بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گائے کی قربانی میں پانچ لوگوں کا حصہ لے کر دو میں کسی کی نیت کرنا


سوال

گائے کی قربانی میں پانچ لوگوں نے حصہ لیا ، جب کہ اس میں سات حصے ہوتے ہیں تو آیا جو دو حصے بچے اس میں کسی کی نیت ہوسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ گائے یا اونٹ  کی قربانی میں سات لوگوں یا سات حصوں کا ہونا ضروری نہیں، سا ت سے کم  مثلاً: پانچ حصے ہوں، تب بھی قربانی جائز ہے، لیکن اگر پانچ افراد گائے یا اونٹ وغیرہ خریدنے کے بعد دو مزید افراد کی نیت کریں تو ایسا کرنا مکروہ ہے، البتہ اگر نیت کرکے قربانی کرلی تو قربانی ہوجائے گی۔

الفتاوى الهندية (5/ 304)

"ولو اشترى بقرةً يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستةً يكره ويجزيهم ؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكماً، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلا يكره، وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن، وهذا إذا كان موسراً، وإن كان فقيراً معسراً فقد أوجب بالشراء، فلا يجوز أن يشرك فيها".

الفتاوى الهندية (5/ 304)

"وإن اشترك خمسة في بقرة، فجاء رجل فسألهم الشركة فيها، فأجابه أربعة منهم وامتنع الواحد فضحوا جاز؛ لأن الذي جعل نصيبه من نصيب الأربعة يملك أكثر من السبع، فحظها من خمسة وعشرين لحاجتنا إلى حساب له خمس ولأربعة أخماسه خمس، أما الخمس؛ فلأن الشركاء خمسة، فكان نصيب كل واحد منهم خمساً، وأما الأربعة الأخماس؛ فلأن الأربعة لما أجابوه فقد جعلوه مساوياً أنصباءهم، وهي أربع أخماس بين خمسة، وأقله خمسة وعشرون لكل واحد من الشركاء خمسة، فإذا أجابه الأربعة فقد جعلوا أنصباءهم بين خمسة لكل واحد أربعة، وأربعة أسهم من خمسة وعشرين أكثر من السبع، وذلك يسهل معرفته بالبسط والتجنيس، كذا في الظهيرية". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے