
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
الحمد للہ! اہلِ علم کو یہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت وشادمانی کا احساس ہو رہا ہے کہ علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تحقیقات اور علمی افادات پر مشتمل نادر حواشی ’’الإتحاف لمذھبِ الأحناف‘‘، تحقیق وتخریج کے ساتھ جامعہ کے شعبہ ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ سے شائع ہوگئے ہیں۔
والحمد للہ الذي بنعمتہٖ تتمّ الصالحات!
یہ موقع ذاتی طور پر راقم کے لیے خوشی اور مزید شکرِ خداوندی کا باعث ہے کہ ان حواشی کی تحقیق و تخریج اور پھر اشاعت سے حضرت والد ماجد محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے آغاز کردہ ایک کام کی تکمیل ہوئی اور حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہوئی۔ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کو ان تحقیقی حواشی کی تخریج پر مامور فرمایا تھا، اور والد صاحبؒ نے اس کا آغاز بھی فرمالیا تھا۔ حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ’’الإتحاف‘‘ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
’’وکنتُ قدِ اشتغلتُ بُرہۃً بتخريجِ تلکَ الحوالاتِ، واستخراجِ تلکَ العباراتِ بأمرِہٖ رحمہ اللہ، فکانتْ صفحۃٌ واحدۃٌ من الکتاب تخريجُہا يملأ عدَّۃَ أوراقٍ، وکان رحمہ اللہ يتمنّٰی أنْ لو طُبِعَتْ ذلک التخريجاتُ لنفعتْ أہلَ العلم۔‘‘
’’حضرت الاستاذ رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کی تعمیل میں ایک عرصہ تک میں ان حوالوں اور عبارتوں کی تخریج میں مشغول رہا، چنانچہ کتاب کے ایک ایک صفحہ کی تخریج میں کئی کئی صفحات بھر جاتے تھے، اور حضرت الاستاذ رحمۃ اللہ علیہ کی آرزو تھی کہ یہ تخریجات شائع ہوجائیں تو اہلِ علم مستفید ہوں گے۔ ‘‘
اپنے محبوب شیخ واستاذ کے حکم کی تعمیل میں حضرت والد صاحبؒ نے کام شروع فرمالیا تھا اور کتاب کے تقریباً نصف حصے کی تبییض اور تقریباً چوتھائی حصہ کی تصحیح وتخریج فرمالی تھی، لیکن حیاتِ مستعار کے نشیب و فراز، اَن گنت حوادث، گوناگوں ذمہ داریاں اور مصروفیات اس کام کی تکمیل میں آڑے آتی رہیں، اور حضرت والدِ ماجدؒ اس خواہش کو سینے میں دبائے سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔ حضرت والد ماجدؒ کے ترکہ میں سے ان کی تخریجات پر مشتمل وہ کاپی میرے حصہ میں آئی، اور سالہا سال ہمارے خاندانی ذخیرۂ کتب میں محفوظ رہی۔
’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘ کے نام سے موسوم یہ حواشی، علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے علوم کا گنجینہ اور ان کے برسہا برس مطالعہ وتحقیق کا نچوڑ ہیں۔ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے مولانا انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے بجا طور پر لکھا ہے:
’’موصوف (علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ) نے (’’آثار السنن‘‘ کی) دونوں جلدوں پر نہایت قیمتی وفاضلانہ حواشی درج فرمائے، جن میں ہزارہا ہزار کتابوں کے بقیدِ صفحات حوالے موجود ہیں، یہ مرحوم کی زندگی کا حاصل اور حنفیت کی تائید واستحکام کی مضبوط کوشش ہے، مگر افسوس کہ عوام، بلکہ خواص بھی اس سے استفادہ نہیں کرسکتے، کاش کہ حضرت کا کوئی شاگرد خصوصاً مولانا یوسف بنوری اس طرف توجہ فرمائیں۔‘‘ (نقشِ دوام، ص: ۱۸۸، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان)
علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ان حواشی کا یہ مقام و مرتبہ اس وجہ سے بھی ہے کہ آپ کی تالیفات میں سے یہی ایک تالیف ہے جو طہارت، صلاۃ اور جنائز تک کے تمام ابواب کو محیط ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کاوشیں یا املائی تقاریر ہیں یا رفع الیدین و فاتحہ خلف الامام وغیرہ جیسے فروعی مسائل پر مشتمل ہیں، اور اس کا یہ مقام کیونکر نہ ہو، جبکہ حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فروعی مسائل میں اپنے تالیف کردہ رسائل میں بھی تفصیلی کلام کے لیے جابجا اپنے ان حواشی کا حوالہ دیا ہے، لہٰذا اس کی اشاعت بلا شک و شبہ علامہؒ کی دہائیوں پر محیط تحقیقات کا وہ قرض ہے جو قریباً ایک صدی سے اہلِ علم کے ذمے تھا اور جس کی ادائیگی کی فکر تقریباً پون صدی سے اکابر اہلِ علم کو دامن گیر رہی، اور علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے متعدد تلامذہ: حضرت والد ماجد ، مولانا محمد منظور نعمانی، مولانا سید احمد رضا بجنوری، نیز مولانا انظر شاہ کشمیری اور نامور محقق عالم شیخ عبدالفتاح ابوغدہ w جیسے کبار اہلِ علم زندگی بھر آرزومند رہے کہ تحقیق وتخریج اور تبویب وترتیب کے بعد انہیں شائع کیا جانا چاہیے۔
حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ پاک وہند کے متعدد اہلِ علم نے بھی اس سلسلے میں خامہ فرسائی کی کوشش فرمائی،’’ ولکن کلّ شيء مرھونٌ بوقتہٖ‘‘۔ بالآخر سنہ ۱۴۳۸ھ میں جامعہ کے ’’شعبہ تحقیق‘‘ کے زیرِ اہتمام حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے اِشراف میں اس مبارک علمی منصوبے پر کام شروع کیا گیا اور منتخب اساتذۂ جامعہ کی ’’لجنۃ‘‘ کی معاونت سے تحقیق و تصحیح اور تخریج وتنسیق کے دشوار مراحل سے گزر کر یہ علمی وتحقیقی کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ اس دوران ضمنی طور پر خود مصنف کے ذاتی نسخے اور علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی تصحیحات کی روشنی میں کتاب کے متن ’’آثار السنن‘‘ اور اس پر مؤلف کے حواشی ’’التعلیق الحسن‘‘ و ’’تعلیق التعلیق‘‘ کی تصحیح وتحقیق کا کام بھی مکمل ہوا، جو کئی برس قبل ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ سے شائع ہوکر عام ہوچکا ہے، اور الحمد للہ! بہت سے اکابر اہلِ علم نے تصحیح وتحقیقِ نص کے پہلو سے اس طبع پر اعتماد کیا ہے۔
’’الإتحاف‘‘ کی یہ عظیم الشان طباعت درج ذیل امور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے:
1- متنِ کتاب کے لیے ’’آثار السنن مع التعلیق الحسن و تعلیق التعلیق‘‘ کے لیے اسی سابق الذکر محقق و مصحّح نسخے کو بنیاد بنایا گیا ہے جو مجلس سے شائع ہوچکا ہے۔
2- چونکہ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے حواشی آثار السنن کے متن اور اس کے دونوں حواشی پر ہیں، اسی لیے ’’الإتحاف‘‘ سے پہلے صفحہ کی ابتدا میں متن کو رکھا گیا ہے، اس کے بعد بالترتیب مؤلف کے حواشی، پھر آخر میں ’’الإتحاف‘‘ کو اور پھر صفحے کے آخر میں ’’الإتحاف‘‘ کی تخریج ہے۔ متن اور دونوں حواشی، تینوں حصوں میں موجود مواد کو عنوان لگاکر بھی دوسرے سے ممتاز گیا ہے، تاکہ قاری کے لیے کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
3-یہ حواشی مستقل تالیفی طرز پر نہیں لکھے گئے، بلکہ مختلف قطعات کی شکل میں جمع کردہ ملاحظات ہیں، جنہیں ابتدا وانتہا اور متعلقہ مواضع کی تعیین کے بغیر علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نسخے کے چاروں طرف لکھا تھا، جب ان حواشی کو جدید اُسلوب کے مطابق مختلف عبارتوں کے ساتھ نمبروار جوڑنے اور تقسیم کی ضرورت پیش آئی تو عبارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور مستقل مربوط عبارت کی شکل میں پیش کرنے کے لیے جابجا بین القوسین اِرتباطی کلمات کا اضافہ کیا گیا، جو ناگزیر تھا، مگر پھر بھی بعض جگہ قاری کو عبارت کے تسلسل میں خلجان پیش آنے کا امکان تھا ، خصوصاً وہ مقامات جہاں علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ضمائر بھی کثرت سے استعمال کی ہیں، ایسی جگہوں پرعموماً حواشی میں بات کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
4- ’’الإتحاف‘‘ میں موجود حوالوں کی تخریج کا حتی الامکان اہتمام کیا گیا ہے، چاہے وہ اشارتاً مذکور ہوں، البتہ بعض جگہوں پر تخریج اس وجہ سے نہ ہوسکی کہ علامہ موصوف اپنے تبحرِ علمی کی وجہ سے نایا ب قلمی کتاب یا نایاب نسخے یا ایسی نادر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیتے ہیں، جس کی طباعت شاید ایک دفعہ کے بعد دوبارہ نہیں ہوسکی، نتیجتاً ایسے حوالوں تک تلاشِ بسیار کے باوجود رسائی نہ ہوسکی، لہٰذا جن جگہوں پر تخریج نہ ہو، اُنہیں اسی قبیل سے سمجھا جائے، ان مقامات پر حواشی میں تصریح بھی کردی گئی ہے۔
5- تصحیح وتخریج کے عمل میں حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی کاپی سے بہت مدد ملی؛ کیونکہ حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کتاب کے نصف کے قریب حصے کی تبییض اور تقریباً ایک چوتھائی حصے کی تخریج کرچکے تھے، چنانچہ کتاب کی تبییض وتخریج میں اس کاپی سے کافی استفادہ کیا گیا، اور حواشی کے بہت سے مقامات اس کی روشنی میں حل ہوئے، کتاب کے مقدمہ میں ان تمام مراحل کی تفصیل درج کی گئی ہے۔
6- کتاب کے شروع میں ایک جامع مقدمہ کا اضافہ کیا گیا ہے، جس میں شیخین علامہ نیموی و کشمیری رحمہمااللہ کی حیاتِ مبارکہ اور اُن کی کتب (آثار السنن و الإتحاف ) میں اُن کے اُسلوب و منہج اور خصائص و امتیازات سے متعلقہ اہم تحقیقات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے، جس سے قاری کو علیٰ وجہ البصیرت اس کتاب کے مطالعہ میں مدد ملے گی۔
بہرکیف! یہ کتاب کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد حال ہی میں ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ سے لگ بھگ ۱۲۰۰ صفحات پر مشتمل دو جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، اور علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے علوم ومعارف کے شائقین کے لیے ایک خوانِ یغما اور عرب وعجم کے اہلِ علم کے لیے گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ اُمید ہے کہ اس کتاب سے مطالعہ وتحقیق کے نئے دَر وا ہوں گے، اور بہت سے علمی عُقدوں کی گرہ کشائی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اس عمل کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے سرفراز فرمائے، اور اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!