بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ پر ڈسکاؤنٹ- اشکال


سوال

میں نے ڈیبٹ کارڈ کے حوالے سے سوال کیا تھا، جس کا جواب آپ نے دیا ، اب مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اگر ڈسکاؤنٹ کمپنی کی طرف سے ہو پھر بھی وہ ڈسکاؤنٹ بینک کارڈ کی وجہ سے ہوگا; کیوں کہ اگر آپ کے پاس اس بینک کا کارڈ نہ ہوتا تو ڈسکاؤنٹ نہیں ملتا.  اس صورت میں ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے استعمال کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

ڈیبٹ کارڈ پر مذکورہ ڈسکاؤنٹ اگر کمپنی دے رہی ہو تو یہ کمپنی کی جانب سے صارف پر تبرع اور احسان ہوگا،  کمپنی کو اختیار ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہے احسان کا معاملہ کرے ، اگر کمپنی  اپنے احسان (ڈسکاؤنٹ) کے  مستحق ہونے کے لیے  بینک کے ڈیبٹ کارڈ ہونے کو معیار بنا رہی ہے تو اس میں قباحت نہیں ہے،  ایسا ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143903200042

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے