بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

میراث میں حصے


سوال

سن ۲۰۱۵ میں میرے دادا کا انتقال ہوا، اور انہوں نے ترکے میں دو جائیدادیں چھوڑی ہیں، مجھے پوچھنا یہ ہے کہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کا جو حصہ اس جائیداد میں ان کی زندگی میں تھا کیا وہی ان کے مرنے کے بعد بھی ہوگا؟

 

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ جائیداد جب مرحوم دادا کی مکمل ملکیت تھی، تو ان کی زندگی میں ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کا  اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں تھا، دادا کے فوت ہو جانے کے بعد اس جائیداد کی تقسیم میں بیٹیوں کو  اکہرا اور بیٹوں کو دوہرا حصہ ملے گا۔


فتوی نمبر : 143711200032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے