بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

پاؤں چھونے کے بعد قرآن کو ہاتھ لگانا


سوال

کیا قرآن پڑھتے ہوئے پیر چھوکر قرآن کو ہا تھ لگانا بے ادبی ہے؟

جواب

دین سراسر ادب کا نام ہے، لہذا جو جس قدر ادب کرے گا وہ اتنا ہی حصہ پائے گا، لیکن شریعتِ مطہرہ نے انسانی اعذار کی بھی خوب رعایت رکھی ہے، لہذا  اگر کوئی شخص قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے کسی عذر کی وجہ سے پاؤں کو ہاتھ لگاتا ہے اور پاؤں پر کوئی گندگی نہ لگی ہو اور پھر وہی ہاتھ قرآن پاک کو لگاتا ہے تو یہ بے ادبی نہیں کہلائے گی اور اگر پاؤں پر ہاتھ لگانے کی کوئی مجبوری نہیں ہے تو قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے