بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پاک قطر فیملی تکافل کی پالیسی لینا


سوال

 میں ایک نوکری پیشہ شخص ہوں،  گزشتہ  جنوری میں بیٹی کی پیدائش کے بعد پاک قطر فیملی تکافل کی ایک پالیسی لی ،پالیسی لیتے وقت دل میں یہی خیال تھا کہ یہ ایک کمیٹی کی مانند ہے جس میں ہر سال مطلوبہ رقم جمع کرواکر بیس سال بعد ایک اچھی رقم کا حصول ممکن ہوجائے گا ،مگر پالیسی لینے کے بعد اندیشوں نے گھیر لیا کہ خدانخواستہ میں سودی کاروبار کا حصہ تو نہیں بن گیا۔

جواب

جمہور علماءِ کرام کے نزدیک  کسی بھی قسم کی  بیمہ (انشورنس) پالیسی ، سود اور قمار (جوا) کا مرکب  ومجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اور  مروجہ انشورنس کے متبادل کے طور پر  بعض ادارے  جو ”تکافل“ کے عنوان سے نظام  چلارہے ہیں ، اس نظام سے متعلق    اکثر جید اور مقتدر علماءِ کرام کی  رائے عدمِ جواز کی ہے، ؔ لہذا کسی بھی مروجہ تکافل کمپنی  کے ساتھ   کسی  قسم کا معاہدہ کرنا اور اس کا ممبر بننا شرعاً جائز نہیں ہے، اور اگر معاملہ کرلیا   ہوتو ختم کروالیا جائے، نیز تکافل کمپنی سے صرف اصل رقم وصول کی جاسکتی ہے، زائد  وصول ہی نہ  کی جائے،  اور اگر وصول کرلی ہو تو اس زائد رقم کو   بغیر ثواب کی نیت کے  غرباء اور فقراء میں تقسیم کردیا جائے۔فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنکس پر  جامعہ کے فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں:

پاک قطر تکافل کی پالیسی خریدنا اور اس ادارے میں ملازمت کرنے کا حکم

( EFU ) ای ایف یو حمایہ تکافل کا شرعی حکم


فتوی نمبر : 144010200945

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے