بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 02 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

کئی قسموں کا کفارہ


سوال

 ایک شخص اپنی پندرہ مختلف قسموں کا کفارہ -/15000 دینا چاہتا ہے۔ مسئلے کی رو سے ایک قسم کا کفارہ یعنی ہزار روپیہ ایک ہی دن میں ایک ہی مسکین کو دینا منع ہے۔ تو کیا ان مختلف قسموں میں سے ہر قسم کا کفارہ سو سو کے حساب سے 1500/- ایک ہی دن میں ایک ہی مسکین کو دے سکتا ہے؟

جواب

اگر ایک ہی معاملہ پر مختلف قسمیں کھائی ہیں تو ایک کفارہ سب کی جانب سے کافی ہوجائے گا۔ بصورتِ دیگر ہر قسم کے ٹوٹنے پر الگ کفارہ دینا راجح ہے۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’ایک امر پر چند قسموں سے ایک ہی کفارہ کافی ہوجاتا ہے‘‘. (کتاب الیمین و النذر 2/ 245 ط: دار الاشاعت)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 714):

"وفي البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛ ولو قال: عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لايقبل، وبحجة أو عمرة يقبل".

و في الرد:

"(قوله: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي. اهـ. مقدسي، ومثله في القهستاني عن المنية".

و في تقريرات الرفعي:

"( قوله : قال صاحب الأصل هو المختار عندي إلخ) لايخفى أن كلاً من البغية و المنية للزاهدي، و معلوم أن ما انفرد به لايعول عليه، فلايعتمد على القول بالتداخل بل يعتمد على ما ذكره غيره من عدم التداخل حتى يوجد تصحيح لخلافه ممن يعتمد عليه في نقله، و مما يدل لتعددها ما ذكره الفتح أول الحدود: أن كفارة الإفطار المغلب فيها جهة العقوبة حتى تداخلت، و إن كفارة الأيمان المغلب فيها جهة العباد اهـ و في الهندية : إذا قال الرجل: و الله و الرحمن لاأفعل كذا كانا يمينين حتى إذا حنث كان عليه كفارتان في ظاهر الرواية اهـ، فعلم أن التعدد في ظاهر الرواية".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200125

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے