بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

اَسلاف و اکابر کی تواضع کے واقعات

اَسلاف و اکابر کی تواضع کے واقعات


ہمارے اکابر علمی اور عملی کمالات کے جامع تھے۔ ان حضرات کے کمالات میں ایک نمایاں وصف تواضع تھا۔ تواضع کا مقابل تکبر ہے، تکبر ایسا گناہ ہے کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں، تمام گناہوں کی جڑ یہی ہے۔ ابلیس کی علت یہی اَنانیت تھی۔ تکبر کہتے ہیں کسی دینی یا دنیاوی کمال میں اپنے آپ کو اپنے اختیار سے دوسرے سے اس طرح بڑا سمجھنا کہ دوسرے کی حقارت دل میں آئے، یا غصے کی حالت میں حق کی نصیحت کی جائے تو اُسے ردّ کرے۔ اگر اپنے کسی کمال کا خیال آئے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ میرا ذاتی کمال نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ جب چاہیں اسے چھین لیں، اور ہوسکتا ہے کہ دوسرے میں کوئی ایسا کمال ہو جس کی وجہ سے اس کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مجھ سے زیادہ ہو۔           (تربیت السالک، جزو سوم، باب سوم، ص:۱۰۸، ۱۰۱،ملخصاً، خطبات حکیم الامت : ۲۵/۸۴)
تواضع کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کی اپنے سے نفی کرے، بلکہ معنی یہ ہیں کہ ان کو اپنے کمال سے نہ سمجھے، بلکہ محض فضل ورحمت سمجھے۔              (خطبات حکیم الامت : ۲۵/۲۴۱)
اس مضمون میں اپنے مشائخِ دیوبند کی تواضع کے متفرق واقعات نقل کیے جارہے ہیں:

1  - سید الطائفہ حضرت حاجی امدا د اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳  -  ۱۳۱۷ھ)قدس سرہٗ

حضرت حاجی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  بعض اوقات تمام تمام رات اس ایک شعر کو پڑھ پڑھ کر روتے روتے گزار دیتے تھے : 

اے خدا! ایں بندہ را رسوا مکن 

گر بدم ہم سرِ من پیدا مکن 

’’اے خدا اس بندہ کو رسوا نہ کرنا، اگر برا ہوں تو بھی میرا راز ظاہر نہ کرنا۔‘‘ (ارواحِ ثلاثہ، ص:۱۶۹)
ایک خط میں(اپنے مرید ) حضرت گنگوہیؒ کو تحریر فرماتے ہیں: 
’’اس میں کچھ شبہ نہیں کہ تم عزیزوں کے کمالات کی وجہ سے فقیر (حضرت حاجی امداد اللہ) کے نقصان وعیوب چھپ گئے ہیں۔ وہ تمہاری محبت نے اکسیر کا کام کیا ہے۔ ان شاء اللہ! قیامت میں بھی ایسی ہی پردہ پوشی کی اُمید ہے، وہ تمہاری محبت کا بڑا وسیلہ ہے۔‘‘     (مکاتیبِ رشیدیہ، ص:۴) 
کچھ حد ہے اس تواضع کی! ایک دفعہ حضرت کے خدام کا قافلہ جدہ سے مکہ خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے باوجود بڑھاپے اور کمزوری کے بابِ مکہ پر آکر اُن کا استقبال کیا۔ ہر ایک سے بغل گیر ہوئے اور ہنس ہنس کر حال دریافت فرمایا، چاہے اجنبی ہو یا واقف۔ اپنے مکان پر لاکر سب کو ٹھہرایا اور صبح کھانے کی دعوت سب کی حضرت کے دستر خوا ن پر ہوئی۔ شفقت وتواضع وتحمل جس درجہ اس واقعہ سے ظاہر ہے محتاجِ بیاں نہیں۔                                                         (امداد المشتاق، ص:۱۹۶  - ۱۹۸، ملخصاً) 
 حضرت حاجی صاحب کے پاس ایک شخص آئے اور عرض کیا کہ ایسا وظیفہ بتلادیجیے گا کہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم   کی زیارت نصیب ہوجائے ۔حضرتؒ نے فرمایا کہ: آپ کو بڑا حوصلہ ہے! ہم تو اس قابل بھی نہیں کہ روضۂ مبارک کے گنبد شریف ہی کی زیارت نصیب ہوجائے۔ اللہ اکبر ! کس قدر شکستگی وتواضع کا غلبہ تھا۔ (ملفوظات حکیم الامت :۱/۸۰) 

2-قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (۱۲۴۴  - ۱۳۲۳ھ) قدس سرہٗ

میں (مولانا اشرف علی تھانوی) جب عازمِ سفرِ حجاز ہوا تو ایک بارحاضری کے بعد عریضے کے ذریعے سے حضرت قدس اللہ سرہٗ کی خدمت میں اپنی تیاریِ سفر کی اطلاع کی۔ حضرت کا جو جواب آیا، اس میں لکھا تھاکہ وہاں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچ کر مجھ کوبھی یاد رکھنا، اور یہ شعر تحریر فرمایا: 

چوں باحبیب نشینی و بادہ پیمائی 

بہ یاد آر حریفاں بادہ پیما را

’’جب دوست کے ساتھ بیٹھ کر جام پیو تو اپنے حریفوں کوبھی یاد کرنا۔‘‘
اس سے حضرت قدس اللہ سرہٗ کا کمالِ تواضع ظاہر ہے کہ ایسے نااہل سے ایسی فرمائش! یہ قصہ بعینہ مشابہ اس کے ہے جو حدیث میںآیا ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اجازت عمرے کی مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اے میرے بھائی! ہم کو بھی دعا میں شریک کرنا، بھولنا مت۔ پس تواضع کے ساتھ کمالِ اتباعِ سنت بھی اس قصے سے ثابت ہے۔                   (یادِ یاراں، ص:۲۳، مشمولہ: میرے اکابر )  
حضرت مولانا گنگوہیؒ ایک مرتبہ حدیث پڑھا رہے تھے کہ بارش آگئی، سب طلبہ کتابیں لے لے کر اندر بھاگے، مگر مولانا سب طلبہ کی جوتیاںجمع کررہے تھے کہ اُٹھا کر لے چلیں! لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے۔                                                              (ملفوظات حکیم الامت:۱۱/۷۹) 

3  - حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۱۲۴۸ -  ۱۲۹۷ھ) قدس سرہٗ

حضرت مولانا قاسم صاحب جس طالب علم کے اندر تکبر دیکھتے تھے، اس سے کبھی کبھی جوتے اُٹھوایا کرتے تھے، اور جس کے اندر تواضع دیکھتے تھے، اس کے جوتے خود اُٹھالیا کرتے تھے۔ (ارواحِ ثلاثہ، ص:۲۳۶)
مولانا نانوتویؒ سفرِ حج میں تھے، اس سفر میں ان کا جہاز یمن کی ایک بندرگاہ پر ٹھہر گیا، اور مولانا کو معلوم ہوا کہ یہاں جہاز چند دن قیام کرے گا، چونکہ آپ کو معلوم ہوا کہ یہاں سے قریب بستی میں ایک بہت معمر عالم اور محدث رہتے ہیں، اس لیے آپ جہاز سے اُتر کر ان کی خدمت میں روانہ ہوگئے۔ انھوں نے حضرت کے اساتذہ کا سلسلہ دریافت فرماکر سندِ حدیث دے دی۔ باوجود کامل ہونے کے دوسرے اہلِ کمال سے استفادہ فرمانا کمالِ تواضع اور حرصِ دین کی دلیل ہے۔                    (مصدرِ سابق، ص:۱۸۵، ملخصاً)
حضرت نانوتویؒ علماء کی وضع عمامہ کرتہ کچھ نہ رکھتے۔ ایک دن آپ فرماتے تھے کہ اس علم نے خراب کیا، ورنہ اپنی وضع کو ایسا خاک میں ملاتا کہ کوئی بھی نہ جانتا۔ میں (مولانا محمد یعقوب نانوتوی )کہتا ہوں، اس شہرت پر بھی کسی نے کیا جانا؟ جو کمالات تھے، وہ کس قدر تھے؟ کیا اس میں سے ظاہر ہوئے؟ آخر سب کو خاک میںہی ملادیا، اپنا کہنا کر دکھایا۔                                (حالاتِ طیب، ص:۵۶، ۵۷) 

4  - استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی (۱۲۴۹  -  ۱۳۰۲ھ) قدس سرہٗ

مولانا محمد یعقوب صاحب کتنے بڑے عالم تھے، لیکن درس میں اگر کسی ادنیٰ طالب علم نے بھی مولانا کے خلاف تقریر کردی اور وہ جی کولگ گئی تو فوراً مان لیتے تھے، اور صاف الفاظ میں فرماتے تھے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔پھر دوچار سیکنڈ کے بعد فرماتے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، یہاں تک کہ مخاطب خود شرمندہ ہوجاتا تھا۔ اور جہاں کوئی شبہ ہوتا تو فرمایا کرتے تھے کہ میرا ذہن جہاںتک پہنچ سکتا ہے، اول ہی مرتبہ پہنچ جاتا ہے، پھر نہیں پہنچتا۔ پھر جہاں شبہ رہتا صاف فرمادیتے: مجھے اس مقام میں شرح صدر نہیں۔ اور کتاب لے کر کسی ماتحت مدرس کے پاس جاتے۔ (مولانا خود صدر مدرس تھے، باقی سب ماتحت ہی تھے) اور شاگردوں کی جگہ بیٹھ کر پوچھتے۔ وہ بھی مزاج سے واقف تھے، نہ اُٹھتے نہ صدر پر بیٹھنے کو عرض کرتے اور وہاں سے آکر صاف فرمادیتے کہ میں نے ان مولوی صاحب سے پوچھا ہے، انھوںنے یہ مطلب بتایا ہے !! اہل اللہ میں بھی ا س کی نظیر نہیں ملتی۔ (ملفوظات حکیم الامت: ۲۵/۲۵، ۲۶) اس میں حضرت کی تواضع کے کئی واقعات آگئے۔

5  - شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی (۱۲۶۸  - ۱۳۳۹ھ ) قدس سرہٗ

حضرت اپنے تلامذہ کے ساتھ اس طرح اختلاط وارتباط وانبساط رکھتے کہ دیکھنے والا کبھی نہ سمجھ سکے کہ یہ اس مجمع کے مخدوم ہیں۔                                      (ذکرِ محمود، ص: ۱۳۳، مشمولہ: میرے اکابر)
کسی سے کسی خدمت کی فرمائش کرنے کی عادت نہ تھی، بلکہ اکثر مہمانوں کے لیے کھانا مکان سے اپنے ہاتھ میں لاتے اور خود کھلاتے۔                                           (مصدرِ سابق، ص:۱۳۴) 
حضرت مولانا (شیخ الہند)نے ارشاد فرمایا کہ بارہا گنگوہ کی حاضری کے وقت خیال ہوا کہ حضرت گنگوہی قدس سرہٗ سے حدیث کی اجازت کی درخواست کروں، مگر معاً ہی یہ خیال مانع آگیا کہ اگر حضر ت پوچھ بیٹھیں : تجھ کو آتا ہی کیا ہے جو حدیث کی سند مانگتا ہے؟ تو کیا جواب دوں گا ؟بس یہ سوچ کر رہ گیا۔ اللہ اکبر !کچھ حد ہے تواضع کی!؟                                                  (مصدرِ سابق، ص:۱۳۶)
مدرسہ عالیہ دیوبند میںاہلِ علم کا ایک خاص جلسہ تھا، جس میں اس پر کلا م ہورہا تھا کہ آج کل طلبہ اکثر بداستعداد کیوں ہوتے ہیں؟ اور سب متفقاً اس کا سبب طلبہ کی کوتاہیوں کو بتلارہے تھے، مثلاً مطالعہ نہ دیکھنا، سمجھ کرنہ پڑھنا، اپنی رائے سے سبق شروع کردینا، سبق چھوڑدینا، وغیرہ۔ ایک صاحب جو کسی مدرسے میں مدرس تھے اور حضرت مولانا کے شاگرد بھی تھے اور طبعاً ذرا دلیر بھی تھے، بے ساختہ بول اُٹھے کہ کیوں حضرات! سب طلبہ ہی پر الزام ہے، مدرسین کی کوئی خطا نہیں؟ حضرت مولانا نے فرمایا: ہاں بھئی ! وہ تم بتلائو۔ وہ بولے: کیا یہ مدرسین کی غلطی نہیں ہے کہ کسی طالب علم نے کوئی بات پوچھی، بجائے اس کے کہ شفقت سے اس کا شبہ رفع کریں، جھاڑ کی طرح اس کے پیچھے لگ گئے اور الزامی جوابو ں سے اس کے سر ہوگئے، وہ بے چارہ خوف زدہ ہوکر چپ رہ گیا اوروہ شبہ جوں کا توں رہ گیا، تو اس فن میں کیا استعداد ہو؟ تو مولانا کیا فرماتے ہیں: ہاں بھائی ہاں! سچ کہتے ہو، یہ عیب تو میرے اندر بھی ہے، وہ بے چارے بے حد شرمندہ ہوئے کہ حضرت! واللہ جو میرا یہ مقصود ہو، نعوذ باللہ! حضرت کو تھوڑا ہی کہتا ہوں۔ ہنس کر فرمانے لگے: تم نہ کہو، مجھ کو تو معلوم ہے، میں تو کہتا ہوں۔                                  (مصدرِ سابق، ص:۱۳۷، ۱۳۸)

6  - قدوۃ العلما حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری (۱۲۶۹  - ۱۳۴۶ھ) قدس سرہٗ

مولانا (خلیل احمد سہارنپوری) میں حضرات سلف کی سی تواضع تھی کہ مسائل واشکالاتِ علمیہ میں اپنے چھوٹوں سے بھی مشورہ فرماتے تھے اور چھوٹوںکی باتوں کو شرح صدر کے بعد قبول فرمالیتے تھے، چنانچہ بعض واقعات نمونے کے طور پر پیش ہیں:
ایک بار سفرِ بہاولپور میں اس احقر (حضرت تھانوی) سے ارشاد فرمایا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبولِ ہدایا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پہلے سے اِشرافِ نفس نہ ہو، مگر سفر میں اکثر داعی کی عادت ہوتی ہے کہ مدعو کو کچھ ہدیہ دیتے ہیں، اس عادت کے سبب اکثر خیال بھی ایسے ہدایا کا ذہن میں آجاتا ہے، سو کیا خیال آنا بھی اشرافِ نفس وانتظا ر میں داخل ہے، جس کے بعد ہدیہ لینا خلافِ سنت ہے ؟اس حقیرمیں کیا قابلیت تھی کہ ایسے عظیم الشان عالم اور عارف کے سوال کا جواب دے سکوں، لیکن چونکہ پوچھنے کے انداز سے جواب دینے کا حکم معلوم ہوتا تھا، اس لیے جواب عرض کرنا ضروری تھا، چنانچہ میں نے عرض کیا کہ میرے خیال میں اس میں تفصیل ہے، وہ یہ کہ اس احتمال کے بعد دیکھا جائے کہ اگر ہدیہ نہ ملے توآیا جی میں کچھ ناگواری پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر ناگواری ہوتو یہ خیال آنا اشرافِ نفس ہے اور اگر ناگواری نہ ہو تو اشرافِ نفس نہیںہے۔ اس جواب کو بہت پسند فرمایا اور دعا دی ۔
اس واقعے میں مولانا کے چند کمالات ثابت ہوتے ہیں: ایک تواضع جس کے سلسلے میں یہ واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے دقیق تقویٰ کہ اشراف کے احتمالِ بعید تک نظر پہنچی اور اس پر عمل کا اہتمام ہوا۔ تیسرے اتباعِ سنت، جیسا کہ ظاہر ہے۔چوتھے اپنے معاملے میں اپنی رائے پر اعتماد نہیں کیا، ورنہ جس کی نظراتنی دقیق ہو، کیا اس فیصلے تک وہ نظر نہیں پہنچ سکتی تھی؟    (خوا نِ خلیل :ص۱۶۴، ۱۶۵ملخصاً، مشمولہ: میرے اکابر )

7  - حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی (۱۲۸۰  - ۱۳۶۲ھ) قدس سرہٗ

حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ہمارے سب بزرگوں کی امتیازی شان تواضع اور فروتنی تھی۔ (علم وعمل میں بڑے بڑوں سے ممتاز ہونے کے باوجود اپنے آپ کو سب سے کمتر سمجھتے تھے) اور فرمایا کہ: میںالحمدللہ! کسی کو بھی اپنے دل سے چھوٹا نہیں سمجھتا، کیونکہ میں ہر فاسق میں حالاً اور ہر کافر میں مآلاً یہ احتمال سمجھتا ہوں کہ شاید وہ عند اللہ اس زمانے کے مشائخ واولیاء سے افضل وبہتر ہو۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت :۲۴/۱۶۳) 
فرمایا حضرت والا نے: مجھے واللہ! کبھی وسوسہ بھی نہیں آتا کہ مجھے کچھ آتا ہے، اور کوئی فن بھی آتا ہے۔ میں طالب علموں کو بھی اپنے سامنے زیادہ سمجھتا ہوں۔ وعظ کہنے بیٹھتا ہوں تو یہ خیال رہتا ہے کہ کوئی بات غلط نہ بیان ہوجائے۔ اللہ جانتا ہے کہ میںمحض بلاتصنع کہتا ہوں۔ ہاں! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدمتِ دین کی مجھ سے ہوسکے اس کی توفیق دے، اور اسی میں عمر ختم ہوجائے ۔       (ملفوظات حکیم الامت:۲۰/۱۷۵) 
حضرت نے فرمایا: جس طرح میں دوسروں کی اصلاح کے طرق سوچتا رہتا ہوں، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اپنی اصلاح کے طریق بھی سوچتا رہتا ہوں۔ مسلمان کو تو مرتے دم تک اپنی اصلاح کی فکر میں لگا رہنا چاہیے۔ اس پر بھی اگر نجات ہوجائے تو سب کچھ ہے۔ اس سے آگے ہم کیا حوصلہ اور ہمت کرسکتے ہیں؟ باقی فضائل ومدارج تو بڑے لوگوں کی باتیں ہیں، ہم کو تو جنتیوں کی جوتیوں ہی میں جگہ مل جائے، یہ ہی بڑی دولت ہے۔                                                       (ملفوظات حکیم الامت :۱/۱۵۹، ۱۶۰) 
جونپور میںوعظ سے پہلے حضرت کی خدمت میں ایک بے ہودہ خط پہنچا، اس میں چار باتیں لکھی تھیں: ایک یہ کہ تم جولاہے ہو، دوسری یہ کہ جاہل ہو، تیسری یہ کہ کافر ہو، چوتھی یہ کہ سنبھل کر بولنا۔ حضرت نے وعظ سے پہلے مجمع میں خط پڑھ کر سنایا اور چاروں باتوں کا انتہائی تواضع، نرمی اور صفائی سے جواب دیا۔ (واقعے کی تفصیل کے لیے دیکھیے: ملفوظاتِ حکیم الامت: ۲۴/۱۷۲  - ۱۷۴۔ اشرف السوانح:۱/۷۲  - ۷۵)

8  - امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری (۱۲۹۲  - ۱۳۵۲ھ) قدس سرہٗ

حضرت کا ارشاد ہے: میں نے سات سال کی عمر کے بعد دین کی کسی کتاب کو بغیر وضوکے ہاتھ نہیں لگایا، اور مطالعہ کے دوران کبھی کتاب کواپنے تابع نہیں کیا۔ اگر کتاب میرے سامنے رکھی ہوئی ہے اور حاشیہ دوسری جانب ہے تو ایسی کبھی نوبت نہیں آئی کہ حاشیہ کی جانب کو گھما کر اپنے سامنے کرلیا، بلکہ اُٹھ کر اس جانب جابیٹھاہوں جدھر حاشیہ ہوتا۔(نقشِ دوام :ص۹۲، ۹۳)
جب مجلس علمی ڈابھیل قائم ہوئی اور حضرت شاہ صاحب کی بعض تالیفات طباعت کے لیے منتخب کی گئیں، جن کے سرورق پر حسبِ دستور تعظیمی القاب کے اضافے کیے گئے ۔ حضرت نے اس پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ صرف محمد انور شاہ الکشمیری لکھیے، یا زیادہ سے زیادہ الاستاذ محمد انور شاہ الکشمیری لکھیے، چناں چہ آپ کی تمام تر وہ مطبوعات جنھیں مجلس علمی نے شائع کیا ہے، اسی نام وعنوان کے ساتھ شائع کی گئیں۔(مصدرِ سابق، ص:۹۶)
حضرت فرماتے ہیں: میں ڈابھیل کے سفر کے لیے پابہ رکاب تھا، اسی دوران جامعہ عباسیہ کے شیخ کا تار ملا کہ اس مقدمہ (بہاولپور) میں تیری شہادت مطلوب ہے۔ میں نے سوچا میں ایک بے عمل شخص ہوں، جس کا دامن زادِ آخرت سے خالی ہے۔ شاید مجھ روسیاہ کی نجات کے لیے یہی چیز کارآمد ہوکہ میں محمدرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   کے دین کی حمایت کے لیے آیا ہوں اور ختمِ نبوت کی جانبداری میرے لیے ذریعۂ نجات بن جائے۔ (مصدرِ سابق، ص:۹۷) یہ واقعات حضرت کی غایت تواضع کے شاہدِ عدل ہیں !

9 - شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنی(۱۲۹۶  - ۱۳۷۷ھ)قدس سرہٗ

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (متوفی: ۱۳۸۱ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یوپی میں میری تقریر تھی۔ رات کو تین بجے تقریر سے فارغ ہوکر لیٹ گیا۔ بیداری اور نیند کے درمیان مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے پائوںدبا رہا ہے، میں نے کہا: خیرمجھے عادت بھی ہے، کوئی دوست ہوگا، مگر اسی کے ساتھ یہ معلوم ہورہا تھا کہ مٹھی تو عجیب قسم کی ہے۔ باوجود راحت کے نیند رخصت ہوتی جارہی ہے، سر اٹھا یا تو دیکھا کہ حضرت شیخ مدنی ہیں۔فوراً پھڑک کر چارپائی سے اُتر پڑا اور ندامت سے عرض کیا: حضرت! کیا ہم نے اپنے لیے جہنم جانے کا خود سامان پہلے سے کم کر رکھا ہے کہ آپ بھی ہمیں دھکا دے کر جہنم بھیج رہے ہیں؟ شیخ نے جواباً فرمایا: آپ نے دیر تک تقریر کی تھی، آرام کی ضرورت تھی، اور آپ کی عادت بھی تھی، اور مجھ کو سعادت کی ضرورت!ساتھ ہی نماز کا وقت قریب تھا، میں نے خیال کیا آپ کی نما ز چلی نہ جائے !توبتائیے حضرت میں نے کیا غلطی کی ؟ (مکتوبات شیخ الاسلام: ۱/۴۲ملخصاً) حضرت مدنیؒ اپنے نام کے ساتھ غایت تواضع سے ننگ اسلاف لکھا کرتے تھے، اس کے معنی ہیں جو اپنے بڑوں کے لیے عار کا باعث ہو!دیکھیے: مکتوبات شیخ الاسلام ۔
ایک مرتبہ کھتولی میں تبلیغی اجتماع تھا، جس میں حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی  رحمۃ اللہ علیہ  (متوفی: ۱۳۶۳ھ)  تشریف لائے۔ جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی، اچانک پتہ چلا کہ قریب کانگریس کا جلسہ ہے، جہاں حضرت مدنی تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مولانا الیاس صاحب نے تقریر بند کردی اور فرمایا کہ قریب حضرت مدنی تشریف لائے ہوئے ہیں، سب حضرات چل کر ان کی تقریر سنیں۔ وہاں حضرت مدنی کو پتہ چلا کہ قریب میں تبلیغی جلسہ ہے، اور مولانا الیاس صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں تو انھوں نے اپنی تقریر ختم کردی، اور لوگوں کو تبلیغی جلسے میں شرکت کی ہدایت فرما کر دیوبند روانہ ہوگئے، جلسہ نہ یہاں ہوا اور نہ وہاں!۔                             (حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی  ؒکے حیرت انگیز واقعات، ص:۱۵۸، ملخصاً) 
اس واقعے سے دونوں بزرگوں کی تواضع اور اخلاص اظہر من الشمس ہے۔

10  - شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (۱۳۰۵  - ۱۳۶۹ھ) قدس سرہٗ

حضرت عثمانی حضرت مدنی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ’’بعض مقاما ت پر جو ناشائستہ برتائو مولانا حسین احمد صاحب مدنی کے ساتھ کیا گیا ہے تو میں اس پر اظہارِ بیزاری کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مولانا کی سیاسی رائے خواہ کتنی ہی غلط ہو، ان کا علم وفضل بہر حال مسلم ہے، اور اپنے نصب العین کے لیے ان کی عزیمت اور ہمت اور انتھک جدوجہد ہم جیسے کاہلوں کے لیے قابلِ عبر ت ہے۔ (کمالات عثمانی، ص:۶۱۸) سیاسی اختلافِ رائے کے باوجود حضرت مدنی کا اور اپنا تذکرہ جس انداز سے فرمایا گیا ہے وہ کمالِ تواضع کی کھلی دلیل ہے۔ 
اکابرِ دیوبند کے کمالات کا ذکر فرماکر حضرت مفتی محمد شفیع  رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: ۱۳۹۶ھ) فرمایا کرتے تھے کہ: میں نے ایک مصرع کہا ہے، جس کا مصرع ثانی اب تک کوئی نہ کہہ سکا: ’’ایک مجلس تھی فرشتوں کی جو برخواست ہوئی۔‘‘                                         (البلاغ: ۲/۹۲۶، خصوصی اشاعت بیاد فقیہ ملت)
دس اکابر دیوبند کی تواضع کے کچھ واقعات عرض کیے گئے ہیں۔ اب اس شعر پر مضمون ختم کرتا ہوں:

أحب الصالحین ولست منہم 

لعل اللہ یرزقني صلاحا

’’نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں اور خود نیک نہیں ہوں، شاید اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نیکی کی توفیق عطا فرمائیں۔‘‘
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے