بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

اسلامی ملک میں غیر اسلامی قانون سازی اور فیصلے ایک لمحۂ فکریہ!

اسلامی ملک میں غیر اسلامی قانون سازی اور فیصلے

ایک لمحۂ فکریہ!


الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!

اہالیانِ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں و رحمتوں میں سے ایک بڑی نعمت و رحمت خود مملکتِ خداداد اِسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ہے۔ ہمارے اَسلاف و اَکابر نے بڑی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس عہد و پیمان کے ساتھ یہ ملک حاصل کیا تھا کہ اس میں قرآن و سنت کی تعلیمات صحیح معنی میں نافذ کریں گے۔ اس ملک کی بنیاد ہی ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ ’’لا إلٰہ إلا اللہ‘‘ کے نعرے پر رکھی گئی، جو کلمۂ توحید پر مشتمل اور تمام انبیاء کرام  علیہم السلام  اور آسمانی کتابوں کی تعلیمات کی اَساس اور اَصل الاصول ہے۔ اَکابر نے اس عہد و پیمان کو نباہتے ہوئے وطنِ عزیز کے آئین کے تمہیدی اور ناقابلِ تبدیل حصے میں ہی اس نوعیت کی دفعات طے کردیں کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکومت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت تصور کی جائے گی، اور حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہی قانون سازی کرے، یہاں کوئی قانون قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف منظور نہیں کیا جائے گا، اگر پہلے سے کوئی قانون اسلامی تعلیمات کے خلاف جاری ہو، اُسے بھی جلد ترمیم کرکے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے گا۔ 
خالقِ کائنات سے کیے اس عہد و پیمان کا تقاضا ہے کہ یہاں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اللہ تعالیٰ کے اَحکام کا نفاذ ہو، قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون منظور نہ کیا جائے۔ اسمبلی کا کوئی ممبر نادانی میں ایسی سفارش پیش بھی کردے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہو یا ان تعلیمات سے ہم آہنگ نہ ہو تو جمہور اور اکثریت کی ذمہ داری ہے کہ اُسے خدا سے کیا گیا عہد یاد دلائیں اور ’’تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی‘‘ اور ’’تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ‘‘ کے خداوندی اَحکام پر عمل کریں، لیکن اَفسوس کہ ہمارے پیارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر اسلامی قانون سازی کی جارہی ہے ، جس کے ممکنہ تلخ اورمضر اثرات حالیہ اور آئندہ مسلمان نسل کو جھیلنے پڑ سکتے ہیں، جس طرح کہ اس سے پہلے بعض ایسے قوانین و آرڈیننس جاری کیے گئے جن کا خمیازہ ایک عرصہ سے اسلامیانِ وطن مختلف عدالتوں میں بھگت رہے ہیں۔ ایک تازہ عدالتی فیصلے سے اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے، جس میں ایک شہری نے اپنی بیوی کو تین طلاقوں پر مشتمل نوٹس دے دیا اور ایک کاپی یونین کونسل کو بھی بھجوادی۔ بعد ازاں عدت کے دوران گن پوائنٹ پر اس سے زبردستی تعلق قائم کیا، خاتون نے اس وقوعے میں ریپ کی ایف آئی آر درج کروادی کہ تین طلاق دینے کے بعد وہ شخص اس کا شوہر نہیں رہا، لہٰذا اس کے لیے میرے ساتھ زبردستی تعلق قائم کرنا ناجائز تھا۔ جب کہ طلاق دینے والے شخص نے اس بنیاد پر اسے چیلنج کردیا کہ اگرچہ اس نے تین طلاقیں دی تھیں، لیکن اس نے طلاق کے قانونی طور پر مؤثر ہونے کے ۹۰ دن کے عرصے سے پہلے ہی طلاق سے رجوع کرلیا تھا اور اس رجوع نامے کی اطلاع باقاعدہ یونین کونسل کو بھی کردی تھی، لہٰذا یہ خاتون ابھی تک میری بیوی ہے۔ عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ اس شخص کے حق میں دیتے ہوئے ایف آئی آر خارج کردی اور مسلم فیملی لاز آرڈیننس، ۱۹۶۱ء کی دفعہ ۷ (۱) اور اس کی ماضی میں کی گئی متعدد عدالتی تشریحات کی روشنی میں یہ قرار دیا کہ مسلمان مرد طلاق (کی کوئی بھی صورت) دینے کے بعد ۹۰ دن مکمل ہونے سے قبل بیوی سے رجوع کرسکتا ہے۔ 
یہاں اس بحث کی تو گنجائش ہے کہ شوہر اگر ایک جملے میں تین طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران اس شبہے کی بنیاد پر مطلقہ سے تعلق قائم کرتا ہے کہ وہ اس کے لیے حلال ہےتو اسے زنا قرار دے کر زنا کی سزا نہیں دی جائے گی، لیکن شرعی حکم اس بارے میں واضح ہے کہ تین طلاقیں دینے کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہیں رہتا، نہ تو عدت کے دوران اور نہ ہی عدت گزرنے کے بعد۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک یا دو رجعی طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران (جو ۹۰ دن سے زیادہ یا کم ہوسکتی ہے) شوہر کو رجوع کا حق ہوتا ہے، جب کہ تین طلاقیں اگر مختلف مجالس میں دی جائیں تو جمہور اہلِ سنت بشمول اہلِ حدیث حضرات کے ہاں بھی تین طلاقیں ہوتی ہیں اور ان کے بعد کسی صورت رجوع کا حق نہیں ہوتا، اور اگر تین طلاقیں ایک ساتھ دی جائیں تو امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ علیہم  سمیت جمہور اُمت کے نزدیک تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، اور رجوع کا حق نہیں ہوتا۔ بعض اہلِ علم کے ہاں ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں، اس لیے ان کے ہاں عدت کے دوران رجوع کا حق ہوتا ہے، گویا ان کے ہاں بھی اس مسئلے میں رجوع کے جواز کا مدار طلاق کے ایک ہونے پر ہے، اگر ان حضرات کی رائے کے مطابق بھی تین طلاقیں ہوجائیں تو شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہوگا۔ 
مذکورہ فیصلے میں شوہر معترف ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں، لیکن ان طلاقوں کے قانونی طور پر مؤثر ہونے سے پہلے اس نے تعلق قائم کیا ہے، اور فیصلے کی بنیاد بظاہر اسی پر رکھی گئی ہے، جب کہ طلاق دینے کے بعد شرعًا وہ فوری طور پر واقع ہوجاتی ہے، ایک یا دو طلاق میں رجوع جائز ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ۹۰ دن تک طلاق مؤثر نہیں ہے، یا رجوع کرنے سے وہ کالعدم ہوجائے گی، اور علی اختلاف الرائے تین طلاقیں واقع ہوجائیں تو بالاتفاق وہ بھی فوری طور پر واقع ہوتی ہیں، موقوف نہیں رہتیں، خصوصًا ہمارے ملک کی غالب اکثریت فقہ حنفی کو مانتی اور اسی پر عمل پیرا ہے، جس کے مطابق تین طلاقیں دینے کے فورًابعد بیوی مرد پر حرام ہوجاتی ہے۔ لیکن مذکورہ بالا ۱۹۶۱ء کا آرڈیننس کہتا ہےکہ چاہے جتنی طلاقیں دی ہوں، ۹۰ دن مکمل ہونے سے قبل بالکل رجوع ہوسکتا ہے، ملحوظ رہے کہ اس قانون کووفاقی شرعی عدالت غیر شرعی قرار دے چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کے ارکانِ اسمبلی نے ۲۷ ویں آئینی ترمیم کے تحت جہاں دیگر پہلوؤں سےقانون سازی کی ہے، وہیں اقلیتی کمیشن کو با اختیار بنانے کی غرض سے کئی دفعات شامل کی گئیں، ان میں ایک شق اور دفعہ یہ بھی شامل کی گئی تھی کہ :
 ’’ اس ایکٹ کی دفعات کو دیگر تمام موجودہ قوانین پر فوقیت حاصل ہوگی ، چاہے کہیں بھی کوئی متضاد قانون موجود ہو ۔ ‘‘
 یعنی اگر کمیشن کوئی فیصلہ، سفارش یا رپورٹ جاری کرتا ہے تو وہ فیصلہ پاکستان کے کسی بھی موجودہ قانون پر حاوی ہوگا۔ اس لیے شکوک اور شبہات پیدا ہوئے ؛ کیوں کہ پاکستان کے حساس مذہبی قوانین، خصوصاً آئین کی دفعات ۲۶۰وغیرہ قا دیانی قوانین (Ordinance1984)، مذہبی شناخت اور مذہبی آزادی سے متعلق قوانین، توہینِ مذہب اور مذہبی تحفظ کی دفعات، یہ سب اپنے مخصوص پس منظر، حساسیت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔ تشویش یہ تھی کہ اگر کمیشن میں مستقبل میں کوئی ایسا رکن آ جائے جو بے دین ذہن رکھتا ہو یا جس کی مذہبی حساسیت کمزور ہو، تو وہ کسی ایسے معاملے میں’’حقوقِ اقلیت‘‘ کے نام پر ایسی سفارش یا رپورٹ جاری کر سکتا ہے جو مذکورہ قوانین کی تشریح یا روح پر اثر انداز ہو، اور چوں کہ شق ۳۵‘ اِس کمیشن کو دیگر قوانین پر فوقیت دیتی تھی، اس لیے اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ آئین کی مذہبی دفعات یا حساس قوانین کمزور پڑ جائیں یا ان کی قانونی حیثیت متنازع ہو جائے۔ 
یہ ایک ایسی بات تھی جس پر مذہبی طبقات، آئینی ماہرین اور متعدد سیاسی حلقے اپنی اپنی جگہ فکرمند تھے۔ مشترکہ اجلاس میں جب بل سامنے آیا تو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ نے شق ۳۵ کی حساسیت پر پورے ایوان کو بریف کیا اور حکومت کو آگاہ کیا کہ اس شق کی موجودگی مستقبل میں بہت بڑے قانونی اور نظریاتی بحران کا سبب بن سکتی ہے، انہوں نے مثالوں اور آئینی نکات کے ساتھ بتایا کہ یہ شق پاکستان کے مذہبی قوانین کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے مؤقف کی تائید کی، پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بھی مکمل اتفاق کیا ، یوں حکومت نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے شق ۳۵کو بل سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔اس لیے جمعیت علماء اسلام اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو پوری پاکستانی قوم کی جانب سے خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے وہ نکتہ اُٹھایا جو عام لوگوں سے لے کر اکثر سیاست دانوں تک کی سمجھ سے اوجھل تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین! 
ہم پاکستانی قوم سے بھی اپیل کریں گے کہ انتخابات کے دنوں میں آپ علمائے کرام اور دینی ذہن رکھنے والے اراکین کو منتخب کر کے پارلیمنٹ میں بھیجیں ، تاکہ قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کے خلاف کوئی قانون سازی نہ ہو ۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اسپیکر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے درست بات فرمائی کہ :
’’ ہم کیوں ایسے قانون کی طرف جا رہے ہیں جس کا فائدہ کل کو غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے؟ ایسا راستہ کیوں کھولیں جس سے وہ طبقہ فائدہ اُٹھائے جو ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے راستے تلاش کرتا ہے؟ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ۱۹۷۴ء میں جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، تب بھی انہوں نے اپنی مخصوص نشستیں پنجاب اسمبلی میں پُر کر دیں، مگر بعد میں ان کی جماعت نے یہ کہہ کر لاتعلقی ظاہر کر دی کہ ان کا یہ انفرادی عمل تھا اور ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ یہی ان کی چالاکی ہے، فائدہ اٹھائیں گے بھی اور بعد میں اس سے انکار بھی کر دیں گے، لہٰذا اگر آج بھی ہم نے کوئی ایسی گنجائش دے دی تو کل یہی کہا جائے گا کہ: ’’ہم تو خود کو مسلمان سمجھتے ہیں، ہم اس آئینی فیصلے کو مانتے ہی نہیں ۔ ‘‘ جنابِ اسپیکر! پاکستان مزید ایسے تنازعات کا متحمل نہیں ہو سکتا، یہ دوبارہ ایک خطرناک پٹارہ کھولنے کے مترادف ہے۔ ‘‘
اسی طرح پارلیمنٹ نے یہ بھی قانون سازی کر رکھی ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے کسی بچے یا بچی کا نکاح نہیں ہو سکے گا ، اگر کوئی نکاح کرے گا تو اس کو جنسی زیادتی سمجھا جائے گا اور اس کو زنا بالجبر کی سزا دی جائے گی اور اگر اس نکاح کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوگیا تو وہ ثابت النسب کہلائے گا اور اس کو جائز بچہ کہا جائے گا ۔ یہ سب کچھ دینِ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ٹرانس جینڈر کے بارے میں قانون سازی کو بھی اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت اسلام اور شریعت کے خلاف قرار دے کر مسترد کرچکی ہیں۔ حکومت ہے کہ یہ قوانین پارلیمنٹ سے منظور کراتی جارہی ہے اور ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ ان قوانین کو پاس کرنا اقوامِ متحدہ کے منشور اور ان کےمطالبات کا تقاضا ہے۔
 پاکستانی قوم ، اربابِ حکومت اور اراکینِ پارلیمان سے یہ پوچھنے کا بجا طور پر حق رکھتی ہے کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور دستور کا حلف نہیں اٹھایا جس میں لکھاہے کہ آپ قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کر سکتے؟! ذرا سوچیں تو سہی کہ ملک ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان ، عدالتی فیصلے اور قانون سازی ہو رہی ہے اسلام اور قرآن و سنت کے خلاف !!! یاللعجب! ان حالات میں ہم اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق نہیں ٹھہریں گے تو کیا ہوگا؟! قرآنِ کریم، حدیث اور تاریخ ہمیں بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شریعت کے اَحکام اپنے زیرِ اَثر علاقوں میں نافذ کریں گے، لیکن وہ اپنے قول و قرار سے پیچھے ہٹ گئے، اور مختلف حیلے بہانے تراشنے لگے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف عذابوں میں پکڑ کر ذلت اور عبرت کا نشان بنادیا، بلکہ ہمیشہ کے لیے انہیں اپنے غضب کا مستحق ٹھہرا دیا؛  فاعتبروا یاأولی الأبصار! 
انہی نوعیت کے امور کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مسالک کی مختلف دینی، مذہبی ،سیاسی اور اتحاد تنظیماتِ مدارسِ دینیہ پر مشتمل جماعتوں اور تنظیموں نے مجلس اتحادِ امت پاکستان کے پلیٹ فارم کے تحت کراچی میں ایک مشترکہ کانفرنس بلائی، جس کے آخر میں ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا ، افادۂ عام کی غرض سے ماہنامہ بینات کےاسی شمارہ میں شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے