بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مغرب کی وقت سے پہلے روزہ افطار کرنا۔


سوال

السلام علیکم کے بعد عرض یہ ہے کہ مغرب کی اذان کسی اور نے وقت سے پہلے دی ، بادل ہونے کی وجہ سے اور میرا روزہ تھا اس دن۔ میں نے اس اذان پر روزہ افطار کیا تو کیا میرا روزہ ہوا یا نہیں ، اور اس مسجد کے موذن بھی نہیں ہے۔ تو کیا کہتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں

جواب

مغرب کی اذان وقت سے پہلے دی جائے اور اس اذان کے ساتھ روزہ افطار کرنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا۔ اس کی قضاء ضروری ہے۔


فتوی نمبر : 143406200079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے