بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 يونيو 2026 ء

bayyinat

 
 

زکاۃ میں سلے ہوئے کپڑے دینا

زکاۃ میں سلے ہوئے کپڑے دینا


سوال

کیا زکاۃ کی مد میں وہ کپڑے دیے جاسکتے ہیں جو سلے ہوئے تو ہوںمگر پہنے نا ہوں ؟ اگر ہاں تو اس کا طریقہ کار؟ اس کی کیا قیمت لگائیں گے؟
 

الجواب حامدًا و مصلیًا

زکاۃ کی مد میں سلے ہوئے کپڑے دینا درست ہے، البتہ مارکیٹ میں یہ کپڑے جتنی قیمت میں فروخت ہوں گے، اسی حساب سے زکاۃ کی ادائیگی کی جائے گی۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
’’ ویقومھا المالک في البلد الذي فیہ المال حتی لو بعث عبدا للتجارۃ إلٰی بلد اٰخر، فحال الحول تعتبر قیمتہٗ في ذٰلک البلد۔‘‘       (ج:۱، ص:۱۸۰، دارالفکر، بیروت)
’’الدرالمختار‘‘
میں ہے:
’’ویقوم في البلد الذي المال فیہ ولو في مفازۃ، ففي أقرب الأمصار إلیہ فتح۔‘‘ (ج:۲، ص: ۲۸۶، دارالفکر، بیروت)
 

فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 1441-7177 

دارالافتاء : جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے