لیے میں نے وہ روپے نہیں لیے، ڈاکخانہ میں جمع کر دیے ہیں، اگر آپ کے جواب سے یہ شبہ رفع ہو گیا تو لے لوں گا، ورنہ واپس کر دوں گا، آخری دن ان کا خط آیا کہ مجھ سے بدتمیزی ہوئی، آپ سے یہ درخواست نہیں کرتا۔ میرا یوں جی چاہتا ہے کہ کسی کا احسان رکھ نہ لیا جائے۔  (تحفۃالعلماء)

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ  کی زاہدانہ زندگی

حضرت شیخ الاسلامؒ مہینے کے آخر میں مقروض رہتے تھے، ایک واقعہ حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہم نے سنایا کہ: ’’مہینے کے آخر میں حضرت مقروض ہو جاتے تھے اور قرضہ لینے کی نوبت آتی تھی، اور قرض صرف دو آدمیوں سے لیتے تھے: ایک حضرت مولانا اعزاز علی  رحمۃ اللہ علیہ  شیخ الادب سے، دوسرے کتب خانہ اعزازیہ کے مالک مولانا سید احمد صاحب تھے، میری والدہ مہینے کے آخر میں حضرت سے کہتی تھی کہ پیسے نہیں ہیں، پیسے چاہیے، تو حضرتؒ قرض لینے کا اہتمام کرتے تھے۔‘‘ (اکابرکی زاہدانہ زندگی، ص:۳۸)
محدث العصرحضرت علامہ سید یوسف بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  فرمایاکرتے تھے کہ:
‎ ’’‎ہمیں دو باتوں پر کامل یقین ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے: ایک تو یہ کہ مال ودولت کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اور دوسرا یہ کہ اولادِ آدم کے قلوب بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اگرہم اخلاص کے ساتھ صحیح کام کریںگے تو اللہ تعالیٰ بندوں کے قلوب خود بخود ہماری طرف متوجہ کرکے اپنے خزانوں سے ہماری مدد کرے گا۔ ہمیں کسی انسان کی خوشامد کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا جو ضرورت ہمیں پیش آتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے کہتے اور مانگتے ہیں، وہ ایسی جگہ سے ہماری ضرورت کو پورا کرتا ہے جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوتا، پھر ہم کیوں کسی انسان کے سامنے ہاتھ پھیلائیں؟۔‘‘            (ملفوظات حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ ، جمع وترتیب: مولانا نورالرحمٰن مدظلہ)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اکابر کا طرزِ زندگی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے