
جسم اور جان اللہ کی عطاکردہ نعمتیں ہیں، جن کی حفاظت اور نگہداشت ہمارا فریضہ ہے، جان کی حفاظت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کی صحت کی حفاظت کی جائے، مضرِ صحت امور سے اجتناب کیا جائے، اس کے قُویٰ کی حفاظت کی جائے، جان کی حفاظت کے لیے ضروری امور کا انتظام کیا جائے، اپنے آپ کو ہموم وغمو م اور مصائب ومتاعب سے محفوظ رکھا جائے،جس کے لیے بقدرِ ضرورت مال کے حصول کے لیے تگ ودو بھی کرے، چونکہ صحت میں خلل، قُویٰ واعضاء وجوارح میں کمزوری یا مالی اعتبار سے بے اطمینانی اس کی وجہ سے دینی کاموں میں خلل واقع ہوتا ہے، دوسروں کی خدمت بھی نہیں ہوپاتی، کبھی ناشکری بے صبری جیسے مراحل آجاتے ہیں، جو بسااوقات ایمان کے کھودینے کا باعث ہوتے ہیں۔
صحت اللہ کی بڑی نعمت ہے، بلکہ سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ انسان کا وجود ہی صحت سے ہے، مضرِ صحت امور سے بالکلیہ اجتناب کرنا چاہیے، جس میں زیادہ کھانا یا زیادہ سونا، یا کم کھانایا کم سونا، یا حد سے زیادہ فارغ رہنا، ہموم وغموم کا شکار ہوجانا،یا اپنے آپ کو کسی بھی عمل میں اتنا منہمک کرنا جس میں آدمی کی حرکت نہ ہو، جس سے موٹاپا دَر آئے، راتوں کا جاگنا، دنوں کا سونا، یہ سارے امور صحت کے لیے نقصان دہ، باعثِ وبالِ جان ہوتے ہیں، اس طرح کے امور سے اجتناب کر کے اپنے آپ کو منظم ومرتب کرے، سونے کے وقت سوئے، کھانے کے وقت کھائے، کام کے وقت کام کرے، ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی، راتوں کے شروع میں جاگنے سے اجتناب، دھوپ کا حاصل کرنا، یہ سارے اُمور دراصل شرعی نقطۂ نظر سے قابلِ التفات اُمور ہیں، ایک توانا اور قوی تر مومن ‘ ضعیف اور کمزور مومن کے مقابلہ میں زیادہ بہتر اور اچھا ہوتا ہے، آیتِ خداوندی میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں:
’’وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ‘‘ (الشعراء: ۸۰)
’’جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ شفایاب کرتا ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ صحت بھی مطلوب ومقصود ہے، اس کے علاوہ ایک روایت میں فرمایا:
’’تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، اورتمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘ (بخاری)
اگرچہ روایت کا پس منظر شب بیداری اور نفل روزہ میں زیادتی کی ممانعت ہے؛ لیکن کسی بھی عمل میں حد درجہ اشتغال اور انہماک، بالکل یکسوئی اور فراغت کا نہ ہونا بھی مضرِ صحت ہوا کرتا ہے، اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ زیادہ جاگنے اور بالکل بھوکے رہنے سے صحت خراب ہوجاتی ہے، کھانے اور سونے میں غلو بھی موٹاپے کا شکار کردیتا ہے، ایک روایت میں فرمایا گیا:
’’ دو نعمتیں ایسی ہیں ان کے بارے میں بکثرت لوگ نقصان اور خسارے میں ہیں (یعنی ان سے کوئی ایسا کام نہیں لیتے جس سے دینی نفع ہو)ایک صحت اور دوسرے بے فکری۔‘‘ (بخاری)
اس سے پتہ چلا کہ زیادہ جاگنے اور بالکل بھوکے رہنے سے صحت خراب ہوجاتی ہے اور اس کا اثر انسان کے قُوی پر پڑے گا اور وہ مضمحل ہوکر پھر دوسرے فرائض کی ادائیگی کے قابل نہ رہیں گے۔ اسی صحت ونوجوانی،مالی ووقتی فراغت کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا:
’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں (کے آنے) سے پہلے غنیمت سمجھو(اور ان سے دین کے کاموں میں مدد لو) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت سمجھو اور صحت کو بیماری سے پہلے، اور مالداری کو اِفلاس سے پہلے اور بے فکری کو پریشانی سے پہلے اور زندگی کو مرنے سے پہلے۔‘‘ (المستدرک)
اس سے معلوم ہوا کہ جوانی میں جو صحت وقوت ہوتی ہے وہ اور فراغت اور مالی گنجائش بڑی نعمتیں ہیں، اس لیے تمام مضرِ صحت اُمور سے اجتناب کیا جائے اور صحت کے بگڑنے پر دوا وعلاج کا اہتمام کیا جائے، اور صحتِ جسمانی کی نگہداشت کے جو بھی جائز ذرائع ووسائل ہوسکتے ہیں‘ اُن کو اختیار کیا جائے، چونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا دونوں چیزیں اُتاری ہیں اور ہر بیماری کے لیے دوا بھی بنائی، سو تم دوا کیا کرو اور حرام چیز سے دوا مت کرو۔‘‘ (ابوداؤد)
اس سے پتہ چلا کہ صحت بھی مطلوب ومقصود ہے، مضرِ صحت امور سے اجتناب اور گریز، مضرِ صحت اُمور اور کھانے پینے کی چیزوں (جیسے چینس، فاسٹ فوڈ،حد سے زیادہ کھانا) وغیرہ ان چیزوں سے بھی احتراز کرنا چاہیے اور پھل فروٹ، قدرتی اغذیہ، ترکاری، معتدل مقدار میں گوشت،انڈا، مچھلی وغیرہ کا استعمال ہو۔ چکن مضر صحت ہوتا ہے، اس کے استعمال سے گریز کیا جائے، چونکہ یہ انسانی دفاعی قوت ختم کرتا ہے۔ بہرحال باعثِ صحت چیزوں کے استعمال اور مضرِ صحت امور سے اجتناب کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:
