بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کعبہ کی جانب منہ یاپشت کرکے رفع حاجت کرنا


سوال

کعبہ کی جانب یاکعبہ کی طرف پشت کرکے رفع حاجت کرنے کا کیا حکم ہے جب کہ مکان کرائے کا ہو؟

جواب

کعبہ کی جانب یا کعبہ کی طرف پشت کرکے رفع حاجت کرنا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے، حدیث شریف ملاحظہ کیجیے:

'' إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُکُمْ إِذَا أَتٰی أَحَدُکُمُ الْغَائِطَ فَلاَ یَسْتَقْبِل الْقِبْلَةَ وَلاَ یَسْتَدْبِرهَا وَلاَ یَسْتَطِبُّ بِیَمِیْنِه، وَکَانَ یَأْمُرُ بِثَلاَ ثَةِ أَحْجَارٍ وَیَنْهیٰ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَةِ ''۔ (ابوداؤد،كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَاب كَرَاهِيَةِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ، حدیث نمبر:۷)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے باپ کے درجے میں ہوں ، میں تمہیں سکھلاتا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی شخص پائخانہ کو جائے تو نہ قبلہ رخ ہو اور نہ اس کی طرف پشت کرے اور نہ ہی داہنے ہاتھ سے پاکی حاصل کرے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین ڈھیلوں (کے استعمال) کا حکم دیتے تھے اور گوبر؛ ہڈی(کے استعمال) سے روکتے تھے۔

لہذا  قضائے حاجت کے وقت کعبہ کی جانب منہ یا پشت کرنا جائز نہیں ہے۔کرائے  کے مکان میں مالکِ مکان سے بات کرکے اس کا رخ تبدیل کروانا چاہیے ، البتہ جب تک ڈبلیوسی یا کموڈ کا رخ تبدیل نہ ہو  تب تک قضائے حاجت کے وقت جس حد تک ہوسکے شرم گاہ کا رخ عینِ کعبہ سے پھیر لیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201540

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے