بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بچے / بچی کو دودھ پلانے کی عمر


سوال

بچی کو دودھ پلانے اور بچے کو دودھ پلانے کی عمر کیا ہے؟

جواب

بچے اور  بچی کو دودھ  پلانے  کی مدت میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں کے لیے ایک ہی مدت ہے، البتہ بچے یا بچی کو دودھ پلانے سے دو قسم کے اَحکام متعلق ہیں:

1۔ کس عمر تک دودھ پلانا حلال ہے؟بچے اور بچی کو دو سال کی عمر تک دودھ پلانے کی اجازت ہے، بغیر کسی شدید مجبوری کے دو سال سے زیادہ عمر کے بچے/بچی کو دودھ پلانا جائز نہیں، تاہم اگر کوئی شدید مجبوری ہو تو ڈھائی سال کی عمر تک دودھ پلانے کی گنجائش ہے۔

2۔کس عمر تک کے بچے کو دودھ پلایا گیا تو حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی؟اس سلسلے میں احتیاط اس میں ہے کہ ڈھائی سال کے اندر اگر بچے/بچی کو دودھ پلایا تو حرمتِ رضاعت ثابت ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 211):

"(قوله: ولم يبح الإرضاع بعد مدته) اقتصر عليه الزيلعي، وهو الصحيح كما في شرح المنظومة بحر، لكن في القهستاني عن المحيط: لو استغنى في حولين حل الإرضاع بعدهما إلى نصف ولا تأثم عند العامة خلافا لخلف بن أيوب اهـ ونقل أيضا قبله عن إجارة القاعدي أنه واجب إلى الاستغناء، ومستحب إلى حولين، وجائز إلى حولين ونصف اهـ.

قلت: قد يوفق بحمل المدة في كلام المصنف على حولين ونصف بقرينة أن الزيلعي ذكره بعدها، وحينئذ فلا يخالف قول العامة تأمل".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے