بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1441ھ- 15 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ملک الموت کو تھپڑ مارنےکا قصہ


سوال

کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آخری وقت میں ملک الموت کو تھپڑ مارا تھا؟  کیوں؟  اس کے بعد ملک الموت نے ان سے یا اللہ تعالٰی سےکوئی شکایت کی تھی؟

جواب

 جی ہاں صحیح بخاری میں ایسی ایک حدیث ہے:

" أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ، فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، فَسَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ»". (التخريج : أخرجه البخاري (1339)، ومسلم (2372) 

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کے فرشتے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف (انسانی صورت میں) بھیجا گیا۔ جب وہ فرشتہ آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دی۔ وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمایا: ان  کے پاس دوبارہ جا اور انہیں کہہ کہ اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھیں، انہیں ہر بال کے عوض، جو  ان کے ہاتھ کے نیچے آئے گا، ایک سال زندگی ملے گی۔ (اس ساری کارروائی کے بعد) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: (پھر) موت! انہوں نے کہا: پھر ابھی ٹھیک ہے، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ مجھے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے تک مقدس سرزمین کے قریب کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں  راستے کی ایک جانب سرخ رنگ کے ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھاتا۔‘‘

 ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں ابن بطال رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اصل میں اللہ تعالی نے فرشتے کو حضرت موسی علیہ السلام کے امتحان کے لیے بھیجا تھا نہ کہ موت کے لیے۔

شرح صحيح البخارى لابن بطال (3/ 322):
"وذلك أن موسى (صلى الله عليه وسلم) لم يبعث الله إليه ملك الموت، وهو يريد قبض روحه حينئذ، وإنما بعثه إليه اختبارًا وابتلاء، كما أمر الله خليله إبراهيم بذبح ابنه، ولم يُرد تعالى إمضاء الفعل ولا قتل ابنه، ففداه بذبح عظيم{وناديناه أن يا إبراهيم قد صدقت الرؤيا} [الصافات: 104، 105] ولو أراد قبض روح موسى حين ألهم ملك الموت لكان ما أراد، لقوله تعالى: (إنما قولنا لشىء إذا أردناه أن نقول له كن فيكون) [النحل: 40]".

امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں اس کی مختلف وجوہات تحریر فرمائی ہیں، ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ درحقیقت اس میں تھپڑ کھانے والے فرشتے کا امتحان تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کے مقدس انبیاءِ کرام علیہم السلام کی روح قبض کرتے ہوئے پہلے اجازت لی جاتی ہے، یوں جاکر براہِ راست روح کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، اور اللہ تعالیٰ جس کا چاہیں امتحان لیتے ہیں، اور جو چاہیں اپنی مخلوق میں پیدا فرمادیتے ہیں۔

ایک اور توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ملک الموت جب انسانی شکل میں آیا اور اس نے روح قبض کرنے کی بات کی تو پہلے پہل حضرت موسیٰ علیہ السلام پہچانے نہیں، اور انسان سمجھتے ہوئے اپنے دفاع میں اسے تھپڑ مارا، اور یہ ضابطہ ہے کہ جب فرشتہ یا جن انسانی شکل میں متشکل ہو تو اس میں اتنی ہی جان ہوتی ہے جو ایک طاقت ور انسان میں ہوسکتی ہے، لہٰذا ملک الموت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تھپڑ کی تاب نہ لاسکے۔

شرح النووي على مسلم (15/ 129):
"وَأَجَابَ الْعُلَمَاءُ عَنْ هَذَا بِأَجْوِبَةٍ: أَحَدُهَا: أَنَّهُ لَايَمْتَنِعُ أَنْ يَكُونَ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قدأذن اللَّهُ تَعَالَى لَهُ فِي هَذِهِ اللَّطْمَةِ، وَيَكُونَ ذَلِكَ امْتِحَانًا لِلْمَلْطُومِ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَفْعَلُ في خلقه ماشاء وَيَمْتَحِنُهُمْ بِمَا أَرَادَ. وَالثَّانِي: أَنَّ هَذَا عَلَى الْمَجَازِ، وَالْمُرَادُ أَنَّ مُوسَى نَاظَرَهُ وَحَاجَّهُ فَغَلَبَهُ بِالْحُجَّةِ، وَيُقَالُ: فَقَأَ فُلَانٌ عَيْنَ فُلَانٍ إِذَا غالبه بالحجة، ويقال: عورت الشئ إِذَا أَدْخَلْتُ فِيهِ نَقْصًا. قَالَ: وَفِي هَذَا ضَعْفٌ؛ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ اللَّهُ عَيْنَهُ. فَإِنْ قِيلَ: أَرَادَ رَدَّ حُجَّتَهُ كَانَ بَعِيدًا. وَالثَّالِثُ: أَنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ مَلَكٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَظَنَّ أَنَّهُ رَجُلٌ قَصَدَهُ يُرِيدُ نَفْسَهُ فَدَافَعَهُ عَنْهَا فَأَدَّتِ الْمُدَافَعَةُ إِلَى فَقْءِ عَيْنِهِ، لَا أَنَّهُ قَصَدَهَا بِالْفَقْءِ، وَتُؤَيِّدُهُ رِوَايَةُ صَكَّهُ، وَهَذَا جَوَابُ الْإِمَامِ أَبِي بَكْرِ بْنِ خُزَيْمَةَ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُتَقَدِّمِينَ، وَاخْتَارَهُ الْمَازِرِيُّ وَالْقَاضِي عِيَاضٌ، قَالُوا وَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ تَصْرِيحٌ بِأَنَّهُ تَعَمَّدَ فَقْءَ عَيْنِهِ، فَإِنْ قِيلَ: فَقَدِ اعْتَرَفَ مُوسَى حِينَ جَاءَهُ ثَانِيًا...".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے