بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

یکم ذی الحجہ کے بعد بال کاٹنا


سوال

یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک قربانی کا ارادہ رکھنے والے افراد جسم  کے کسی بھی حصہ کے بال کاٹ سکتے ہیں؟ اور اگر کسی نے نے کاٹ لیے تو اس کی قربانی پر کوئی اثر پڑے گا؟

جواب

ذی الحجہ کا چاند نکلنے کے بعد سے قربانی کرنے تک جسم کے کسی بھی حصہ کے بال یا ناخن نہ کاٹنا قربانی کا رادہ رکھنے والوں کے لیے مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں؛ لہذا اگر کسی نے قربانی سے پہلے بال یا ناخن کاٹ لیے تو اس سے قربانی پر کوئی اثر نہیں ہوگا، البتہ مستحب عمل کا ثواب نہ ہوگا۔

ملحوظ  رہے کہ غیر ضروری بال کاٹے ہوئے جن  افراد  کے چالیس دن  قربانی سے پہلے پورے ہو رہے ہوں ان افراد  کو چاہیے کہ قربانی سے پہلے غیر ضروری بالوں کی صفائی کرلیں، قربانی تک مؤخر نہ کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202228

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے