بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کھڑے ہو کر کھانے پینے کا حکم


سوال

کھڑے ہوکر کھانا پینا کیسا ہے؟ آج کل پروگراموں میں یہ رواج ہے کہ لوگ کھڑے ہوکر کھانا کھا تے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ کوئی حدیث کا حوالہ دیں، مہربانی ہوگی. 

جواب

کھانے پینے کے آداب میں سے ہے کہ بیٹھ کر کھایا پیا جائے جیساکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اکابرین وصلحائے امت کا عام معمول بیٹھ کر دسترخوان بچھاکر اس پر کھانا رکھ کر کھانا کھانے کا رہا ہے، عام حالات میں چلتے پھرتے کھانا پینا مکروہ ہے، البتہ مجبوری ہو یا بیٹھنے کی جگہ نہ ہو تو کھڑے ہوکر کھانے کی گنجائش ہے، اسی طرح اگر کھانا تو بیٹھ کر ہی کھایا جائے، ایک آدھ لقمہ کھڑے کھڑے چکھ یا کھالیا جائے، یا بطورِ تفکہ ولذت استعمال ہونے والی اشیاء (پھل، چاکلیٹ وغیرہ) میں سے کچھ چلتے پھرتے کھا لی جائے تو اس کی گنجائش روایات میں موجود ہے، تاہم اس کا معمول بنانا خلافِ مروت ہے، لہذا کھڑے  ہوکر کھانے کی عادت بنانا اور تقریبات میں صرف کھڑے ہوکر کھانے کی ترتیب رکھنا اسلامی آداب کے خلاف اور مکروہ ہے، تاہم  اگر کبھی اتفاقاً ایسی نوبت پیش آجائے یا مجبوری وعذر ہو تو کھڑے ہوکر کھانے میں گناہ نہیں ہوگا. ایسی تقریبات کے  عام شرکاء  (جو عملاً اس  انتظام میں شریک نہ ہوں، اور اس پر دل سے خوش بھی نہ ہوں اور وہ مقتدا بھی نہ ہوں وہ) کھڑے ہوکر کھائیں تو ان کے لیے کراہت نہیں ہوگی. 

مسلم شریف میں ہے:

"عن النبي صلی الله علیه وسلم نهى أن یشرب الرجل قائمًا. قال قتادة: فقلنا: فالأکل؟ فقال: ذاك أشر وأخبث". (کتاب الأشربة في باب کراهية الشرب قائمًا) ج۲ص۱۷۳)

یعنی  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہوکر پیے. قتادہ کہتے ہیں کہ ہم نے دریافت کیا کہ کھڑے ہوکر کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو فرمایا کہ وہ تو اور زیادہ برا ہے۔

شرح النووی علی مسلم میں ہے :

"أن النهي فيها محمول علی کراهة التنزيه، وأما شربه صلی الله عليه وآله وسلم قائماً فبيان للجواز فلا اشکال ولا تعارض، وهذا الذی ذکرناه يتعين المصير إليه" . (شرح النووي علی صحيح مسلم، 13 / 195، ط: دار احياء التراث العربي بيروت)

’’اس مسئلہ میں ممانعت محمول ہے کراہت تنریہی پر، رہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھڑے ہو کر پینا! تو یہ بیانِ جواز کے لیے تھا، پس کوئی اشکال ہے نہ تعارض. اور یہ تشریح جو ہم نے کی اسی کو اختیار کرنا بہتر ہے‘‘۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا بأس بالشرب قائماً، ولايشرب ماشیاً، ورخص للمسافرين، ولايشرب بنفس واحد" . (٥/ ٣٤١، ط: دار الفكر)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200765

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے