بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ساس، دیور اور دیورانی کے ساتھ حج پرجانے کاحکم


سوال

ایک عورت ہے اس کےشوہر کا انتقال ہوچکاہے اور وہ حج کے لیے جانا چاہتی ہے اس کے ساتھ اس کی ساس اس کا دیور اور دیورانی یہ تین لوگوں کا گروپ جارہاہے۔ کیا یہ عورت ان کے ساتھ حج کے لیے جاسکتی ہے؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرماکراجرعظیم حاصل کریں۔

جواب

عورت کے لیے محرم(وہ رشتے جن کے ساتھ نکاح جائزنہیں ہے) کے بغیر شرعی سفر(تقریباً اٹھترکلومیٹریا اس سے زائد) کرنا جائزنہیں ہے خواہ یہ سفر حج کا ہی کیوں نہ ہو، احادیث مبارکہ میں اس کی صراحتاً ممانعت آئی ہے۔ اس لیے مذکورہ عورت کے لیے بیان کردہ رشتے داروں کے ساتھ حج کے سفر پرجانا جائزنہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143605200040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے