
’’اصولِ کرخی‘‘ حنفیہ کے فقہی ضوابط پر ایک معروف رسالہ ہے، جس کا اصل نام ’’مدار الأصول‘‘ ہے، ایک تحقیقی کام کی مناسبت سے اس کے تین قواعد ۲۹، ۳۰، ۳۱ پر کچھ ملاحظات نوٹ کیے، جنہیں مضمون کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ پہلے کچھ تمہیدی اُمور ذکر کیے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ان تینوں قواعد کی عبارت مع ترجمہ ہے۔ اس کے بعد اُن کی صحیح مراد واضح کی گئی ہے۔
ابوالحسن عبیداللہ بن حسین کرخی نام ہے۔ زمانہ ۲۶۰ - ۳۴۰ھ ہے۔ حنفیہ کے مشہور فقیہ اور اصولی ہیں۔ ابوبکر رازی،ابوعبد اللہ دامغانی،ابوعلی شاشی،اور ابوالقاسم علی بن محمد تنوخیw آپ کے مشہور تلامذہ میں سے ہیں۔ آپ صوم وصلاۃ کے بڑے پابند اور فقر وحاجت پر بڑے صبر کرنے والے تھے۔ آخری عمر میں فالج ہوگیا تو تلامذہ نے بادشاہ سیف الدولہ کو ان کے بارے میں لکھا، آپ کو پتا چلا تو روپڑے اور دعا کی: اے اللہ ! میرا رزق وہیں سے دینا جہاں سے مجھے آپ دیتے ہیں۔ سیف الدولہ کا عطیہ۱۰۰۰۰ درہم پہنچنے سے پہلے انتقال ہوگیا، رحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً۔ (ماخذہ :الجواہر المضیۃ : ۱/۳۳۷)
بعض نے ان پر معتزلی ہونے کا طعن کیا ہے،لیکن یہ بات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی، جیسا کہ شرح مدار الاصول کے محقق دکتور اسماعیل عبد عباس نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
ہر چند یہ امر اجلی البدیہیات میں سے ہے کہ مجتہد کی حیثیت اسلامی قانون کی شرح کرنے والے کی ہے، نہ کہ قانون بنانے والے کی،لیکن تنبیہ کے درجے میں اہلِ علم کی کچھ نصوص درج کی جاتی ہیں:
’’قال الإمام أبوحنیفۃ : اٰخذ بکتاب اللہ، فما لم أجد فبسنۃ رسول اللہ ﷺ، فما لم أجد في کتاب اللہ ولا سنۃ رسولہ اٰخذ بقول أصحابہ، اٰخذ بقول من شئت منھم وأدع قول من شئت، ولا أخرج من قولھم إلٰی قول غیرھم۔‘‘ (دراسات فی اصول الحدیث، ص:۱۴)
’’امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں کتاب اللہ کو لیتا ہوں،جو بات اس میں نہ ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتا ہوں، جو بات کتاب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں نہ ملے تو آپ کے صحابہؓ کے قول کو لیتا ہوں۔ ان میں سے جس کے قول کو چاہتا ہوں(راجح ہونے کی بنا پر ) لیتا ہوں، اور جس کے قول کو چاہتا ہوں (مرجوح ہونے کی بنا پر) چھوڑتا ہوں۔‘‘
’’صح عنہ (أی عن الإمام أبي حنیفۃ) أنہٗ قال : إذا صح الحدیث فہو مذہبي۔ وقد حکٰی ذٰلک ابن عبد البر عن أبي حنیفۃ وغیرہٖ من الأئمۃ۔ ونقلہٗ أیضا الإمام الشعراني عن الأئمۃ الأربعۃ۔ ولایخفی أن ذٰلک لمن کان أہلا للنظر في النصوص ومعرفۃ محکمہا من منسوخہا۔‘‘ (رد المحتار : ۱/ ۶۷، ۶۸، مطلب صح عن الإمام أنہ قال : ’’إذا صح الحدیث فہو مذہبي‘‘)
’’امام ابوحنیفہؒ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : جب حدیث ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے۔ ابن عبد البرؒ نے امام ابوحنیفہؒ اور دیگر ائمہ سے یہ بات نقل کی ہے۔ اور امام شعرانی ؒنے بھی ائمہ اربعہؒ سے یہ بات نقل کی ہے۔ او رظاہر ہے کہ یہ کام اس کا ہے جو دلائل میں غور کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اور محکم کو منسوخ سے جدا کرسکے۔ ‘‘
’’وفي الظہیریۃ : روي عن أبي حنیفۃ أنہٗ قال: لایحل لأحد أن یفتي بقولنا ما لم یعلم من أین قلنا۔‘‘ (البحرالرائق: ۶/۲۹۳)
’’امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : کسی کو ہمارے قول پر فتویٰ دینا درست نہیں، جب تک کہ اسے اس کی دلیل معلوم نہ ہوجائے۔ ‘‘
’’قال زفر : لا تلفتوا إلی کلام المخالفین، فإن أباحنیفۃ وأصحابنا لم یقولوا في مسئلۃ إلا من الکتاب والسنۃ والأقاویل الصحیحۃ، ثم قاسوا بعد علیہما۔‘‘ (مناقب الموفق : ۱/۸۳)
’’امام زفرؒ فرماتے ہیں: مخالفین کی باتوں کی پروا نہ کرو،کیونکہ ابوحنیفہؒ اور ہمارے علماء نے کتاب وسنت اور صحیح اقوالِ (صحابہؓ) سے ہی احکام لیے ہیں،پھر ان پر قیاس کیا ہے۔ ‘‘
’’ابن المبارکؒ قال:لاتقولوا:رأي أبي حنیفۃ ولکن قولوا: تفسیر الحدیث۔‘‘ (الوجیز :ص ۵۰)
’’عبد اللہ بن مبارکؒ کہتے ہیں : ابوحنیفہؒ کی رائے نہ کہو،بلکہ کہو وہ حدیث کی تفسیر ہے۔ ‘‘
’’قال محمد بن الحسنؒ : لا یستقیم الحدیث إلا بالرأي، ولایستقیم الرأي إلا بالحدیث۔‘‘ (اصول البزدوی، ص:۵)
’’امام محمدؒفرماتے ہیں : ’’حدیث بغیر رائے کے سمجھ نہیں آتی، اور رائے بغیر حدیث کے صحیح نہیں ہوتی۔‘‘
’’اعلم أن أصول الشرع ثلاثۃ : الکتاب والسنۃ وإجماع الأمۃ۔ والأصل الرابع القیاس۔‘‘ (المنار مع کشف الأسرار: ۱ / ۱۲)
’’جان لو کہ شریعت کی دلیلیں تین ہیں: کتاب،سنت اور اجماعِ امت، اور چوتھی دلیل قیاس ہے۔‘‘
’’قال أبوعمر : لیس أحد من علماء الأمۃ یثبت حدیثًا عن رسول اللہ ثم یردہٗ دون ادعاء نسخ بأثر مثلہٖ أو باجماع أو بعمل یجب علی أصلہ الانقیاد إلیہ أوطعن في سندہٖ۔ ولوفعل ذٰلک أحد سقطت عدالتہٗ فضلًا عن أن یتخذ إماما ولزمہ اسم الفسق ولقد عافاہم اللہ عزوجل من ذلک۔‘‘ (جامع بیان العلم: ۲ / ۱۰۸۰)
’’ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ علمائے امت میں سے کوئی نہیں کہ رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حدیث نقل کرے اور پھر اسے رد کردے بغیر اس کے کہ اس کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرے۔ اس جیسی حدیث سے یا اجماع سے یا اس عمل سے جسے اس کے اصول کے مطابق لینا ضروری ہو، یا سند میں طعن کرے۔ اور اگر ایسے کرے (بغیر معارض کے حدیث کو رد کرے) تو اس کا دیندار ہونا ہی ختم ہوجائے گا، چہ جائے کہ اسے امام بنایا جائے، اور وہ فاسق ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں (ائمہ کو) اس سے محفوظ رکھا ہے۔‘‘
ابن عبد البرؒ نے امام ابوحنیفہؒ کی براء ت کے بیان میں یہ بات کہی ہے۔
’’ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تقلید کی تفسیر یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث وارشادات پر عمل کرتے ہیں، اس تفسیر پر جو امام ابوحنیفہؒ نے بیان کی ہے۔ اتباعِ حدیث مقصود بالذات ہوگا اور امام ابوحنیفہؒ محض واسطہ فی التفہیم ہوں گے۔ جس مسئلے میں اختلاف ہوتا ہے، اس میں احادیث مختلف ہوتی ہیں۔‘‘ (خطبات حکیم الامت :۱۵/۳۱، ۳۲)
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’حاصل یہ ہے کہ یہ حکم مخالفت کا (یعنی مجتہد کے کسی قول کے حدیث کے مخالف ہونے کا حکم ) ایسے شخص کا کام ہے جو روایات میں متبحر ہو، درایت میں حاذق ومبصر ہو، اور جس شخص میں بعض صفات ہوں، بعض نہ ہوں، اس کا حکم کی مخالفت کرنا معتبر نہیں، جیسا مقصد سوم میں ثابت ہوچکا ہے کہ ہر حافظِ حدیث کا مجتہد ہونا ضروری نہیں، جس سے منصف کو یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ جب حفاظِ حدیث کو وجوہِ استنباط کا پتہ نہیں لگتا تو آج کل جہلا ء بے چارے اس کا اِحاطہ کب کرسکتے ہیں؟ ۔۔۔۔ چنانچہ ایسے جامع لوگوں نے جب کبھی کوئی قول مخالفِ دلیل پایا فوراً ترک کردیا۔
جیسا حرمتِ مقدار، قلیل مسکرات اور جوازِ مزارعت میں کتبِ حنفیہ میں امام صاحبؒ کے قول کا متروک ہونا مصرح ہے، لیکن ایسے اقوال کی تعداد غالباً دس تک بھی نہ ہوگی، چنانچہ ایک بار احقر نے تفصیلاً تتبع کیا تو بجز پانچ چھے مسائل کے کہ ان میں تردد رہا، ایک مسئلہ بھی حدیث کے مخالف نہیں پایا گیا۔ اور وجوہِ انطباق کو ایک رسالہ کی صورت میں بھی ضبط کیا تھا،مگر اتفاق سے وہ تلف ہوگیا، مگر اس کے ساتھ ہی مجتہد کی شا ن میں گستاخی کرنا حرام ہے، کیونکہ انھوں نے قصداً خلاف نہیں کیا، خطائے اجتہادی ہوگئی، جس میں بروئے حدیث ایک ثواب کا وعدہ ہے۔‘‘(الاقتصاد في التقلید والاجتہاد، ص:۵۶)
اور فرماتے ہیں:
’’متبحر عالم اگر کسی مسئلہ کو خلافِ دلیل سمجھے تو اس کا سمجھنا معتبر ہوگا۔ ایسے حضرات کا فہم معتبر ہوسکتا ہے حضرت مولانا گنگوہیؒ،حضرت مولانا ناتوتویؒ۔‘‘ (تحفۃ العلماء،ص:۸۶۶،افادات حضرت تھانوی ؒ)
’’إذا أفتی المجتہد وظہر أن فتواہ مخالف للکتاب أوالسنۃ وجب علینا اتباع الکتاب والسنۃ۔ روی البیہقي في المدخل بإسناد صحیح إلی عبد اللہ بن المبارک قال : سمعت أباحنیفۃ یقول : إذا جاء عن النبي ﷺ فعلی الرأس والعین۔‘‘ (المظہري : ۲/۵۳)
’’قلت : ولایظہر ذلک إلا لمجتہد کامل أو لمجتہد في المذہب بشرائط ولایظہر ذلک لکل أحد من الناس، فافہم۔‘‘ (أحکام القرآن للعثماني :۲ / ۲۹۴)
’’جب مجتہد نے فتویٰ دیا اور اس کے فتویٰ کا کتاب یا سنت کے مخالف ہونا ظاہر ہوا تو ہم پر کتاب وسنت کی پیروی واجب ہے۔ بیہقیؒ نے المدخل میں عبد اللہ بن مبارکؒ تک صحیح سندسے روایت کیا ہے، کہتے ہیں: میں نے امام ابوحنیفہؒ کو فرماتے ہوئے سنا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات ثابت ہوتو وہ سر آنکھوں پر ہے۔ میں(مولانا ظفر احمد عثمانی) کہتا ہوں: یہ (مخالفت کا فیصلہ) مجتہد کامل یا مجتہد فی المذہب ہی کا حق ہے شرائط کے ساتھ۔ ہر شخص یہ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’قال النووي : وہٰذا الذي قالہ الشافعي (أي قولہ : إذا صح الحدیث فہو مذہبي) لیس معناہ أن کل أحد رأی حدیثًا صحیحًا، قال: ہٰذا مذہب الشافعي وعمل بظاہرہٖ۔ وإنما ہٰذا فیمن لہٗ رتبۃ الاجتہاد في المذہب علی ماتقدم من صفتہ أو قریب منہ۔ وشرطہ أن یغلب علی ظنہ أن الشافعي لم یقف علی ہٰذا الحدیث أو لم یعلم صحتہ۔ وہٰذا إنما یکون بعد مطالعۃ کتب الشافعي کلہا ونحوہا من کتب أصحابہ الآخذین عنہ وما أشبہہا۔ وہٰذا شرط صعب قل من یتصف بہ۔ وإنما اشترطوا ما ذکرنا، لأن الشافعي ترک العمل بظاہر أحادیث کثیرۃ رآہا وعلمہا، لکن قام الدلیل عندہٗ علی طعن فیہا أو نسخہا أو تخصیصہا أو تأویلہا أو نحو ذٰلک۔ قال الشیخ أبوعمرو : لیس العمل بظاہر ما قالہ الشافعي بالہین، فلیس کل فقیہ یسوغ لہ أن یستقل بالعمل بمایراہ حجۃ من الحدیث۔‘‘ (المجموع شرح المہذب : ۱/۶۴)
’’نوویؒ کہتے ہیں : اور یہ جو امام شافعیؒ نے فرمایا ہے (کہ جب حدیث ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے) اس کے یہ معنی نہیں کہ جو بھی صحیح حدیث دیکھے، یہ کہنے لگے کہ یہ امام شافعیؒ کا مذہب ہے اور اس کے ظاہر پر عمل کرلے۔ یہ صرف اس کے لیے ہے جسے اجتہاد فی المذہب کا رتبہ حاصل ہو، جیسے پہلے بیان ہوا یا اس کے قریب ہو۔ اور اس کی شرط یہ ہے کہ اسے گمانِ غالب ہوجائے کہ امام شافعیؒ کو یہ حدیث نہیں ملی یا اس کا صحیح ہونا انھیں معلوم نہیں ہوا۔ اور یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب شافعیؒ کی سب کتب کا مطالعہ ہوجائے اور ان کے تلامذہ وغیرہ کی کتابوں کا بھی مطالعہ ہوجائے، اور یہ کڑی شرط ہے۔ کم لوگ اس درجے کے ہوتے ہیں۔ اور یہ شرط ا س وجہ سے لگائی ہے کہ امام شافعیؒ نے بہت سی احادیث جو انھیں معلوم تھیں‘ ان کے ظاہری معنی ترک کردیے، کیونکہ ان میں طعن یا نسخ یا تخصیص یا تاویل وغیرہ کی دلیل ان کے ہاں پائی گئی تھی۔ شیخ ابوعمرو فرماتے ہیں : امام شافعیؒ کے قول پر عمل کرنا آسا ن نہیں۔ ہر فقیہ کو یہ حق نہیں کہ وہ جو حدیث صحیح سمجھے، اس پر عمل کرنے میں خود مختار ہوجائے۔ ‘‘
اور ظاہر ہے کہ امام شافعیؒ کے اس قول کی جو مراد ہے، وہی دیگر ائمہ کے اس قول کی مراد ہے۔
’’قال المہلب : قد أوجب اللہ تعالیٰ أن یکون ظن المؤمن بالمؤمن حسنًا أبدًا إذ یقول: ’’لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا ۰ۙ وَقَالُوْا ھٰذَآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ ‘‘ (النور:۱۲) فإذا جعل اللہ سوء الظن بالمؤمنین إفکًا مبینًا، فقد ألزم أن یکون حسن الظن بہم صدقًا بیّنًا۔‘‘ (شرح صحیح بخاري ابن بطال : ۹/۲۶۱، ومثلہ في التفسیر المظہري : ۶/۴۷۶)
’’مہلب کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے لازم ٹھہرایا ہے کہ مومن کا مومن کے ساتھ گمان ہمیشہ اچھا ہو، چنانچہ فرمایا ہے: ’’جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مؤمن مرد بھی اور مؤمن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے ؟‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے بارے میں بدگمانی کو کھلا جھوٹ قرار دیا ہے، تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ان کے ساتھ حسن ظن رکھنا کھلا سچ ہے۔‘‘
’’ عن سعید بن المسیب قال : کتب إلي بعض إخواني من أصحاب رسول اللہﷺ أن ضع أمر أخیک علی أحسنہ مالم یأتک ما یغلبک ولا تظن بکلمۃ خرجت من امریٔ مسلم شرًّا وأنت تجد لہ في الخیر محملًا ۔ ۔ ۔ وقد روینا بعض ہٰذہ الألفاظ عن أمیر المؤمنین عمر۔‘‘ (شعب الإیمان :۱۰/ ۵۵۹، ۷۹۹۲)
’’سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں : بعض صحابہؓ نے مجھے لکھا : اپنے بھائی کے حال کو اچھے سے اچھا سمجھو جب تک کہ اس کے خلاف کوئی پکی بات تمھیں معلوم نہ ہوجائے۔ اور کسی مسلمان کی زبان سے نکلی ہوئی بات کو برا نہ سمجھو جب تک کہ اس کے اچھے معنی مرا دلے سکو۔ ان میں سے کچھ الفاظ امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ہم نے روایت کیے ہیں۔ ‘‘
’’التاسع والعشرون قال : إن کلّ آیۃ تخالف قول أصحابنا فإنہا تحمل علی النسخ أو علی الترجیح، وأولٰی ذٰلک أن تحمل علی التأویل من جہۃ التوفیق۔ الثلاثون قال : خبر یجيء بخلاف قول أصحابنا فإنہ یحمل علی النسخ أو علی أنہ معارض بمثلہٖ، ثم یصار إلٰی دلیل آخر ویرجح کما یحتج بہ أصحابنا من وجوہ الترجیح أو یحمل علی التوفیق۔ وإنما یفعل ذلک علی حسب قیام الدلیل۔ فإن قامت دلالۃ النسخ یحمل علیہا وإن قامت الدلالۃ علی غیرہٖ صرنا إلیہ علی حسبہ۔
الحادي والثلاثون قال : إذا ورد عن الصحابي مخالفًا لقول أصحابنا، فإن کان لایصح في الأصل کفینا مؤنۃ جوابہ وإن کان صحیحا في موردہٖ، فقد سبق ذکر أقسامہ وہو الحمل علی النسخ أو علی أنہٗ معارض بمثلہ إلا أن أحسن الوجوہ وأبعدہا عن الشبہۃ أنہ إذا ورد حدیث الصحابيؓ في غیر موضع الإجماع أن یجعل علی التأویل بینہٗ وبین صحابي مثلہ۔‘‘ (أصول الکرخي مع شرحہ للنسفي، ص: ۸۶ - ۹۴)
’’اُنتیسواں قاعدہ : ہر آیت جو ہمارے علماء کے قول کے مخالف ہو تو وہ منسوخ یا مرجوح سمجھی جائے گی، اور بہتر یہ ہے کہ اس میں تطبیق کی رو سے تاویل سمجھی جائے۔
تیسواں قاعدہ : جو حدیث ہمارے علماء کے قول کے خلاف ہو تو اسے منسوخ یا معارض بالمثل سمجھا جائے گا، پھر دوسری دلیل کی طرف رجو ع ہوگا اور ترجیح دی جائے گی، جیسے ہمارے علماء دلیل لیتے ہیں، وجوہِ ترجیح میں سے یا تطبیق پر محمول کیا جائے گا، اور یہ دلیل کی نوعیت کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ اگر نسخ کی دلیل ہو تو یہ مراد لیا جائے گا، اور اگر کسی اور معنی کی دلیل ہوتو وہ مراد لیا جائے گا۔
اکتیسواں قاعدہ : جب صحابیؓ کا کوئی قول ہمارے علماء کے قول کے مخالف ہو تو اگر وہ ثابت ہی نہیں تو اس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر ثابت ہو تو اس کی قسمیں پہلے ذکر ہوچکی ہیں، یعنی منسوخ سمجھنا یا معارض بالمثل سمجھنا، تاہم سب سے بہتر یہ ہے کہ جب قولِ صحابیؓ اجماعی مسئلے کے علاوہ کسی مسئلے میں آئے تو اس طرح کے دوسرے صحابیؓ کے قول کی بنا پر اسے مؤول سمجھا جائے۔‘‘
مجتہدین نے ایک مسئلے سے متعلق سب دلائل کو پیش نظر رکھ کر حکم معلوم کیا ہے۔ اس میں یہ صورت بکثرت پیش آتی ہے کہ دلائل میں بظاہر تعارض ہو۔ دلائل میں یہ صوری تعارض کیوں ہوتا ہے؟ یہ ایک مستقل مبحث ہے، تاہم یہ واقع ہے‘ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ رفعِ تعارض میں مجتہدین کے مناہج ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہیں، تاہم رفعِ تعارض کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دلائل کے ظاہری معنی مراد لیے جاتے ہیں اور بعض جمع بین الادلّہ کی غرض سے ظاہری معنی چھوڑ دیےجاتے ہیں۔ کوئی دلیل منسوخ، کوئی مؤوّل اور کوئی مرجوح قرار پاتی ہے، اور یہ سب دلیل کی بنیاد پر ہوتا ہے، چنانچہ مثلاً ’’إعلاء السنن‘‘ میں چند ابوابِ فقہ کے دلائل کی تفصیل دیکھنے سے یہ واضح ہوگا۔ اب جس کی نظر ایک بحث کے سب دلائل پر ہے، اسے معلوم ہوسکے گا کہ کس دلیل کے کیا معنی سمجھے گئے ہیں، اور جس کی نظر اتنی وسیع نہیں، اسے صرف ایک دلیل پہنچی اور مجتہد کا قول اس دلیل کے ظاہر ی معنی کے خلاف لگا تو صرف اتنی بات پر یہ مخالفت کافیصلہ نہ کرے۔ اس صورت میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ مجتہد کی دلیل دوسری آیت یا حدیث ہے اور جو ا س شخص کو معلوم ہوئی اسے اس مجتہد نے منسوخ یا مؤول یا مرجوح قرار دیا ہے، لہٰذا ایسے مواقع پر سہولتِ تفہیم کے لیے اکثری قاعدے کو بطور علامت ذکر کردیا گیا ہے۔ یہ صحیح مراد ہے ان تین قواعد کی۔ ان الفاظ کے ظاہر سے جو شبہ ہوسکتا ہے کہ آیت یا حدیث کو مجتہد کے قول کے تابع قرار دیا گیا ہے، سو معاذ اللہ! یہ تو کسی عام مسلمان کی بھی مراد نہیں ہوسکتی، چہ جائیکہ امام کرخیؒ جیسے جلیل القدر فقیہ کی یہ مراد ہو! اتنا حسن ظن تو ہر مسلمان کا حق ہے کہ اس کے کلام سے حتی الامکان صحیح معنی مراد لیے جائیں۔ اور یہ معنی ان قواعد کے الفاظ میں غور کرنے سے بھی سمجھ میں آتے ہیں، کیونکہ ان قواعد میں نسخ،ترجیح اور تاویل کا ذکر ہے اور یہ سب دلیل معارض کے پائے جانے کی وجہ سے ہوتے ہیں، تو ان میں دوسری دلیل کے ماخوذ ومستدَل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہی ان قواعد کی غرض اور صحیح مراد ہے۔ حاکمؒ کہتے ہیں :
’’ولعل متوہمًا یتوہم أن لامعارض لحدیث صحیح الإسناد آخر صحیح۔ وہٰذا المتوہم ینبغي أن یتأمل کتاب الصحیح لمسلم حتی یری من ہٰذا النوع مایمل منہ۔‘‘ (المستدرک : ۱ / ۳۴۹)
’’ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ حدیث صحیح کے معارض دوسری صحیح حدیث نہیں ہوتی ! اُسے چاہیے کہ صحیح مسلم میں غور کرے۔ اس قسم کی اتنی مثالیں ملیں گی کہ جی بھر جائے گا۔ ‘‘
قرافیؒ کہتے ہیں :
’’کثیر من فقہاء الشافعیۃ یعتمدون علی ہٰذا ویقولون : مذہب الشافعي کذا، لأن الحدیث صح فیہ، وہو غلط، فإنہٗ لابد من انتفاء المعارض والعلم بعدم المعارض یتوقف علی من لہٗ أہلیۃ استقراء الشریعۃ حتی یحسن أن یقول: لامعارض لہٰذا الحدیث۔ وأما استقراء غیر المجتہد المطلق فلاعبرۃ بہ۔‘‘ (شرح تنقیح الفصول :ص۴۵۰)
’’بہت سے فقہاء شافعیہ اس کو لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شافعیؒ کا مذہب یہ ہے، کیونکہ اس بارے میں صحیح حدیث آئی ہے۔ یہ بات غلط ہے، کیونکہ معارض نہ ہونے کا علم ضروری ہے،اور یہ علم اسے ہوگا، جسے (دلائل) شرع کے استقراء کی اہلیت ہو،تاکہ اس حدیث کے معارض کی نفی کرسکے۔ رہا غیر مجتہد مطلق کا استقراء سو اس کا اعتبار نہیں۔ ‘‘
احمد بن باکر صالح باکری کا اس بارے میں ایک رسالہ ہے :
’’مقولۃ الإمام أبي الحسن الکرخي ت: ۳۴۰ رحمہ اللہ : کل آیۃ أو حدیث یخالف ما علیہ أصحابنا، فہو مؤول أومنسوخ : دراسۃأصولیۃ فقہیۃ۔ ‘‘
باحث اپنے رسالے کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں :
’’ہٰذہ المقولۃ التي اشتہرت عنہ وکانت مثارًا لتشنیع کثیر من الباحثین في تاریخ الفقہ وأصولہ ووصفوا قائلہا بالغلو في التعصب المذہبي والتقلید الأعمی ورد نصوص الشریعۃ بأقوال الفقہاء ولاریب أن ہٰذہ التہمۃ لایتّہم بہا مسلم عادي فضلًا عن فقیہ وأصولي کبیر کالإمام الکرخي۔ وتبین من خلال تتبّع سیاق ہٰذہ المقولۃ أنہا مسلک أصولي معتمد جری علیہ فقہاء الإسلام قدیمًا وحدیثًا وفي جمیع المذاہب الفقہیۃ کما بینتہٗ وقررتہٗ في ہٰذا البحث نظریًّا وتطبیقًا۔‘‘
’’یہ امام کرخیؒ کا مشہور قول ہے، یہ ان پر فقہ اور اصول کی تاریخ کے بہت سے باحثین کی تشنیع کا سبب بنا ہے۔ اور انھوں نے اس کے قائل کو تعصبِ مذہبی میں غلو اور اندھی تقلید کا مرتکب اور نصوصِ شریعت کو فقہاء کے اقوال سے رد کرنے والا کہا ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ یہ تہمت عام مسلمان پر بھی نہیں لگائی جاسکتی، چہ جائیکہ امام کرخیؒ جیسے بڑے اصولی پر لگائی جاسکے۔ اس قول کے سیاق سے واضح ہوا ہے کہ یہ اصولیین کا ایک معتبر منہج ہے، جسے قدیم اور جدید دو ر کے فقہاء اور سب فقہی مذاہب نے اختیار کیا ہے، جیسے میں نے اس بحث میں نظری اور تطبیقی طور پر واضح اورثابت کیا ہے۔‘‘
ہٰذا ورحم اللہ جمیع أئمۃ المجتہدین وعلماء المسلمین، آمین