’’ یہ (کھجور) مت کھاؤ، تم کو نقاہت ہے، پھر میں نے چقندر اور جو تیار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی! اس میں سے لے لو، یہ تمہارے موافق ہے۔‘‘ (ترمذی)
صحت کے متعلق بصیرت مند اور تجربہ کار لوگوں کے مشوروں پر عمل درآمد کرے۔
انسان قوی ہو، طاقتور ہو، ومضبوط وتوانا رہے، اس کے لیے کوشش کرنا اور اسباب اختیار کرنابھی شرعاً مطلوب ہے،کیوں کہ اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے :
’’وَاَعِدُّواْ لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّن قُوَّۃٍ‘‘ (الانفال: ۶۰)
اسی سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : قوت والا مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کم قوت والے مومن سے بہتر اور زیادہ پیارا ہے، اور یوں سب میں خوبی ہے: ’’المؤمن القوی، خیر وأحب إلی اللہ من المؤمن الضعیف وفي كل خیر۔‘‘
جب قوت اللہ کے نزدیک پیاری چیز ہے تو اس کو باقی رکھنا او ربڑھانا اور جو چیزیں قوت کو کم کرنے والی ہیں ان سے احتیاط کرنا یہ سب مطلوب ہوگا، اس میں غذا بہت کم کردینا، نیند کا بہت کم کرنا، ہم بستری میں حدِ قوت سے آگے زیادتی کرنا،ایسی ـچیز کھانا جس سے بیماری ہوجائے یا بدپرہیزی کرنا، جس سے بیماری بڑھ جائے اور قوت کمزور پڑ جائے، قوت کو باقی رکھنے کے لیے دوڑنا، پیادہ چلنے کی عادت ڈالنا، جس اسلحہ کی قانون سے اجازت ہے یا اجازت حاصل ہوسکتی ہے، ان کی مشق کرنا، یہ سب داخل ہیں۔اسی حوالہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :
’’تیر اندازی بھی کیاکرو اور گھوڑ سواری بھی۔‘‘ (ترمذی)
اور ایک روایت میں فرمایا کہ :
’’جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(مسلم)
انسان کے پاس اپنی جان اور جسم کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے بقدرِ کفاف مال ہو اور فکروں سے آزاد ہو اوراُسے فراغتِ قلب نصیب ہو، یہ بھی شرعاً مطلوب ومقصود ہے، چونکہ اللہ عزوجل نے مال کی تنگی سے جان میں پریشانی سے بچنے کا حکم دیا: ’’وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا‘‘ (بنی اسرائیل : ۲۶)
اسی لیے ایک روایت میں جان میں امن اور بدن میں صحت اور اس دن کے کھانے کی فراہمی کے ساتھ صبح کو باعثِ سعادت قرار دیا گیا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :
’’ جو شخص تم میں سے اس حالت میں صبح کرے کہ اپنی جان میں (پریشانی سے) امن میں ہو او ر اپنے بدن میں (بیماری سے) عافیت میں ہو اور اس کے پاس اس دن کے کھانے کو ہو ( جس سے بھوکا رہنے کا اندیشہ نہ ہو) تو یوں سمجھو کہ اس کے لیے ساری دنیا سمیٹ کر دے دی گئی۔‘‘ (ترمذی)
اس حدیث مبارکہ سے صحت اور امن وعافیت اور بقدرِ کفاف مال کے حصول کا مطلوب ہونا معلوم ہوا۔ یہ بھی ارشادِ گرامی ہے :
’’ جو شخص حلال دنیا کو اس لیے طلب کرے کہ مانگنے سے بچا رہے اور اپنے اہل وعیال کے (ادائے حقوق) کے لیے کمایا کرے اور اپنے پڑوسی پر توجہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ایسی حالت میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند جیسا ہوگا۔ ‘‘ (شعب الایمان)
اس سے معلوم ہوا کہ کسبِ مال بقدرِ ضرورت دین بچانے کے لیے او ر ادائے حقوق کے لیے بڑی فضیلت کی چیز ہے۔
اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے جسم کی جان کی حفاظت کے لیے ان تین اُمور کا پاس ولحاظ رکھے، ہر کام کو اصولِ صحت کا پابند ہو کر شریعت کے احکام کی بجاآوری کرتے ہوئے صحتِ جسمانی، توانائی وقوتِ جسمانی اور بقدرِ مال کفاف کے حصول کے ساتھ یکسوئی وفراغت کے ساتھ متوجہ الی اللہ ہو، یہ مطلوب وشرعاً محمود امر ہے، اس لیے اس کے لیے تگ ودو کرنا یہ در اصل شریعت کے احکام ہیں، البتہ صحت وقوت کی برقراری اور مال کے حصول کو ذریعۂ آخرت اور زادِ روزِ محشر بنائے، ورنہ یہ توانائیاں، یہ فراوانیاں، یہ انگڑائیاں بسااوقات انسان کے لیے سوہانِ روح اور جہنم کا ایندھن بن جاتی ہیں، اس لیے ہر امر میں وسط واعتدال کے ساتھ صحت، قوت اور حلال مال کی جستجو اور فراوانی کے ساتھ متوجہ الی اللہ رہے، اپنی جان کی حفاظت کا حق ادا کرے تب ہی وہ حقوق اللہ وحقوق العباد کو تندہی کے ساتھ کرسکتا ہے، اللہ عزوجل توفیق ارزانی عطا کرے۔ (آمین)
(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)