بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کسی ایک وارث کا حصہ وصول کر کے دستبردار ہو جانے کے بعد دوبارہ تقسیم کا مطالبہ کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام بیچ اس مسئلہ کے؟ جائیداد کی ملکیت دادی کی تھی، کچھ عرصہ بعد پوتوں نے متوقع حصہ ملنے کی امید پر آپس میں تقسیم اس طرح کی کہ ایک کو کچھ رقم دے کر فارغ کردیا گیا . اور باقیوں نے جائیداد ملنے کے بعد آپس میں بانٹ لی، اب تقریباً اٹھارہ سال بعد وہ بھائی جس کو رقم دی گئی تھی، نے مطالبہ کر دیا ہے کہ پہلی تقسیم درست نہیں ہوئی تھی. اب دوبارہ نئے سرے سے تقسیم کی جائے. پوچھنا یہ ہے کہ کیا واقعی اٹھارہ سال پہلے والی تقسیم اس بھائی کے حق میں درست نہ تھی؟ اگر درست نہ تھی تو اب تقسیم کی درست شکل کیسے ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ پوتے ہی دادی کے مال کے وارث تھے اور انہوں نے باہمی رضامندی سے تقسیم کر لی تھی تو  جس بھائی نے اپنا حصہ پہلے ہی وصول کر لیا تھا اگر اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد وہ اپنے حصے سے دست بردار ہو گیا تھا اور  اس سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ اب اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کرے گا تو اب اس معاہدہ کی رو سے اس بھائی کا تقسیم کے نادرست ہونے کا دعویٰ نہیں سنا جائے گا۔اگر دادی حیات تھیں  اور اس کی موجودگی میں پوتوں نے تقسیم کی اور دادی اس پر رضامند نہیں تھیں تو تقسیم باطل ہے اور دوبارہ تقسیم لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202347

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے