بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عورت کا شوہر کے بغیر محرم کے ساتھ حج پر جانا


سوال

میراسوال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے سگے بھائی کے ساتھ حج پرجاناچاہے اور اس کا شوہر بھائی کے ساتھ جانے سے منع کرے اور کہے کہ آپ میرے ساتھ چلنایابڑے بیٹے کے ساتھ جانا ، تو اس عورت کا بھائی کے ساتھ حج پرجانا صحیح ہے ؟ جبکہ شوہر کی اجازت نہیں ہے ۔

جواب

عورت پر اگر حج فرض ہو تو وہ اپنے کسی بھی محرم کو ساتھ لے کر حج کیلئے جاسکتی ہے ، شوہر کا رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے ،البتہ نزاع اور اختلاف سے بچنے کیلئے بہتر یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ یااس کی منشاء کے مطابق بڑےبیٹے کے ساتھ ہی حج پر چلی جائے ، جبکہ شوہر اس کیلئے تیاربھی ہے ، اور اگر شوہر ٹال مٹول کرے تو اس کی اجازت کے بغیر ہی فرض حج کیلئے چلی جائے تاکہ بلاوجہ حج کو مؤخر کرکے گناہگارنہ ہو۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200683

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے