
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی
پچھلے دو سال سے اسرائیل‘ اہلِ غزہ اور اہلِ فلسطین پر مسلسل وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے، ان پر کھانا پینا اور علاج معالجہ کے تمام دروازے بند کر کے ظلم و ستم اور جور و جبر کی تمام حدیں پار کرچکا ہے۔ اہلِ فلسطین کی جانب سے مدافعت کرنے والی حماس کی اعلیٰ قیادت سے لے کر عام لوگوں تک کی شہادتیں صفحۂ عالَم پر رقم ہو چکی ہیں۔ اسرائیل کی سفاکیت اور اس کی وحشیانہ بمباریوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں اکثریت بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی ہے۔ نہتّے لوگ جو جنگ میں کسی بھی اعتبار سے شریک نہیں، بزدل صہیونی انھیں بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود اس کے ناپاک عزائم میں کہیں سے بھی کوئی کمی کے آثار نظر نہیں آرہے۔ اس سے پہلے وہ لبنان، شام، یمن اور ایران پر بھی حملے کرچکا ہے، اور اب اس نے ۹؍ستمبر ۲۰۲۵ء کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کردیا، جس میں حماس کے مرکزی راہنماؤں کو نشانہ بنانا مقصد تھا۔ اس حملے میں حماس کے راہنما خلیل الحیا کا بیٹا، ۳ محافظ اور ایک معاون سمیت ۶ افراد شہید، جب کہ متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ حماس قیادت پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر سوچ و بچار اور غور و خوض کے لیے جمع ہوئے تھے۔
دیکھا جائے تو یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اُصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور دنیا کے امن و امان اور سلامتی و تحفظ کے لیے ایک سنگین خطرے کا الارم ہے، اس لیےکہ اس سے عیاں ہوجاتا ہے کہ اسرائیل نامی وحشی درندہ جب چاہے کسی بھی ملک پر بے دریغ حملہ کرسکتا ہے اور اس خون خوار موذی درندے کو کوئی پٹہ ڈالنے والا نہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملے سے قبل نہ صرف امریکا کو اعتماد میں لیا تھا، بلکہ واشنگٹن نے اس حملے میں مدد بھی فراہم کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نےکہا کہ: اگرچہ حماس کا خاتمہ ایک قابلِ قدر ہدف تھا، لیکن قطری دارالحکومت میں حملہ اسرائیل یا امریکا کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتا۔ امریکی فوج نے ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ افراد کو اسرائیل کے اس حملے سے آگاہ کیا تھا، لیکن انہوں نےیہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا فوج کو اسرائیل کی جانب سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں؟ امریکی ترجمان کی باتوں سے واضح ہوتاہے کہ یہ حملہ امریکا اور اسرائیل کی ملی بھگت کا نتیجہ تھا، لیکن شاید امریکا عرب دنیا کی دولت پر مزید ہاتھ صاف کرنے کی خاطر قطر کا اعتماد برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے وہ اب اس قسم کے بیانات دے رہا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک حماس میری جنگ بندی کی بات نہیں مان رہی اور دوسری طرف جس وقت وہ بات چیت کے لیے اکٹھے ہوئے تو اسی وقت ان پر اسرائیل نے بمباری کردی۔ اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہےکہ اس نے سازش کر کے پہلے فلسطینی قیادت کو اکٹھا کیا اور پھر اسرائیل کے ذریعے ان پر بمباری کرادی۔
بہرحال! اسلامی دنیا اور خصوصاً عرب ممالک کو یہود ونصاریٰ کے مکارانہ رویوں کو سمجھنا چاہیے اور اب امریکا کے جال سے باہر نکل آنا چاہیے اور اسلامی بلاک اور دفاعی اتحاد بناکر اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دینا چاہیے۔ اگرچہ دوحہ میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی، امت مسلمہ کو امید تھی کہ اس میں اسلامی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے ہوگا، لیکن بساآرزو کہ خاک شدہ کے مصداق ’’نشستند و خوردند و گفتند و برخاستند‘‘سے آگے کوئی بات نہیں بڑھی اور مشترکہ اعلامیہ میں ایسی کسی بات تک کا ذکر نہیں کیا گیا جو کہ اسرائیل جیسے جارح اور ظالم کے ظلم اور جور کو روک سکے اور غزہ کے مظلوم ومقہور اور مجبور لوگوں کی دادرسی کرسکے۔ خدا کرےکہ اسلامی دنیا کے حکمرانوں کا ضمیر جاگے اور وہ باہمی طور پر ایک مضبوط دفاعی معاہدہ کرلیں، تاکہ اُمتِ مسلمہ ایک مشترکہ دفاع کے ذریعے صہیونی قوت کا مقابلہ کرسکے۔ پاکستانی عوام اور مقتدرہ قوتوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مطابق فلسطینیوں کی سرزمین پر یہودی بستیوں کا قیام ناقابلِ قبول ہے، جبکہ اسرائیل کے پہلے صدر نے اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں اور ترجیحات میں دنیا کے نقشے سے نوزائیدہ مسلم ملک (پاکستان) کے خاتمے کو قرار دیا تھا۔
خوش آئند ہے کہ پاکستانی وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف صاحب نے پہلے قطرکے امیر کو فون کرکے اسرائیلی حملوں کی مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور پھر پاکستانی وفد کے ہمراہ قطر جاکر امیرِ قطر کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا کہ : پاکستان چٹان کی طرح قطری عوام کےساتھ کھڑا ہے۔پاکستان نے برادر ملک قطر کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ : یہ حملہ خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرہ، اشتعال انگیز اور قطر کی خودمختاری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الریاستی تعلقات کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اسرائیلی سفیر کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے اسرائیل کو غیر ذمہ دار اور بدمعاش ریاست قرار دیا۔ اسرائیل کی وحشیانہ حرکتوں اور اُمتِ مسلمہ کے خلاف اس کی سفاکیت پر پوری پاکستانی قوم اسرائیل کے ستم رسیدہ مظلوموںکے شانہ بشانہ اور ظالم اسرائیل کے خلاف کھڑی ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس، پاکستان، ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، کویت، اردن، عراق، مراکش، شام، یمن، الجزائر، لبنان، عمان، فلسطینی اتھارٹی، اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس، خلیج تعاون کونسل اور دیگر ممالک اور عالمی تنظیموں نےبھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق قرارداد کے حق میں ۱۴۲، اور مخالفت میں ۱۰ ؍ووٹ پڑے۔ اگرچہ یہ بھی غنیمت ہے کہ اسرائیل کی مرضی کے خلاف دنیا کی اکثریت نے ووٹ دیا، کیونکہ صہیونی تو ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کے خواب دیکھ رہےتھے، تاہم فلسطینی مسئلہ کا دو ریاستی حل تجویز کرنا اسرائیل کی ناپاک ریاست کو جواز بخشنے کے مترادف ہے، اس لیے قراداد یہ لانی چاہیے تھی کہ اسرائیل جو فلسطین کی سرزمین پر قابض ریاست ہے، وہ اپنے وجود سے اسے فوراً پاک کرے، کیونکہ دو ریاستی حل تجویز کرنا اہلِ فلسطین کو گویا پسپائی کی پاتال میں گرانا ہے، اس لیے صرف ایک فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا جانا چاہیے اور اسرائیل کے ناجائز وجود کو کسی طور پر ارضِ فلسطین پر بین الاقوامی برادری کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔
بہرحال یہ بات بڑی حوصلہ افزاء اور خوش کن ہے کہ الحمد للہ! پاکستان اور سعودی عرب نے ۱۷؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو ریاض میں ایک دفاعی معاہدہ پر دستخط کردیے ہیں کہ سعودیہ یا پاکستان میں کسی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہوگا اور دونوں ملک مل کر اس کا دفاع کریں گے۔
اللہ تعالیٰ پوری اُمتِ مسلمہ کو کفر کے مقابلہ میں متحد اور متفق ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور اسرائیلی ریشہ دوانیوں سے اسلامی ممالک کی ہر طرح کی حفاظت فرمائے۔ قطر اور غزہ کے شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفا یاب فرمائے اور فلسطینی دفاع کاروں کو اپنے مشن میں استقامت اور کامیابی نصیب فرمائے، آمین بحرمۃ النبي الکریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ أجمعین!