بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے لیے بائیں ہاتھ کا استعمال


سوال

کیا کسی حدیث میں بائیں ہاتھ سے کھانے کی اجازت ذکر کی گئی ہے ، کھیرا وغیرہ ؟

جواب

احادیث مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم دیا گیا ہے اور بغیر عذر کے بائیں ہاتھ سے کھانے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اس ممانعت کی وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ بائیں ہاتھ سے کھانا شیطان کا کام ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا تو اسے منع فرمایا، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے نہیں کھا سکتا، (جب کہ اسے کوئی عذر لاحق نہیں تھا، آپ ﷺ بھی سمجھ گئے کہ اس نے تکبر کی بنیاد پر خلافِ حقیقت بہانہ بنایا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: تم کبھی دائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ! چناں چہ رسول اللہ ﷺ کی بد دعا کی وجہ سے اس کی موت تک اس کا دائیں ہاتھ  کھانے کے لیے کبھی منہ تک نہیں اٹھتا تھا۔

البتہ اگر کھانے کے لیے تو دائیں ہاتھ استعمال کرے اور بائیں ہاتھ کو معاونت کے لیے استعمال کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،  جیسا کہ علامہ سرخسیؒ نےحدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روٹی کے اوپر کھجور بائیں ہاتھ سے رکھی۔  نیز اگر کسی عذر کی وجہ سے بائیں ہاتھ سے کھایا جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔

’’وفى رواية بن عمر رضي الله عنه إذا أكل أحدكم فليأكل بيمينه وإذا شرب فليشرب بيمينه؛ فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله. وكان نافع يزيد فيها: ولايأخذ بها ولايعطي بها. فيه استحباب الأكل والشرب باليمين وكراهتهما بالشمال. وقد زاد نافع الأخذ والإعطاء، وهذا إذا لم يكن عذر، فإن كان عذر يمنع الأكل والشرب باليمين من مرض أو جراحة أوغير ذلك فلاكراهة في الشمال. وفيه أنه ينبغي اجتناب الأفعال التي تشبه أفعال الشياطين، وأن للشياطين يدين‘‘. (شرح النووي على مسلم ، ۱۳/ ۱۹۱، دار إحياء التراث العربي)

’’عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: لایأکلن أحدکم بشماله ولایشربن بها؛ فإن الشیطان یأکل بشماله ویشرب بها. رواه مسلم‘‘.  (مشکاۃ المصابیح، کتاب الاطعمۃ، الفصل الاول، (ص:376) ط: رحمانیہ، لاہور)

"قال صلى الله عليه وسلم: «سيد إدام أهل الجنة اللحم، وأخذ لقمةً بيمينه وتمرةً بشماله، وقال: هذه إدام هذه»". ( المبسوط للسرخسي ، ۸/ ۱۷۷، دار المعرفة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200740

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے